دیوانی اور فوجداری مقدمات سیٹزن ٹرمپ کے منتظر ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت امریکہ میں موجودہ صدر مملکت ڈانلڈ ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے کے بعد سوگ منا رہے ہیں۔ رنج و ملال یونیورسل چیز ہے۔ زندگی میں ہرانسان رنج و ملال سے ہم رکاب ہوتا ہے۔ جیسے کسی پیارے کی اچانک وفات، ملازمت کا ختم ہوجانا، یا پھر آپسی تعلقات کا طلاق پر منتج ہونا۔ ایسی صورت میں شاید انسان رونا شروع کردے، یا غصے میں آپے سے باہر ہو جائے، یا خود کو الگ کرلے اور اندر سے خالی محسوس کرے۔

نفسیات دانوں کے مطابق رنج و ملال کی پانچ Stagesصورتیں ہوتی ہیں۔ انکار اس کی پہلی حالت ہے جب انسان شکست سے دوچار ہونے کے بعد اس سے انکار کردیتا ہے۔ انکار کرنے سے انسان خود کو مزید وقت دے دیتا تا صورت حال کو پرو سیس کرسکے۔ یہ ایک زبردست فطرتی دفاعی نظام defence mechanism ہے۔ دوسری حالت غصے کی ہے جب انسان اپنے جذبات اور شدت درد کو چھپا نے کی کوشش کرتا ہے۔ تیسری حالت کا نام سمجھوتہ bargaining ہے یعنی صورت حال پر قابو پانے کے لئے فریق مخالف سے سمجھوتہ کرنا۔ چوتھی حالت کا نام ڈپریشن ہے جس میں انسان کے روز مرہ معمولات میں مایوسی، نقصان، اور غصہ دخل اندازی کرتے ہیں۔ پانچویں حالت کا نام قبولیت ہے جس میں انسان شکست کو قبول کر لیتا۔

مسٹر ٹرمپ تا دم تحریر فرسٹ سٹیج پر ہیں۔

مسٹر ٹرمپ حالیہ الیکشن میں بری طرح شکست سے دوچار ہوئے ہیں مگر وہ جوزف (یوسف) بائیڈن کو اگلا صدر ماننے اور شکست تسلیم کر نے سے ابھی تک منکر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے حالانکہ مختلف ریاستوں کے الیکشن افسر ز بر ملا اعلان کر چکے ہیں کہ کسی قسم کی دھاندلی نہیں ہوئی ہے۔ ری پبلکن پارٹی پر ان کی گرفت اس قدر آہنی ہے کہ کوئی ان کی مرضی کے خلاف بولنے یا ان کو مخلصانہ مشورہ دینے سے عاری ہے کہ صدر محترم آپ الیکشن ہار چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونے کی تیاری کریں۔

19 جنوری کو وائٹ ہاؤس میں مسٹر ٹرمپ کا آخری دن ہوگا۔ اگلے روز نئے صدر جوزف بائیڈن حلف اٹھا لیں گے۔ اس کے بعد ٹرمپ کو ایک شہری کی حیثیت میں دیوانی اور فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا جو 2017 سے ان کے خلاف اور ان کے اندرونی قریبی دوستوں کے خلاف دائرکئے گئے یا کر یمینل انوسٹی گیشن شروع کی گئی تھیں۔ ملک کے صدر کی حیثیت سے ان کو جو قانونی تحفظات حا صل تھے وہ ختم ہو جائیں گے۔ مقدمات کی تفصیل درج ذیل ہے۔

نیو یارک کے مین ہاٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی سایئرس وینس Cyrus Vance جو نیویارک سٹیٹ کے قوانین کے اطلاق کا ذمہ دار ہے وہ پچھلے دو سال سے ٹرمپ اور ٹرمپ آرگنائزیشن کے خلاف کر یمینل انیوسٹی گیشن کر رہا ہے۔ شروع میں تحقیقات کا مرکز یہ بات تھی کہ جو رقوم ٹرمپ کے سابق ذاتی وکیل مائیکل کوہن نے 2016 کے الیکشن سے قبل دو عورتوں کو ادا کی تھیں جن کے ساتھ ٹرمپ کے جنسی تعلقات تھے۔ ان میں سے ایک کانام سٹارمی ڈینیل Stormy daniel تھاجس کے ساتھ ٹرمپ نے مجامعت اس وقت کی جب اس کی حالیہ بیوی ملانیا حاملہ تھی۔ اس کے وکیل مائیکل کوہن نے اس عورت کو $ 150,000 ادا کیے تھے کہ وہ خموش رہے۔ مسٹر وینس نے کہا کہ اس کی انوسٹی گیشن اب بینک فراڈ، ٹیکس فراڈ اور انشورنس فراڈ پر اپنی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

سایئرس وینس نے ٹرمپ کے پچھلے آٹھ سال کے پرسنل اور کارپوریٹ ٹیکس ریٹرن کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے جب انکار کیا تو یہ معاملہ جولائی 2020 میں سپریم کورٹ میں گیا۔ سپریم کورٹ نے کہا ٹرمپ ٹیکس ریڑن کو پوشیدہ نہیں رکھ سکتا کیونکہ صدر مملکت ریاست کے کریمینل تحقیقات سے مبرا نہیں ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے سایئرس وینس ضرور ٹرمپ کے فنانشل ریکارڈز حاصل کرنے میں کا میاب ہو جائے گا۔ امریکہ جسٹس دی پارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ برسر اقتدار صدر پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ مگر یہ قانونی نکتہ جنوری میں ہوا میں بخارات کی طرح روپوش ہو جائے گا۔ کسی صدر کی متعلق ایسی کریمینل انوسٹی گیشن بہت سنجیدہ معاملہ ہے جبکہ subpoenasسمن جاری ہو چکے ہیں۔ مقدمہ دوسری دفعہ سپریم کورٹ میں گیا ہے اس کا فیصلہ عنقریب ہوگا۔

مسٹر ٹرمپ نے صدر بننے سے پہلے اور پچھلے چار سال کے دوران کانگریس کی طرف سے ٹیکسز ریلیز کر نے کے مطالبہ کی پر زورمزاحمت کی ہے اور یوں انہوں نے پچھلے چالیس سال سے قائم شدہ روایت کی منافی کی ہے کہ ہرصدر اپنے ٹیکسز کی ادائیگی کے متعلق پبلک کو آگاہ کرتا ہے۔

اگلی حکومت میں جب نیا اٹارنی جنرل اپنے عہدے پر فائز ہو جائے گا تو امکان ہے ڈی پارٹمنٹ آ ف جسٹس ٹرمپ کے خلاف کر یمینل پروسکیوشن کا آغا ز کر دے گا۔ ٹرمپ کے خلاف انکم ٹیکس ایو یژن کا الزام عائد کیا جائے گا جیسا نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے 2016 اور 2017 میں محض $ 750 ٹیکس ادا کیا تھا۔

ٹیکس نہ ادا کرنے کے الزام کے جواب میں ٹرمپ نے بائیڈن کے ساتھ ڈی بیٹ میں کہا تھا کہ اس نے ملینز ڈالر ٹیکس ادا کیا تھا۔ اس کے جواب بائیڈن نے کہا تھا اچھا تو ہمیں کوئی ثبوت پیش کرو۔ جسٹس ڈی پارٹمنٹ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ٹرمپ کو ٹیکس کی نہ ادائیگی کیا پبلک انٹرسٹ میں ہوگا۔ بائیڈ ن نے اس مسئلے بڑ ی احتیاط سے کام لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جسٹس ڈی پارٹمنٹ کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کر ے گا۔ نیشنل پبلک ریڈ یو NPRکو انٹرویو کے دوران بائیڈن نے اگست 2020 میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ پر مقدمہ چلانا جمہوریت کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔

سول فراڈ انویسٹی گیشن

نیویارک سٹیٹ کی قابل اور با صلا حیت اٹارنی جنرل Letitia James Mrs نے ٹرمپ اور اس کی فیملی بزنس کمپنی ٹرمپ آرگنائزیشن کے خلاف ٹیکس فراڈ کی تحقیقات شروع کی ہوئی ہے۔ یہ انوسٹی گیشن اس وقت شروع ہوئی تھی جب مائیکل کوہن نے کانگریس کوبتایا تھا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے اثاثوں کی قیمت ٹیکس بریکس، قرضوں اور انشورنس کے وقت زیادہ بتلائی، مگر ٹیکس ادا کر تے وقت اپنے اثاثوں کی قیمت کم بتائی تا کم سے کم پرا پرٹی ٹیکس ادا کیا جائے۔

ان مقدمات کی فہرست کافی لمبی ہے۔ اٹارنی جنرل کے آفس نے ٹرمپ کی چیری ٹیبل آرگنائزیشن ”ٹرمپ فاؤنڈیشن“ کی ایک سال تک تحقیقات کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فاؤنڈیشن کوختم dissolveکر دیا گیا۔ اس ضمن میں صدر ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ کو اکتوبر 2020 میں عدالت میں حاضری دینا پڑی تھی تا پتہ لگایا جا سکے کہ آیا ان کی رئیل اسٹیٹ کمپنی فراڈ کی مرتکب ہوئی ہے۔

جین کیرول کا مقدمہ E۔ Jean Carroll

ایلی میگز ین Elle Magazineکی سابقہ رائٹر جین کیرول نے 2019 میں ٹرمپ کے خلاف ہتک عزت مقدمہ دائر کیا تھا کیونکہ ٹرمپ نے جین کیرول کے اس الزام کی تردید کی تھی کہ اس نے جین کو 1990 کی دہائی میں ایک ڈیپارٹمنٹ سٹور میں ریپ کیا تھا اور کہا کہ جین نے یہ الزام اپنی کتاب کو زیادہ فروخت کرنے کے لئے لگایا ہے۔ اگست 2020 میں ایک جج نے جین کیرول کے وکیل کو اجازت دی کہ وہ ٹرمپ کے ڈی این اے کانمونہ لے سکتا ہے تا کہ اس کو اس لباس کے ساتھ میچ کیا جا سکے جو جین کیرول نے پہنا ہوا تھا۔

نیویارک میں مین ہاٹن کے علاقہ کے ایک فیڈرل جج نے جسٹس ڈی پارٹمنٹ کی درخواست مسترد کردی کہ اس مقدمہ میں بجائے ٹرمپ کے فیڈرل گورنمنٹ کو بطور defendant کے لے لیا جائے۔ جج لیوس کاپلان Lewis Kaplan نے کہا کہ ٹرمپ نے یہ بات بطور شہر ی کے کہی تھی اس لئے ایسا نہیں ہو سکتا۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بائیڈن ایڈمنسٹریشن اس مقدمہ میں ٹرمپ کو بچانے کی کوشش نہیں کر ے گی۔

سمر زیر ووس کا مقدمہ SUMMER ZERVOS

ٹرمپ کے خلاف سمر زیر ووس نے بھی مقدمہ دائر کیا ہوا ہے جو 2005 میں ٹرمپ کے ٹیلی ویژن شو The Apprentice میں مد مقابل تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے 2007 میں ہوٹل میں ہونے والی لنچ میٹنگ میں اس کی اجازت کے بغیرہونٹوں پر دو دفعہ بوسہ لیا۔ اس کے بعد Beverly Hills میں ایک اور مو قعہ پر اس کے اعضائے نسوانی کو چھوا۔ جب ٹرمپ نے 2016 میں اس کو کاذب کہا تو اس نے ہتک عزت کا جنوری 2017 میں مقدمہ دائر کر دیا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ صدر مملکت ہے اس لئے وہ مقدمہ سے مستثنیٰ ہے۔ نومبر 2019 میں ٹرمپ آرگنائزیشن نے ٹرمپ اور زیرووس کے درمیان تین منٹ کی ٹیلی فون گفتگو ریلز کی جس سے ثابت ہوتا کہ جو دن، وقت، اور جگہ زیرووس نے اپنے بیان میں کہی وہ عین وہی تھی۔ یہ مقدمہ اس وقت معطل on hold ہے جو نہی ٹرمپ کی امیونٹی ختم ہوگی مقدمہ کی کارروائی سرعت سے شروع ہو جائے گی۔

اس کے علاوہ جن درجن بھر عورتوں نے ٹرمپ کے خلاف جنسی ہراسانی sexual harassment کا الزام عائد کیا ہے وہ یہ ہیں :

Jessica Leeds 1980, Mindy McGillivray 2003, Rachel Crooks 2006, Natasha Stoynoff 2005, Temple Taggart 1997, Kristin Anderson 1990s, Cathy Heller 1997, Jill Harth 1992, Jessica Drake 2006, Karena Virginia 1998, Ninni Laaksonen 2006, Alva Johnson 2016,

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •