تعلیمی درسگاہیں اور اخلاقیات کا فقدان!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انفرادی اور معاشرتی زندگی کو بہتر بنانے میں اخلاق حسنہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے گو یا معاشرے کو بلندی اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی اولین ترجیح۔ اخلاق حسنہ ہے کوئی بھی معاشرہ سماجی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی حوالے سے اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی قوم میں اخلاقی شعور کو اجاگر نہ کرے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اخلاق ہی وہ سب سے بڑی کمزوری ہے جس کی وجہ سے ہماری قوم دن بدن پستی اور تاریکی کی طرف جا رہی ہے، آپ کو زندگی کے ہر شعبے میں ایسے لوگ نظر آئیں گے جو اخلاقی لحاظ سے پست اور گرے ہوئے ہوں گے اعلیٰ اوصاف میں امانت، عدل و انصاف اخلاق نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہے اسی طرح کرپشن اور بدعنوانی ہمارے معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہے اور بھی دیگر منفی رویے ہمارے قومی مزاج میں داخل ہو چکے ہیں۔
ان تمام برائیوں اور خامیوں کی جڑ اخلاق حسنہ کا فقدان ہے اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اخلاقیات اور درس قرآن کو شامل کر لے تو وہ ان تمام خامیوں کی جڑ بآسانی کاٹ سکتا ہے، لیکن افسوس آج تک ہمیں کوئی ایسا پلیٹ فارم مہیا نہیں کیا گیا جہاں پر ہمیں اخلاق حسنہ کا درس مل سکتا، بہرحال ادب اور تربیت کی ابتدائی جگہ انسان کا اپنا گھر اور ماں کی گود ہے لیکن اس کے بعد مختلف مراحل آتے ہیں جہاں سے انسان اخلاق و تربیت سیکھتا ہے اس کے بعد انسان تعلیمی درسگاہوں میں قدم رکھتا ہے جہاں سے ایک طالب علم نے علم کی تحصیل سے لے کر زندگی گزارنے کے طور طریقوں سے آشنا ہونا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے آج کے طالب علم کو صرف ڈگری اور نمبروں کی حد تک محدود کر دیا گیا ہے، طالب علموں کو اخلاق حسنہ کی طرف توجہ ہی نہیں دلائی جاتی۔
آپ پاکستان کی تعلیمی درسگاہوں پر نظر دوڑائیں تو آپ کو کوئی ایسی یونیورسٹی دیکھنے کو نہیں ملے گی جس میں اخلاقیات کا درس دیا جاتا ہو لیکن یہ اعزاز گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کو حاصل ہے کہ ہذا یونیورسٹی میں ہر جمعہ کے روز درس قرآن و درس اخلاق کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں طلباء کی کثیر تعداد درس قرآن میں شریک ہو کر علم و اخلاق سے بہرہ مند ہوتی ہے، یہ درس قرآن تقریباً چالیس سال سے جاری و ساری ہے اور انشاء اللہ علم و اخلاق کا یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا، ہر جمعہ کی طرح اس جمعہ کو بھی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں اخلاقیات اور درس قرآن کا اہتمام کیا گیا جس میں طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی، درس قرآن کا موضوع رحمت العالمین ﷺ سے محبت کے تقاضے تھا درس قرآن کے مقرر جناب حافظ محمد عظمت تھے جنہوں نے بہت عمدہ انداز میں رحمت العالمینﷺ سے محبت کے تقاضوں کو قرآنی آیات کی روشنی میں بیان فرمایا اور قرآن کو آپ ﷺکی سیرت کا عملی نمونہ قرار دیا۔
اس پروگرام میں طلباء کو کردارسازی اور سیرت نبوی ﷺ کے مختلف پہلوؤں کو جاننے کا موقع ملا، میں طالب علم ہونے کی حیثیت سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے درس قرآن اور اخلاق حسنہ جیسے اہم پہلو کو نظرانداز نہیں کیا، چونکہ اگر انسان اس معاشرے میں ترقی کرنا چاہے تو قرآن اور اخلاق حسنہ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے جو انسان کو بلندیوں تک لے جائے، اخلاق حسنہ ہو یا تربیت کا پہلو تو سب سے اہم رول اساتذہ کا ہوتا ہے معاشرے میں تعمیر و ترقی اور علمی ارتقا کے لئے استاد ہی وہ شخصیت ہے جو ایک نوجوان کی کردارسازی کرتا ہے، اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی، معاشرے کی فلاح و بہود، جذبہ انسانیت اور افراد کی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ہمارے تعلیمی نظام میں صرف رٹہ لگوایا جاتا ہے اور، بدقسمتی سے اخلاقیات کا باب کبھی نہیں کھولا گیا، پاکستان کا مستقبل اور ترقی ہمارے آج کے نوجوان کے ہاتھ میں ہے، اس لئے ہمارے تعلیمی اداروں کے سربراہان کے لئے لازم ہے کہ اس نظام کو بدل کر اخلاقیات پر جدوجہد کریں، اس معاملے میں اپنے نوجوانوں کی تربیت کریں، اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہمیں بدترین تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہیے، ہمیں اپنی آنے والی نسل کی بہترین تربیت کرنی ہے، اللہ ہماری مدد ونصرت فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سبطین مہدی کی دیگر تحریریں