یہ قبضہ چھڑانا مشکل ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہم جب جامعہ/یونیورسٹی میں داخل ہوئے تو ہماری محترم استاد جناب ڈاکٹر فوزیہ ناہید نے جو خواجہ امجد سعید مرحوم کی زوجہ ہیں، نے ہماری پہلی تعارفی کلاس لی، جس میں انھوں نے وہ مشہور کلمات دہرائے جو کم و بیش ہر سکول، کالج و یونیورسٹی کے پہلے دن دہرائے جاتے ہیں کہ آپ سب محنت کر کے یونیورسٹی میں داخل ہو گئے ہیں، اب آپ لوگوں نے یہ چار سال محنت کرنی ہے اور پھر زندگی آسان ہے۔ ہم کیونکہ ایک شوخ طبعیت آدمی تھے اور اس سازش کو کافی عرصہ پہلے ہی سمجھ چکے تھے تو ہم نے ترکی بہ ترکی جواب میں عرض کی کہ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔

آپ ہی کی طرح باقی اساتذہ پہلے کہتے تھے نہم، دہم کے دو سال محنت کر لو باقی زندگی آسان ہو گی۔ پھر جب کالج پہنچے تو کہتے تھے ایف ایس سی یا ایف اے کر لو آگے زندگی آسان ہے، اب یونیورسٹی کے 4 سال بھی محنت کرنی ہے، تو پھر آسانی ہو گی۔ اسی طرح کے لارے لگاتے آپ جیسے اساتذہ نے ہمیں قبر میں پہنچا دینا ہے اور کہنا ہے کہ بس یہاں امتحان پاس کر لو آگے آسانی ہی آسانی ہے۔

پنجابی زبان میں کچھ ایسے الفاظ ہیں جس کے ہم معنی الفاظ اگر آپ کسی دوسری زبان کی لغت میں تلاش کریں تو ان الفاظ کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ ان الفاظ میں لارا وہ لفظ ہے جس کے معنی پنجابی میں ہی خوبصورت لگتے ہیں۔ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگیاں لارا نامی لفظ کا شکار ہیں۔ یہ کر لو تو آگے سب ٹھیک ہے، یہ کر لو تو زندگی آسان ہو جائے گی جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

1947 میں ہمیں یہ لارا دیا گیا کہ پاکستان بن گیا تو نجانے ہم ایسے ملک میں چلے جائیں گے جہاں سب اچھا ہو جائے گا، جہاں ہندو بنیا تو نہیں تھا، مگر انگریزوں کے ہاتھوں میں بیعت کرنے والے بہت سے میر جعفر و صادق تھے جو کاروباری حضرات بن گئے، پہلے وہ ہندو سیٹھ ہمارا استحصال کرتا تھا اب یہ نام نہاد جاگیردار اور کاروباری آ گئے۔ اس عظیم مملکت خداداد کو بنانے والے بھول گئے کہ معاشرہ کے افراد ہی غلط ہوں تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرتا، جس گھر کی بنیاد ہی کھوکھلی اس کی عمارت گرنے کا خطرہ ساری عمر رہتا ہے۔

1958 میں ہمیں لارا دیا گیا کہ یہ سیاستدان اس قابل نہیں ہیں کہ ملک چلا سکیں، لہذا ملک کی باگ ڈور نیک اور اچھے وردی والے جرنیلوں کے ہاتھ میں ہو گی تو ملک ترقی کرے گا۔ ملک ترقی کرتے کرتے 1971 میں دو لخت ہو گیا۔

1971 میں لارا دیا گیا روٹی، کپڑا اور مکان اور سوشلزم ہماری معیشت ہوگی، سب کچھ بغیر کسی حکمت عملی کے قومیا لیا گیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ پہلی بار ملکی کرنسی کا اتنا دیوالیہ کیا گیا کہ ڈالر کی قدر روپیہ کے مقابلہ میں ساڑھے تین روپے تک جا پہنچی۔

1977 میں نظام مصطفی کا لارا ہمارے لئے تشکیل دیا گیا، اور نتیجہ اس کا منشیات، فرقہ واریت، دہشت گردی اور غنڈہ گردی کی سیاست کی صورت میں نکلا۔ 1988 سے 1999 تک دائیں اور بائیں بازو کے دو مختلف لارے دیے جاتے رہے، کہ یہ نظام آیا تو سب ٹھیک ہو جائے گا وہ آیا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ نظام وہی تھا بس جب چہرہ قابل قبول نہیں ہوتا تھا تو 58 ٹو بی کا ہتھیار استعمال کر کے نظام کی بساط لپیٹ دی جاتی تھی۔

1999 میں سات نکاتی لارا لایا گیا جس کا لب لباب سب سے پہلے پاکستان تھا، اس کا نتیجہ 2007 تک محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت، دہشت گردی، لوڈشیڈنگ اور معاشی بحران کی صورت میں آ چکا تھا۔

ان دنوں وکلا نے آزاد عدلیہ کا لارا لاکر قوم کو ایک اور جھوٹی امید دلائے کہ عدلیہ آزادی کی تحریک مکمل ہونے پر نا جانے کون سی دودھ و شہد کی نہریں نکلیں گی کہ سارا ملک خوشحال ہو جائے گا۔

2008 میں میثاق جمہوریت اور 18 ویں ترمیم کا لارا دیا گیا نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے کہ وہ لارا اتنا ناقص نکلا کہ صوبہ اتنا پیسہ لینے کہ باوجود اپنے حالات و سیاسی نظام مستحکم نا کر سکے۔ وہ پیپلز پارٹی جس کے جیالے ملکی حدود کے طول و عرض میں موجود تھے سمٹ کر اب سندھ میں بیٹھ گئے ہیں۔

2013 میں معیشت اور چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کا لارا دیا گیا اور ملک پر قرضوں کا وہ بوجھ لاد دیا گیا ہے کہ اب ملک کی رہی سہی کمر بھی ٹوٹ گئی ہے۔ وہ سفید ہاتھی بھی دروازہ پر باندھ دیے گئے ہیں جن کی ضرورت نہیں تھی۔

2018 میں تبدیلی کا نام لے کر ایک خوبرو، نیک، شریف اور ایماندار انسان نے احتساب، دو نہیں ایک پاکستان اور ریاست مدینہ کا لارا لگایا۔ 2 سال میں احتساب، معیشت و معاشرت کا برا حال ہو گیا ہے، چند مثالیں ہی ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہیں۔ جن میں موٹروے کیس، واقعہ کشمور، چینی سکینڈل، آٹا سکینڈل، ادویات سکینڈل، آئی جی کا مبینہ اغوا۔

اگر اب بھی لوگ نئے لارے کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں، تو ان سے گزارش ہے کہ خدارا اس فریب سے نکل آئیں۔ یہ ہر بار آپ کو لارا لگا کر پرانا چورن بیچ جائیں گے کہ بس یہ برداشت کر لو آگے سب ٹھیک ہو جائے گا، پاکستان ایشین ٹائیگر بن جائے گا، ووٹ کو عزت مل جائے گی، بلا تفریق احتساب ہوگا، عام و خاص کے لئے قانون ایک جیسا ہو گا، تعلیمی نظام جدید و یکساں ہو گا، عدلیہ اور پولیس کے مظام میں اصلاحات ہو جائیں گی، بیوروکریسی اور باقی حکومتی ادارے رشوت سے پاک ہوں گے، ایف بی آر ٹیکس چوری پر قابو پا لے گا، گیس، بجلی، پٹرول سستے ہوں گے، بیروزگاری کا خاتمہ ہو جائے اور پاکستان ایک فلاحی ریاست ہو گی، دو نہیں ایک پاکستان وغیرہ وغیرہ۔

غریب افراد یہ لارا لئے سکول و ٹیکنیکل و ووکیشنل کالج سے فارغ التحصیل ہو کر مشرق وسطی نکل جاتے ہیں۔

متوسط طبقہ والے یہ لارا لئے سکول و کالج و یونیورسٹی کی منازل طے کر کر کسی مغربی ملک کی سکونت اختیار کر لیتے ہیں۔ اشرافیہ کو البتہ کہیں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ قبضہ کرنے والے کبھی قبضہ نہیں چھوڑتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •