کوئٹہ سفر نامہ: وادی زیزری، پشین ریسٹ ہاؤس
زیارت ریزیڈنسی اور زیرو پوائنٹ وزٹ کرنے کے بعد ہم نے گاڑی کا رخ وادی زیزری کی طرف کیا۔ خوبصورت نظاروں کے بیچ بل کھاتی سڑک پر ہمارا سفر ایک خوشگوار احساس تھا۔ ان دیکھی منزل سے زیادہ حسین سفر لگ رہا تھا اور جی چاہتا تھا یہ سفر ختم ہی نا ہو۔ راستے میں خوبصورت پختون بچے لسی کی بوتلیں بیچتے ہوئے نظر آئے جن سے ہم نے لسی لی۔ چچا اور مجھے لسی بہت پسند ہے۔ زیتون سمیت انواع اقسام کے درختوں اور آسمان سے باتیں کرتے پہاڑوں کے بیچ چلتے ہوئے ہم اپنی منزل ’محکمہ جنگلات کی زیزری ہٹس‘ کی طرف رواں دواں تھے۔ تقریباً ایک گھنٹہ بعد چچا نے گاڑی روک دی اور ہم نے وہی اپنا کیمپ لگانے کا سوچا کیونکہ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ہماری گاڑی کے لیے آگے راستہ موزوں نہیں، صرف جیپ یا اونچی گاڑیاں جا سکتی تھیں۔
زیزری ہٹس سے آتی ایک گاڑی کو روک کر میں نے ڈرائیور سے راستہ کی معلومات لی۔ اس نے کہا یہاں تک آئے ہیں تو نیچے بھی ضرور جائیں تھوڑی سی دشواری ہوگی مگر گاڑی چلی جائے گی۔ اس نے ساتھ کھڑے مقامی باشندے کو بھی کہا کہ باہر سے آئے لوگوں کو راستے کی دشواری سے مت ڈراو انہیں سیر و تفریح کرنے دو۔ اس کی باتوں سے ہمیں بھی حوصلہ ملا اور چچا نے گاڑی سٹارٹ کی اور ہم زیزری ہٹس کی طرف روانہ ہوئے جو دو کلومیٹر دور تھیں مگر پہاڑی اور کچا راستہ ہونے کی وجہ سے راستہ دشوار گزار تھا۔
بغیر کسی جگہ رکے ہم با آسانی زیزری ہٹس پہنچے اور وہاں مناسب جگہ دیکھ کر باربی کیو کے لیے پڑاو ڈالا۔ زیزری ہٹس انتہائی خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی۔ بادلوں میں گھرے پہاڑ اور درختوں کے جھنڈ نے ہمیں قدرت کے بے حد قریب کر دیا تھا۔ شہروں کی ٹریفک، شور، دھواں اور مصنوعی ترقی جیسے ہمیں بھول سی گئی ہو۔ اور ہم کچھ دیر کے لیے وادی زیزری کی خوبصورتی کے اسیر بن گئے۔
چچا اور میں نے باربی کیو بنانا شروع کیا۔ جبکہ چچی نے عنایہ کو سنبھالنے کی ذمہ داری لی۔ سنہیا اور چھوٹا بھائی قدرتی نظاروں سے محظوظ ہوتے رہے۔ مرغ مسلم سیخوں پہ چڑھنے کے لیے تیار تھا اور ہم نے بھی اسے مزید انتظار کروانا مناسب نہیں سمجھا۔ میں سیخوں پہ چڑھا کر چچا کو پیش کرتا اور وہ اسے انگاروں کی نظر کر رہے تھے۔ آگ ہم سے بہتر انداز میں نا جلی جس پر چچی نے اپنی قابلیت دکھاتے ہوئے لکڑیوں کو آگ لگائی۔ کچھ ہی دیر میں ہمارا دوپہر کا کھانا تیار ہو گیا جسے ہم نے سلاد، رائتے اور لسی کے ساتھ نوش کیا۔ تصاویر بنوانے اور چچا چچی بمعہ بچوں کے ویڈیو میں محبت بھرے فیملی سین کیمرے میں محفوظ کرنے کے بعد ہم نے واپسی کا سوچا کیونکہ کالے سیاہ بادل زیزری وادی پر ڈیرہ ڈالنے لگے تھے اور راستہ کچا تھا۔ بارش کی صورت میں ہم واپس نہیں جا سکتے تھے۔
زیزری کی خوبصورت یادوں کو ساتھ لیے ہم واپس کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے۔ چڑھائی کے وقت ہمیں کچھ مقامات پر گاڑی سے اتر کر پیدل سفر کرنا پڑا تاکہ گاڑی نیچے نا لگے۔ اور کوئی ناخوشگوار صورتحال پیش نا آئے۔ پیدل چڑھائی چڑھتے ہوئے غیر معمولی حرکت دیکھ کر جسم کے تمام اعضا نے جیسے چیخ و پکار شروع کر دی ہو۔ میں نے چڑھائی چڑھتے ہوئے پیچھے دیکھا تو چچی نے عنایہ کو اٹھایا ہوا تھا۔ میں نے سوچا چچی صنف نازک ہیں اس لیے تھک جائیں گی میں نے عنایہ کو لیا جو کھلی فضا اور اردگرد کے نظارے دیکھ کر نہال تھی۔
گیارہ ماہ کی عنایہ کو اٹھا کر پیدل چڑھائی چڑھتے ہوئے مجھے عورت کی طاقت کا اندازہ ہوا کہ عورت اعصابی و جسمانی طور پر کتنا مضبوط ہوتی ہے۔ چچی پچھلے پانچ سات منٹس سے مسلسل عنایہ کو اٹھا کر چل رہی تھیں جبکہ میری ٹانگوں نے پہلے ہی منٹ جواب دینا شروع کر دیا۔ مگر میں نے دوبارہ چچی کو عنایہ گاڑی تک پہنچنے سے پہلے نہیں دی۔ چچا خراب راستے پہ چڑھائی چڑھتے ہی ایکسلریٹر پہ پاؤں رکھتے اور ہم سے کوسوں دور گاڑی میں انتظار کرتے۔
یہ دیکھ کر چچی سیخ پا ہوتی تھیں کہ چچا کو خیال ہی نہیں کہ ہم بچوں کے ساتھ پیدل چل رہے ہیں۔ میں بھی ان کا اس میں بھرپور ساتھ دیتا تھا۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا میری ٹانگیں چچی کی ہر اس بات کی تائید کرتی تھیں جو وہ چچا پہ غصہ نکالنے کے لیے کہتی تھیں۔ دشوار گزار راستہ کاٹ کر ہم اس پوائنٹ تک پہنچے جہاں سے آگے پختہ سڑک تھی۔ رات گئے ہم کوئٹہ شہر پہنچے اور اگلا سارا ہفتہ ہم نے آرام کیا۔
اگلے ہفتے چچا مجھے اپنے کولیگز کے ساتھ ایک ڈنر پہ پشین ریسٹ ہاؤس لے گئے۔ تمام لوگ بے حد خوش اخلاق اور اچھے تھے۔ ان کے ایک کولیگ سے میری کافی گپ شپ رہی ایسا معلوم ہی نہیں ہوا کہ ان سے پہلی بار مل رہا تھا۔ ان کی خوش مزاجی اور ملنساری بہت عمدہ تھی۔ انہوں نے کافی معلومات بھی شیئر کیں جن میں ایک یہ تھی کہ نواز شریف نے بطور وزیراعظم پشین ریسٹ ہاؤس کے باورچی کو گریڈ سترہ پر سرکاری نوکری اس بنا پر دی کہ اس نے بہترین کھانا بنایا تھا جو نواز شریف کو پسند آیا۔
انہوں نے مریم نواز اور عمران خان کے پشین ریسٹ ہاؤس پہ قیام پہ بھی روشنی ڈالی۔ پشین ریسٹ ہاؤس واقعی بہت خوبصورت تھا اور بلوچستان میں زیارت کے بعد اتنا سرسبز جگہ میں نے اسی ریسٹ ہاؤس میں دیکھی جہاں ہر قسم کے درخت اور پودے لگے ہوئے تھے۔ پر تکلف کھانا اور روایتی قہوہ نوش کرنے کے بعد ہم واپس کوئٹہ آئے۔ جہاں کینٹ میں میرا داخل ہونا ہمیشہ کی طرح ایک بڑا کام تھا۔ (جاری ہے )





