فن مصوری میں بولتی چڑیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لفظوں کی طرح رنگوں کی اپنی دنیا ہے۔ جو مصنف اور آرٹسٹ دونوں کی سوچ سے تعمیر پاتی ہیں۔ تعمیراتی سوچ کادائرہ جتنا وسیع، مکمل اور انسانی زندگی کا احاطہ کرے گا اتنی ہی کسی تہذیب، معاشرے یا علاقہ کی بنیادیں مضبوط ہوں گی۔ دونوں اپنے اندر وہ طاقت چھپائے ہوئے ہیں جو اشخاص، اقوام اور ملکوں میں سے کسی کی قسمت سنوار سکتی ہیں اگر وہاں کے رہنے والے نفوس اس کا استعمال عملی زندگی میں کریں۔ مذکورہ بات کی سچائی تخلیق کار کی ریاضت اور فنکاری میں پنہاں ہوتی ہے۔

مارٹن لوتھر نے گاؤں گاؤں جاکر جرمن زبان کے الفاظ کا ذخیرہ اکٹھا کیا اور بجائے پہلے سے رائج ترجمہ کرنے کے اصولوں (لاطینی زبان سے ریاستی زبان میں ترجمے ہوتے تھے ) کو اپناتا، اس نے بائبل کا ترجمہ ( 1522 ) اپنی ”لوک بولی“ میں کر کے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر کر گیا اور آنے والوں کے لیے مثال چھوڑ گیا کہ ”بڑا کام زبان کا نہیں انسان کا مسئلہ ہے۔ بڑے انسان زبانوں اور فن کو بڑا بنا دیتے ہیں۔ الفاظ جہاں جملوں میں ڈھل کر معنی و مفہوم کا نیا جہان تشکیل دیتے ہیں۔

وہیں الفاظ کی طاقت کو استعمال کر کے منفی مقاصد بھی پورے کیے گئے یا جا رہے ہیں۔ (برطانوی امپیریلازم کی تاریخ میں جھانکیں تو مذکورہ بات عیاں ہونا شروع ہو جاتی ہے ) ۔ ہر تحریر کو قارئین پڑھ کر اپنے حساب کے معنی نکالتے ہیں۔ دوسری طرف تحریراظہار کی مکمل حقیقت کی عکاس نہیں ہو سکتی۔ اس کے متضاد ایک مصور رنگوں سے تصویر میں خیال یا آنکھوں دیکھے منظر کویوں رنگتا ہے کہ حقیقت کا گماں ہونے لگتا ہے۔ آرٹ میں مصوری ہی وہ فن ہے جو حقیقت کو کینوس پر بکھیر دیتی ہے۔ فنکار تخلیق کے معاملے میں رب جیسی طاقت رکھتا ہے مگر خالق اور مخلوق کے فرق کی وجہ سے مہارت میں مار کھا جاتا ہے۔ مصوری کی یوں توکئی قسمیں ہیں۔ جیسے Calligraphy، Abstract، Figurative، Landscape, and Realism وغیرہ۔ ہر قسم کا ایک اپنا جہاں ہے۔ جس کی دریافت ایک آرٹسٹ کی تخلیقی صلاحیتوں اور رسمی علم سے اچھی جان کاری سے ہوتی ہے۔ ان اقسام کے بارے میں بنیادی جانکاری فن مصوری کے ہر طالب علم کو حاصل کرنا پڑتی ہے اور آخر میں اپنے مزاج کو سمجھتے ہوئے مذکورہ اقسام میں سے وہ کسی ایک کو اپنے لیے چن لیتا ہے اور اس میں اپنا نام بنانا شروع کر دیتا ہے۔ بعض اپنی محنت اور ریاضت سے اپنے فن کوامرکردیتے ہیں۔ جیسے استاد اللہ بخش ( 1978۔1895)، شاکرعلی ( 1975-1916 ) گل جی ( 2007۔ 1926 ) اور صادقین ( 1987۔ 1930 ) وغیرہ۔ بعض دو اور کچھ دو سے زیادہ میں اپنی لگن اورمہارت کی بدولت فن مصوری میں نئے رجحانات متعارف کرواتے ہیں۔ مگر زیادہ تعداد ان کی ہوتی ہے جو منزل کی راہ پر چلنا شروع تو کرتے ہیں مگرکہیں درمیان میں بھٹک جاتے ہیں یا بھٹکیں نہ بھی تو وہ لگن اور محبت کا مظاہرہ نہیں کر پاتے جو کسی مصور کو عروج پر لے جاتی ہے۔ ان کی مثال اس شعر سے دی جا سکتی ہے۔

”حالی رنگاں دے اوہلے ہاں
ویکھو منظر کد بندا اے ”
شاعر: رائے محمد خاں ناصر

رنگوں کی اپنی زبان ہے۔ ہر رنگ اپنے اندر زندگی کی حقیتوں کے کئی راز چھپائے ہوتا ہے جسے مصور کا کاریگر ہاتھ اپنے برش کے سٹروک سے عیاں کرتا ہے۔ عیاں کے پیچھے اصل میں مصور کی فنکاری پنہاں ہوتی ہے۔ جتنا بڑا فنکار ہو گا اتنی بڑی تخلیق سامنے آئے گی۔ تخلیق مصور یا تخلیق کار کی ذات کی بھی آئینہ دار ہوتی ہے۔ اگر فنکار کا اپنے خالق سے رشتہ اور اندر کا انسان زندہ ہیں تو تخلیق اور کردار اس کا اظہار کرتے نظر آئیں گے۔ مصوری کی رسمی تعلیم کی بات کریں تو پاکستان میں ہر طالب علم کو پندرہ سے بیس عالمی معیار کے آرٹسٹوں کی تکنیک اور کام پڑھایا جاتا ہے مثلا Leonardo Da Vinci (1452-1519) , Vincent Van Gogh (1853-1890) and Claude Monet (1840-1926) وغیرہ۔

ان کے کام کو پڑھنے کے بعد آرٹسٹ عموماً دو طرح کے سامنے آتے ہیں۔ ایک وہ جو پڑھائے جانے والوں کے کام سے اپنے کام کو بچا نہیں پاتے اور یوں اپنی علاحدہ پہچان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جب کہ دوسری قسم کے وہ ہیں جو ان کے کام اور تکنیک سے مصوری کے فن کے رموز و اوقاف سے واقفیت حاصل ضرور کرتے ہیں مگرجب کینوس پر کوئی چیز بنانی ہو تو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں اور یوں مسلسل ریاضت سے اپنا الگ مقام حاصل کرنے میں کام یاب ہو جاتے ہیں۔

میں اس تحریر کے ذریعے اپنے قاری کا تعارف ایک ایسی آرٹسٹ سے کروانا چاہتا ہوں جس نے تخلیقی سفر کا آغاز پہلی کی بجائے دوسری قسم کے مصوروں کو سامنے رکھ کر کیا ہے۔ ماہ جبین عاطف شیخ کے کام کو میں نے پہلی دفعہ کرونائی دنوں میں انسٹاگرام پر دیکھا۔ کرونا کے خوف کوچڑیوں کی علامتوں سے اتنی خوب صورتی سے کینوس پر اتارا ہوا تھا کہ میں تو اس تصویر کے سحر میں کھو گیا۔ نیچے دی گئی تصویر میں دو دائروں میں دو چڑیاں دکھائی گئی ہیں۔

ایک دائرہ اللہ اور دوسرا دنیا کو پیش کر رہا ہے جب کہ چڑیاں مخلوق کو۔ کرونا وبا کی وجہ سے سائنسی و مادی دنیا کے انسان کی بے بسی اور مدد کے لیے اللہ کی طرف دیکھنا۔ ان دنوں میں بے بسی، خوف کے عالم میں اللہ کی طرف رجوع کی عکاسی اس تصویر سے بہتر کیا ہو سکتی ہے۔ یہ تصویر اللہ کی کبریائی کا کھلا اظہار ہے : ”کہو اللہ ایک ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے“ ۔

جب میں نے پروفائل میں باقی تصاویر کو دیکھنا شروع کیا تو چڑیا اور Halo یا دائرہ (جو برصغیر میں مغل دور سے فن مصوری میں رائج ہے۔ جس سے مراد اس زمانے میں جس کے سر پر یہ ہوتا اسے سب سے نیک سمجھا جاتا تھا) اور سبز رنگ کے استعارے سب سے نمایاں نظر آئے۔ آزادی کے بعد Halo کی تکنیک کومصوروں نے استعمال کیا مگر اکیسویں صدی کے آغاز تک یہ بالکل آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔ شاید ہی پچھلے بیس سالوں میں کسی آرٹسٹ نے اس کو اتنی خوب صورتی سے اپنے کام کا حصہ بنایا ہو جتنا زیر تحریر مصورہ نے۔ ماہ جبین کی پینٹنگز میں Halo اللہ کی وحدانیت، کبریائی، زمین، طہارت اور پاکیزگی وغیرہ کی علامات بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ اپنے کام سے اللہ، زمین اور انسان جیسے آفاقی موضوعات کے درمیان تعلق کو ابھارتی نظر آتی ہے۔

دوسرا استعارہ سبز رنگ جو زندگی کی علامت ہے۔ یہ وہ سبز رنگ ہے جو ہمارے قومی پرچم کا ہے۔ جو قومیت کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ دونوں یعنی زندگی اور قوم ملک کے بنیادی ستون ہیں۔ مصورہ ان کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے والے عناصر اور نقصان پہنچانے والوں سے کیسے بچا جائے دونوں صورتوں کو رنگوں سے ابھارتی ہے۔ مذکورہ بات ایسے راستوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جس پر سفر شروع کیا جائے تو ہمارا ملک جنت بن سکتا ہے۔ جب کہ تیسرا چڑیا جس کا بولنا دن کے آغاز کی علامت ہے۔

جسے شعراء اکرام اور ادیبوں نے اپنی شاعری اور نثر میں استعمال کیا ہے۔ مثلاً سجاد حیدر یلدرم نے اپنے ایک افسانے ”چڑیا چڑے کی کہانی“ میں بنیادی کردار چڑا اور چڑیا کو بنایا اور عہد حاضر میں رائے محمد خاں ناصر نے ان الفاظ میں چڑیا کو اپنے دوہے میں برتا ”ڈھوڈھ نا یار مسیتڑا اتے ککراں اتوں بیر۔ سن اوس چڑی دا چوکھنا جہندی جبھ دے ہیٹھ سویر“ یعنی چڑیا نے اگر سچے دل سے اپنے خالق کی ثناء خوانی کی تو اس نے اسے یہ رتبہ دیا کہ اس کا بولنا نئے دن کے آغاز کا اعلان ٹھہرا۔ مصورہ نے چڑیا کی مدد سے بہت خوب صورتی سے اپنے مضامین کو کینوس پہ اتارا ہے۔ کہیں یہ چڑیاں انسانی رشتوں کو ظاہر کرتی نظر آتی ہیں، کہیں مظلومیت، کہیں بے بسی، کہیں خوشی یعنی زندگی کے مختلف پہلووں کو ان پینٹنگز کے ذریعے ہمارے سامنے لاتی ہیں۔

اس کے رنگوں میں زندگی نظر آتی ہے۔ ایسی زندگی جو امید سے بھری ہو۔ جس میں دوسروں کے لیے قربانی، مثبت پہلو اور دوسروں کی مدد کے جذبے سے سرشار ہو۔

پہلی پینٹنگ میں سبز رنگ سے جنگل کے موضوع کو نہایت خوب صورتی سے کینوس پر اتارا گیا ہے۔ جنگل کٹتے جا رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں پرندوں اور جانوروں کے مسکن کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ اس تصویر کے مضمون کو ملکی یا دنیاوی زندگی سے جوڑ کر دیکھیں تو مادی دنیا کی حقیقت آنکھوں مین تیرتی محسوس ہو گی۔ اس میں انسانوں (حقیقی انسان کی بات) کی تعداد دن بدن گھٹتی جا رہی ہے۔ ہجوم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سچائی، شرافت، عزت و شرم اپنی بقاء کی جنگ لڑتی نظر آ رہی ہیں۔

سبز رنگ جو زندگی اور امید سے منسوب ہے جو ہجوم کو سیدھی راہ کی طرف بلا رہا ہے۔ اس پینٹنگ کا کینوس اتنا وسیع ہے کہ اس پہ جتنا لکھتے جائیں کم ہے۔ دوسری تصویر میں اللہ تعالی کے ننانوے نام کو بالکل نئے انداز میں رنگا ہے۔ رنگوں کی سکیم اتنی اجلی اور دل کو بھانے والی ہے کہ تصویر دیکھتے ساتھ ہی اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصورہ دنیا کی حقیقتوں کو من و عن کینوس پر پیش کرتی ہے یعنی دونوں پہلووں : نیکی اور بدی مراد زندگی کی دونوں جبلتوں کو نہ صرف جگہ دیتی ہے بل کہ عمل اور بچاو کا فلسفہ سامنے لاتی ہے۔ سادہ الفاظ میں دنیا کو امن گاہ بنانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔

میشل فوکو کی تھیوری discourse analysis کو گائتری سپیوک نے اپنے آرٹیکل ”Can subaltern speak“ میں استعمال کر کے طاقت ور طبقہ اور عام آدمی کے درمیان ان مقامات کی نشاں دہی کی جہاں غریب طبقہ طاقت ور طبقہ یا امیر (استحصالی) طبقے کو چیلنج کرتا نظر آتا ہے۔ یہ آرٹ ورک اس methodology پر پورا اترتا نظر آتا ہے۔ جو تمام معاشرتی، استحصالی، ایمانی، شیطانی تمام مقامات کی نشان دہی کرتی ہے۔ کینوس پر اپنا مضمون رنگتی ہے تو اس کے رنگ اداسی میں خوشی، خزاں میں بہار، موت میں زندگی، حبس میں ہوا، بھیڑ میں تنہائی اور شور میں خاموشی بکھیرتے ہوئے سامنے آتے ہیں۔

وہ اپنی حس جمال اور ڈرائنگ سے مدد لے کرخیالات کو کینوس پہ رنگتی ہے تو مذکورہ شاہکار سامنے آتے ہیں۔ اس کے کام سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ یہ Caligraphy and abstract دونوں کو ملا کر اپنا علیحدہ رنگ جمانے میں کام یاب نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر جس شاعر کو اپنی زمین اور اسلوب و آہنگ حاصل ہو جائے تو وہ شاعروں میں اپنی علیحدہ شناخت بنانے میں کام یاب ہو جاتا ہے۔

موجودہ دور میں جہاں ہر طرف مذہبی انتہا پسندی، جنونیت، عدم برداشت، انسانی حیوانیت و درندگی، جبر اور زبان بندی کا دور دورہ ہو تو پڑھے لکھے لوگوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اعلی ادب، آرٹ میں پوشیدہ تخلیق کاروں، فنکاروں اور مصنفوں کی سوچ کوعام کریں تاکہ معاشرے میں ایک pluralistic atmosphere جنم لے سکے تاکہ جو ہجوم کو مادی ہوس، مذہبی جنونیت، عدم برداشت سے موڑ کر ایک حقیقت پسند قوم کے دھارے میں لائے۔ اگر ایسا نہ کیا تو وہ وقت دور نہیں جب رنگوں کی بھوک ( رائے محمد خاں ناصر اپنی پنجابی نظم ”بھکھ“ میں یہ بات کرتے ہیں کہ کیا رنگوں کو بھی بھوک لگ سکتی ہے؟ ) ”ہلک“ کی شکل اختیار کر لے گی اور ”ہلک“ ہر طرح کی تفریق سے آزاد ہو کر سامنے والے شکار پر جھپٹ پڑتا ہے۔ یہ جھپٹ اتنی ظالم ہو گی کہ مارے نہ بھی تو ناکارہ ضرور بنا دے گی۔ ناکارہ اور مردہ ویسے بھی ایک برابر۔ نظم ”بھکھ“ میں سے کچھ حصہ

حیرت کول کھلوتا ہویا
ویکھی جانا سوچی جانا
رتے ساوے دی سنگت نوں
کالے دی اس کالک پھدھ کے
ہکے واری کھا چھڈ یا اے
اپنا رنگ چڑھا چھڈ یا اے
حیرت وی حیران کھلوتی
میتھوں ایہہ کیہ پچھی جاوے
بندے بھکھ مردے بندیاں نوں
کھاندے ہوسن پر ایہہ دس کھاں
رنگاں نوں وی بھکھ لگدی اے؟

ایک عام بندے اور تخلیق کار کے دیکھنے اور محسوس کرنے میں یہ ہی بنیادی فرق ہے۔ مادی دنیا جسے غلاظت کہہ کر کنارا کشی اختیار کیے ہوتی ہے وہیں ایک آرٹسٹ اس میں سے زندگی باہر نکالتا ہے۔ معاشرہ جسے جینے کے حق سے محروم کرتا ہے وہ اس حق کو واپس دلوانے کی کوشش کرتا ہے۔ جو معاشرے فنکار کے فن کی گہرائی میں ڈوب جاتے ہیں تو وہ اس کے سبق سے اپنے معاشرے کی بنیادیں استوار کرتے ہیں۔ ایسی بنیادوں پر استوار عمارت کا سفر صدیوں پر محیط ہوتا ہے۔

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم پاکستان میں پایا جانے والا معیاری آرٹ و ادب اور اس کے تخلیق کاروں کو تلاش کریں بلکہ ان کو معاشرے میں وہ مقام دلانے کی کوشش کریں جس کے وہ صیحح معنوں میں حق دار ہیں۔ ان کی معاشرے میں اگر عزت بڑھے گی تو آنے والی نسل ان کی راہ پہ چل کر اس میدان میں مزید اپنے اچھے کام سے ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔ دوسرا اس تاثر کو رد کریں گے کہ فنکار وکھری دنیا کے لوگ ہوتے ہیں جو خیالوں میں ہی گم رہتے ہیں۔ نشہ اور سیکس کے رسیا ہوتے ہیں۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں سو یہاں بھی ماہ جبین عاطف شیخ جیسی آرٹسٹ کے کام کو دیکھنے والا آسانی سے جان سکتا ہے کہ وہ فطرت سے بہت زیادہ پیار کرتی ہیں۔ اپنے کام کے ذریعے اللہ، زمین، لوگ اور زندگی چاروں چیزوں میں ایک تعلق جوڑتی نظر آتی ہے۔ وہ دنیا کی فطری آزادی کے لیے آواز اٹھاتی ہے۔ اس سے ترغیب لے کر انسان اپنے لیے دنیا اور آخر ت میں نجات کا ذریعہ تلاش کر سکتا ہے۔

جس کا اظہار اس کام میں جگہ جگہ ملتا ہے۔ اس کا کام یہ واضح کرتا ہے کہ اس کا اپنے خالق سے رشتہ اور اندر کا انسان دونوں بہت مضبوط ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ معاشرے کے مسائل کو اپنے کام کے ذریعے اتنی خوب صورتی سے ہمارے سامنے لا رہی ہے۔ ایسے تخلیقی آرٹسٹوں کو سماج میں اعلی مقام دینے کے ساتھ ساتھ ان کے نایاب کام کی سرکاری سطح پر پذیرائی کا بندوبست کیا جانا چاہیے۔ بڑے شہروں (کراچی، لاہور، اسلام آباد) کی بجائے ہر تحصیل یا ضلعی سطح پر نمائشوں کا اہتمام کیا جائے تاکہ دیکھنے والے خاص کر نوجوان ان کے کام میں نظر آتی امید کا دامن تھام لیں۔ امید محنت کو جنم دیتی ہے اور محنت ہر کام یابی کی ماں ہے۔ یہ کام آواز دے رہا ہے ان کو جو معاشرے میں بگاڑ پھیلا رہے ہیں کہ ہوش میں آو، سیدھی راہ پر چل کر ہی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے، تو آو، اسی راہ پر چلو تاکہ لوگوں کو جینے دو اور خود بھی جیو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •