خادم حسین رضوی کا انتقال: تحریک لبیک کے سربراہ کو سوشل میڈیا صارفین کیسے یاد کر رہے ہیں؟

تابندہ کوکب - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خادم حسین
AFP
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کی وفات پر سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والوں کے مثبت اور تعزیتی پیغامات کے ساتھ ساتھ ان کی میمز بھی دوبارہ گردش میں ہیں۔ خادم رضوی کا مذاق، غصہ، طنز حتی کے گالیاں بھی انٹر نیٹ پر انتہائی مقبول رہے۔

وہ پاکستان میں مقبول تو تھے لیکن ساتھ ہی ایسی زبان کو ممبر اور ہر خاص و عام کی گفتگو میں لے آئے جسے معاشرہ نازیبا قرار دیتا ہے۔

ان کے پیروکاروں اور حامیوں نے ان کی موت کو ایک عظیم نقصان قرار دیا اور سوشل میڈیا پر ان کی تقاریر کی ویڈیو کلپس مسلسل شیئر کیے جا رہے ہیں۔

ان میں سے ایک میں خادم رضوی کو کہتے سنا جا سکتا ہے: ’ایک دن خبر آئے گی کہ خادم مر گیا۔ آپ نے کہنا ہے کہ بڑا اچھا آدمی تھا یا کہنا ہے بڑا بُرا آدمی تھا۔ انسان یا اچھا ہوتا ہے یا بُرا ہوتا ہے، دونوں باتیں ایک ساتھ نہیں ہو سکتی۔ آپ کہیں گے آدمی تو ٹھیک تھا لیکن سخت تھا۔ آج میرے ساتھ کھڑے ہو جائیں بعد میں ہم جیسے بھی نہیں ملنے۔‘

اسی بارے میں

سینسر فرینڈلی ’گالی‘ اور اس کی مقبولیت

خادم حسین رضوی اور عاصمہ جہانگیر

خادم حسین رضوی بدتمیز ہیں: انٹیلیجنس رپورٹ

خادم حسین رضوی کی موت کی خبر سبھی کے لیے حیران کن تھی، چاہے وہ ان کے چاہنے والے ہوں یا ناقد۔ ایسا ردعمل اچنبھے کی بات بھی نہیں کیونکہ دو دن پہلے ہی تو وہ اسلام آباد کے علاقے فیض آباد میں احتجاج کر رہے تھے۔

اسی کیفیت کو سوشل میڈیا صارف تحریم عظیم نے ٹوئٹر پر لکھا ’میں نے کبھی نفرت آمیز سخت گیر سیاست کی حمایت نہیں کی۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتی ہوں جن کی زندگیاں ان کی اور ان کی پارٹی کے نظریات کی وجہ سے یکسر بدل گئیں۔ پھر بھی ہم نے کبھی ان کے مرنے جانے کی خواہش نہیں کی۔ ہم چاہتے تھے کے ریاست ایک ریاست کی طرح عمل کرے اور دفاعی طرز عمل نہ اپنائے۔‘

شبانہ اعوان ان کے حامیوں میں سے ہیں اور ان کا کہنا تھا ’اپنے اصولی موقف کی وجہ سے ایک عظیم مقرر اور مذہبی رہنما خادم حسین رضوی ختم نہیں ہوں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے پاکستان کے سماجی مذہبی اور سیاسی میدانوں کو فتح کر لیا ہے۔‘

خادم رضوی کو جس ایمبولینس میں ہسپتال لے جایا گیا اس کی تصاویر شیئر ہوئیں تو کئی لوگوں کو ان کے عبدالستار سے متعلق دیے جانے والے بیان یاد آگئے۔

عمر رحمان بھی انہی میں سے ایک ہیں جن کا کہنا تھا ’خادم حسین رضوی نے عبدالستار ایدھی کا جنازہ سرکاری سطح پر کیے جانے پر سوال اٹھایا تھا۔ آج جو موت ان کی طرف بڑھ رہی تھی تو وہ ایدھی کی ہی ایمبولینس میں ہسپتال لائے گئے۔‘

وہیں کئی لوگ ایسے بھی ہیں جنھوں نے یہ بتانا ضروری سمجھا کے انھیں مولانا سے تو اختلاف تھا تاہم ان کے عشقِ رسول سے نہیں۔

عبداللہ نامی صارف کا کہنا تھا ’ان کے ساتھ میرے لاکھوں اختلاف سہی لیکن انھوں نے ہمیشہ پیغمبر اسلام کے احترام کے لیے آواز اٹھائی۔‘

اسی طرح شیزار نامی صارف کا کہنا تھا ’یہ بات اہم نہیں کہ آپ ان سے نفرت کرتے ہیں یا محبت۔۔۔ اہم یہ ہے کہ وہ اب نہیں رہے۔ لیکن وہ ہمیشہ ناموس ریاست کے لیے کھڑے رہے۔‘

مصطفی رمدے نامی صارف کا کہنا تھا ’خادم رضوی کو جوار رحمت میں جگہ ملے، لیکن وزیر اعظم ایک ایسے شخص کو اہمیت دے رہے ہیں جس نے نفرت آمیز تقریریں کیں، حکومت اور مفلوج کر دیا، قتل کا جشن منایا اور تشدد کو بھڑکایا، جو کہ کافی پریشان کن بلکہ ناگوار بات ہے۔‘

گہری چھاپ

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خادم رضوی کے مزاج اور انداز نے جو چھاپ چھوڑی ہے اسے مٹانا مشکل ہوگا۔

پشتون تحفظ موومنٹ سے منسلک سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کا کہنا تھا ’خادم حسین رضوی جیسے لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ باب ان کی موت کے ساتھ ختم نہیں ہوتا ہے۔ آنے والی نسلیں ان کے نفرت پر مبنی تصورات، عدم برداشت اور تشدد کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کریں گی جس کا پرچار وہ کرتے رہے ہیں۔‘

کالم نگار محمد تقی کا کہنا تھا ’خادم رضوی اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں نے بریلوی ازم کو مسلح کیا۔ پاکستان کی مذہبی فرقہ وارانہ گفتگو میں جو تلخی وہ لے آئے تھے وہ ابھی کچھ دیر باقی رہے گی۔‘

دلیرانہ انداز کے لیے وارفتگی

جہاں لوگ خادم رضوی کی وفات پر افسوس کررہے ہیں وہیں ان کی خصوصیات بھی زیر بحث ہیں۔ الفاظ کا چناؤ اپنی جگہ لیکن کئی لوگوں کی نظر میں ان کا طرز خطابت انتہائی دلیرانہ ہے۔

ایک صارف کا کہنا تھا ’ہم ان کے انداز سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن وہ ایک بہادر اور انتہائی صاف گو تھے۔ وہ چل نہیں سکتے تھے لیکن ایسے ہزاروں سے بہتر تھے جو غلاموں کی طرح چلتے ہیں۔‘

طنز اور کرخت زبان کے باوجود شہرت

خادم حسین رضوی وہ پہلی شخصیت نہیں جو اپنے منفرد اندازِ بیان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر مقبول ہوئے اور ان کی باتیں حتیٰ کے تقاریر میں استعمال ہونے والے نازیبا کلمات اور گالیاں تک میمز بن گئیں۔

کچھ عرصہ قبل وفات پانے والے ایک اور مذہبی رہنما ضمیر جعفری بھی کچھ ایسی ہی شہرت رکھتے تھے۔ ایک صارف نے رواں برس دونوں کی وفات کو ایک نقصان قرار دیا۔

سانول ماہی کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک تاریک دور میں آئے، ان کا انداز منفرد تھا اور ملک بھر میں ان کی پیروکار تھے۔ دونوں ہی اپنی شوخ اور زندہ دل شخصیت کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ ’مشہور مزاحیہ جوڑی‘، ہم سب کو ان سے اختلافات ہوں گے لیکن جو وہ تھے اس کے لیے ہم ان سے پیار کرتے ہیں۔‘

نازیبا اصطلاحات اور گالیوں کا استعمال

ناموس رسالت سے متعلق خادم حسین رضوی کے سخت گیر موقف اور احتجاجی دھرنے نے انھیں پاکستان اور دنیا میں تو شہرت دی لیکن جو چیز انھیں سوشل میڈیا گروپس، واٹس ایپ چیٹ اور حتی کے میمز اور ری ایکشن سٹیکرز میں ڈھال کر گھر گھر اور ہر فون تک لے گئی وہ تھی ان کے مخالفین اور ناقدین کے لیے نازیبا الفاظ اور گالیاں تھیں۔

اکثر لوگوں کے خیال میں ایسے الفاظ اور اصلاحات جو ہم استعمال کرتے ہوئے کتراتے تھے خادم حسین کی تقریریوں کی وجہ سے گویا ضرب المثل بن کر زبان زد عام ہو گئیں۔

انہی میں سے ایک ’پین دی سری‘ ہے جو بظاہر نازیبا لفظ نہیں لیکن اسے گالی بھی تصور کیا جاتا ہے۔

اس اصطلاح کی مقبولیت کے ابتدائی دنوں میں سوشل میڈیا پر مختلف انداز اور تصاویر کی مدد سے مزاحیہ پیرائے میں یہ الفاظ نہ ادا کرتے ہوئے اسے کہا جاتا رہا۔

حتیٰ کے ہنسی مذاق میں یہ الفاظ عام استعمال ہونے لگے۔ اسی بظاہر ’سنسنر فرینڈلی‘ گالی کو مزاح نگار علی آفتاب نے اپنے ایک گیت میں بھی شامل کیا۔

خادم حسین رضوی

Getty Images

میں نے ان سے پوچھا کہ ایسے نازیبا الفاظ کی مقبولیت کی کیا وجہ ہے؟

علی آفتاب کا کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کی انٹرٹیمنٹ انڈسٹری کے دور حاضر میں مقبول ہونے والے بیشتر مواد میں گالیاں بہت عام ہیں۔ ان کی نظر میں اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ اندازِ گفتگو لوگوں کی عام زندگی سے مطابقت رکھتا ہے۔

علی آفتاب کے بقول ’یہ چونکہ سینسر فرینڈلی گالیاں تھیں اور میڈیا پر چل بھی گئیں۔‘

ان کا استزائیہ انداز میں کہنا تھا کہ ’کسی نہ کسی انداز میں انٹرٹینمنٹ تو مہیا کرنی ہی ہوتی ہے۔‘

ان کے خیال میں ہر چیز سینسر بھی نہیں کی جاسکتی اس لیے مواد کو عمر کی حد مقرر کر کے وارننگ جاری کی جائے۔ تاہم اس حوالے سے تنقید سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔

اپنے گیت میں اسمبلیاں خادم کے حوالے کرنے کی بات پر انھوں نے وضاحت کی کہ یہاں انھوں نے ذو معنویت کا استعمال کیا تھا اور اس سے مراد ’خادمِ اعلیٰ‘ بھی تھا۔

انھوں نے اسی گیت میں ’منتخب نمائندوں اور سڑکوں پر احتجاج کر کے بلیک میل کرنے‘ والے نمائندوں کا بھی ذکر کیا۔

تاہم انھوں نے ایک بات پر خادم حسین رضوی کا شکریہ ادا کیا کہ ان کے گیت پر انھوں نے اور ان کے چاہنے والوں کو کسی قسم کا سخت رد عمل نہیں دیا۔ کیونکہ ان کے بقول ’اگر آپ وہ گانا سنیں تو آپ کو ہرگز نہیں لگے گا کہ میں کسی کی تضحیک کر ہا ہوں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16554 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp