سمیرا گمال: نیل کی ساحرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ سمیرا گمال ہیں۔ (اہل مصر جمال کو گمال بولتے ہیں۔)

اس میں تو کوئی شک نہیں تھا کہ ان کے انگ انگ سے جمال پھوٹ رہا تھا وہ نام نہ بھی بتاتے تو ان کی شخصیت خود اس امر کی غماض تھی۔ بلبل صاحب نے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا عالم عرب کی مشہور بیلے ڈانسر سمیرا گمال جن کا رقص دیکھنے کو ایک دنیا امڈ پڑتی ہے یہ نیل کی بیٹی ہیں۔

میں نے ان کے سراپا پر نظر ڈالی تو ان کی شخصیت بلبل صاحب کے دیے گئے ریمارکس کو چار چاند لگا رہی تھی۔

ان کے دلکش سراپا کو دیکھ کر مجھے فرانس کا۔ مشہور عجائب گھرLOUVRE یاد آیا جس میں محفوظ پتھر پر کندہ قدیم مصری شاعری میرے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا جیسے ایک ایک لفظ کسی اور کے لئے نہیں سمیرا جمال کے لیے لکھا گیا تھا۔

”وہ چاہت کا سمندر شیریں ہے۔
اس کے بال کالی رات کی طرح سیاہ ہیں۔
اس کی زلفیں انگوروں جیسی کالی ہیں۔
اس کے دانت چقماق کے ٹکڑوں سے زیادہ مضبوط ہیں
اس کا حسن لاثانی دیکھ کر۔
عورتوں کے دل شاداں اس کی طرف کھنچتے ہیں۔
اس کے رخسار سرخ رنگ کے پتھر یشب کی طرح شہابی ہیں۔
اس حنا کی مانند گل رنگ۔
جس سے اس کے سبک اور نازک ہاتھ رنگین ہیں۔ ”

میں اس کو دیکھتا رہ گیا مجھے کچھ ہوش نہ رہا اور میں کچھ دیر اس کے سراپے کی جاذبیت میں کھو گیا تھا اتنے میں بلبل صاحب کے الفاظ نے مجھے چونکا دیا۔

یہ ہیں پاکستان سے آئے ہوئے ہمارے مہمان مسٹر خان۔ سمیرا گمال نے ہاتھ بڑھایا میں نے آگے بڑھ کر ان سے ہاتھ ملایا۔

کیا یہ خان الخلیلی دیکھنے آئے ہیں؟ سمیرا گمال نے ہنس کر پوچھا۔
مجھے کچھ سمجھ نہ آئی بلبل صاحب بھی ہنس پڑے

انہوں نے کہا یہ اجنبی سیاح ہیں سیاحت کے بے حد شوقین اور ہماری تہذیب و ثقافت اور ادب میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں بلبل صاحب نے میرا تعارف کراتے ہوئے میری کچھ زیادہ ہی تعریف کر کے مجھے شرمندہ کر دیا

اب تک قاہرہ میں کون کون سے علاقے دیکھے ہیں۔ میں نے بتایا ابھی تو اہراموں اور فرعونوں سے فراغت نہیں مل رہی۔

آپ کسی شام کروز پر آئیں وہیں آپ سے ملاقات ہو گی۔ آپ کروز کلچر سے بھی متعارف ہو جائیں گے۔
میں دراصل ہزاروں سال قبل کی مصری تہذیب کے آثار دیکھنا چاہتا ہوں یہی شوق مجھے قاہرہ کھینچ لایا ہے۔

آپ قاہرہ کو جی بھر کر دیکھیں لیکن اگر کروز کلچر مس ہو گیا تو ساری زندگی آپ اس کی تشنگی محسوس کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہلٹن ہوٹل کے ساتھ میرا معاہدہ ہے اور میں ان کے کروز پر شام کو ہوتی ہوں۔
ٹھیک ہے میں آج شام ہی بلبل صاحب کے ساتھ وہاں موجود ہوں گا۔

میں مادام سمیرا سے ایک بات پوچھنا چاہتا تھا لیکن پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ حسن کا مجسمہ تھیں۔ لیکن اس سب کے باوجود میں ان کے چہرے میں دور کہیں غم کی پرچھائیاں دیکھ رہا تھا لیکن میں ان سے یہ بات نہ کر سکا نہ پوچھ سکا

بلبل صاحب بھی شاید میری بات کا مذاق اڑاتے کہ اس طرح کے مبہوت کردینے والے صبیح چہرے کے پیچھے کسی غم کے شائبہ کا تصور کرنا بھی جرم ہے لیکن اس سب کے باوجود میں مادام کے چہرے پر اداسی کا پرتو محسوس کر رہا تھا۔ اتنے میں مادام مسکرائیں اور ہر طرف روشنی پھیل گئی۔

”اس کے دانت چقماق کے پتھروں سے زیادہ مضبوط ہیں اور اس کے رخسار سرخ رنگ کے پتھر یشب کی طرح شہابی ہیں۔“

میں ان کا چہرہ دیکھتا رہ گیا

ہم کچھ دیر ہوٹل میں موجود رہے مادام سمیرا نے جانا تھا وہ اللہ حافظ کہ کر اپنی موٹر پر بیٹھ کر چلی گئیں میں کتنی دیر سوچتا رہا کیا یہ سب کچھ خواب تھا کہ حقیقت تھی۔

ان کے جانے کے بعد ہم بھی پیدل بوجھل قدموں سے گھر کی طرف روانہ ہوئے ہم دونوں خاموشی کے ساتھ چل رہے تھے اور مادام کے الفاظ میرے ذہن پر چھائے ہوئے تھے کہ آپ قاہرہ ضرور دیکھیں یہ دیکھنے کی چیز ہے لیکن کروز کلچر مس نہ کرنا۔ ان کا صبیح چہرہ میرے دل میں ہلچل پیدا کرتا رہا۔

راستے میں میں نے بلبل صاحب سے کہا آپ مصری بھی کمال کے لوگ ہیں آپ دنیا کو فرعونوں کا جھانسہ دے کر بلاتے ہیں تاکہ وہ ان کی حنوط شدہ ممیوں کو آ کر دیکھیں ان سے عبرت حاصل کریں اور لوگ ہیں کہ ان فرعونوں کی ایک جھلک اور موت کا منظر دیکھنے کے لیے دور دور سے کھنچے چلے آتے ہیں لیکن جب لوگ یہاں پہنچتے ہیں تو آپ حسن کے زندہ سلامت مجسمے ان کے سامنے بٹھا دیتے ہیں پھر نہ لوگوں کو موت کا منظر دیکھنا یاد رہتا ہے اور نہ عبرت حاصل کرنا۔ آپ بڑے ظالم لوگ ہیں۔

بلبل صاحب نے قہقہہ لگایا ان کو میری بات سمجھ آ گئی تھی
میں نے بلبل صاحب سے پوچھا مادام خان الخیلی کا ذکر کر رہی تھیں وہ کیا چیز ہے؟
بلبل صاحب نے بتایا کہ یہ قاہرہ کا قدیم بازار ہے۔ اس کے اندر چلے جائیں تو اس کی بھولی بھلیوں میں آپ کھو جائیں گے اور اسی میں آپ کو مصر کی اصل زندگی دکھائی دے گی اور آپ اس میں بھی مصر کی ثقافت کو زندہ سلامت دیکھیں گے۔ یہ بازار مصر کی چھ سو سالہ ثقافتی زندگی کی جھلک دکھاتا ہے جب مصر پر ترکوں کی حکومت تھی تو یہ بازار ترکی بازار بھی کہلاتا تھا۔

قاہرہ مصر کے شمال میں واقع ہے اور دریائے نیل اس شہر کے بیچوں بیچ اس طرح گزرتا ہے کہ قاہرہ آتے آتے نیل دو شاخوں میں بٹ جاتا ہے اور شہر میں کئی جزیرے بناتا ہوا گزرتا ہے نیل کی وجہ سے قاہرہ کا شمالی علاقہ بہت زرخیز ہے اور باقی تینوں صوبوں میں صحرا کی ریت اڑ رہی ہے۔

قاہرہ کے بازاروں میں ایک روز میں گھوم پھر رہا تھا ایک مصری نے میری شکل و صورت سے اندازہ لگایا کہ شاید میں انڈین ہوں اور بڑی محبت اور عقیدت سے ہاتھ لہرایا اور کہا ”امیتابھ بچن“ میں نے کہا نہیں میں پاکستانی ہوں، تو اس کا منہ لٹک گیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ انڈیا نے فلم کے ذریعے کس طرح ثقافتی طور پر دنیا کے کروڑوں انسانوں کو اپنے ساتھ جوڑا ہوا ہے اور دوسری طرف ہم سے دنیا کتنی محبت کرتی ہے۔ قاہرہ میں ایک طرف اگر مسجدیں، مقبرے اور گرجا گھر ہیں تو ساتھ ہی نائٹ کلب، تھیٹر، اوپرا ہاؤس اور کروز ہاؤسز موجود ہیں جن کی موسیقی سے قاہرہ کا دل دھڑکتا ہے

قاہرہ کا مطلب فاتح بھی ہے مسلمان فاتحین نے دسویں صدی میں اس شہر کا سنگ بنیاد رکھا اور اس کی بنیاد کے بارے میں ایک دلچسپ وجہ بھی موجود ہے جب فاطمی خلیفہ معز الدین نے اس شہر کا سنگ بنیاد رکھا تو اس کے ایک چہیتے غلام جوہر نے ایک مشہور نجومی کو ایک بلند جگہ پر کھڑا کیا اور جہاں سنگ بنیاد رکھا جانا تھا اس جگہ پر رسیوں کے ساتھ گھنٹیاں باندھ دی گئیں تاکہ جب نجومی کو شبھ گھڑی دکھائی دے تو ان رسیوں کو ہلا دیا جائے گھنٹیوں کا شور سن کر سنگ بنیاد رکھ دیا جائے۔

لیکن ہوا یہ کہ انہی لمحات میں ایک کوا ادھر آ نکلا اور وہ گھنٹیوں والی رسی میں پھنس گیا اور اس کے پھڑپھڑانے سے گھنٹیاں بجنے لگیں عین اسی وقت مریخ سیارہ آسمان پر نمودار ہوا تو نجومی چیخا کہ ابھی وہ نیک ساعت نہیں آئی مریخ کا منحوس سیارہ سامنے ہے مریخ سیارہ کو قاہرہ بھی کہتے ہیں وہ القاہرہ القاہرہ کہتا رہا کہ مریخ سامنے ہے آپ لوگ گھنٹیاں کیوں بجا رہے ہیں اور اس پر نئے شہر کا سنگ بنیاد کیوں رکھ رہے ہیں وہ اس کو منحوس گھڑی سمجھتا رہا لیکن سنگ بنیاد رکھ دیا گیا تھا ان ساری توہمات کے باوجود قاہرہ قائم ہو گیا بعد میں اگرچہ عمرو بن عاص نے جب اس کو فتح کیا تو اس کا نام ”الفستاط“ رکھا لیکن ان لوگوں کی تھیوری نام بدلنے سے قسمت بدل جاتی ہے غلط ثابت ہوئی اور وہی منحوس گھڑی کا شہر قاہرہ اپنے نام نامی سے آج بھی دنیا کے نقشے پر آباد ہے اور ہزاروں سال کے آثار قدیمہ کے ساتھ عالم عرب میں یہ شہر اپنی نمائندہ حیثیت میں قائم ہے۔

یہ نظریہ کہ اس شہر کی زندگی 600 سال ہے صحیح دکھائی نہیں دیتا یہ علاقہ اس کی تہذیب پانچ ہزار سال سے موجود ہے اس شہر کے ارد گرد دور دور تک پھیلے ہوئے اہرام ابوالہول اور کھنڈرات اس شہر کے جہان قدیم ترین ہونے کا پتہ دیتے ہیں وہیں ان لاکھوں انسانوں کی بے کسی بھی آشکار کرتے ہیں جن پر فرعون حکومت کرتے تھے جنہوں نے اپنے جاہ و جلال کو دوام بخشنے کے لیے اہرام بنائے۔

فرعون قابل رحم تھے ان بیچاروں پر ہر وقت موت کا خوف طاری رہتا تھا اس قدر کہ انہوں نے موت کے بعد کی زندگی کو بھی عالی شان بنانے کی کوشش میں ایسی یادگاریں بنائیں جو آج ان کی اولاد کے لئے خوشحالی کا ایک ذریعہ ہیں انہوں نے اپنا دل خوش کرنے کے لئے نظریہ اپنایا تھا کہ موت کے بعد کی زندگی کا وجود ہے لیکن یہ موقع صرف ان لوگوں کو ملے گا جن کا جسم اپنی اصلی حالت میں ہوگا اس لیے اپنے اپنے دور حکومت میں ہر فرعون کی توجہ کا مرکز اپنے آپ کو موت کے بعد محفوظ کرنا تھا کہ جہاں ان کے جسم صحیح سالم رہے وہیں ان کے مقابر بھی دور دور تک ان کی عظمت کا پتہ دیتے رہے اس لیے زندگی میں بھی وہ موت کے استبداد کا شکار رہتے تھے اور دوسرے لاکھوں انسانوں کو بھی بیگار لے کر پریشان رکھتے تھے نہ معلوم کتنے انسان ان کے ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔

ان کے مقابر تعمیر کرتے کرتے خود قبر میں چلے گئے تھے لوگ سالہا سال اپنے پیاروں سے دور رہے اور ان کو جسمانی مشقت کے ساتھ ساتھ ذہنی اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں اس طرح کے انسانوں کی زبوں حالی کا کسے خیال تھا تاریخ نے بھی انسانوں کی زندگی سے روگردانی کر کے بادشاہوں اور وار لارڈز کی شہرت کو دوام بخشنے کی کوشش کی ہے۔ محسن انسانیت کارل مارکس نے کہا تھا کہ بادشاہوں اور ستم گروں کے گرد گھومتی تاریخ کو رد کر دو اور تاریخ کو اس زاویے سے دیکھو کہ ہر دور میں انسان کا کیا مقام تھا اس دور میں انسان کی زندگی کو بہتر بنانے کا کتنا کام ہوا ایک مطلق العنان شخص کی پالیسیوں نے ایک عام انسان کو کیا دیا۔ اس کے دکھوں کا کیا مداوا کیا۔

چنانچہ اس دور میں انسانوں کی زندگی نہیں بلکہ ایسے بادشاہوں کی زندگی اور موت کی فکر رعایا کو ہوتی تھی کہ بادشاہ سلامت موت کے بعد بھی زندہ رہیں یہیں سے لاشوں کو حنوط کرنے کا کام شروع ہوا تھا کہ بادشاہ کی لاش موت کے بعد بھی موت کو للکار سکے اور ان کے مقابر کے نقوش لوگوں کے دلوں پر بھی ثبت رہیں پھر وقت نے بتایا کہ ایسے تمام مقابر اور اہرام چوروں کی دسترس سے محفوظ نہ رہے کیونکہ فرعون کے مرنے کے بعد اس کی حنوط شدہ میت کے ساتھ سونے جواہرات کے ڈھیر لگا دیے جاتے تھے اور کھانے پینے کی اشیاء بھی رکھ دی جاتی تھیں تا کہ جس چیز کی جب بھی کسی فرعون ذیشان کو ضرورت پڑے اس کی کمی محسوس نہ ہو اور چور تو چور ہوتا ہے صدیوں بعد چوروں نے مدفن میں پڑے ہیرے جواہرات اڑا لئے اور شہنشاہ کے پاس نہ زر کثیر رہا نہ زرمبادلہ۔

میں حیران ہوا پیسوں کے بغیر انہوں نے فرشتوں کے ساتھ معاملات کیسے طے کیے ہوں گے۔ مصریوں کا مذہب بھی دوسرے مذاہب کی طرح عجیب و غریب میتھالوجی سے بھرپور ہے اور اس میں عجیب و غریب کہانیاں، محیرالعقول قصے بیان کیے گئے ہیں یہ کوئی سکہ بند مذہب تو نہیں تھا اوہام پرستی کا نمونہ عقل و فہم سے دور بنائے گئے عقیدوں کا گورکھ دھندا تھا

میں ان اوہام پرستانہ عقائد اور نظریات سے بھاگ کر جیتے جاگتے انسانی کرداروں کی طرف واپس آنا چاہتا تھا اور مادام سمیرا جمال سے بہتر اور کیا ہو سکتا تھا۔

دن کب کا غروب ہو چکا تھا رات اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ قاہرہ میں اتر رہی تھی میں اور بلبل صاحب پہلے ہلٹن ہوٹل پہنچے اور وہاں سے کروز میں منتقل ہو گئے۔ یہاں غیر ملکی بھی موجود تھے اور شام اور عراق کے گروپ بھی آئے ہوئے تھے، مقامی فیملیز بھی اپنے چھوٹے بڑے بچوں کو ساتھ لائی ہوئی تھیں۔ ہمارے ہاں بچوں کو ایسے پروگراموں میں لانا تو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ لوگ تو ایسے آئے تھے جیسے بچوں کو سرکس دکھانے آئے ہوں۔

ہمارے آگے پیچھے عربی زبان میں پرجوش گفتگو ہو رہی تھی ہم چاروں طرف سے مقدس زبان کے حصار میں تھے۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ناؤ نوش بھی چل رہا تھا بلبل صاحب نے مجھے ایسے موقع کے لئے ایک اچھا مشورہ دیا کہ جب کبھی ساقی اور پیمانہ آپ کی طرف بڑھے تو آپ نے انکار نہیں کرنا صرف یہ کہہ دینا ہے کہ مجھے الرجی ہے۔ تا کہ ساقی کے پندار کو بھی ٹھیس نہ پہنچے اس کا حسن اور وقار بھی قائم رہے اور آپ کی بھی بچت ہو جائے۔ ہمارے ارد گرد لوگ اب دختر رز سے محظوظ ہونے کے بعد دختر نیل کا شدت سے انتظار کر رہے تھے خوشی کا سماں تھا ہر طرف قہقہے بلند ہو رہے تھے۔

اتنے میں بیلے ڈانسر نے دھم سے اسٹیج پر انٹری دی اتنی تیزی اور سرعت کے ساتھ کہ ہماری سانس جہاں تھی وہیں رہ گئی۔ میں نے غور سے دیکھا تو مادام سمیرا جمال ہی تھیں۔ وہ بیلی ڈانس کے مخصوص لباس میں تھیں۔ سمیرا کا ایک ایک انگ ظاہر بھی تھا اور مستور بھی۔ چاند کا جو حصہ روشنی کے سامنے آتا نور بن کر پورے ماحول کو گرما دیتا۔

بیلے ڈانس اپنی مخصوص تکنیک کے ساتھ مصریوں سے شروع ہوتا ہے اور مصری ہی اسے اوج ثریا پر پہنچاتے ہیں آرکسٹرا موجود تھا مع ایک سنگر کے۔ گیت کے بول اگرچہ سمجھ نہیں آرہے تھے لیکن سمیرا کے ہر انداز میں گیت ڈھل کر دلوں میں ہلچل پیدا کر رہا تھا اور ہر لحظہ رقص کا زاویہ بدل رہا تھا۔ آواز میں جہاں جوش و جذبہ محسوس ہو رہا تھا وہاں رقص میں اس سے زیادہ طنطنہ تھا۔

ابتدا میں تو رقص میں دھیما پن تھا جیسے جھیل ڈل میں کشتی ہلکورے لے رہی ہو سازندوں نے لے بدلی، موسیقی کے ساتھ رقص میں بھی تیزی آتی گئی اس کا حنائی ہاتھ، مرمریں جسم، چہرے کا شہابی رنگ، قزح کے رنگ میں بدلتا محسوس ہو رہا تھا۔ جوانی کا وفور انگ انگ میں ڈھل کر قیامت خیز بن گیا تھا کبھی بجلی کی سرعت کبھی مدھم سروں کے ساتھ بدن کی ہلکی جنبش اور ہر جنبش میں حسن تھا جمال تھا جوانی تھی جس نے لوگوں پر سحر طاری کر دیا تھا کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھ رہی تھے حتی کہ جام ہاتھوں میں جم کر رہ گئے تھے صرف رقص، رقص میں قوسیں اور زاویے بنتے اور بگڑتے رہے۔
جو کبھی پھول محسوس ہوئے کبھی شعلہ۔ موجیں اور لہریں پیدا ہوتی رہیں اور ہر لہر میں قوس قزح کے رنگوں کا ایک پیکر تھا جو چاروں اور ہم پر محیط تھا مادام سمیرا کبھی جوال امکھی کا روپ اختیار کرتی اور کبھی حسن و جمال کی گھٹا بن کر آتی اور نور و انوار کی بارش بن کر ہم پر برستی رہی اور ہم مسلسل اس رنگ و نور کی بارش میں بھیگتے رہے رقص جاری رہا اور کروز آگے بڑھتا رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •