علی اکبر ناطق کا ناول: نو لکھی کوٹھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گزشتہ دنوں علی اکبر ناطق کا تحریر کردہ ناول ”نو لکھی کوٹھی“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ ایک تاریخی ناول ہے۔ ناول میں کچھ ایسی باتیں پڑھنے کو ملیں جو تاریخی اعتبار سے غیر حقیقی محسوس ہوتی ہیں۔ جن کو پڑھ کر اس پر تبصرہ کرنے کا سوچا۔ آج میں ”نو لکھی کوٹھی“ کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر اپنے قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

یہ ناول متحدہ ہندوستان کے وسطی پنجاب میں 1930 ء کی دہائی سے لے کر 1990 ء کی دہائی میں زندگی کرنے والے چند افراد کی زندگیوں کے گرد گھومتی کہانی ہے۔ اس کہانی کی بنت بہت خوبصورت ہے۔ وسطی پنجاب کی تہذیب و ثقافت بھی بھر پور بارک بینی سے بیان کی گئی ہے۔ اور منظر کشی اتنی باریک ہے کہ قاری اپنے آپ کو ان جگہوں پر گھومتا پھرتا محسوس کرتا ہے۔ ناول کے شروع میں ہی ہماری ملاقات اس کے مرکزی کردار برطانوی باشندے ولیم سے ہوتی ہے۔ ولیم کا خاندان ہندوستان میں افسر شاہی کے حوالے سے اہم ہے۔ کیونکہ ولیم کا باپ جانس اور دادا گوگیرہ یک بعد دیگرے پنجاب میں کمشنر رہ چکے ہیں۔

ہماری ملاقات ولیم سے بحری جہاز میں اس سمے ہوتی ہے جب وہ انگلستان میں آٹھ سال گزار کر تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہندوستان پہنچنے والا ہے۔ اپنے دادا گوگیرہ اور باپ جانسن کی طرح ولیم بھی سول سروس کے لئے منتخب ہو چکا ہے۔ منٹگمری کے نواح میں اپنے دادا کی بنایا گیا ایک وسیع و عریض اور عالیشان بنگلہ ولیم کو یاد آ رہا ہے۔ یہ جنگ عظیم دوئم شروع ہونے سے قبل کا عرصہ ہے۔ ولیم کو ہندوستان بہت پسند ہے۔ وہ ہندوستان میں مختلف تحصیلوں اور اضلاع میں اسسٹنٹ کمشنر اور پھر ڈپٹی کمشنر رہ کر زرعی اصلاحات اور تعلیم عام کرنے کے حوالے سے بہت کام کرواتا ہے۔

وہ مقامی لوگوں میں آگاہی اور تعلیم کو فروغ دینے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ مگر اس کے سینیئر بیوروکریٹ اس کو اس کام سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہندوستان کی تقسیم ہو جاتی ہے۔ پاکستان وجود میں آ جاتا ہے۔ مگر ولیم اس جگہ اور خاص کر ”نو لکھی کوٹھی“ کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ وہ یہاں پر ہی ریٹائرڈ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے اس کا آبائی بنگلہ چھین لیا جاتا ہے۔ وہ کہیں اور منتقل ہو کر کس مپرسی کی حالت میں مر جاتا ہے۔ ولیم کو وہیں دفن کر دیا جاتا ہے۔

غلام حیدر اس کہانی کا دوسرا بڑا کردار ہے۔ اس کا تعارف ناول کے شروع میں ہی بڑے اچھوتے انداز سے کروایا گیا ہے :

شیر حیدر کی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا غلام حیدر کلکٹر بنے۔ اس سلسلے میں اسے میٹرک کے بعد لندن بھیجا گیا، مگر غلام حیدر نے وہاں خاص کامیابی حاصل نہ کی اور دو سال بعد ہی لوٹ آیا۔ ویسے بھی ہندوستانیوں کا اس معیار پر پورا اترنا کچھ خالہ جی کا کھیل نہ تھا۔ البتہ تعلیم کا سلسلہ جاری رہا اور وہ گورنمنٹ کالج سے بی اے کر گیا۔ شیر حیدر اپنے بیٹے کو کسی طرح اقتدار کی حویلیوں تک لے جانا چاہتا تھا۔ جس کے لئے بڑے اور پڑے لکھے لوگوں اٹھنے بیٹھنے کے آداب، جلال آباد کے دیہاتیوں سے دور رہ کر ہی آ سکتے تھے۔

اس بات کے پیش نظر لاہور میں اس کے کیے ایک کوٹھی بنوا دی۔ جہاں دو چار ملازم بھیج دیے گئے۔ اس طرح لاہور میں طویل قیام نے غلام حیدر کے مزاج میں ایک تہذیبی رچاؤ داخل کر دیا۔ پیسے کی کمی نہیں تھی جس کے سبب اعلیٰ سوسائٹی اور کلبوں میں آمدو رفت کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔ انہی مشاغل میں بہت سے ایسے دوست نکل آئے، جن کا تعلق اقتدار کے حلقوں میں تھا۔ ان میں خاص کر دو دوست میجر رچرڈ اور نواب افتخار، غلام حیدر کچھ زیادہ ہی شیر و شکر ہو گئے۔

میجر رچرڈ جو بعد میں کرنل بن گئے تھے، ایک دفعہ غلام حیدر کے ساتھ سیر و شکار کے لئے جلال آباد بھی جا چکے تھے۔ نواب افتخار کی زمیں بھی اسی طرف تھی۔ اس لحاظ سے یہ تعلق ایک ثلاثہ بن گیا تھا کہ اچانک نواب افتخار لندن چلا گیا اور اس کے چار سال تک اس کے آنے کا امکان نہ رہا۔ جب کہ کرنل بنارس کی پوسٹنگ بنارس ہو گئی۔ اس طرح یہ سلسلہ بیچ میں ہی رہ گیا۔ البتہ اتنا ہوا کہ وہ جاتے جاتے ایک ولایتی بندوق بمعہ لائسنس غلام حیدر کو تحفے میں دے گیا۔ (صفحہ: 34 )

غلام حیدر کے مرحوم باپ شیر حیدر کا خاندان سکھ دشمنی کے حوالے جانا مانا خاندان ہے۔ یہ دشمنی جو کبڈی کیا ایک میچ ہارنے پر غلام حیدر کے دادا اور سردار سودھا سنگھ کے باپ کے درمیاں شروع ہوئی تھی سال ہا سال سے چلی آتی ہے۔

کہانی کا تیسرا اہم کردار سردار سودھا سنگھ ہے۔ جو شیر حیدر کی وفات کے بعد اس کے نوخیز، تعلیم یافتہ بیٹے سے پرکھوں کا انتقام لینے کے بہانے یک بعد دیگرے اس کی ملکیت میں جلال آباد سے ملحقہ دیہات پر حملے کروا کر لوٹ مار کرتا ہے۔ غلام حیدر پر امن طریقے سے انگریز سرکار کے اعلی ٰ عہدے داران جن میں کہانی کا اہم کردار ولیم بھی شامل ہے۔ انصاف کی فراہمی کے لئے کوشش کرتا ہے۔ مگر انگریزوں اور مہاراجہ کشمیر سودھا سنگھ کی پشت پناہی اور ساز باز کی وجہ سے شنوائی نہیں ہو پاتی۔

بالآخر غلام حیدر اپنے والد کے پرانے نمک خوار مگر جرائم پیشہ شخص ملک بہزاد کی معاونت سے سودھا سنگھ سمیت پندرہ افراد کو دن دھاڑے گولیوں سے چھلنی کر کے فرار ہو جاتا ہے۔ وہ رو پوش ہو نے کے لئے نواب آف ممدوٹ کی مدد حاصل کرتا ہے۔ جو اس کے والد کے دوست کے بیٹا اور بچپن کا دوست ہے۔ نواب صاحب غلام حیدر کو کشمیر کے کسی دور دراز کے علاقے میں دس سال کے لئے روپوش کروا دیتے ہیں۔

جب تحریک پاکستان زور پکڑتی ہے اور مسلم لیگ کو غلام حیدر جیسے جری نوجوانوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ جو قائد اعظم سے سفارش کروا کر عدالت کے مفرور غلام حیدر کو پندرہ افراد کے قتل میں دی گئی سزائے موت معاف کروا دیتے ہیں۔

نواب افتخار ممدوٹ غلام حیدر کی سزا معاف کروانے کے لئے قائداعظم محمد علی جناح کو اپنی من گھڑت کہانی کیسے سناتے ہیں؟ ملاحظہ ہو:

”مثلاً؟ جناح نے وضاحت چاہی۔

مثلاً، میرا ایک دوست غلام حیدر ہے ( نواب نے منصوبے کے مطابق اب کہانی شروع کی) جس نے میرے ساتھ ایچی سن کالج سے بی اے کیا ہے۔ وہ مسلم لیگ کا انتہائی سر گرم رکن ہے۔ اس پر اسی دن سے پورے پندرہ بندوں کا مقدمہ درج ہے۔ جس دن اس نے مسلم لیگ کی رکنیت اختیار کی۔ اس کی وجہ سے وہ پچھلے دس سال سے روپوش ہے۔ اور اپنے علاقے میں داخل نہیں ہو سکا۔ عدالت اس کی غیر مو جودگی میں اسے سزائے موت سنا چکی ہے۔ بیچارہ پتہ نہیں کہاں جان بچاتا پھر رہا ہے۔ اس کا مال اور جائیداد ضبط کی جا چکی ہے۔ پڑھا لکھا اور شریف زمیندار ہونے کے ساتھ علاقے میں اس کی حیثیت ایک با اثر مسلم لیگ کے کارکن کی ہے۔ اس کی شرافت اور ہر دل عزیزی کی وجہ سے سینکڑوں ووٹ اس کی جیب میں ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں، جب اتنے اہم شخص کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے تو پھر ان کی کیا حیثیت ہے؟ اس پر بلا جواز مقدمات درج کر کے فیروز پور میں مسلم لیگ کی تحریک کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سرور بہکاں والے کو مجھ پر سوار کرایا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے جب تک میری گاڑی میں غلام حیدر نہیں بیٹھ جاتا اور میرے جلسوں میں شریک نہیں ہو جاتا، مجھے الیکشن نہیں لڑنا چاہیے۔ ورنہ ذلت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ”

”اوکے دیکھتے ہیں۔ جناح نے اٹھتے ہوئے کہا۔ تم الیکشن کی تیاری کرو، میری تین تاریخ کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات ہے۔“ اتنا کہہ کر جناح صاحب دوبارہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑے اور مزید ایک لفظ بھی کہنا گوارا نہ کیا۔

نواب افتخار، جناح کے اٹھتے ہی خود بھی جلدی سے تکریم کے لئے اٹھ کھڑا ہوا اور اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔ جناح کا کہنا ”تم الیکشن کی تیاری کرو“ کا مطلب تھا، کام اسی فیصد ہو چکا ہے اور واقعی وہی کچھ ہوا۔ دو ہفتے بعد ہی جلال آباد تحصیل میں غلام حیدر کی سزا کی معافی اور اس کی جائیداد کی واپسی کا حکم پہنچ گیا۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا جو فی الحال کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔ اتنے زیادہ قتل کا مقدمہ، جس میں غلام حیدر کے اشتہاری ہونے کے بعد اس کو سزائے موت ہو چکی تھی، کا سانی سے ختم ہو جانا سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ وہ بھی انگیز سرکار میں۔ ”(صفحہ نمبر : 9 33 )

”ہوا یہ کہ جناح صاحب کو ماونٹ بیٹن کے ساتھ ملاقات میں نواب افتخار کی بات یاد تھی۔ انہوں نے اس تشویش کا اظہار لارڈ صاحب سے کر دیا کہ گورنمنٹ پنجاب میں ان کے خلاف سازش بن رہی ہے۔ اس بات کا لارڈ صاحب نے فوراً انکار کر دیا اور کہا اس بات ثبوت دیں۔ جناح نے نواب افتخار کے حوالے سے غلام حیدر پر مقدمات کا ذکر کر دیا، جس کی تفصیل بعد میں انھوں نے خود معلوم کر لی تھی۔ ماونٹ بیٹن نے غلام حیدر کی خوش بختی سے وہیں بیٹھے جناح صاحب کی تشویش دور کرنے کے لئے گورنر صاحب کو فون کر مارا اور کسی لہر میں آ کر یہ بات کر دی ’غلام حیدر پر قائم تمام مقدمات فوری طور پر اٹھا لئے جائیں۔

گورنمنٹ اس کی سزا معاف کرتے ہوئے اس کو بری کرتی ہے۔ ”( صفحہ 340 🙂 ۔ ہندوستان برطانیہ کے تسلط سے تقسیم ہو جاتا ہے۔ پاکستان وجود میں آ جاتا ہے۔ دونوں اطراف بڑے پیمانے پر ہجرت ہوتی ہے۔ ہندو مسلمان اور سکھ آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ خون کی ندیاں بہہ جاتی ہیں۔ دوست دشمن بن جاتے ہیں۔ عورتیں بے آبرو ہو جاتی ہیں۔ کنواری لڑکیاں اپنی عصمت بچانے کے لئے دریاوں اور کنؤوں میں کودنا گوارا کر لیتی ہیں۔ غلام حیدر پاکستان کی طرف آتے ہوئے، سرحد عبور کرتے ہوئے، ہندوستانی بارڈر سیکورٹی فورس سے بھڑ جاتا ہے۔ جو اس کو گولی مار دیتے ہیں۔

کہانی کا چوتھا کردار مولوی کرامت ہے۔ مولوی کرامت ایک نادار امام مسجد ہے۔ مگر ولیم کی نظر کرم سے ایک منشی یعنی استاد کے رتبے پر فائز ہو جاتا ہے۔ وہ زندگی میں بہت محنت کرتا ہے۔ اور اوپر نیچے کی کمائی سے اپنے اکلوتے بیٹے فضل دین کو معقول تعلیم دلوانے میں کامیاب ہوتا جاتا ہے۔ فضل دین لاہور جا کر ایچی سن کالج جیسے ادارے سے تعلیم حاصل کر، اپنے باپ کے پرانے مربی ڈپٹی کمشنر ولیم، جو، اب لاہور میں افسر بکار خاص تعینات ہے، کی مدد سے گورنر ہاؤس میں ایک بابو تعینات ہو جاتا ہے۔ مگر اپنی تیزی طراری اور چاپلوسی کی مدد سے ایک بڑے عہدے تک جا پہنچتا ہے۔ دریں اثناء پاکستان معرض وجود میں آ جاتا ہے۔ پاکستان ببنے کے بعد فضل دین کی چاندی ہو جاتی ہے۔ وہ بے پناہ اراضی اپنے نام کروا لیتا ہے۔ مولوی کرامت کی وفات کے بعد فضل دین لاہو، اور پنجاب کی معزز شخصیت بن جاتا ہے۔

یوں ناول کے یہ چار کردار اپنی اپنی رام کہانی سنا کر فوت ہو جاتے ہیں۔ بغیر کسی کلائمکس کے اور بغیر کسی ٹوئسٹ کے اور خاص کر بغیر کسی نئے زاویہ نظر کے۔

یہ ناول نثر لکھائی اور کسی حد تک ادب کی کسوٹی پر پورا اترتا ہوگا مگر فکری اعتبار سے ایک کمزور ناول ہے۔ یہ بات کرنے کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں :

اول: عام قاری اور محمد علی جناح سے عقیدت رکھنے والے لوگ ان کے حوالے سے بغیر تحقیق کے کہی گئی باتیں پڑھ کر دکھی ہوں گے۔

دوئم: محمد علی جناح سے عقیدت ایک طرف، اور ان کے سیاسی کردار سے قطع نظر، ان کے ایک زیرک وکیل ہونے پر کسی کو شبہ نہیں ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جناح بغیر کسی تحقیق کے ایک پندرہ افراد کے قاتل روپوش مفرور کی وکالت لارڈ ماونٹ بیٹن سے کرتے؟

سوئم: تاریخی حوالے دیکھا جائے تو یہ بات بھی واضح ہے کہ پاکستان جس طریقے سے بھی وجود میں آیا، اس طریقے پر تو بات ہو سکتی ہے مگر پاکستان آج ایک حقیقت ہے۔ غلطیاں ہوئی ہوں گی اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ مگر اپنے وجود سے نفرت کر کے اس کی کسی بیماری کا علاج ممکن نہیں ہے۔

جب ہم اردو ناول کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو دو قسم کے ناول ہمارے سامنے آتے ہیں۔ پہلی قسم کے ناولوں میں ادب برائے لطافت پڑھنے کو ملتا ہے۔ دوسری قسم کے ناول طنز و مزاح، لطافت اور ظرافت اپنے اندر رکھنے کے باوجود سنجیدہ ادب کے زمرے میں آتے ہیں۔ علی اکبر ناطق کا ”نو لکھی کوٹھی“ بد قسمتی سے ان دونوں خانوں میں سے کسی میں بھی فٹ نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •