اردو میں لکھنا میٹرک کے بعد سے تقریبا بند ہے۔ ایک تو یہ ہے بہت مشکل اوپر سے ادب کے میدان کے سبھی بزرگ شایداپنی اپنی بیویوں سے کافی تنگ رہے ہوں گے جو غصہ اپنے پڑھنے والو پر نکالتے رہے۔ ابھی آج ہی کی بات لیجیے، ایک عرصہ گزرجانے کے بعد ایک بار پھر سے خدا بخشے یوسفی صاحب کو پڑھنے کا دل کیا تو ”ماکولات اور معقولات“ سے آگے نہیں چل سکے۔ تلاش کرنے پر جو ہم کو ملا اس کے مطابق اول ذکرکا تعلق کھانے سے ہے اور بعد والے کا علوم فلسفہ سے۔ یقین جانیے لکھنا بھی فلسفہ پر ہی چاہ رہے تھے سو اسی بہانے ذکر خود ہی چھڑ گیا۔
فلسفہ کی حالت زار دیکھ کر یقین جانیے دل سے ایسی ٹھنڈی آہ نکلتی ہے کہ سربیا کی سردی بھی رشک کرے۔ یوں تو فلسفہ میرامضمون نہیں ہے مگر کیوں کہ بڑے بھائی صاحب کو کم عمری میں ہی فلسفہ کا کیڑا تنگ کرنے لگ پڑا تھا۔ سوعذاب ہمارے حصہ میں بھی آیا۔ کیوں کہ ملک خداداد میں فلسفی کی عزت کتے سے بھی کم ہے۔ اس لیے بھائی صاحب سے چالاک نکلے اور فلسفہ کی ہم زاد یعنی ریاضی سے دست وگریبان ہوگے، کہ کچھ توبا عزت مضمون ہے۔
Read more