کوا مرا طبعی موت خدا، خدا کر کے

پرندوں میں اْلو اور کوے کو سب سے سیانا مانا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اْلو کی دانش کا راز اس کے تیز دماغ اور کوے کا اس کی عمرِدراز میں پوشیدہ ہے۔ جہاں تک بات اْلو کی ہے تو بھائی ہمیں زیادہ جانکاری نہیں، کہ کم بخت رات میں نمودار ہوتا ہے اور ہمیں جلدی سونے کی عادت ہے (یعنی نہ صرف ابھی تک کنوارے ہیں بلکہ سنگل بھی ہیں ) ۔ ہاں! مگر کوے کی بات الگ ہے۔ کوے سے ہماری واقفیت تب سے ہے جب سے اس نے ہمیں پہلی بار ’ٹھونگا‘ مارا تھا۔بڑے بوڑھوں سے سنتے آئے ہیں کہ کوے کی عمر قریب قریب 300 سال ہوتی ہے۔ اب اس بات میں کس قدر سچائی ہے اس کا علم تو خدا کوہی ہے مگر ہم کوے کی حادثاتی موت کا احوال بخوبی جانتے ہیں۔ ہم ہی کیا، پاکستان میں موجود بچہ بچہ جانتا ہے۔ خدا بھلا کرے واپڈا والوں کا کہ ان کی محنت کے نتیجے میں کووں کی آبادی کافی کنٹرول میں ہے۔ آپ نے یہ روح پرور نظارہ تو ضرور دیکھا ہو گا کہ جب بھی کوئی کوا حادثاتی طور پر اپنی جان سے ہاتھ دھوتا ہے تو نہ جانے کیسے اس کے سبھی رشتہ داروں، دوستوں، ہم شجروں اور موجودہ و سابقہ بیگمات کو اس کی خبر مل جاتی ہے۔

Read more

فلسفہ اور اچھوت

اردو میں لکھنا میٹرک کے بعد سے تقریبا بند ہے۔ ایک تو یہ ہے بہت مشکل اوپر سے ادب کے میدان کے سبھی بزرگ شایداپنی اپنی بیویوں سے کافی تنگ رہے ہوں گے جو غصہ اپنے پڑھنے والو پر نکالتے رہے۔ ابھی آج ہی کی بات لیجیے، ایک عرصہ گزرجانے کے بعد ایک بار پھر سے خدا بخشے یوسفی صاحب کو پڑھنے کا دل کیا تو ”ماکولات اور معقولات“ سے آگے نہیں چل سکے۔ تلاش کرنے پر جو ہم کو ملا اس کے مطابق اول ذکرکا تعلق کھانے سے ہے اور بعد والے کا علوم فلسفہ سے۔ یقین جانیے لکھنا بھی فلسفہ پر ہی چاہ رہے تھے سو اسی بہانے ذکر خود ہی چھڑ گیا۔

فلسفہ کی حالت زار دیکھ کر یقین جانیے دل سے ایسی ٹھنڈی آہ نکلتی ہے کہ سربیا کی سردی بھی رشک کرے۔ یوں تو فلسفہ میرامضمون نہیں ہے مگر کیوں کہ بڑے بھائی صاحب کو کم عمری میں ہی فلسفہ کا کیڑا تنگ کرنے لگ پڑا تھا۔ سوعذاب ہمارے حصہ میں بھی آیا۔ کیوں کہ ملک خداداد میں فلسفی کی عزت کتے سے بھی کم ہے۔ اس لیے بھائی صاحب سے چالاک نکلے اور فلسفہ کی ہم زاد یعنی ریاضی سے دست وگریبان ہوگے، کہ کچھ توبا عزت مضمون ہے۔

Read more