فلسطینیوں سے یکجہتی کا عالمی دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انبیاء علیہ السلام کی مقدس سرزمین فلسطین پرایک عالمی سازش کے تحت دنیا بھر سے اسلام دشمن شیطانی طاقتوں کو جمع کر کے ناقابل تسلیم ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا اس گھناونی سازش میں سرفہرست امریکہ اور برطانیہ تھے۔ ان طاقتوں کے زیر اثراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 29 نومبر 1947 کو قرارداد 181 پاس کی جس کے تحت سرزمین فلسطین کو غیر منصفانہ طریقے سے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ایک حصے میں یہودی حکومت اور دوسرے حصے میں فلسطینی حکومت قائم کی جانا تھی۔

اقوام متحدہ کی قرارداد اس قدر غیر منصفانہ تھی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 29 نومبر 1977 کو فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن قرار دیا۔ 1974 ء میں یاسر عرفات نے فلسطین کے نمائندے کی حیثیت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ اقوام متحدہ نے فلسطین کو ایک قوم تسلیم کیا اور ان کے حق خود ارادیت کے لیے کئی قرار دادیں منظور کیں۔

جب 14 مئی 1948 کو اسرائیل کی غیرقانونی ریاست قائم کر دی گئی تو قائداعظم نے ایک تاریخ ساز بیان دیا کہ ”اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے اور پاکستان اسے کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔“ جب اسرائیل کے اس وقت کے نام نہاد وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے قائداعظم کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق ایک ٹیلی گرام بھیجا تو قائداعظم محمد علی جناح نے اس کا جواب نہ دیا جس کا واضح مطلب دنیا کویہ بتانا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔

قیام پاکستان سے قبل بھی قائد اعظمؒ فلسطین کی آزادی کے لئے آواز اٹھاتے رہے۔ قائد اعظمؒ اور آل انڈیا مسلم لیگ نے فلسطین کی حمایت میں 1933 ء سے 1947 ء تک 18 قراردادیں منظور کیں۔ یوم فلسطین کے موقع پر آل انڈیا مسلم لیگ پورے برصغیر میں بڑھ چڑھ کرفلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکرتی رہی۔ بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ 23 مارچ 1940 ء کو جب قرار داد لاہور جسے قرار داد پاکستان بھی کہتے ہیں، منظور کی گئی تو اس تاریخی موقع پر بھی فلسطین کے ساتھ یکجہتی کی قرار داد منظور کی گئی۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 15 اکتوبر 1937 ء کو لکھنو میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کا تفصیلی ذکربھی کیا تھا اور برطانوی حکمرانوں کو تنبیہ کی تھی کہ وہ فلسطینی مسلمانوں کے حقوق پامال نہ کریں۔

پاکستان کا موقف آج بھی وہی ہے جو بانی پاکستان قائد اعظمؒ نے دنیا کو واضح الفاظ میں بتایا تھا۔ آج جب دنیا کے کئی ممالک اپنے مفادات کی خاطر اسرائیل کو تسلیم کرچکے ہیں لیکن پاکستان اپنے خراب معاشی حالات کے باوجود اور کسی بھی قسم کے لالچ اور دباو میں آئے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے موقف پرقائم ہے کیونکہ اسرائیل میں فلسطینیوں کے جس طرح حقوق پامال کیے جا رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اسی لئے وزیراعظم عمران خان نے چند روز قبل پاکستان کا موقف دوٹوک الفاظ میں پھر سے واضح کیا تھا کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل، جو فلسطینی عوام کے لیے قابل اطمینان ہو، تک پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا۔

عالمی شہرت یافتہ فٹ بالرمیرا ڈونا فلسطینی عوام پر مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے اور امریکی سامراج کی مسلط کردہ سامراجی جنگوں کے خلاف مہم کا ہمیشہ حصہ رہے۔ میرا ڈونا کو جہاں فٹ بال کے باصلاحیت کھلاڑی کے طور پر جانا جاتا ہے، وہاں انہیں مظلوم و محکوم عوام کی آواز کے طو رپر بھی ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ فلسطینی عوام کے لئے ان کی حمایت کی وجہ سے فلسطین بھر میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ 2012 ء میں، میرا ڈونا نے اپنے آپ کو فلسطینی عوام کے نمبرون پرستار بیان کیا تھا۔ میرا ڈونا کا کہنا تھا کہ ”میں بغیر کسی خوف کے فلسطینی عوام کی حمایت کرتا ہوں۔“

اسرائیل اور یہودی طاقتیں دنیا کو ڈبل ایم یعنی (Money and Media) کی پالیسی کے تحت خود کوتسلیم کروانے کے لئے انتھک کوششیں کر رہی ہیں۔ اسرائیل خود کو تسلیم کروانے کے لئے دنیا کو طرح طرح کے لالچ دیتا رہتا ہے۔ ان دنوں کورونا ویکسین مفت دینے اور کورونا کے باعث معاشی بدحالی میں مبتلا ممالک کو مالی امداد دینے کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ عالم اسلام کو انفرادی مفادکی بجائے اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •