سرکار فتویٰ آ گیا ہے
سرکار فتویٰ آ گیا ہے۔ فتویٰ کیا ہوتا ہے۔ ہم دین اسلام کے پیروکاروں میں شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جو اس کے معانی اور مفہوم سے نا آشنا ہو لیکن وہ محترم علمائے دین جن کے کاندھوں پر قوم کی پیشوائی کی فریضہ ہوتا ہے کیا اس کے جاری کرنے کے اثرات و ثمرات سے واقف ہوتے ہیں۔
فتویٰ دینا ایک بہت اہم منصب ہے اس منصب کو پانے کے لئے علمائے کرام کو بہت علمی محنت کرنا ہوتی ہے تب جا کر ان کو فتویٰ دینے کا منصب عطا ہوتا ہے لیکن تاریخ کی ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے جب میں نے برصغیر کے غیر منقسم ہندوستان میں انگریز کے آنے کے بعد کی تاریخ پڑھی تو مجھے حیرت اور دلی تکلیف سے گزرنا پڑا۔
اس زمانے میں پہلا فتویٰ دیا گیا کہ ایک بدیسی قوم کے آ جانے کے بعد اب ہندوستان رہنے کے قابل ملک نہیں ہے اس لئے رہائش کے لئے کسی اسلامی ملک کا انتخاب کرنا ہو گا چنانچہ نگاہ انتخاب نے افغانستان کو جائے رہائش کے لئے موزوں قرار دیا اس فتوے کی پیروی پچیس ہزار خاندانوں نے کی اور اپنا مال و اسباب لہلہاتے کھیت و کھلیان بیچے اور اور بیل گاڑیوں پر اپنی نقل مکانی کا آغاز کیا۔
یہ سفر اپنے آغاز میں اچھا تھا لیکن جب یہ قافلہ افغانستان کی سرحد کے قریب پہنچا تو سردیاں شروع ہو چکی تھیں اور قافلہ کے لوگوں پر راستہ کی مسافت کی تھکن بھی طاری ہو گئی تھی۔ ایک اور اہم قابل غور بات یہ تھی کہ میدانی علاقے کے لوگوں کی جسمانی ساخت پہاڑی علاقہ کے کے لوگوں کی ساخت کی نسبت مختلف ہوتی ہے میدانی علاقہ کے لوگ سخت جان نہیں ہوتے ہیں جس طرح پہاڑی علاقوں کے لوگ ہوتے ہیں چنانچہ یوں ہوا کہ جب یہ لکھوکھا کی تعداد میں جب یہ قافلہ افغانستان کی سرحد کے قریب پہنچا اور وہاں کی حکومت کو معلوم ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ افغانستان میں پناہ کے لئے پہنچ چکے ہیں وہاں کی حکومت سے اپنی سرحدوں پر پہرے بٹھا دیے اور سختی سے حکم نافذ کیا کہ جو بھی سرحد کے پاس آئے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔
اب قافلہ کے پاس واپسی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور واپسی کا سفر بڑا ہی درد ناک تھا برف باری میں شدت تھی اور چھوٹے بچے اور ضیف افراد پر برفانی موسم موت بن کر وارد ہو رہا تھا یہاں تک پھر جوانوں کی بھی قوت مدافعت ساتھ چھوڑ گئی اور یہ قافلہ جب دوبارہ اپنے ٹھکانوں کو لوٹا تو بس چند ہزار خستہ بدن اور مفلوک الحال لوگ زندہ بچے تھے باقی راستے کی ایسی خاک بن چکے تھے جس پر کوئی فاتحہ بھی پڑھنے کو نہیں موجود تھا۔
اب دیکھئے جو مر کھپ گئے وہ تو زندگی کے ہر آزار سے فراغت پا گئے لیکن جو زندہ بچے ان کا کیا انجام ہوا ہوگا، اور اس تمام قصہ کا مآخذ صرف ایک فتویٰ ہی تو تھا کہ ہندوستان چھوڑ دو، کوئی ان نادانوں سے پوچھتا کہ جب تمھارے پرکھے ہندوستان آئے تھے تو کیا ہندوستان ایک اسلامی ملک تھا جو انگریز کے آنے سے رہنے کے قابل نا رہا۔
اب ایک اور فتویٰ
اس فتوے کا تعلق بھی برصغیر کے مسلمانوں سے ہے اس ایک فتوے مسلمانوں کی کئی نسلوں کو پسماندگی کی دلدل میں دھکیل دیا ہوا یہ کہ انگریز نے ہندوستان پر جب اپنا قبضہ مستحکم کر لیا اور اس کو اب مزاحمت کا خوف نہیں رہا تو اس نے ہندوستان کے طول و عرض میں فارسی زبان کی جگہ انگلش زبان رائج کر دی اور ہندوستان کی تمام قومیتوں کے لوگوں بے چوں چرا انگلش سیکھنے پر توجہ مبذول کر لی لیکن مسلمان وہ واحد قوم تھی جس کے پیشواوں نے اس قوم پر فتویٰ لاگو کر دیا کہ انگلش زبان سیکھنا حرام ہے۔ یہ فتویٰ اس زمانے کے کسی مفتی محترم نے یا متفق علیہ مفتیان نے دیا تھا اس فتوے کے آنے کے بعد مسلمانوں پر ہر قسم کی اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند ہوتے گئے اور ہندو قوم کا بچہ، بچہ فرفر انگلش بولنے اور لکھنے لگا اور جب ہند و اور مسلم قوم کے یہ بچے جوان ہوئے تو ہندو انگلش زبان کی بنیاد پر مسلمانوں سے سبقت لے گیا اور مسلمانوں کی قسمت میں کلرکی لکھی گئی اس فتوے کے اثرات پاکستان بننے کے بعد بھی مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے۔
جیسا کہ ابھی حالیہ ماضی میں اسلامی مملکت سعودی عرب کے مفتی نے فتویٰ جاری کیا کہ مجاہدین کے لئے ان حالات میں جہاد النکاح کے لئے نکاح کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ مجاہدین کی ضرورت ہے اس فتوے کے آتے ہی ساری دنیا سے داعش کے بنا نکاح کے حرم میں شامل ہونے لئے لڑکیاں دیوانہ وار شام کی جانب دوڑ پڑیں۔
ان میں صرف لڑکیاں ہی نہیں تھیں کئی، کئی بچوں کی مائیں بھی تھیں جنہوں اپنے شوہروں کی غیر حاضری میں داعش کے لئے اپنی جنسی خدمات پیش کرنا تھیں ان میں پاکستان کے طول عرض کی لڑکیاں اور خواتین تھیں جو اپنے شوہروں کی لاعلمی میں اپنے بال بچوں سمیت غائب ہو چکی تھیں۔ شوہروں کے آنگن ویران کر کے جانے والی ان لڑکیوں اور خواتین کو اب اپنے شوہروں سے طلاق کے بغیر اپنی خدمات داعشی دہشت گردوں کو خوشی فراہم کرنا تھیں اور اس خدمت کے عوض ان کے لئے جنت کی نوید تھی۔ استغفراللہ، اور اب داعشی دہشت گردوں کو شکست فاش کے بعد ان میں سے بیشتر شام کے ایک مہاجر کیمپ میں اپنے بچوں اور داعشی دہشت گردوں سے پیدا ہونے والے بچوں کے ساتھ بے یارو مددگار رہنے پر مجبور ہیں۔
داعشی دلہنیں
برطانیہ امریکہ اور یورپی ممالک میں داعشی بیواؤں کی واپسی نے اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ امریکی و یورپی باشندوں کی اکثریت نے اپنی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ ہلاک دہشت گردوں کی دلہنوں کو کسی بھی قیمت پر واپس نہیں لیا جائے اور ان کی شہریت ختم کردی جائے۔ شامی کیمپ میں پناہ لینے والی ان داعش جنگجوؤں کی بیواؤں کا تعلق امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور ڈنمارک سے بتایا جاتا ہے جن کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
داعشی بیواؤں کے حوالہ سے ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ایک جانب امریکی صدر ٹرمپ اپنے یورپی اتحادیوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ واپسی کے خواہشمند لگ بھگ 800 جنگجوؤں کو ان کے آبائی ممالک آنے کی اجازت دیں، لیکن امریکہ میں انہیں داعشی جنگجوؤں اور بیواؤں کا واپس آنا پسند نہیں۔ خبری پورٹل العراقیہ نے بتایا ہے کہ شمالی شام میں داعش کے آخری مضبوط گڑھ باغوز میں حتمی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے اور ایسے میں تمام داعشی بیوائیں ایک محفوظ پناہ گزین کیمپ میں پہنچ رہی ہیں جن میں یورپی داعشی بیواؤں کی تعداد 23 بتائی جاتی ہے جن میں 13 نے واپس اپنے ممالک جانے کے لئے مہم کا آغاز کیا ہے۔
ترکی کے کنٹرول میں موجود اس پناہ گزین کیمپ میں داعش کے غیر ملکی جنگجو خاندانوں کے ڈیڑھ ہزار افراد موجود ہیں جن میں داعش کی غیر ملکی بیواؤں کے 55 اطفال بھی موجود ہیں۔ ایک اعلیٰ عراقی افسر کا کہنا ہے کہ روسی حکومت نے ایک بڑے ایکشن پلان کے تحت عراق سے ایک ہزار داعشی بچوں کی روس واپسی کا پروگرام شروع کر رکھا ہے اور اب تک 300 داعشی بچوں کو واپس ماسکو پہنچایا جا چکا ہے جو داعش کے روسی ماں یا باپ کی اولادیں ہیں اور گزشتہ 15 برس کے دوران عراق یا شام میں پیدا ہوئے ہیں۔ انہی داعشی بیواؤں میں امریکی ریاست الباما سے تعلق رکھنے والی ایک امریکی مسلمان خاتون ہدیٰ مثنیٰ بھی ہیں جس کی امریکی شہریت اس لئے منسوخ کردی گئی ہے کہ وہ داعشی جنگجو کی دلہن بنی۔
امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پوم پیو نے بدھ کو مثنیٰ کے خاندان کے رکن حسن شبلی کو بھیجے جانے والے خط میں واضح کیا کہ ہدیٰ کی شہریت واپس لے لی گئی ہے اور اس کو امریکہ ہرگز نہیں آنے دیا جائے گا لیکن ہدیٰ نے اپنے وکیل کونر فنگان کے توسط سے امریکی حکام کے اس فیصلہ کو عدلیہ میں چیلنج کر دیا ہے جس کی سماعت اگلے ماہ میں منعقد کی جا رہی ہے۔ وکیل کونر کا موقف ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے شہریوں کی شناخت چھینا جانا غلط طرز عمل ہے۔ امریکی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم کیئر نے تصدیق کی ہے کہ ان کی جانب سے داعشی بیواؤں کو قانونی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ ہدیٰ کے علاوہ متعدد امریکی خواتین نے شام جاکر جنگجوؤں سے بیاہ رچایا تھا۔
ان میں امریکی شیرون مورین کو نلی بھی شامل ہے جس نے داعش کے تیونسی جنگجو یونس سے شادی کی تھی۔ شیرون اس وقت امریکی قید میں ہے اور اس کا تعلق ڈینیور سے بتایا جاتا ہے۔ ایک اور امریکی خاتون جیلائن دلشان جس کا تعلق ریاست مسی سپی سے بتایا گیا ہے۔ جیلائن دلشان بھی شام جا رہی تھی تاکہ کسی داعشی جنگجو سے شادی کر کے گھر بسائے لیکن امریکی سیکورٹی حکام نے 2015 ء میں انٹیلی جنس کی مدد سے اس کو روانگی کے وقت ہی گرفتار کر لیا اور اس وقت بھی جیلائن دلشان امریکی جیل میں 12 برس کی سزا کاٹ رہی ہے لیکن اس کی شہریت منسوخ نہیں کی گئی ہے۔
ایک اہم نام ڈینیلا گرین کا بھی ہے جو ڈیٹرائٹ ریاست میں ایف بی آئی کی ایجنٹ تھی لیکن نہ صرف اس نے شام کا سفر کیا بلکہ ایک یورپی داعشی جنگجو ڈینس کا سپرٹ کے ساتھ بیاہ بھی رچا لیا تھا۔ برطانوی صحافی سیم اسٹیون سن نے بتایا ہے کہ برطانیہ میں داعشی دلہن شمیم بیگم، خدیجہ سلطانہ اور عامرہ عباس کی واپسی نے معاشرے میں زبردست حساسیت پیدا کردی ہے اور ان کی مخالفت میں ساڑھے پانچ لاکھ برطانوی شہریوں نے ایک پٹیشن دائر کر کے ہوم آفس کو بھیجی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان تمام کو واپس نہ آنے دیا جائے ورنہ یہ برطانوی معاشرے میں ”جنگ کے کلچر“ کو پروموٹ کریں گی۔
جبکہ داعشی بیواؤں کی واپسی کے بعد حکومت کو ان کی مانیٹرنگ پر لاکھوں پاؤنڈ ماہانہ بھی خرچ کرنا پڑیں گے۔ ادھر برطانوی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ہوم آفس ایک ایسے قانون پر غور کر رہا ہے جس کے تحت تمام داعشی افراد اور خواتین کو برطانوی سرزمین پر نہ آنے دیا جائے اور اگر آئیں بھی تو سیدھا جیل میں جائیں جہاں ان کو عمر بھر قید رکھا جائے گا۔
ڈیلی ایکسپریس یو کے، کے مطابق ہوم منسٹر ساجد جاوید نے اس سلسلہ میں مذکورہ مجوزہ قانون کی تیاری کی تائید کی ہے لیکن تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔ ادھر بنگلہ دیشی صحافی مفیض الاسلام نے بتایا ہے کہ شمیم بیگم کی برطانوی شہریت منسوخ کیے جانے کی اطلاعات میں ایک اطلاع یہ بھی تھی کہ برطانوی حکومت شمیم بیگم کو اس کے والدین کے ملک یعنی بنگلہ دیش بھیجنا چاہتے تھے اور انہوں نے اس سلسلہ میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن کو مطلع کیا تھا کہ چونکہ شمیم بیگم کے والد اور والدہ بنگالی نژاد ہیں۔ اس لئے اسے بنگلہ دیش جانا چاہیے۔
لیکن اس اطلاع کی سن گن ملتے ہی بنگلہ دیشی حکومت کے کان کھڑے ہو گئے اور بنگلہ دیشی وزیر داخلہ شہر یار عالم نے برطانوی حکومت کو فوری طور پر جتا دیا کہ اگرچہ شمیم کے والدین بنگالی نژاد ہیں لیکن شمیم پیدائشی اعتبار سے برطانوی شہری ہے۔ اس لئے اس کو بنگلہ دیش نہ بھیجا جائے۔ واضح رہے کہ صرف برطانیہ سے نکل کر شام و عراق جانے اور داعش کا دست و بازو بننے والوں کی تعداد 400 سے زائد بتائی جاتی ہے جب کہ اگر یورپی و امریکی داعشی جنگجوؤں اور خواتین کی تعداد ملائی جائے تو یہ ساڑھے 3 ہزار سے زائد بنتی ہے۔






