کیمیکل کیسٹریشن: کیا جنسی صلاحیت ختم کرنے کی سزا ریپ کے واقعات میں کمی لا سکتی ہے؟

اعظم خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

ریپ

Getty Images
بی بی سی نے ریپ کا شکار ہونے والی لڑکیوں، ان کے اہل خانہ، سماجی کارکنان اور قانونی ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آیا ایسی سزاؤں سے ریپ مقدمات میں کمی لائی جا سکتی ہے یا نہیں؟

’ریپ کا تعلق صرف جنسی ہوس سے نہیں۔ اگر کسی کی جنسی صلاحیت متاثر بھی کر دی جائے تو وہ تشدد کا کوئی دوسرا طریقہ ڈھونڈ لے گا۔ کوئی بھی شخص طاقت کے زور پر کسی کمزور انسان پر اپنی مرضی مسلط کرے تو اس کو بھی ریپ ہی کہتے ہیں۔‘

گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ریپ کے مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کرنے جیسی سزاؤں کی اصولی منظوری دی گئی ہے۔ لیکن کیا سخت قوانین اور کڑی سزائیں خواتین کو ریپ سے محفوظ رکھنے میں کار آمد ثابت ہو سکتی ہیں؟

اس فیصلے پر بی بی سی نے ریپ کا شکار ہونے والی لڑکیوں، ان کے اہل خانہ، سماجی کارکنان اور قانونی ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا ایسی سزاؤں سے ریپ مقدمات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

’حکومت کی طرف سے ریپ کے مقدمات سے متعلق قانون میں سخت سزائیں متعارف کرانا بظاہر تو اچھا لگ رہا ہے مگر صرف سزائیں متعارف کروانے سے تو سب ٹھیک نہیں ہو جاتا۔‘

یہ کہنا تھا اپنی بیٹی کے ریپ کیس میں عدالتوں میں پیشیاں بھگتنے والی ایک ماں عمیمہ (فرضی نام) کا جو حکومت کی جانب سے ریپ کے مجرم کو دیگر سزاؤں کے ساتھ جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا متعارف کروانے کے فیصلے پر اپنا ردِعمل دے رہی تھیں۔

عمیمہ نے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات میں انصاف کے نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ‘سخت سزاؤں کے باوجود انصاف مل رہا ہے اور نہ ریپ کے مقدمات میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔‘

رواں برس ستمبر میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمیمہ نے بتایا تھا کہ اس عرصے میں پولیس انھیں یہ باور کروانے کی کوششوں میں مصروف رہی کہ اُن کی بیٹی کے ریپ کا کیس کافی کمزور ہے۔ عمیمہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو اُن ہی کے خاندان کے ایک لڑکے نے چھ ماہ پہلے ریپ کیا تھا اور پھر وہی ملزم برادری والوں کو اپنی شادی اُن کی بیٹی سے کروانے پر مجبور کرتا رہا۔ لیکن عمیمہ اپنی بیٹی کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہتیں۔

’سخت سزاؤں کے خلاف ہوں، ذہنیت سے مقابلہ ہے‘

چھ سال کی عمر میں ریپ ہونے والی ایک لڑکی نے اپنے بارے میں لوگوں کے تبدیل رویے کے بارے میں بی بی سی کی سحر بلوچ کو بتایا تھا کہ جب انھوں نے اپنے قریبی عزیز کے بارے میں انکشاف کیا تو ان کی بات پر یقین کرنے کو کوئی تیار نہیں تھا۔

جب پیر کے فیصلے کے بارے میں ان سے دوبارہ بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ وہ ایسی سخت سزاؤں کے خلاف ہیں کیونکہ ان سے ایسے جرائم پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

خاتون

SCIENCE PHOTO LIBRARY
گذشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزارت قانون کو یہ ہدایت دی تھی کہ ایک آرڈیننس لایا جائے تاکہ ریپ کے کیسز میں مجرمان عدالتوں سے نہ چھوٹ سکیں

ان کے مطابق اس وقت ہمارا مقابلہ کسی ایک گروہ سے نہیں ہے بلکہ معاشرے میں پائی جانے والی ایک ذہنیت سے ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔

گینگ ریپ کا شکار بننے والی ایک 24 سالہ لڑکی ایسی بھی ہے جو اپنے مقدمے کا محفوظ فیصلہ سننے کی منتظر ہے۔ ان کے والد نے بی سی سی کی حمیرا کنول کو بتایا کہ عدالت میں پیشیاں بھگتنا اتنا آسان نہیں تھا نہ میری بیٹی کے لیے اور نہ میرے لیے۔ تاہم وہ حکومتی فیصلے کو ایک اچھا اقدام قرار دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘اگر بندے کی سرجری ہو جائے تو وہ پوری دنیا میں پھرے گا، وہ ہر بندے کے کان میں یہ بات ڈالے گی کہ اس نے غلط کیا ہے۔ یہاں اچھے بندے کو کوئی نہیں چھوڑتا طعنے دے دے کر تو۔۔ جو برا کرے گا لوگ اسے ’ہُوٹنگ‘ کرنے والے لوگ تو جینے نہیں دیں گے۔

ان کے مطابق ’میرے خیال سے ان کی جان ختم کرنے سے کچھ نہیں ہوگا انھیں زندگی میں سزا دیں اور نشانِ عبرت بنائیں۔’

’مردانگی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، ایسی سزا سے جھٹکا تو لگے گا

بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ منزے بانو نے بی بی سی کو بتایا کہ رواں برس کے پہلے صرف پہلے چھ ماہ تک دو ہزار کے قریب بچوں کا ریپ کیا گیا ہے اور کچھ بچوں کو بھیانک طریقے سے قتل کیا گیا ہے۔

منزے بانو کی ذاتی رائے میں جنسی صلاحیت ختم کرنے جیسی سزا سے ڈر ضرور پیدا ہو گا اگرچہ کسی بھی چیز کا کوئی حتمی حل نہیں ہوتا۔ ان کے خیال میں معاشرے میں مردانگی پر زیادہ زور دیا جاتا ہے تو ایسی سزا سے جھٹکا تو لگے گا۔

منزے کے خیال میں چیلنج تو یہی ہے کہ قانون پر عملدرآمد بہتر بنایا جائے تا کہ شکایت درج ہونے کے بعد قانون حرکت میں آ جائے۔

ریپ مقدمات میں کون سی سخت سزائیں شامل کرنے کا کہا گیا ہے؟

گذشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو سندھ میں ایک ماں اور اس کے سامنے اس کی بچی کے ریپ مقدمے کی بہت تکلیف ہوئی ہے، جس کے بعد انھوں نے وزارت قانون کو یہ ہدایت دی تھی کہ ایک آرڈیننس لایا جائے تاکہ ریپ کے کیسز میں مجرمان عدالتوں سے نہ چھوٹ سکیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ سخت سزائیں اس وجہ سے متعارف کرانے کا فیصلہ ہوا کیونکہ ’ہمارے ملک میں ریپ کے کیسز بہت زیادہ ہو رہے ہیں۔ معصوم بچیوں سے لے کر خواتین کے ساتھ یہ واقعات رونما ہونے لگے ہیں۔‘

شلبی فراز نے کہا کہ عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ نے ان سزاؤں کی اصولی منظوری دیتے ہوئے وزارت قانون اور دیگر محکموں کو اس قانون کو جلد تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایسے جرائم کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کیے جاتے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کابینہ نے اینٹی ریپ (انویسٹیگیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس 2020 اور تعزیرات پاکستان (ترمیمی) آرڈیننس 2020 کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

عمران خان نے ریپ کے مجرمان کے لیے سٹیرلائزیشن (جنسی صلاحیت ختم کرنے) کے قانون کی اصولی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے معاشرے کو محفوظ ماحول دینا ہے۔

وزیر اطلاعات شلبی فراز نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہم سجھتے ہیں کہ اس قانون کے آنے سے اچھا فرق پڑے گا، یہ ایک deterrence (خوف) پیدا کرے گا اور مجرمان کو کڑی سے کڑی سزائیں دی جائیں گے۔‘

ان کے مطابق قانون میں بنیادی طور پر نئی تشریحات شامل کی گئی ہیں۔

شبلی فراز کے مطابق کیمیکل سیٹرلائزیشن کے علاوہ ان سخت سزاؤں میں سزائے موت بھی شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس آرڈیننس کی منظوری دی گئی ہے اس کا مسودہ ایک ہفتے تک تیار ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ ایک آرڈیننس کے جاری ہونے کے 120 دن تک اگر پارلیمنٹ ایسے قانون کی منظوری نہ دے تو پھر ایسا آرڈیننس غیر مؤثر ہو جاتا ہے اور پارلیمان کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ ایسے آرڈیننس کے خلاف اکثریت سے قرار داد پاس کر کے اسے بھی غیر مؤثر کر دے۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے مطابق ابھی پارلیمان کا اجلاس نہیں ہو رہا اس وجہ سے آرڈیننس لانے کی ضرورت پیش آئی۔

اس قانون کی منظوری کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ امور بیرسٹر شہزاد اکبر نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت کی روشنی میں خواتین اور بچوں کے ریپ سے متعلقہ تفتیش اور مقدمہ چلانے کا نیا قانون تیار کر لیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اس قانون میں سخت سزاؤں کے علاوہ فوری تفتیش اور ٹرائل کے لیے اہم فیصلہ سازی کی گئی ہے۔

ان سزاؤں میں دس سے 25 سال تک کی قید، تاحیات قید اور سزائے موت بھی شامل ہے۔

کیمیکل کیسٹریشن کی سزا کیسے دی جاتی ہے؟

بچوں کے تحفظ کی ماہر ولیری خان نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں بھی مجرم کی مرضی کے بغیر اسے سٹریلائز نہیں کیا جاتا۔ کچھ ایسے عادی مجرم ہوتے ہیں جو خود اپنی اصلاح کے لیے یہ سزا تجویز کرتے ہیں کیونکہ وہ اس کے علاوہ اس جرم سے باز نہیں رہ سکتے۔

ولیری خان کے مطابق بظاہر پاکستان نے اس سزا کا تصور انڈونیشیا سے لیا ہے۔ ان کے مطابق ایسی سزائیں عادی مجرموں کو دی جاتی ہیں لیکن اس کے لیے بھی کچھ شرائط پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

ولیری خان کے مطابق اس سزا کو دینے کے لیے وسائل، میڈیکل مہارت اور سائنسی نظام درکار ہوتا ہے کیونکہ صرف ایک انجیکشن سے ہی کسی کو جنسی صلاحیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے میڈیکل ماہر کی رائے بھی ضروری ہوتی ہے کہ کسی کی صحت ایسی ہے کہ اسے یہ انجیکشن لگایا جا سکے یا نہیں۔

اس کے علاوہ یہ انجیکشن لگانے کے لیے نگرانی کا نظام بھی وضع کرنا ہوتا ہے کیونکہ یہ کچھ عرصے بعد لگانا ضروری ہوتا ہے۔

امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی صباحت ذکریا نے بتایا کہ یہ ایسی سزا نہیں ہوتی جس کے بارے میں سن کر عام لوگوں کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ شاید بیچ چوراہے میں مجرم کے عضو کاٹ دیے جائیں گے۔

’یہ دوائی ہے جو ایسے مجرموں کو ان کی مرضی سے دی جاتی ہے جو ان کی جنسی خواہشات کو دبانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔‘

ان کے مطابق دنیا کے جتنے ممالک میں بھی یہ قانون موجود ہے وہاں ایسے مجرم رضاکارانہ طور پر یہ دوائی لیتے ہیں، جو خود سمجھتے ہیں کہ ان سے انھیں کچھ مدد حاصل ہو گی۔

صباحت ذکریا کے مطابق دیکھنے میں یہ ایک بے ضرر سا عمل ہوتا ہے کہ دوائی کھائی اور اپنے اندر جنسی عمل کی چاہت کم ہونے کا انتظار کیا۔

ان کے مطابق ریپ کا تعلق صرف جنسی ہوس سے نہیں ہے۔ انڈیا کے دارالحکومت دلی میں 2011 میں ہونے والے ایک لڑکی کے ریپ میں لوہے کے راڈ کو استعمال کیا گیا، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی کو جنسی صلاحیت سے محروم بھی کر دیا جائے تو ایسے واقعات میں کمی آئی گی یا نہیں؟

صباحت کے مطابق ایک شخص کا اپنے آپ کو طاقت کے زور پر کمزور شخص پر مسلط کرنے کا نام بھی ریپ ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی کی جنسی صلاحیت متاثر بھی کر دی جائے تو پھر وہ تشدد کا کوئی دوسرا طریقہ ڈھونڈ لے گا۔

قانونی ماہرین کی رائے کیا ہے؟

ولیری خان کے مطابق کسی کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے جیسی سزا نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ یہ پاکستان کے آئین سے بھی متصادم ہے۔ ان کے مطابق یہ سزا انٹرنیشنل کنونشن آن سول اینڈ پولیٹکل رائٹس (آئی سی سی پی) کے بھی خلاف ہے جس پر خود پاکستان کے بھی دستخط موجود ہیں۔

لیگل ایڈ سوسائٹی کی ملیحہ ضیا لاری خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت بڑا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ سزائیں سخت نہیں ہیں بلکہ استغاثہ کے لیے جرم کو ثابت کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔

ملیحہ ضیا کے مطابق اس وقت ہمارے پاس اس جرم کے لیے موت کی سزا تو موجود ہے، تو اس سزا سے بڑی سخت سزا اور کون سی ہو سکتی ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ ریاست کا دھیان نظام کو ٹھیک کرنے کے بجائے سزاؤں پر ہے۔

ملیحہ ضیا کے مطابق جتنی سخت سزا ہوگی جرم ثابت کرنے کے لیے اتنی زیادہ محنت درکار ہو گی۔ ’اس وقت ہمارے پاس فارنزک تحقیقات کا کوئی معیار نہیں ہے، ہم تفتیش نہیں کر سکتے، جدید آلات نہیں ہیں اور تفتیش کرنے والے نفسیاتی مہارت نہیں رکھتے جس کی وجہ سے ان مقدمات میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔‘

ملیحہ ضیا کے مطابق حکومت نے 2016 میں ایک قانون پاس کیا تھا جس میں یہ طے پایا تھا کہ تین ماہ کے اندر ریپ کا ٹرائل ممکن بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق اس وقت سالہا سال سے ایسے مقدمات عدالتوں میں ناقص تفتیش کی وجہ سے فائلوں میں دبے پڑے ہیں۔

انھوں نے تجویز دی کہ حکومت کو خود ریپ کی تعریف تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں کسی ایک صنف تک اسے محدود نہیں کرنا چاہیے اور خصوصی عدالتوں کے ذریعے شفاف اور سپیڈی ٹرائل کو یقینی بنایا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17395 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp