عالمی ہفتہ آگاہی برائے اینٹی مائیکروبیلز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی ادارہ صحت نے جراثیم کش ادویات (Antimicrobials) کی مدافعت کو صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے عالمی سطح پر ”ہفتہ آگاہی برائے اینٹی بائیوٹکس“ ہر سال نومبر کے کسی ہفتے میں منایا جاتا ہے۔ اس سال مئی میں ٹرائی پارٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ اب سے یہ ہفتہ معمولی سی تبدیلی کے ساتھ بطور ”عالمی ہفتہ آگاہی برائے جراثیم کش ادویات“ (World antimicrobial awareness week) منایا جائے گاجس کا مقصد عوام والناس کو ان ادویات کے مزاحمتی اثرات (Resistance) کی آگہی اور شعور دینا ہے اور مزید ادویاتی مدافعت کو روکنا ہے اور اس مقصد کے تحت نومبر 18 سے نومبر 24 تک عالمی سطح پر ”ہفتہ آگاہی برائے جراثیم کش ادویات“ منایا گیا جس کا سلوگن ”Anti Microbials; handle with care“ ہے۔ اور جس کا تھیم ”United to preserve antimicrobials“ ہے

عالمی ادارہ صحت کے مطابق صحت عامہ (Public health) کے دس بڑے کرائسسز میں سے ایک اینٹی مائیکروبیل رزسٹنس (Antimicrobial resistance) ہے۔ صحت سے وابستہ عالمی تحقیقی اداروں کے مطابق ہر سال تقریباً سات لاکھ افراد رزسٹنسس کا شکار ہوتے ہیں اور اگر یہی صورتحال رہی تو 2050 تک یہ تعداد دس ملین سالانہ تک جا پہنچے گی یاد رہے یہ اعداد و شمار صرف اینٹی بائیوٹکس رزسٹنس کے ہیں جو کے اینٹی مائکروبیلز کی صرف ایک قسم ہے اور ان تمام اموات کا سبب اینٹی مائیکروبیلز کا غیر معقول استعمال ہے اور اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 70 سے 80 فیصد تک اینٹی مائیکروبیلز کا نامناسب یا غیر معقول استعمال ہو رہا ہے۔

سب سے پہلے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ہیں کہ جراثیم کش ادویات ہیں کون سی یعنی اینٹی مائیکروبیلز میں کون کون سی ادویات آتی ہیں تو سادہ لفظوں میں اینٹی مائیکروبیلز وہ ادویات ہیں جو متعدی امراض (Infectious diseases) کے علاج میں استعمال ہوتی ہیں متعدی امراض ایسی بیماریاں ہوتی ہیں جو کسی جرثومے کے باعث لاحق ہوتی ہیں۔ مشہور و معروف جرثومے ہیں بیکٹیریا (Bacteria) ’وائرس (Virus)‘ فنجائی (Fungus) اور پیراسائٹس (Parasites) ۔

اب آگے ان کی ہزاروں اقسام ہیں جن کے مطابق آپ کے معالجین آپ کو کوئی اینٹی مائکروبیلز تجویز کرتے ہیں۔ انہیں جرثوموں کو مد نظر رکھتے ہوئے اینٹی مائیکروبیلز کو چار بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے وہ ہیں اینٹی وائرل (Antiviral) ’اینٹی بائیوٹکس (Antibiotics)‘ اینٹی فنگل (Antifungal) ’اینٹی پروٹوزول (Antiprotozoal) ۔ اور یہ ساری ادویات ان جرثوموں کے علاج میں موثر ہوتی ہیں تو آج سے جب بھی آپ ان ادویات کا نام سنیں تو چوکنے ہو جائیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ ادویات اتنی موثر ہیں اور ہمیں بیشتر متعدی امراض جو جان لیوا بھی ہو سکتے ہیں ان سے بچاؤ کا سبب بنتی ہیں تو ایسا کیا ہے کہ عالمی سطح پر ان کی آگہی دی جا رہی ہے ’اور ان کے استعمال کو کم سے کم کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں‘ اور ایک عام انسان کو بھی ان کے استعمال بارے شعور دیا جا رہا ہے ’اور اتنی زیادہ اموات کا سبب کیسے بن رہی ہیں‘ تو ان سوالوں کا جواب انتہائی سادہ زبان میں یہ ہے کہ جب ان ادویات کا بے جا استعمال کیا جاتا ہے یا غیر معقول استعمال کیا جاتا ہے تو وہی جرثومے جو پہلے ان ادویات کے لیے حساس (Susceptible) ہوتے ہیں ان ادویات کے خلاف مدافعت (Resistance) شروع کر دیتے ہیں (مطلب ڈھیٹ بن جاتے ہیں ہمارے سیاستدانوں کی طرح) گویا بیکٹیریا ’وائرس‘ فنجائی اور پیراسائٹس ادویات کے اثر کو زائل کر دیتے ہیں اس طرح سے وہ ادویات جو ان کے لئے افادیت رکھتی تھیں اب ان کی افادیت زائل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے انفیکشن کے علاج کو مشکل بنا دیتے ہیں یا پھر بیماری بڑھانے کا سبب بنتے ہیں اور جب ان جرثوموں کے علاج کے لیے مختص ادویات ہی کارآمد نہیں رہیں گی تو بقول شاعر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ شاید انسانی جسم ’مدافعت کرتا ہے ان ادویات کی افادیت کو زائل کرنے کے لیے۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہے مزاحمت خالصتاً جرثومے کی طرف سے ہی ہوتی ہے خواہ وہ بیکٹیریا ہویا وائرس۔ دوسری بڑی غلط فہمی کے اینٹی مائیکروبیلز رزسٹنس بوڑھوں میں ہوتا ہے اینٹی مائیکروبیلز رزسٹنس عمر کے کسی حصے میں بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو ادویات کا غیر ضروری استعمال خطرناک حد تک جا پہنچا ہے (شاید حکومت ہر روز ادویات کی قیمتیں بڑھا کر اس غیر ضروری استعمال کو روکنا چاہتی ہے )

اس غیر معقول استعمال کی چند بڑی وجوہات ہیں خود سے دوا دارو (Self medication) ’نان کوالیفائیڈ پریکٹشنرز (عطائی ڈاکٹرز) اور ادویات کی بغیر نسخے کے فراہمی۔ اسے آپ بدقسمتی کہ لیں یا ہماری صحت عامہ اور ضلعی وصوبائی و ملکی انتظامیہ کی غفلت‘ کہ سبزی فروش کے پاس سے بھی ادویات دستیاب ہوتی ہیں۔

بہرحال ہم اس وقت اینٹی مائکروبیلز رزسٹنس کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب آتے ہیں ان وجوہات کی طرف جو اس رزسٹنس کا سبب بن رہی ہیں سب سے بڑی وجہ ہے اس کا بے جا (Misuse) ’نامناسب (Inappropriate use) اور غیر معقول استعمال (Irrational use) ۔ یعنی غیر ضروری طور پر تجویز کی جاتی ہیں جسے ہم اور پرسکییبنگ (Over prescribing) بھی کہتے ہیں۔ سیلف میڈیکیشن بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے اس کے بعد انٹی مائیکروبیلز کا صحیح استعمال نہ کرنا‘ مثال کے طور پر ڈاکٹر نے ایک ہفتے کے لیے دوا تجویز کی ’مریض نے تین دن کھانے کے بعد چھوڑ دی یا ایک دن کھائیں اور پھر دو دن ناغہ کر کے پھرشروع کر لیں یا پھر دن میں دو بار کھانے کی بجائے ایک بار کھائیں وغیرہ وغیرہ معیاری ادویات کی عدم دستیابی‘ مثال کے طور پر اگر کسی اینٹی مائکروبیل دوا میں فعال جزو (Active ingredient) کی مقدار کم ہے تو وہ دوا بھی اینٹی مائکروبیل رزسٹنس کا سبب بنے گی۔ ہمارے ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول سسٹم کا نہ ہونا ’صاف پانی کی عدم دستیابی‘ لائیوسٹاک اور ایگریکلچر میں اینٹی مائیکروبیلز کا بے جا استعمال ’حفظان صحت کی کمی‘ ناقص صفائی ’صاف پانی کی عدم دستیابی‘ نئے اینٹی مائکروبیلز کی عدم دستیابی۔

اینٹی مائکروبیلز رزسٹنس ملکی سطح کا مسئلہ نہیں بلکہ ساری دنیا کو یہ چیلنج درپیش ہے۔ سب سے پہلے اینٹی مائکروبیل جو کہ ایک اینٹی بائیوٹک تھی۔ جس کا نام ہے پں ینسلین (Penicillin) ’1928 میں الیگزینڈر فلیمنگ (Alexender Fleming) نے ایجاد کی اور تب سے لے کر آج تک پینسلین کا کوئی نہ کوئی مزاحمتی تناؤ (Resistance strains) سامنے آتا رہتا ہے اس لیے ہم نے خوفزدہ نہیں ہونا بلکہ اینٹی مائیکروبیلز کا استعمال کم سے کم کرنا ہے۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے غیر معقول تجویز (Over prescribing) کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔ حکومتی سطح پر ہیلتھ کئیر پروفیشنلز کے لیے اینٹی مائکروبیلزسٹیورڈشپ (Stewardship) پروگرامز کروائے جائیں۔ تمام نجی و سرکاری اسپتالوں کو پابند کیا جائے کہ کسی بھی مریض کو اینٹی مائکروبیلز ادویات‘ ماہر متعدی امراض (Infectious diseases consultant) کی رائے کے بغیر نہ دی جائیں۔ اینٹی مائیکروبیلز ادویات کی مستند نسخے کے بغیر فروخت پر پابندی ہو اور معالجین کسی طرح کی بھی اینٹی مائیکروبیل تجویز کرتے ہوئے انٹرنیشنل سٹینڈرڈز کو مدنظر رکھیں۔

معیاری اینٹی مائیکروبیلز ادویات کی فراہمی کے لئے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ گڈ منیو فیکچرنگ پریکٹسز (GMP ’s) کو فالو کریں اور ڈریپ‘ فارماسوٹیکل کمپنیوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھے کہ وہ فعال اجزاء کی مقدار میں کمی و بیشی نہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر حضرات اپنے تجربے کی بنیاد پر صرف وہ اینٹی مائیکروبیلز ادویات تجویز کریں جن کی اچھی افادیت (Efficacy) ہو نا کہ فضول قسم کے برانڈز۔

یاد رکھیں! جب بھی آپ کو اینٹی مائیکروبیلز ادویات تجویز ہوں تو آپ ڈاکٹر سے یہ ضرور پوچھیں۔ کتنے دن استعمال کرنی ہے ’دن میں کتنی بار استعمال کرنی‘ کھانے سے پہلے لینی ہے یا بعد ’کتنی مقدار میں دوا کھانی ہے‘ کوئی غذائی احتیاط تو نہیں کرنی ’کوئی مضر اثرات (Side effects) آئیں تو کیا کرنا ہے؟ اس کے ساتھ یہ بھی بتائیں کہ میں فلاں فلاں دوائیں استعمال کر رہا/رہی ہوں کیا ان کے ساتھ کوئی باہمی تکرار (Drug Interactions) تو نہیں؟

ایسے تمام مریض جنہیں کسی بھی اینٹی مائیکروبیل دوا سے الرجی ہو تو ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔ اگر آپ کو جگر کا عارضہ لاحق ہے تو ضرور پوچھیں کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے جو اینٹی مائیکروبیل تجویز کی ہے اس کی Hepatic dose adjustmentضروری ہے یا نہیں‘ اگر ہے تو کیا آپ نے مجھے اس کے مطابق دی ہے۔ اسی طرح گردوں کے عارضے میں مبتلا مریض اپنے معالج سے Renal dose adjustment کا پوچھیں کیونکہ بیشتر اینٹی مائیکروبیلز ادویات کیRenal dose adjustment ضروری ہوتی ہے۔

اسی طرح اگر آپ کو کوئی وریدی (IV) اینٹی مائکروبیلزلگ رہی ہوں تو آپ ضرور پوچھیں ’کیا ان کی اورل فارم (Oral form) میں کوئی متبادل (Alternate) ہم استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار اینٹی مائیکروبیلز ادویات ہوتی ہیں جن کیTherapeutic Drug monitoring ضروری ہوتی ہے تو آپ ضرور پوچھیں‘ کیا اس اینٹی مائیکروبیل دواکی مانیٹرنگ ضروری ہے یا نہیں اگر ضروری ہے تو کیا آپ کر رہے ہیں۔ اسی طرح جب بچوں میں اینٹی مائیکروبیل دوا دی جائے تو ایک بار تصدیق کر لیں۔ کیا مقدار بچوں کی خوراک (Peads dose) کے عین مطابق ہے۔ ذیابیطس ’بلند فشار خون اور دل کے عارضہ میں مبتلا لوگ ضرور پوچھیں کہ جو اینٹی مائیکروبیل آپ نے تجویز کی ہے کیا یہ ہمارے لئے محفوظ (Safe) ہے اور سب سے بڑھ کر ہر اینٹی مائیکروبیل دوا‘ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں۔

جہاں ہم یہ آگاہی مہم چلا رہے ہیں کہ ایسی ادویات کا کم سے کم استعمال کیا جائے وہاں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی ہے کہ ان کی رزسٹنس کی ایک بہت بڑی وجہ لائیو سٹاک اور ایگریکلچر میں اینٹی مائیکروبیلز کا ضرورت سے زائد استعمال ہے کیونکہ یہ رزسٹنس ’Food Chain cycle کی وجہ سے بھی بڑھ رہا ہے۔ اس لیے جس قدر ممکن ہو سکے اینٹی مائیکروبیلز ادویات کا لائیو سٹاک اور زراعت میں محدود استعمال کیا جائے۔

موجودہ صورتحال میں ہر خاص و عام اس بات کو بہت اچھی طرح سے سمجھ چکا ہے کہ کوئی بھی دوا راتوں رات نہیں بن جاتی۔ کورونا وائرس کی ویکسین کی وجہ سے ابھی تک ہم سب بہت اچھی طرح سے جان چکے ہیں کہ ایک دوا کی تیاری کے لیے بہت ہی پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس پر اخراجات بھی آتے ہیں ’زیادہ وقت درکار ہوتا ہے اور نئی ادویات بنانے میں ایک بہت بڑی تحقیق کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ اس لیے ہم نے دستیاب اینٹی مائیکروبیلز ادویات کا کم سے کم استعمال کر کے ان کی افادیت کو بچانا ہے۔

ایک مؤدبانہ گزارش ہے۔ خدارا! اینٹی مائکروبیلز کو ٹافیاں نہ سمجھیں۔ اور جو بھی اینٹی مائکروبیل دوا آپ کے لئے موثر ثابت ہو۔ پھر جب کبھی بھی آپ کو اسی طرح کے طبی مسائل (Complications) کا سامنا ہو تو اپنے معالج کی اجازت کے بغیر دوبارہ ہر گز استعمال نہ کریں اور نہ ہی جذبہ خیر سگالی کے تحت رشتے داروں اور محلے داروں کو تجویز کریں کیونکہ جب ان ادویات کے خلاف مدافعت آ جائے تو پھر مزید اینٹی مائیکروبیلز ادویات استعمال کرنی پڑتی ہیں جو مہنگی بھی ہوتی ہیں اور اس کے ساتھ آہستہ آہستہ کم موثر بھی ہوتی جاتی ہیں اور ہم نے ان اینٹی مائکروبیلز ادویات کو آنے والی نسلوں کے لیے بھی بچانا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •