خدا کسی کو اولاد کا دکھ نا دے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی پشاور حملے کے زخم تازہ ہی تھے کہ بد قسمتی نے یہ دن بھی دکھایا کہ کابل یونیورسٹی میں نوجوان حصول علم کے لیے اکٹھے ہوئے اور شہید ہو گئے۔

کابل یونیورسٹی حملے میں نوجوان ہلاکتوں نے جہاں سب کے دل دہلا کر رکھ دیے تو اس کے ساتھ والدین کی آنے والی فون کالز اور میسجز جو کہ محبت سے بھرپور ہیں اور ان کو پڑھ کر ایک صاحب اولاد اور درد دل رکھنے والا انسان ضرور کانپ جاتا ہے۔ جیسا کہ ایک والد نے اپنی بیٹی کو لکھا ہے کہ ”کہاں ہو پاپا کی جان“ یہ میسج کتنی محبت میں گوندھ کر لکھا گیا اس کا اندازہ ایک صاحب اولاد بخوبی لگا سکتا ہے لیکن اب ماتم بچھا ہوا ہے کیا صرف اولاد کی وفات ہوئی ہے نہیں نہیں بالکل بھی نہیں بلکہ تین اشخاص کی وفات ہوئی ہے جس میں ماں باپ اور اولاد۔

ایک قدرتی عمل جب تک جاری رہتا ہے تو انسان صبر کا دامن پکڑ لیتا ہے اور زندگی بیت جاتی ہے لیکن جب ایک غیر قدرتی عمل ہو اور اولاد جو زندگی کی تمام تر خوشیوں میں کھیل رہی ہو اور والدین ان کو دیکھ کر زندہ ہوں ان کا دنیا کو اس طرح چھوڑ کر جانا ان کے لیے بھی موت کا سامان کر کے جانا ہے۔

کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنی غلطیوں سے ایسی موت خریدتا ہے اور والدین کو دکھی کرتا ہے ہمارے ہاں اس کی سادہ مثال ٹریفک حادثات ہیں جن میں بچے موٹر سائیکل یا گاڑی پر بیٹھ کر ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ حادثے کا باعث بنتے ہیں اور وہ جان سے چلے جاتے ہیں اور ماں باپ کو داغ مفارقت دے کر چلے جاتے ہیں ماں باپ اپنی اور اولاد کی اسی غلطی کو لے کر ساری زندگی رو رو کر گزار دیتے ہیں کہ اگر ایسا نہ کرتے تو ایسا نہ ہوتا۔ لیکن جب وقت ہاتھ سے گزر جاتا ہے تو شاید والدین پاس رونے کی سوا کچھ نہیں رہ جاتا ہے۔

بات کہیں اور نکل گئی واپس آتے ہیں ایسی اموات جہاں نا بچوں کی غلطی اور نا ہی ماں باپ کی غلطی ہے لیکن پھر بھی ایسا دکھ نصیب ہوا ہے اس کا مداوا کس صورت میں کیا جائے کس کو کوسا جائے اور کس کے سامنے انصاف مانگا جائے۔ میرا ماننا ہے کہ تعلیمی اداروں پر حملہ آور لوگ اس بات کو لے کر یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر ہم طالب علموں کو شہید کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ یہ تعلیم و تربیت کہ سلسلہ رک جائے گا لیکن ان کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑتی ہے کیونکہ لوگ ایک نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ اپنی اولاد کو اداروں میں بھیجتے ہیں۔ بطور مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ علم کے حصول کے دوران اگر موت آ جائے تو اسے شہادت کا رتبہ ملتا ہے۔

مہذب دنیا نے جنگ کے بھی کچھ اصول وضع کیے اور ان اصولوں پر سختی سے عمل پیرا بھی ہیں کہ کسی بھی جنگ میں خواتین، بزرگ اور بچوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا انہیں لڑائی سے استثنا ہے لیکن جو لوگ درندگی اور گھٹیا ترین اپروچ تک پہنچ چکے ہیں تو وہ اس طرح بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

ہمیں بطور مسلمان اس کہانی کو سمجھنا ہوگا کہ ہم کب تک استعمال ہوتے رہیں گے اور اپنے ہی اپنوں کو مارتے رہیں گے اور شہادت کا رتبہ پاتے رہیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مسلمانوں کو اکٹھا ہونا ہوگا تاکہ مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکیں اگر ہم ایک دوسرے کے ہی دشمن بنیں رہیں گے تو ہمارا خاتمہ بہت جلد ہونے والا ہے۔

حاصل کلام: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی راہ کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ نہ پھیلاؤ۔

آج ہم جس نہج پر پہنچ چکے ہیں وہ اسی تفرقے کا شاخسانہ ہے اور بچوں تک کو مار رہے ہیں لہذا ہمیں ریشنل مائنڈ ہونا چاہیے اور نفرتیں مٹانی ہوں گی تاکہ ہم دنیا کے ساتھ چل سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •