احمدی۔ خون خاک نشیناں تھا سو خاک ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ضلع ننکانہ صاحب کی ایک یونین کاونسل ”مڑھ بلوچاں“ میں آج ایک نوجوان ڈاکٹر طاہر محمود کو محض اس وجہ سے ”قتل“ کر دیا گیا کہ ان کا تعلق جماعت احمدیہ سے تھا۔ اس مضمون میں لفظ قتل کی جگہ میں کچھ اور لکھنے کا خواہش مند ہوں، لیکن اکثریت کے جبر اور بنائے گئے قوانین کے ہاتھوں مجبور ہوں۔ اگر وہ لفظ لکھ دوں تو کم از کم تین برس کے لیے مجھے جیل جانا ہوگا۔ عقیدہ کی بنیاد پہ چند ہی دنوں میں متعدد احمدیوں کو تہہ تیغ کیا گیا ہے، لیکن نہ میڈیا کو خبر دینے کی اجازت ہے اور نہ ہی حکومتی عہدیداران میں اتنی جرات ہے کہ وہ اس قتل کی مذمت کرسکیں۔ ملک میں فساد برپا کردینے والے مولوی کی وفات پہ وزیراعظم صاحب کو ٹویٹ کرتے دیر نہیں لگتی، لیکن ایک مذہبی اقلیت کے ساتھ روا رکھے جانے والے مسلسل مظالم پہ لب کشائی کرنے کی توفیق ارزاں نہیں ہوتی۔

راقم ایک ملکی جامعہ میں زیرتعلیم ہے۔ ایک دن کلاس میں بیٹھا تھا کہ پیغام ملا، ایک جونیئر طالب علم دوست ملنے کے خواہش مند ہیں۔ کلاس سے باہر نکلا تو منتظر تھے۔ سلام دعا کے بعد پوچھنے لگے کہ آپ احمدی ہیں؟ عرض کیا جی جناب میں احمدی ہوں! کہنے لگے، میں بھی احمدی ہوں، پلیز کسی کو نہ بتائیے گا ورنہ میرے لیے بہت سی مشکلات کھڑی ہوجائیں گی کیونکہ میرے ساتھ پڑھنے والے دیگر طلبہ کو کسی احمدی کو یہاں دیکھنا منظور نہیں۔

یہ صرف ایک جامعہ کا واقعہ نہیں پاکستان میں احمدیوں کی زندگی کا خلاصہ ہے کہ انہیں مسلسل ہراسانی اور جبر کا سامنا ہے۔ جبر مسلسل کا ایسا سلسلہ ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں احمدیوں کو لاحق ہے۔ راگ الاپنے والے مگر آپ کو مسلسل یہ کہتے سنائی دیں گے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو جتنے حقوق میسر ہیں وہ دنیا میں کہیں اور مہیا نہیں ہیں۔ سچ کہتے ہیں۔ دنیا کا کون سا ایسا ملک ہے جہاں کی پارلیمنٹ یہ فیصلہ کرے کہ ایک گروہ کا عقیدہ کیا ہے اور ان کو کیا کہلوانا چاہیے۔ روئے زمین کا کون سا خطہ ایسا ہے جہاں ایک شہری کو ریاست محض اس وجہ سے تین برس کے لیے پابند سلاسل کردے کہ اس نے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کا اہتمام کیا ہے۔ دنیا میں کون سی ریاست ایسی ہے جو اپنے شہریوں کے قاتلوں کو ہار پہنائے۔ کہنے والے سچ ہی تو کہتے ہیں پاکستان اقلیتوں کے لیے محفوظ ترین ہے۔ بس اس میں اتنا سا اضافہ کر لیجیے کہ پاکستان اقلیتوں کے قاتلوں کے لیے محفوظ ہے۔ اقلیتوں کی زندگیاں اجیرن کرنے والوں کے لیے محفوظ ترین!

ایسا نہیں ہے کہ اس ملک میں صرف احمدی ہی غیر محفوظ ہیں، لیکن بظاہر ریاستی سرپرستی میں محض احمدی ہی نشانہ بنتے ہیں۔ سرکار کی طرف سے بنائے گئے قوانین کی آڑ میں احمدی مسلسل مظالم کا شکار بنتے چلے آرہے ہیں۔ کھلے عام احمدیوں کو واجب القتل قرار دیا جاتا ہے۔ بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ لسٹیں جاری کر کے لوگوں کو احمدیوں کا پیچھا کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس مخالفانہ فضا کو حسب ضرورت بعض گروہوں کی طرف سے توجہ ہٹاؤ مہم کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مہم نے اب پر تشدد رنگ اختیار کر لیا ہے۔

صرف عقیدے کے اختلاف کی بنیاد پر اس سال پانچ احمدیوں کو قتل کیا جا چکا ہے، ان میں سے چار قتل صرف گزشتہ چار ماہ میں ہوئے ہیں۔ دھونس دھمکی اور مسلسل غیر محفوظ ہونے کی تکلیف اس سے سوا ہے۔ اس سے بڑھ کے ایک شہری کے لیے کیا اذیت ہوگی کہ وہ اپنی دھرتی پہ بیگانہ ہو جائے اور ریاست اس کے قاتلوں کو لگام دینے کے بجائے یہ اعلان کرے کہ یہ سب شور شرابا ہے۔ ملک تو اقلیتوں کے لیے جنت ہے۔

آج جمعہ کا دن تھا۔ حسب روایت مرحوم ڈاکٹر طاہر محمود صاحب کے گھر میں پکوانوں کا اہتمام کیا ہوگا کہ جمعہ کی عبادت کے بعد پورا گھرانا بیٹھ کر گپ لگائے گا اور کھانے کی ٹیبل پہ ڈاکٹر کی امریکہ روانگی کے معاملات زیربحث آئیں گے۔ دروازہ پہ دستک ہوئی ہوگی۔ ڈاکٹر نے بڑوں سے کہا ہوگا آپ تشریف رکھیں، میں دیکھتا ہوں۔ دروازہ پہ آ کے پوچھا ہوگا کہ کون ہے۔ جواب میں ہمسائے کا نام سن کر جلدی سے دروازہ کھولا ہوگا کہ نہ جانے کس کام سے آنا ہوا ہے۔

دروازہ کھلا اور سامنے کھڑے ہمسائے نے گولیاں ڈاکٹر کے جسم میں پیوست کردیں۔ ہنستا مسکراتا نوجوان ڈاکٹر جس کے سامنے تابناک مستقبل تھا پل بھر میں راہی ملک عدم ہو گیا۔ قاتل ہنستے کھیلتے نعرے لگاتا پولیس اسٹیشن چلا گیا، جہاں آنے والے دنوں میں وہ ایک احمدی کو قتل کرنے کی وجہ سے ہیرو قرار پائے گا۔ احمدی کا کیا ہے۔ وہ اس ملک میں کون سا پہلی بار تہہ تیغ ہوا ہے۔ یا پھر کون سا آخری احمدی ہے جسے اس ملک میں اس کے عقیدہ کی وجہ سے مارا گیا ہے۔ احمدی کا خون خاک نشینوں کا خون ہے، اس کے نصیب میں خاک ہی ہونا ہے۔ آج فیض صاحب کی برسی تھی، جنہوں نے ایسے ہی مواقع کے لیے کہا تھا کہ

کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ
نہ دست و ناخن قاتل نہ آستیں پہ نشاں
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راشد احمد

راشداحمد بیک وقت طالب علم بھی ہیں اور استاد بھی۔ تعلق صحرا کی دھرتی تھرپارکر سے ہے۔ اچھے لکھاریوں پر پہلے رشک کرتے ہیں پھر باقاعدہ ان سے حسد کرتے ہیں۔یہ سوچ کرحیران ہوتے رہتے ہیں کہ آخر لوگ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں۔

rashid-ahmad has 26 posts and counting.See all posts by rashid-ahmad