پاکستان پیپلز پارٹی کا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلی مرتبہ ذو الفقار علی بھٹو نے حیدر آباد سندھ میں میر رسول بخش تالپور کے گھر ایک نئی پارٹی کی تشکیل کی بات کی۔ یہ 16 ستمبر 1967ء کی اک خوشگوار صبح تھی۔ بھٹو نے اس موقع پر جمع اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا۔ ”ایک نئی سیاسی پارٹی کی تشکیل ہی وہ تنہا سبیل ہے جو انہیں منزل مقصود تک پہنچا سکتی ہے“ ۔ منزل مقصود سے ان کی مراد خوشحال پاکستان اور امن انصاف، مساوات پر مبنی ایک معاشرے کا قیام تھا۔ انصاف، معاشی انصاف کے بغیر کوئی معنی نہیں رکھتا۔ روٹی، کپڑا، مکان کی گارنٹی ہی معاشی انصاف ہے۔ پاکستان میں اب تک لوگ ایسی نئی صبح کے منتظر ہیں۔

جس کے ماتھے پہ نئی صبح کا جھومر ہوگا
میں نے اس وقت کی دلہن کو بہت یاد کیا

بھٹو نے اس موقع پر یہ اعلان بھی ضروری سمجھا کہ ’میں اس سال کے ختم ہونے سے پہلے پہلے پارٹی کی تشکیل کے تمام مرحلوں سے گزر چکا ہوں گا‘ ۔ اب یہ کتنی دکھ بھری بات ہے کہ متحدہ ہندوستان میں 23 مارچ 1940 ءکو جب ہم آزاد نہیں تھے لیکن مسلم لیگ کے زیر اہتمام قرارداد پاکستان لاہور میں راوی کنارے ایک کھلے عوامی پارک میں منظور کی گئی۔ اب ہم آزاد تھے۔ اس لیے آزاد مملکت پاکستان میں پاکستان کے آزاد شہریوں کو دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث 30 نومبر 1967ء کو پیپلز کنونشن ایک چار دیواری کے اندر کرنا پڑا۔ یہ چار دیواری ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر کا لان تھا جو اس پارٹی کے پہلے اجلاس کے لئے میسر آیا۔ اس بڑے آدمی کے دل کی طرح اس کا گھر بھی خاصا بڑا تھا کہ اس میں 600 مندوبین کے بیٹھنے کے لئے جگہ موجود تھی۔ یہ مندوبین چاروں صوبوں سے کنونشن میں شرکت کے لئے پہنچے ہوئے تھے۔ یہ بھٹو کی سیاسی زندگی کا سب سے ہیجانی دن تھا۔ سورج نکل آنے سے نومبر کے اس آخری دن کی خنکی کسی قدر کم ہو گئی مگر فضا میں سردی کا تاثر ابھی موجود تھا۔ ذو الفقار علی بھٹو نے اس اجلاس میں لمبی تقریر کی۔ اس تقریر میں سے اختصار کے ساتھ چند باتیں۔

”اگر قومی زندگی کے پچھلے بیس سالوں کا جائزہ لیا جائے تو ہم صرف اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اس پورے وقفہ میں سختی کے بعد سختی اور مصیبت کے بعد مصیبت دوڑی چلی آئی ہے۔ مسائل کے انبار لگ گئے ہیں۔ محرومیاں اور مایوسیاں اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہیں اور ہر شے کی بنیاد بڑی متزلزل ہے۔ کہیں بھی تو ہماری موجود نہیں۔ میں نے اکثر بڑی بے چینی کے ساتھ سوچا ہے کہ اگر ہم ایک قوم کی حیثیت سے اس غیر یقینی حالت میں کیوں مبتلا ہیں؟ ہمیں دوسرے ملکوں کی طرف دیکھنا چاہیے۔ ان ملکوں کو بھی مسائل کے انبار کے انبار نصیب ہوئے تھے۔ مگر ان ملکوں نے اپنے سارے مسائل پر بڑی کامیابی کے ساتھ قابو پا لیا ہے۔ ان کے برعکس ہم اپنی بدنصیبی کے سبب جہاں تھے وہیں کھڑے ہیں۔ ہمارے سارے بنیادی مسائل ابھی تک جوں کے توں الجھے ہوئے ہیں۔

ہماری اس نا اہلی کی اصل وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے ان مسائل کے بارے میں عوام سے بالکل رجوع نہیں کیا اور کسی وقت بھی ان سے استصواب کی ضرورت نہیں سمجھی۔ حالانکہ عوام الناس ہی کو آخر کار یہ سارے مسائل حل کرنے ہیں۔ کسی بھی ایک فرد کو خدا کی طرف سے یہ خصوصی اختیار حاصل نہیں کہ وہ پاکستانی عوام کے لئے قانون وضع کر سکے۔ عوام نے اپنی نظریاتی منزل مقصود یعنی پاکستان کی تخلیق کے لئے بڑی جد و جہد کی ہے۔ اب جبکہ ان کی زندگی اور ان کی فلاح و بہبود کو خطرہ لاحق ہے، صرف وہی اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ یہ طے کریں کہ حکومت کا ڈھانچہ کیا ہو اور ریاست کس طرح چلے؟ اس ملک میں جو مسلسل بحران اور اضطراب رونما ہے، یہ صرف اس بات کا نتیجہ ہے کہ عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ حکمرانوں کا ایک چھوٹا سا گروہ اس ملک کی تقدیر کا مالک بن بیٹھا ہے اور ملک کو جس ڈھنگ سے چاہتا ہے چلاتا ہے ”۔

اس اجلاس میں پچیس قرار دادیں پیش کی گئیں جو اتفاق رائے سے منظور کر لی گئیں۔ ان میں 1965 کی جنگ کے سول، فوجی شہیدوں اور مادر ملت کو خراج تحسین بھی شامل ہے۔ کچھ قراردادوں میں صنعتی مزدوروں، کھیت مزدوروں اور نابالغ مزدوروں کے بارے میں مطالبات، اعلانات وغیرہ لیکن اب تو یہ سب کچھ سبھی سیاسی جماعتیں تقریباً بھول ہی چکی ہیں۔ جاگیردارانہ استحصال کے خاتمے کی باتیں اور آئندہ کے لئے سرکاری زمینیں صرف کاشتکاروں کے لئے مخصوص کرنے کے تذکرے اب کچھ عجیب عجیب سے لگتے ہیں۔ جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف نے ہمارے قومی چہرے سے سارا وقار کھرچ ڈالا ہے جو ہم نے ایک لمبی جد و جہد سے حاصل کیا تھا۔ اب تو پھر ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ پیپلز پارٹی 30 نومبر 1967ء کو شروع کیا گیا اپنا سفر پھر نئے سرے سے آغاز کرے۔ پھر منزل کی جانب پہلا قدم اٹھائے۔ لیکن یہ ہو کیسے سکتا ہے؟

1978 ءمیں جنرل ضیاءالحق کے ایما پر معروف صحافی آئی ایچ برنی نے بھٹو کے خلاف وائٹ پیپر کی کئی جلدیں مرتب کیں۔ قابل ذکر بات ہے کہ وہ بھٹو پر مالی کرپشن کا کوئی ایک قابل ذکر الزام بھی عائد نہ کر پائے۔ بھٹو کا نہ ہی کوئی گھر لاہور میں تھا اور نہ ہی اسلام آباد میں۔ آج کے جیالوں سے ایک سوال ہے۔ کیا انہیں اگلی سوموار مورخہ 30 نومبر 2020 کو لاہور میں ایک ٹاؤن ڈویلپر کے بخشے ہوئے 100 کنال کے محل میں بھٹو والی مزدوروں اور بے زمین کسانوں کی پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس منانا کچھ عجیب سا نہ لگے گا؟ انہیں بھٹو کی برسی کے ساتھ بھٹو پارٹی کی برسی بھی منانی چاہیے۔ پیپلز پارٹی اب کسی طور بھی بھٹو پارٹی نہیں۔ شاعر لاہور کا یہ شعر کتنا برمحل ہے۔

یہ تیرے دوست تجھے دفن کیوں نہیں کرتے
شعیب فوت ہوئے تجھ کو اک زمانہ ہوا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •