ہندوستان کے کائو بوائز اور مسز اندرا گاندھی کا حلقہ گرہ گیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے کتب خانہ میں دو ڈیجٹل کتابیں موجود ہیں۔

پہلی تو مشہور زمانہ جاسوس کم فلبی کے بارے میں ہے۔ اے سپائی امنگ فرینڈز مصنف بین میکن ٹائر اور جان لا کیئرے۔ اس کی تعریف ٹوئیٹر پر وکرم سود صاحب نے کی تھی۔ موصوف را کے چیف رہے۔ سن دو ہزار تین میں ریٹائر ہوئے۔ تعلق ہندوستان کے محکمہ ڈاک سے تھا۔ ہمارے محکمہ ڈاک کے اعلیٰ افسران بھی اُن کی طرح ایک ہی مقابلے کے امتحان سے آتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ چونکہ ہر صوبے کے چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری اور وزرائے اعلیٰ، وزیر اعظم کے پرنسپل سکیرٹری اور سول سروس کے گرو گھنٹال اسٹیبلشمنٹ سکیرٹری کا تعلق عام طور پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (سابقہ سی ایس پی ایک مدت تک ڈی۔ ایم۔ جی اور اب پی۔ اے۔ ایس) سے ہوتا ہے اس لیے یہ قدرے ناممکن ہے کہ پوسٹل سروس کے بڑے کورے لٹھے جیسے بے لطف، کفن مزاج افسر کو اس کا ہم منصب پی۔ اے۔ ایس گروپ کا ساتھی، ایک ماہ سے پہلے ملاقات کا شرف بخشے۔ چہ جائیکہ کہ اسے کسی خفیہ ادارے کا سربراہ مقرر کرے۔

پاکستان میں خیال تازہ کا فقدان ہے کہ اس کے قانون نافذ کرنے والے ادارے چاہے وہ آئی۔ بی ہو یا ایف آئی اے ان میں افسران اور سربراہان کی تعیناتی کی تان پولیس اور فوج کے افسروں پر آن کر ٹوٹ جاتی ہے۔ ذرا دور نظر گھمائیں توجب کہ ایم آئی فائیو اور سکس نے مارکس اینڈ اسپنسر جیسے اسٹورز کی ان خواتین ملازمائوں کو جو گاہکوں کی چوریاں پکڑتی تھیں یعنی ایلین اور فلورا سالومن کو اپنے اداروں میں اہم عہدے تقویض کیے۔ ایلین، کم فلبی کی دوسری بیوی تھی اور فلورا سولومن ایلین اور فلبی دونوں کی مشترکہ دوست تھی۔ ان دونوں خواتین نے ہی کم فلبی اور اس کے دیگر چار دوستوں کے روسی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنے کی اطلاع سب سے پہلے ایم آئی فائیو میں اپنے دوستوں کو دی تھی۔ جب کہ ان اداروں کے اہم افراد وہائٹ اور ایلیٹ اور ملی مو جیسے سکہ بند جاسوس اس کھوج میں ناکام رہے تھے۔

’’کائو بوائز‘‘ (یادوں کی شاہراہ پر) کے مصنف ہندوستان پولیس سروس کے افسر اور ایڈیشنل بی رامن جی نے کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’’را ‘‘ کا اصل میدان تو اس کی مانو بدھی یعنی(human intelligence)  ہے۔ اس کا جیتا جاگتا ثبوت اس کے بانی سربراہ کائو جی ہیں۔ سو کائو اور ان کے ٹولے کے بارے میں انگریزی میں لکھو تو Cow Boys بنتا ہے۔ جینز میں ملبوس، ترچھا ہیٹ جمائے، کمر سے پستول لٹکائے، مارلبرو سیگریٹ کے اشتہاروں کے مرد ماڈل جیسا گھوڑے پر بیٹھا پیکر مردانگی۔

بہت دن ہوئے۔ قریباً سولہ سال سے بھی اوپر، ہم اور جنرل حمید گل جن کے ہم بڑے مداح تھے ان کی ویسٹ رج والی رہائش گاہ پر بیٹھے تھے۔ ہم انہیں شیشے میں اتار رہے تھے کہ وہ کتاب لکھیں، انہیں وقت کی کمی کا گلہ تھا۔ جنرل صاحب شاید وہ پہلے فوجی تھے جو ایم آئی اور بعد میں آئی۔ ایس۔ آئی دونوں کے سربراہ رہے تھے۔ بعد میں بہکا بہکا سا گفتار کا جان لیوا قرینہ بھی آ گیا تھا۔ ہم نے کہا وہ کیسٹ ریکارڈ کرکے ہمیں بھجوا دیں گے ہم مسودہ انہیں باب در باب نظر ثانی کی خاطر بھیج دیں گے۔ کتاب کا نام بھی انہیں بھلا لگا تھا ’’حرّب مسلسل‘‘۔ تب تک رالف پیٹر کی

Endless War: Middle-Eastern Islam vs. Western Civilization

شائع نہ ہوئی تھی۔ ایسا نہ تھا کہ جنرل صاحب کے علم میں یہ نہ تھا کہ ان کے دو عدد ماتحت ایسی کتابیں لکھ رہے ہیں جو پاکستان کے خفیہ اداروں کے افغانستان کے تناظر میں رول اور ان سے متعلقہ افراد کا احاطہ کریں گی یعنی بریگیڈئر یوسف کیAfghanistan: The Bear Trap: The Defeat of a Superpower اور بریگیڈیئر ارشاد احمد ترمذی کی حساس ادارے۔ جنرل صاحب وعدہ وفا نہ کرسکے لہذا۔۔۔ ان کہی ہی رہ گئی وہ بات، سب باتوں کے بعد۔

وہ کتاب لکھتے تو بہت سے لوگ بغلیں جھانکتے دکھائی دیتے جو اب بہت معتبر دکھائی دیتے ہیں۔ اب تو ہر ہفتے افغانستان، جہاد اور القاعدہ پرہی کوئی نہ کوئی کتاب آجاتی ہے۔

 The Kaoboys of R&AW: Down Memory Laneواقعات کے چیدہ چیدہ بہکے بہکے تسلسل میں کتاب بڑی احتیاط سے اپنے محسن عظیم کی زندگی کی ’’را ‘‘ سے وابستگی کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ محسن رامیشور ناتھ کائو تھے۔۔ کشمیری ہونے کے ناتے وہ نہرو جی کے بہت قریب تھے۔ جب نہرو جی کی صآحب زادی مسز اندرا گاندھی وزیر اعظم بنیں تو ایک کشمیری مافیا، وزیر اعظم کی کچن کیبنٹ کا حصہ بن گیا۔ یہ سب برہمن اور کشمیری پنڈت تھے۔ بلا کے ذہین، خوش گفتار، دور بین، اور مالی کرپشن سے دور، بے داغ شفاف کردار کے مالک اپنی باس کے جانثار۔ بھارت کی اوچتا Supermacy میں دھرم وشواس رکھنے والے۔

 اس مافیا کے ڈان پروفیسر پی این دھر تھے جنہوں نے شملہ معاہدے میں بھٹو صاحب کو بہت زچ کرکے رکھا تھا۔ دھر اور کائو کے علاوہ دیگر ممبران میں پی این ہکسر (پرنسپل سیکرٹری )، برج کمار۔۔ نہرو (مسز اندرا گاندھی کے کزن بھارت کے امریکہ میں سفیر) اور ٹی این کول سابق وزیر خارجہ تھے۔ یوں جان لیں کہ پنڈت نہرو نے ایک ایسا بیوروکریٹ گروپ راشٹر پتی بھون میں لاکر انسٹال کردیا تھا جو برطانوی وہائٹ ہال کی طرز کی بیورو کریسی کا نقشہ پیش کرتا تھا۔ اندرا گاندھی کے مخالف حلقوں میں یہ بات عام تھی کہ یہ سب لمبے، گورے اور ہینڈ سم مرد تھے۔ اسی کشمیری مافیا پر یہ الزام بھی ہے کہ ا س ٹولے نے اندرا جی کو ایک جمہوری وزیر اعظم سے ایک بے رحم ڈکٹیٹر بننے میں اس وقت مدد کی جب انہیں یہ لگا کہ وزیر اعظم بنگلہ دیش کی تخلیق کرکے پاکستان کو ہزیمت سے دوچار کرنا چاہتی ہیں۔ اس معاملے میں وہ ایک انتقام پسند عورت کی نفرت کا شکار ہیں۔ وہ مشرقی پاکستان کی علیحد گی کا یہ مشن اپنی سربراہی میں چنیدہ افراد کی مدد سے سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

 بنارس میں کشمیری گھرانے میں پیدا ہوونے والے رامیشور ناتھ کائو پنڈت جواہر لال نہرو کے زمانے میں ہندوستان کے آئی۔ بی کے خارجہ ونگ کے چیف تھے۔ بیٹی اندرا گاندھی نے (جن کے عہد زریں میں یہ خفیہ ادارہ ری سرچ اینڈ انالئسس ونگ کے نام سے وجود میں آیا) ان کی صلاحیتوں اعتراف کرتے ہوئے انہیں اس کا پہلا سربراہ مقرر کیا۔

ادارے کا نام تو جو بھی تھا مگر ابتدائی ایام میں محکمہ جاتی حسد کی بنیاد پر وہ افسران اس کے مخفف کی رعایت سے (ان افسروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو بیرونی ممالک میں کور پوسٹنگ پر تعینات ہو کر عہدے کی معیاد ختم ہونے پر کبھی پلٹ کر ہندوستان نہ آئے) اس ادارے کو ریل ٹیوز اینڈ اسوشیٹس ونگ (RELATIVES AND ASSOCIATES WING) بھی کہتے تھے۔

 RAWکی تشکیل کا خیال یوں پیدا ہوا کہ سنہ 1962 میں بھارت کو چین سے جنگ میں بڑی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تب مسز اندرا گاندھی کے والد پنڈت جواہر لال نہرو بھارت کے وزیر اعظم تھے۔ ہندوستان کو چین کی عسکری طاقت کا بالکل اندازہ نہ تھا۔ چین بھی ان دنوں مریخ کی طرح کا کوئی درو افتادہ سیارہ لگتا تھا بس فرق یہ تھا کہ چیئرمین مائو زے تنگ کے مقابلے میں مغربی میڈیا جواہر لال نہرو کو زیادہ جانتا پہچانتا تھا۔

 نہرو کے زمانے ہی میں بھارت کو چین کے خلاف معلومات اکھٹی کرنے اور استعمال کرنے کے لیے کائو صاحب کی نگرانی میں ڈائریکڑیٹ جنرل آف سیکورٹی بنایا گیا۔ امریکہ اور برطانیہ کے خفیہ اداراوں نے اس کی تشکیل میں ان کی بڑی مدد کی۔ فرانس کی خفیہ ایجنسی SDECE کے سربراہ الیکژنڈر دے مراناش Count Alexandre de Marenches  تو رامیشور کائو جی کے دوست تھے اور ان کے زمانے میں یہ امداد اور بھی بہت کھل کر ملی۔

جب 1966 میں اندرا گاندھی بھارت کی وزیر اعظم بنیں تو ان کے سامنے اپنے والد کے دور کی چین سے جنگ میں شکست کی پہلی بڑی سبکی بھی تھی۔ وہ اس ہزیمت کا داغ دھونا چاہتی تھیں۔ اس کا بدلہ ظاہر ہے وہ چین سے لینے کی پوزیشن میں تو نہ تھیں لیکن 1965 کی پاکستان سے جنگ کی تلخیاں بھی ان کے ذہن سے محو نہ ہو پائی تھیں۔

 مسز اندرا گاندھی کائو جی کے ساتھ اپنے وزیر اعظم والد کی خصوصی مگر نجی مشیر کے طور اکثر رابطے میں رہتی تھیں۔ کائوجی بھارت کے انٹیلی جنس بیورو میں اس وقت خارجہ ونگ کی جگہ تشکیل دیے گئے ڈائریکڑیٹ جنرل آف سیکورٹی کے سربراہ تھے۔ وہ ان کی شخصیت کی وجاہت، راز داری، وفاداری، ذہانت اور خود کو غیر اہم بنا کر رکھنے کے اہتمام والی خوبیوں سے بڑی متاثر تھیں۔

 والد کے زمانے ہی اندرا گاندھی کو بطور سیاستداں اور خاتون ایسے بے شمار مردوں سے واسطہ پڑتا تھا جو اُن پر ہندوستانی ناری جان کر حاوی ہونے اور چھا جانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کے برعکس کائو صاحب جو طویل القامت، ذہین، کم گو، وجیہ اور بے حد معاملہ فہم افسر تھے ان کا انداز ذرا من موہنا تھا۔ وہ شمع کی مانند اہل انجمن سے بے نیاز ایک آتش گمنام میں چپ چاپ جلتے رہنے کے عادی تھے۔

 ان کے دلکش سراپے میں مسز اندرا گاندھی کو جمیز بونڈ کے خالق آئن فلیمنگ کی جھلکیاں دکھائی دیتی تھیں۔ جو برطانوی نیول انٹیلی جنس کے ایک بڑے افسر ہونے کے علاوہ خواتین کے معاملے میں بھی بڑے Lady Killer سمجھے جاتے تھے۔ انہیں اپنی اکثر محبوبائوں پر رضاکارانہ جسمانی تشدد کے حوالے سے بھی مخصوص دل چسپی رکھنے والے حلقوں میں کافی قبولیت کا درجہ حاصل تھا۔ ان کی اپنی ہی شخصیت کے کچھ ایسے وصف تھے جن کی روشنی میں ان کے لافانی کردار جمیز بانڈ نے تشکیل پائی۔۔ وہ غیر جذباتی، شدید دبائو اور خطرے کی حالت میں بھی اپنا Composure قائم رکھنے والے تھے۔ انہیں یہ ہنر بھی خوب آتا تھا کہ، خواتین پر (ہمارے پٹے پر لئے گئے سابق وزیر اعظم) شوکت عزیز کی طرح کس طرح جلد حاوی ہونا ہے۔ ان میں دلفریب و بے رحم ادائے مردانگی تھی۔ برطانوی اشرافیہ میں ان کے مراسم بہت گہرے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اس بات کے ابتدا میں حامی نہ تھا کہ سر شان کونری جیمز بانڈ کا کردار ادا کرتے۔ مصنف کا خیال تھا کہ جمیز بونڈ کے کردار میں جو تمکنت، وقار اور اپر کلاس ٹچ ہے وہ شان کونری جیسے ٹرک ڈرائیور کے لیے نبھانا شاید آسان نہ ہوگا۔

 را کے قیام کے روز اول سے ہی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے کائوجی کو خصوصی طور پر مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے علیحدہ کرنے کا فریضہ سونپا۔ مشہور مصور اور سائنسداں لیونارڈو۔ ڈا۔ ونچی کا کہنا تھا کہ’’ کائنات ایک مسلسل تسلسل کا نام ہے۔ حالات، واقعات اور افراد آپس میں جڑے ہوتے ہیں‘‘۔

اس کتاب میں گو ایک ذہین ماتحت بی رامن کی جانب سے اپنے افسر عالی مقام کی ویسی ہی مدح سرائی کی گئی جیسی مرزا غالب مجبور و بے کس شہنشاہ ہند بہادر شاہ ظفر کی کیا کرتے تھے۔ جس طرح پاکستان کی چار کمانڈو والی ایس۔ ایس۔ جی رجمنٹ جسے 1956. میں  19thبلوچ کے کرنل کمانڈنٹ ابوبکر عثمان مٹھا (جن کا تعلق بمبئی کے میمن سیٹھ سر قاسم سلیمان مٹھا کے خاندان سے تھا) نے تشکیل دیا تھا۔ وہ بعد میں میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اُن کی شخصیت کے اثرات ایک طویل عرصے تک اس ادارے پر غالب رہے۔ وہ ایک بے حد دلیر، جفا کش، Dare -Devil، No-Nonsense  حد درجہ ایماندار، پروفیشنل افسر تھے۔ مشن کے دھنی۔ ان میں خوف خدا بھی بہت تھا تو دنیا کی بہترین نعمتوں کو برتنے کے باوجود سادگی اور غریب پروری بھی۔

ان کی تشکیل کردہ یہ نئی ایس ایس جی رجمنٹ عرصے تک انہیں کی طرح کا سیکولر اور عسکری ادارہ بن کر رہی ان کے بعد جو بھی اس ادارے کا سربراہ بنا وہ ان کے ہی افکار اور کردار کی کسی حد تک تقلید کرتا ہوا پایا گیا۔ اس کا سب سے جیتا جاگتا پرتو (کچھ اوصاف کو منہا کر کے) آپ کو جنرل پرویز مشرف اور میجر جنرل امیر فیصل علوی کی رنگ برنگی شخصیات میں ملتا ہے یہ دونوں جنرل مٹھا کے بعد اس ادارے کے سربراہ رہے۔

کچھ ایسا ہی معاملہ ـ’’را‘‘ اور کائو جی کی شخصیت کے اثرات کا بھی رہا۔ اس خفیہ ادارے کے قیام کے تین برسوں عرصے تک جنرل یحیی اور ان کے بدکار ساتھیوں کو تھل تھل کرتی خواتین کی عشوہ طرازیوں میں، را کی مشرقی پاکستان میں سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے زیادہ دل چسپی رہی۔ را کے سربراہ کی گپ چپ کام کرنے کی عادت کا مسز اندرا گاندھی نے بھلے سے دل کھول کر نوٹس لیا ہو لیکن 1969 میں پاکستان میں اقتدار پر قابض ہونے والے ٹولے نے اسے محمد شاہ رنگیلا کی طرح دفتر بے معنی جان کر غرق مئے ناب ہی رکھا۔ ’’را‘‘ مشرقی پاکستان کے سقوط کو اپنا سنہری کارنامہ گردانتی ہے۔

(بھائی اقبال دیوان، درویش اور آپ جس ذوق اور ظرف سے تعلق رکھتے ہیں، خواتین کی جسمانی خصوصیات کا سرعام تذکرہ ہمیں مرغوب نہیں ہو سکتا۔ لیکن آپ کی تحریر سے تحریک پا کر درویش نے سوچا کہ اسی رو میں اپنا کچھ حساب بھی صاف کر لیا جائے۔ آپ کو 1972 میں پاکستان ٹائمز میں مرحوم ایچ کے برکی – حمید اللہ خان برکی – کے لکھے وہ مضامین تو یاد ہوں گے جنہیں مرحوم نے اپنی مخصوص انگریزی انشا پردازی میں  Fat & Flabby Generals کا عنوان دیا تھا۔ کسی خاتون کے  فربہ اندام ہونے سے شاید ہی کبھی کسی قوم کو نقصان پہنچا ہو لیکن عسکری رہنماؤں کی تھتھلاتی راسوں اور موٹے دماغ سے ان گنت سفینے غرق ہوئے ہیں۔ نازی رہنماؤں میں گوئرنگ کا موٹاپا خاصا معروف تھا لیکن نیورمبرگ ٹرائل کے دوران امتحان کرنے پر 260 پاؤنڈ وزنی گوئرنگ کا آئی کیو لیول 170 تشخیص کیا گیا تھا۔ یحییٰ خان کے حواریوں کا جسمانی وزن میں تو گوئرنگ سے تقابل کیا جا سکتا تھا، البتہ ذہنی استعداد والی صفت اس چاق و چوبند، نفیس اور عالی دماغ لیفٹنٹ جنرل یعقوب علی خان کے لئے چھوڑ دی گئی جسے 2 مارچ 1971 کو مستعفی ہونے ہر مجبور ہونا پڑا۔ و- مسعود)

اس گمنام اور بے شہرت وجود کا خود بھارت میں بھی سرکاری طور پر ادراک بیوروکریسی کو ان کے ریٹائرمنٹ کی چوتھائی صدی بعد ان کی چتا جلاتے ہوئے ہوا۔ رمامیشور کائو جی بہت کم آمیز تھے۔ بہت کم افراد اس آخری سفر میں ان کو الوداع کہنے آئے تھے۔

مشرقی پاکستان کے سقوط اور بنگلہ دیش کے قیام کے معاملے میں کائو بوائے اس کے ڈانڈے 1956 میں آئی ایس آئی کے ناگا لینڈ کی امداد سے جوڑتی ہے جب انہوں نے وہاں کے باغی لیڈر فیزو کی باقاعدہ امداد کا آغاز کیا۔ کہنے کی حد تک یہ بات درست ہوسکتی ہے مگر اندرا گاندھی کے ہاں اس کے عوامل بہت نجی و نفسیاتی تھے۔

ویسے تو نہرو خاندان کی خواتین مذہبی معاملات میں بہت کشادہ دل تھیں مگر یہ سب کچھ نجی سطح پر تھا۔ نہرو خاندان کو جنگوں میں دو مرتبہ سبکی ہوئی۔ پہلے باسٹھ کے اوائل میں چین کے ساتھ اور پھر پینسٹھ کی جنگ میں پاکستان کے ساتھ۔

 دونوں مواقع پر ان جنگوں اور ان سے مرتب شدہ اثرات کو جانچنے کا مسز اندرا گاندھی کو براہ راست موقع ملا تھا۔ پہلی جنگ میں وہ اپنے والد کی مشیر تھیں۔ ایوب خان کی صاحبزادی نسیم اورنگ زیب، بے نظیر بھٹو اور مریم نواز کی مانند دختر اوّل اور حرف آخر کی طرح۔ دوسری جنگ میں وہ لال بہادر شاشتری کی کابینہ میں وزیر اطلاعات و نشریات تھیں۔

سچ پوچھئے تو سنہ 1965 کی جنگ بنیادی طور پر پرانے جنگی ساز و سامان کی اور پروپیگنڈا کی جنگ تھی۔ پاکستان کا کالا۔ سفید میڈیا اور اس کا تھکا ماندہ ریڈیو یہ جنگ جیت گیا اس کے کراچی کی بسوں جیسے سیبر جنگی جہاز، (جنہیں کراچی کے بعض مقامات پر نصب دیکھ کر ہماری ایک دوست انہیں فوجی طیاروں کی مینا کماری کہتی تھی)۔ افواج صف شکن میں سیدنا خالدؓ بن ولید کے پیرو شہدا دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے کہ یہ جنگ پاکستان نے جیتی ہے۔ یہ سبکی بھی اندرا گاندھی نہ بھلا پائیں۔

کسی نے ان کے کان میں شاید یہ زہر بھی گھولا ہو کہ شہر تاشقند میں ان کے چھوٹے سے بنارسی وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو پاکستانیوں نے سی آئی اے کی اعانت سے روس میں زہر دے کر مارا ہے۔

ہمارا ایک دوست کہتا ہے عورت اور بندوق سے احتیاط کرو کیا پتہ بھری ہوئی ہو۔ یوں مسز اندرا گاندھی دو طرح سے بھری ہوئی تھیں۔ ایک تو چین سے جنگ ہار کر، دوسرے ہم بے سرو سامانوں سے پروپیگنڈا اور پرانے سامان سے لڑی گئی جنگ کی ہزیمت اٹھا کر۔ ہمیں وہ بہت کم تر جانتی تھیں۔

وہ تحقیر جو کم تر حیثیت کے ممالک فوج یا فرد کے ہاتھوں ہو۔ اس کا گھائو بہت گہر ا ہوتا ہے

ممکن ہے انہیں بائبل کی کتاب ڈینیل کی لائن 24:15 ABOMINATION OF DESOLATION کا بھی علم ہو۔ بائبل میں مذکور نبی ڈئینل نے کہا تھا کہ’’اس وقت اور ہزیمت سے خود کو بچائو جو بے سر و سامان لوگوں کے ذریعے تم پر مسلط کی جائے ایسا ہو تو مقابلے کی بجائےپہاڑوں کی جانب فرار ہوجانے میں ہی نجات ہے‘‘۔

یہ لائن یروشلم کے قلعے کا نگران بشپ سوفورنئیس (Sophronius) اشک و غم سے نڈھال اس وقت بڑ بڑا رہا تھا، جب وہ قلعے کی چابیاں کسی سپاہی کے حوالے کی بجائے سیدنا عمرؓ بن خطاب کو دینے پر مصر ہوا تھا .

اندرا گاندھی نے، جو بڑی دور اندیش، تجربہ کار، زیرک، بے رحم، محتاط، منتقم مزاج اور صبر کرنے والی خاتون تھیں، بھانپ لیا کہ 1971 میں اقتدار پر قابض پاکستان کا یہ کم عقل اور بے راہ رو ٹولہ سیاست کے اس طوفان کو سمجھ ہی نہیں پا رہا جو دسمبر 1970ء کے عام انتخابات نے برپا کیا ہے، لہذا انہوں نے مشرقی پاکستان کا قصہ ہی پاکستان کے نقشے سے پاک کرڈالنے کا منصوبہ رو بہ عمل لانے کی ٹھان لی۔

اس وقت جنرل مانک شا ہندوستانی فوج کے اور نسبتاً غیر معروف ایف۔ کے۔ رستم جی بارڈر سیکورٹی فورس کے سربراہ تھے۔ یہ دونوں پارسی فوجی ہندوستان میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی پروازوں پر بھارت سے اڑان پر پابندی سے لے کر ملک کے مشرقی حصے میں عوام کی ایک بڑی اکثریت کا بغاوت پر اتر آنا اور وہاں ایک شورش و انتشار کا طوفان کھڑا ہوجانا جس کی وجہ سے عوامی جذبات پاکستان کے خلاف ہوگئے اور حکمرانوں کی ملکی معاملات کو سنجیدگی سے حل کرنے میں ناکامی تک کئی عوامل مشرقی پاکستان کے علیحدگی کے ذمہ دار قرار دیے جا سکتے ہیں مگر اندرا گاندھی کی سیاست کاری بطور وزیر اطلاعات ان کا اپنے دور میں وزارت اطلاعات میں شعبہ نفسیاتی اور ثقافتی جنگ کا قیام جس نے پاکستان کو ساری دنیا میں نہتے شہریوں پر فوج کے مظالم کے پروپیگنڈے نے بے حد بدنام کیا۔ (بعد میں شائع ہونے والی کتب نے ان کی بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے مظالم کی قلعی کھول دی)۔

 یہ اور دیگر چھوٹے بڑے کئی عوامل تھے جن سب ہی کو اس سلسلہ شکست و سقوط کے ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

 The Kaoboys & R&AW: Down Memory Lane  کے مصنف اور کائو صاحب کے متعمد خاص جناب بی۔ رامن صاحب رقم طراز ہیں کہ را کے حلقوں میں خصوصی طور پر اور چار سو عالم میں عمومی طور پر یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ فریب اور دھوکہ دہی میں مرد آہن مرد حق ضیا الحق اپنا جواب آپ ہیں۔ وہ صبح ناشتے کے بعد ہندوستان کے وزیر اعظم سے فون پر اکثر بات کیا کرتے تھے۔ ’’را ‘‘ ان کے فون ٹیپ کرتی تھی۔

مرارجی ڈیسائی کو جنہوں نے خیر سے 95 برس کی پکی پکائی عمر پائی۔ اپنی حکیمانہ معلومات اور آیورویدک دوائوں کے استعمال و اثرات سے آگاہی پر بڑا ناز تھا۔ ان سے جب ضیا الحق ان نسخوں کی افادیت پر بات کرتے تھے تو مرارجی بھائی ڈیسائی کو بڑی مسرت ہوتی تھی۔ ضیا الحق اپنی آواز میں خلوص کی چاشنی میں ڈبو کر پوچھتے تھے ’’ڈیسائی جی ایکسی لینسی دن میں اپنا پیشاب کتنی دفعہ پینا چاہیے۔ کیا یہ صبح کا پہلا پیشاب ہو کہ یہ فیض کسی وقت بھی اٹھایا جاسکتا ہے۔ ‘‘ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ ڈیسائی جی صبح اٹھ کر پہلا کام یہ کرتے تھے کہ ایک گلاس میں اپنا پیشاب کر کے اسے غٹ غٹ پی جاتے تھے۔ اس وہ اپنی ذہانت، طویل عمری اور توانائی کا راز بتاتے تھے۔ اسی وجہ سے مغرب میں Urine Drinking Indian (UDI) کی اصطلاح مقبول ہوئی۔

بھارت سے نمٹنے میں جس آہنی اعصاب کا مظاہرہ جنرل ضیا الحق نے کیا وہ اس کے بعد کسی پاکستانی سربراہ کے حصے میں نہیں آیا۔ ایوب خان کو بھارت میں کوئی دل چسپی نہ تھی۔ نہرو کے مقابلے میں وہ ذہنی طور پر بہت پس ماندہ تھے۔ وہ ان سے مل کر ایسے خوش نہیں ہوتے جیسے مغربی سربراہان سے ہوتے تھے۔ جنرل یحیی خان تو ہمہ وقت مئے ناب میں ڈوبے اور لج لجاتی خواتین کے دامان پاک باز سے لپٹے رہتے تھے۔ لہذا اُن پر تو مٹی پائو۔ بھٹو صاحب بین الاقوامی تعلقات میں بہت زیرک تھے مگر ان کا مسئلہ یہ تھا کہ اندار گاندھی سے معاملات طے کرتے وقت ان دونوں رہنمائوں کی انا، خود اعتمادی، قابلیت اور one-up  بننے کی ضد، سر بازار گتکا کھیلنے لگ جاتی تھی۔ یوں ان کہی ہی رہ جاتی تھی وہ بات سب باتوں کے بعد۔

جنرل ضیا الحق اس حوالے سے پاکستانی سربراہان میں سب سے پر اعتماد اور عیار تھے۔ بھارت کو جس دیدہ دلیری اور سمجھداری سے انہوں نے پنجابی محاورے میں نکڑے لگایا، وہ اعزاز پاکستان کے کسی سربراہ کو پھر نصیب نہ ہوپایا. یہ الگ بات ہے کہ کراچی میں بھارت نے سلامتی کے موجودہ مشیر اجیت ڈوال کی مدد سے پاکستان کو مقامی افراد اور اپنے سلیپرز سیل کی ریشہ دوانیوں اور پیہم فساد سے دنیا کا بدترین شہر بنا دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 57 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan