انڈیا لو پراجیکٹ: ’ممنوع‘ شادیوں کی داستانیں سنانے والا انسٹاگرام اکاؤنٹ

گیتا پانڈے - بی بی سی، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا میں ایک طویل عرصے تک لوگوں کی جانب سے اپنی ذات یا مذہب سے باہر محبت یا شادی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ لیکن انسٹاگرام پر ایک ایسا اکاؤنٹ ہے جو ایسے جوڑوں کی کہانیاں بیان کرتا ہے جنھوں نے ’مذہب، ذات، نسل اور جنس کے بنیاد پر بنائی گئی رکاوٹیں توڑ دیں۔‘

انڈیا کے قدامت پسند خاندانوں میں مذہب یا ذات سے باہر شادی پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ لیکن گذشتہ چند برسوں میں ایسے رشتوں کے گرد بحث مزید الجھ گئی ہے۔ سب سے زیادہ ہنگامہ ایسے وقتوں میں دیکھا گیا ہے کہ جب لڑکی ہندو اور لڑکا مسلمان ہو۔

گذشتہ ماہ بھی ایسا ہوا جب ملک میں زیوارت کی ایک معروف کمپنی تنشق نے اپنے اشتہار میں مسلمانوں کے گھر میں شادی کر کے آنے والی ایک ہندو بہو کو دکھا کر دونوں مذاہب کے درمیان اتحاد کا پیغام دیا۔ لیکن دائیں بازوں کے گروہوں کی جانب سے کمپنی پر تنقید کی گئی اور اسے بائیکاٹ کرنے کا بھی مطالبہ سامنے آیا۔ ان کے مطابق یہ ‘لوو جہاد’ کو پروان چڑھانے کی کوشش تھی۔

اس واقعے سے انڈین معاشرے میں بگاڑ کی جھلک نظر آتی ہے۔ ملک میں لو جہاد ایک اسلاموفوبک اصطلاح ہے جس سے مراد ہے کہ مسلمان مرد جان بوجھ کر انڈین لڑکیوں سے محبت کا دعویٰ کرکے ان سے شادی کرنا چاہتے ہیں تاکہ انھیں مسلمان کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیے

’لڑکیوں کے مذہب کی تبدیلی کے واقعات عشق نہیں ’لو جہاد‘ ہے‘

انڈین سپریم کورٹ نے ’لّو جہاد‘ کی شادی بحال کر دی

’آپ ہمیشہ اپنی بیٹی پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے‘

سوشل میڈیا پر کمپنی کے خلاف مہم ایک لمحے کے لیے اتنی شدت پکڑ چکی تھی کہ یہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا تھا۔ تنشق نے کہا تھا کہ وہ اپنے ملازمین کی حفاظت کے لیے یہ اشتہار ہٹا رہے ہیں۔

ثمر ہلرنکر اور ان کی اہلیہ پریا رمانی دونوں صحافی ہیں۔ اس اشتہار سے جڑے تنازع کے دو ہفتے بعد انھوں نے اپنی ایک اور صحافی دوست نیلوفر وینکٹرامن کے ساتھ مل کر انسٹاگرام پر انڈیا لو پراجیکٹ شروع کیا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ’مذہب اور ذات سے باہر محبت کی خوشیاں منانا اور اس میلاپ سے نفرت کو دور کرنا ہے۔‘

ثمر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گذشتہ ایک سال سے اس منصوبے کے بارے میں سوچ رہے تھے اور تنشق سے جڑے تنازع کے بعد انھوں نے فوراً اسے متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔

’ہم اس کے بارے میں بہت سوچتے ہیں اور اس سے پریشان ہیں۔ مذہب سے باہر شادی کے گرد ایک جھوٹ پر مبنی بیانیہ بنا ہوا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ایک طرف یہ بیانیہ ہے اور ساتھ میں شادی کے خفیہ مقاصد اور محبت کو ہتھیار بتایا جاتا ہے۔ ہم ایسے لوگوں کو نہیں جانتے تھے جو ایسا سوچتے ہیں، جو شادی کے بجائے کسی اور مقصد سے کسی سے محبت کرتا ہے۔‘

ان کے مطابق انڈیا لو پراجیکٹ کے ذریعے وہ لوگوں کو ایک موقع فراہم کر رہے ہیں تا کہ وہ اپنی کہانیاں پوری دنیا تک پہنچا سکیں۔

28 اکتوبر کے بعد ہر روز ایک نئی کہانی شیئر کی گئی ہے۔ پراجیکٹ کا آغاز نیلوفر کے والدین کی کہانی سے ہوا۔ ان کی پارسی والدہ بختاور ماسٹر اور ہندو والد ایس وینکٹرامن نے سماجی رکاوٹوں کے باوجود کئی دہائیوں قبل اپنا رشتہ قائم کیا تھا۔

ثمر کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان کے اس پراجیکٹ کو بہت سراہا ہے۔ ’ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کریں۔ ہر نئے دن لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ ’میں اپنی کہانی بتانا چاہتا ہوں، یا اپنے دادا دادی کی‘۔‘

’اس سے پتا چلتا ہے کہ ذات اور مذہب کے باہر شادیاں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن اب اس کے بارے میں بات کرنا سب سے ضروری ہے۔‘

’اب نفرت کو پیدا کیا جا رہا ہے۔ یہ اہم ہے کہ محبت سے متعلق ان کہانیوں کو بیان کیا جائے اور بتایا جائے کہ یہ کتنا وسیع ہے۔ اور محض کوئی چھوٹی بات نہیں۔‘

انڈیا میں 90 فیصد سے زیادہ ارینج میرجز یعنی خاندان کے صلاح مشورے سے شادیاں ہوتی ہیں۔ رشتہ طے کرتے وقت زیادہ تر خاندان مذہب اور ذات کے علاوہ بہت کم چیزوں کو مدنظر رکھتے ہیں۔

انڈیا ہیومن ڈیویلپمنٹ سروے کے مطابق صرف پانچ فیصد شادیاں مختلف ذاتوں کے درمیان کی جاتی ہیں۔ بین المذاہب شادیاں تو شاذو نادر ہی ہوتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ان کی تعداد صرف 2.2 فیصد بتائی گئی ہے۔

مذہب یا ذات سے باہر شادی کرنے والوں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔ حتیٰ کہ کئی کو قتل تک کر دیا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں اقتدار میں ایک ہندو قوم پرست حکومت کے باعث انڈیا میں قدامت پسندی کا رجحان بڑھا ہے اور مذہبی تفریق میں اضافہ ہوا ہے۔

خاص طور پر ہندو خواتین اور مسلمان مردوں کے درمیان ہونے والی بین المذاہب شادیوں کو پہلے سے کہیں زیادہ برا سمجھا جاتا ہے۔

ہالرنکر کا کہنا ہے کہ ’فروری میں، حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ‘لو جہاد’ کو ابھی تک کسی قانونی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا گیا اور کسی سرکاری ایجنسی کے ذریعے اس طرح کے واقعات کی کوئی طلاع بھی نہیں ہے، لیکن عوام کے ذہنوں میں یہ خیال برقرار ہے۔ حالیہ دنوں میں کم از کم چار ایسی ریاستوں نے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے بقول ان کے اس ‘معاشرتی برائی’ کو روکنے کے لیے قانون سازی کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔‘

انڈیا لو پروجیکٹ اپنی ذاتی کہانیوں کے ذریعے ’نفرت کی داستانوں‘ کو چیلنج کرنا چاہتا ہے، یہ کہانیاں اکثر قارئین کے دل کو لبھاتی ہیں۔

یہ مختصر 150 الفاظ کی کہانیاں پیار اور طنز کے ساتھ لکھی گئی ہیں۔ اور ان جوڑوں کی کہانیاں ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ محبت انسان کی بنائی گئی حدود کو نہیں مانتی۔

ایک ہندو براہمن روپا نے اپنی والدہ کے پہلے رد عمل کے بارے میں لکھا ہے جب انھوں نے بتایا کہ وہ ایک مسلمان رازی عبدی سے شادی کرنے کا سوچ رہی ہیں۔

اسلام میں فوری طور پر طلاق دینے کے عمل سے پریشان ان کی والدہ نے کہا ’وہ تین بار طلاق، طلاق، طلاق کہے گا اور تمھیں نکال باہر کرے گا‘۔

وہ لکھتی ہیں ’تاہم ، ایک بار جب میرے والدین نے رازی سے ملاقات کی اور انھیں احساس ہوا کہ وہ کیا زبردست انسان ہیں تو ان کی بدگمانیاں ختم ہوگئیں۔‘

روپا اور رازی کی شادی کو 30 سال ہو گئے ہیں۔ ان کے دو بالغ بیٹے ہیں اور وہ اپنے گھر میں عید کا مسلم تہوار اور دیوالی کا ہندو تہوار دونوں ہی مناتے ہیں۔

سلمیٰ کے ساتھ اپنی شادی کے بارے میں لکھتے ہوئے صحافی ٹی ایم ویرارھاگ کہتے ہیں کہ ان کے گھر میں مذہب ’اتنا اہم نہیں جتنا دہی چاول بمقابلہ مٹن بریانی ہے!‘

’میں سبزی خور ہوں، وہ اپنے مٹن سے لطف اٹھاتی ہیں اور ہماری محبت کی پیداوار (ان کا بچہ عینیش) دونوں کا مزہ لیتا ہے۔ عینیش ہندو یا مسلمان ہے، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کیا کھانا بنا رہی ہیں۔‘

ایک حالیہ پوسٹ میں ایک ہندو وینیتا شرما سے شادی شدہ ایک مسلمان تنویر ایاز اپنی بیٹی کوہو کے نام رکھنے کی کہانی کے بارے میں لکھتے ہیں۔ جوڑے سے پوچھا گیا کہ یہ ہندو نام ہے یا مسلمان نام؟ اور جب ان کی بیٹی بڑی ہوگی تو وہ کس مذہب کی پیروی کرے گی؟

وہ لکھتے ہیں ’ہماری ہندو مسلم شادی سیکولرازم کا ایک مثالی نمونہ ثابت ہوسکتی ہے، یہ بات لوگوں کو پسند نہیں آ رہی‘۔۔۔ وہ حیرت زدہ ہیں بلکہ تقریباً مایوس ہیں ’ہماری محبت کو پیار کہا جانا چاہیے، نہ کہ لوجہاد کو۔‘

انسٹاگرام اکاؤنٹ میں دیگر بین المذاہب اور ایک ہی ذات کے اندر شادیوں کی کہانیاں بھی پیش کی گئی ہیں۔

کیرالا کے ایک لبرل گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایک گوشت خور کیتھولک ماریا منجیل، جنھوں نے ایک قدامت پسند کنبے سے تعلق رکھنے والے شمالی انڈیا کے سبزی خور سدیپ جین سے شادی کی تھی، ان ’بہت سارے چیلنجوں‘ کے بارے میں لکھتی ہیں جن کا انھوں نے اپنی 22 سال کی شادی میں سامنا کیا ہے لیکن وہ اس بات پر قائل ہیں۔ کہ انھوں نے یہ شادی کر کے صحیح فیصلہ کیا۔

وہ پوچھتی ہیں ’آپ محبت کو کیسے دھتکار سکتے ہیں؟ میں نے ان کا نرم دل، نرم سلوک، دانشورانہ مطابقت اور مجھ سے بہت گہرا پیار دیکھا۔ میں انھیں صرف اس لیے نہیں چھوڑ سکتی تھی کیونکہ وہ ایک مختلف خدا کی عبادت کرتے ہیں اور ایک مختلف زبان بولتے ہیں۔‘

ہلرنکر کہتے ہیں کہ یہ ایسی کہانیاں ہیں جو آپ کو دنیا اور انڈیا کے بارے میں اچھا تاثر دیتی ہیں۔

’یہ انڈیا کی متعدد حقیقتوں کی خوبصورت کہانیاں ہیں۔ لوگ محبت کے لیے بہت سے مختلف راستوں پر چلتے ہیں۔ یہ کہانیاں ایک یاد دہانی ہیں کہ انڈیا انھیں لوگوں کے لیے بنایا گیا تھا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16578 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp