گیت، مکالمہ و کہانی نگار، ہدایتکار اور فلمساز سیف الدین سیفؔ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

18 جون 1959 سے مسلسل 3 سال بھارتی پنجاب میں چلنے والی فلم ” کرتار سنگھ“ کے خالق، پہلے بہترین فلمساز کا نگار ایواڑڈ پانے والے۔
20 مارچ 1922۔ 12 جولائی 1993

نام سیف الدین اور تخلص سیفؔ، 20 مارچ 1922 کو امرتسرکے ایک معزز ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مسلم ہائی اسکول امرتسر سے حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان بطور پرائیویٹ امیدوار دیا اور اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ پھر ایم اے او کالج امرتسر میں داخلہ لیاجہاں محمد دین تاثیر پرنسپل اور انگریزی کے استاد فیض احمد فیضؔ تھے۔ ان دونوں کی قربتوں نے سیفؔ میں علمی اور ادبی ذوق بیدار کیا لیکن بعض سیاسی اور مذہبی مسائل میں الجھنے کی بنا پر انہیں امتحان دینے سے روک دیا گیا۔ اس وجہ سے سیفؔ نے تعلیم سے مونہہ موڑ لیا اور تلاش معاش میں سرگرداں ہو گئے۔ اس پس منظر میں 1946 میں فلمی لائن اختیار کی اور فلمی کہانیاں لکھنے لگے۔

افسوس کہ بر صغیر کی تقسیم کی وجہ سے ان کی لکھی ہوئی فلمیں نمائش کے لئے پیش نہ ہو سکیں۔ پاکستان بننے کے بعد یہ ہجرت کر کے لاہور آ گئے اور پھر یہیں سے اپنی ادھوری تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ پاکستان میں فلمی کہانیوں کے ساتھ ساتھ نغمہ نگاری اور مکالمے لکھنا بھی ان کی روزی کا ذریعہ بن گیا۔

سیف الدین سیفؔ کے چند مشہور گیت

” جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے، قسمت کا دستور نرالا ہوتا ہے“ ۔ یہ گیت سید امتیاز علی تاج کے ناول (اشاعت 1922 ) پر مبنی نگار پکچرز کے فلمساز مختار احمد اور ہدایتکار انور کمال پاشا کی فلم ’انار کلی‘ ( ( 1958 کا ہے۔ اس کی موسیقی رشید عطرے نے ترتیب دی اور آواز نورجہاں کی تھی۔ ”وہ خواب سہانہ ٹوٹ گیا۔“ فلمساز آغا جی اے گل اور ہدایتکار لقمان کی فلم ’لخت جگر‘ ’( 1956 ) ، موسیقی جی اے چشتی آواز نورجہاں۔

”چل ہٹ ری ہوا، گھونگھٹ نہ اٹھا۔“ ۔ فلمساز و ہدایتکار سیف الدین سیفؔ کی فلم‘ مادر وطن ’( 1966 ) موسیقی سلیم اقبال صاحبان، آواز نورجہاں۔ ”جس طرف آنکھ اٹھاؤں تیری تصویراں ہیں۔“ فلمساز حسن شاہ اور ہدایتکار حسن طارق کی فلم‘ ثریا بھوپالی ’( 1976 ) موسیقی اے حمید، آواز ناہید اختر۔ ”میں تیر ے اجنبی شہر میں، ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تجھے۔“ ۔ مشترکہ فلمساز نورالدین کسیٹ اور حسن طارق اور ہدایتکار حسن طارق کی سلور جوبلی فلم‘ شمع اور پروانہ ’( 1970 ) موسیقی نثار بزمی آواز مجیب عالم۔ ”اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے۔“ ۔ فلمساز رابعہ حسن اور ہدایتکار حسن طارق کی گولڈن جوبلی فلم‘ امراؤ جان ادا ’( 1972 ) موسیقی نثار بزمی، آواز نورجہاں۔ ”جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں۔“ ۔ فلمساز و ہدایتکار ڈبلو زیڈ احمد کی سلور جوبلی فلم‘ وعدہ ’( 1957 ) موسیقی رشید عطرے، آواز شرافت علی۔

فلم ”گمنام“ اور سیف الدین سیفؔ

مقبولیت کے حوالے سے فلمساز آگا جی اے گل اور ہدایتکار انور کمال پاشا کی سلور جوبلی یادگار فلم ”گمنام ’‘ ( 1954 ) میں ان کا یہ سپر ہٹ گیت بہت اہم ہے : ’تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے، پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے۔‘ یہ گلوکارہ اقبال بانو کا پہلا فلمی گیت ہے جس کی موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی۔ میری رائے میں اسی گیت نے اقبال بانو کو اقبال بانو بنا یا۔ یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ سیفؔ صاحب کے اندر کے شاعر کو آسمان شہرت کی بلندیوں پر لے جانے والا بھی یہی گیت ہے۔

اس گیت نے بھارت میں جا کر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ گیت کی مقبولیت کے بعد سیف الدین سیفؔ نے فلمسازی کا ادارہ ’راہ نما فلمز‘ قائم کر لیا۔ اس ادارے سے سیف ؔصاحب نے بطور فلمساز 1954 میں اپنی پہلی فلم ’رات کی بات‘ بنائی جس کی ہدایات انور کمال پاشا اور موسیقی ماسٹر عنایت حسین کی تھی۔ اداکاروں میں صبیحہ، سنتوش اور علا الدین وغیرہ شامل تھے۔ یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی۔ سیفؔ مایوس نہیں ہوئے۔

ان کی 1957 میں بننے والی اگلی فلم ’سات لاکھ‘ نے اپنے نام کی طرح کامیاب ہو کر ادارے پر واقعی لاکھوں کی برسات کر دی۔ اس فلم کے فلمساز، کہانی نگار اور نغمہ نگار سیف الدین سیف ؔ ہی تھے جب کہ ہدایات جعفر ملک نے دیں۔ یہ وہی جعفر ملک ہیں جو فلم“ گمنام ”میں انور کمال پاشا کے معاون تھے۔ اس فلم کی ایک اور خاص بات حسن طارق ہیں جنہوں نے فلم ’سات لاکھ‘ بننے میں تقریباً ہر ایک شعبے او ر مرحلہ میں سیفؔ صاحب کی معاونت کی۔ مجھے یہ بات علی سفیان آفاقیؔ صاحب نے بتائی، جو خود بھی اس فلم کے ہر مرحلہ میں حسن طارق کے ساتھ رہے۔ مذکورہ فلم کے موسیقار رشید عطرے تھے۔ مذکورہ فلم کے یہ گانے سپر ہٹ ہوئے : ’آئے موسم رنگیلے سہانے جیا نہیں مانے۔‘ آواز زبیدہ خانم، ’گھونگھٹ اٹھا لوں کہ گھونگھٹ نکالوں

۔ ’آواز زبیدہ خانم،‘ یارو مجھے معاف رکھو، میں نشے میں ہوں۔ ’آواز سلیم رضا اور‘ قرار لوٹنے والے تو پیار کو ترسے۔ ’آواز منیر حسین۔ اس فلم کو 1957 کی بہترین فلم ہونے کا نگار ایوارڈ حاصل ہوا۔ مجموعی طور پراس فلم نے 1957 کے 5 نگار ایوارڈ حاصل کیے : سیف الدین سیفؔ بہترین کہانی نگار، بہترین اداکارہ صبیحہ خانم، بہترین فلمساز سیف الدین سیفؔ، بہترین معاون اداکارہ طیبہ بانو المعروف نیئرسلطانہ، بہترین موسیقار رشید عطرے۔ سیفؔ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں پہلے بہترین فلمساز کا نگار ایوارڈ ملا۔

فلم ”کرتار سنگھ“

18 جون 1959 کو عید الاضحیٰ کے موقع پر پاکستان اوربھارتی پنجاب میں نمائش کے لئے پیش ہونے والی پنجابی فلم ’کرتار سنگھ‘ پہلی پاکستانی فلم تھی جس میں سکھ کرداروں کو پیش کیا گیا۔ یہ فلم تحریک آزادی ہندکے ہیرو کرتار سنگھ پر مبنی تھی۔ یہ کردار اداکار علا الدین نے ادا کیا۔ مذکورہ فلم کی نمائش بھارتی پنجاب کے سنیما گھروں میں 3 سال تک جاری رہی۔ یہ فلم پاکستان میں پنجابی فلموں میں ایک تاریخ ساز فلم سمجھی جاتی ہے۔

اس فلم کے مصنف، مکالمہ نگار، فلمساز اور ہدایتکار خود سیف الدین سیفؔ تھے۔ مذکورہ فلم میں سیفؔ صاحب کے علاوہ بھارتی پنجاب کی مشہور شاعرہ امرتا پریتم اور پاکستان کے شاعر وارثؔ لدھیانوی نے بھی گیت لکھے جبکہ ان سپر ہٹ گیتوں کے موسیقار دو سگے بھائیوں کی جوڑی سلیم اور اقبال المعروف سلیم اقبال تھے۔ فلم ’کرتار سنگھ‘ کے تقریباً سب ہی گیت بہت مقبول ہوئے لیکن وارث ؔلدھیانوی کا لکھا ایک گیت تو مقبولیت کے اگلے پچھلے سب ریکارڈ توڑ گیا: ’دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا۔‘ ۔ فلم کو بنے آج 61 سال ہو رہے ہیں لیکن پاکستان، بھارت، ریاست ہائے متحدہ امریکہ، مملکت کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی ممالک میں مہندی اور شادی کے موقعوں پر، لڑکیاں بالیاں اور ہر عمر کی خواتین آج بھی لہک

لہک کر یہ گیت گاتی ہیں۔ اس کے علاوہ میوزیشنز اس گیت کی دھنیں ایسی محفلوں میں بجا کر عوام سے داد وصول کرتے ہیں۔ میں خود بھی اس صف میں شامل رہا ہوں۔ اس معرکۃ الآرا گیت کے علاوہ یہ گیت بھی مقبول رہے : ’اج اکھاں وارث شاہ نوں۔‘ شاعرہ امرتا پریتم آوازیں زبیدہ خانم اور عنایت حسین بھٹی۔ ’اج مک گئی اے غماں والی شام۔‘ گیت نگار سیفؔ آوازیں سلیم رضا اور عنایت حسین بھٹی، ’ماہی نی تینوں لے جاناں نی گوریے۔‘ گیت وارث ؔلدھیانوی آوازیں زبیدہ خانم اور نسیم بیگم۔

سیفؔ صاحب کا فلمی سفر

1962 میں فلمساز کی حیثیت سے انہوں نے فلم ”دروازہ“ بنائی جس کے گیت نگار اور ہدایتکار وہ خود تھے اور موسیقار سلیم اقبال۔ اس فلم کے ستارے نیلو، یوسف خان، لیلیٰ، صبا، نذر اور سلطان راہی وغیرہ تھے۔ باکس آفس پر یہ اوسط درجے کی فلم رہی البتہ یہ ایک یادگار فلم ہے کیوں کہ اس میں استاد امانت علی خان نے پہلی مرتبہ فلمی نغمہ سرائی کی: ’پیا نہیں آئے۔‘ یہ دوگانا تھا جو انہوں نے نورجہاں کے ساتھ ریکارڈ کروایا۔ مذکورہ فلم کا ایک اور گیت بھی سپر ہٹ تھا: ’چھپ گئے ستارے ندیا کنارے، تم نہیں آئے۔‘ آواز نسیم بیگم۔ ایک اور دوگانا بھی مشہور ہوا: ’اب ڈر کاہے کا، گھونگھٹ کے پٹ کھول دے۔‘ آوازیں فضل حسین اور نسیم بیگم۔ فضل حسین نے فلموں میں کم گایا ہے لیکن جو گایا وہ اکثر مقبول ہوا۔ دیگر گلوکاروں میں ناہید نیازی اور سلیم رضا شامل ہیں۔

1965 کی پاک بھارت جنگ کے پس منظر میں بننے والی فلم ’مادر وطن‘ کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ 1966 میں نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ اداکاروں میں دیبا، محمد علی، زینت، طالش، نعیم ہاشمی، شیخ اقبال، رنگیلا، مظہر شاہ، منور ظریف، خلیفہ نذیر اور البیلا وغیرہ تھے۔ اس فلم کے مصنف، فلمساز اور ہدایتکار سیف صاحبؔ خود تھے۔ مذکورہ فلم میں گیت نگار مشیر ؔکاظمی کے نام کو دوام بخشنے والا ا گیت ہے جو سیفؔ صاحب نے ان سے لکھوایا : ”اے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو، تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔“ ۔ اس گیت نے مشیرؔ کاظمی اور اس گیت کی گلوکارہ نسیم بیگم کو لازوال شہرت بخشی۔ گیت نگار اور گلوکارہ کو دوام بخشنے میں موسیقار بھائیوں کی جوڑی سلیم اقبال کا بھی برابر کا حصہ ہے جو ان کو کبھی نہیں دیا گیا۔

پاکستانی سماج میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بد عنوانی / کرپشن کو موضوع بناتے ہوئے سیف الدین سیفؔنے 1967 میں پنجابی فلم ”لٹ دا مال“ بنائی۔ اداکاروں میں فردوس، اکمل، مظہر شاہ، سلونی، آصف جاہ، رنگیلا، عالیہ، البیلا وغیرہ تھے۔ مذکورہ فلم کے فلمساز، کہانی و نغمہ نگار اور ہدایتکار سیفؔ صاحب خود تھے۔ جبکہ موسیقار سلیم اقبال اور گلوکار مالا، نسیم بیگم، نذیر بیگم، آئرین پروین، سلیم رضا، مسعود رانا، فضل حسین اور شوکت علی تھے۔

جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ حسن طارق فلم ”سات لاکھ“ میں معاون ہدایتکارکی حیثیت سے فلم کے تمام شعبوں میں سیکھنے کی غرض سے سیفؔ صاحب کے ساتھ ساتھ تھے لہٰذا ان کی سیفؔ صاحب سے ذہنی ہم آہنگی ہو گئی۔ آگے چل کر جب حسن طارق ہدایتکار بن گئے تو اپنی کئی ایک فلموں کی کہانیاں اور مکالمے سیف الدین سیفؔ سے لکھوائے : مثلاً سوال ”جس کی کہانی اور منظر نامہ انہوں نے لکھا جب کہ مکالمے علی سفیان آفاقیؔ اور ریاض شاہد نے اور موسیقی رشید عطرے کی تھی۔

پاکستانی سپر ہٹ فلم ”امراؤ جان ادا“ 1972

فلم ”امراؤ جان ادا“ اور سیفؔ صاحب لازم و ملزوم ہیں۔ وہ اس فلم کے کہانی نگار، گیت اور مکالمہ نگارتھے۔ بعض احباب ’‘ بھارتی امراؤ جان ادا ”کا اس سے مقابلہ کرتے ہیں جو 1981 میں نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ یہ فلم بڑی کاسٹ اور خطیر خرچے سے تیار ہوئی اور یہ بھی دیکھے جانے کے قابل ہے۔ ان دونوں فلموں کا کوئی موازنہ نہیں۔ رانی، طالش، شاہد اور

علا ؤ الدین کی جان دار اداکاری، نثار بزمی صاحب کی دل کے تاروں کو ہلاتی ہوئی موسیقی، حسن طارق کی حقیقت سے قریب تر ہدایتکاری، نورجہاں، رونا لیلیٰ، احمد رشدی وغیرہ کی گلوکاری کا جادو اور سیفؔ صاحب کی کہانی اور موقع کی مناسبت سے زور آور مکالموں نے ایسا رنگ جمایا۔ میری ان سطور کے پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ غیر جانبدار ہو کر یہ دونوں فلمیں دیکھ کر خود فیصلہ کریں۔

پاکستانی فلمی صنعت میں سیف ؔ صاحب کا کردار

ابتدائی زمانے میں پاکستانی فلمی صنعت کو اپنے پیروں پہ کھڑے کرنے والوں میں بجا طور پر سیف الدین سیفؔ کا نام شامل ہے۔ انہوں نے اپنی بنائی ہوئی فلموں اور دوسرے فلمسازوں کے لئے مکالمے، منظر نامے، گیت اور کہانیاں لکھیں۔ ایک دو فلموں کو چھوڑ کر اپنی فلموں کی ہدایتکاری بھی کی۔ راقم نے سیفؔ صاحب کی معرکۃ الآرا فلمیں بغور دیکھیں ہیں۔ ان کے علاوہ ماضی میں میری موسیقار نثار بزمی، مسرورؔ بھائی المعروف مسرورؔ انور، آفاقیؔ صاحب، 70 کی دہائی کے گراموفون کمپنی آف پاکستان EMI کراچی اسٹوڈیو کے چیف ساؤنڈ انجینئیر عزیز صاحب اور نگار ایوارڈ یافتہ ساؤنڈ ریکارڈسٹ جناب سی منڈوڈی صاحب سے سیف الدین سیفؔ سے متعلق کافی گفتگو رہی۔ اس سے میں نے یہ رائے قائم کی کہ سیف الدین سیفؔ ایک ہمہ صفت شخصیت تھے لیکن ان کی تمام صفات میں نمایاں تر ان کی شاعری ہے جو فلموں کے ساتھ ساتھ ادب میں بھی مقبول ہے جن میں نظمیں، گیت اور غزلیں سب شامل ہیں۔

ادبی گھرانے کا فرد ہونے کی وجہ سے ان کو کمسنی ہی سے شعر و سخن سے دلچسپی رہی۔ انہوں نے غزل، رباعی، طویل اور مختصر نظمیں اور گیت لکھے۔ مگر غزل سے فطری لگاؤ تھا۔ ”خم کاکل“ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ ہے جو نظم اور غزل کا امتزاج ہے۔ اس میں چند فلمی گیت اور غزلیں بھی شامل ہیں مثلا: ”رات کی بے سکوں خاموشی میں رو رہا ہوں کہ سو نہیں سکتا۔“ فلم ”سوال“ ( 1966 ) ۔ اس کو مہدی حسن نے رشید عطرے کی موسیقی میں ریکارڈ کروایا تھا۔ یہ سننے کے لائق گیت ہے۔ ”آج یہ کس کو نظر کے سامنے پاتا ہوں میں۔“ فلم ’‘ طوفان ”( 1955 ) اسے فضل حسین نے موسیقار رشید عطرے کی دھن پر گایا تھا۔

” کف گل فروش“ ان کا دوسرا مجموعہ کلام ہے۔
سیفؔ کے تیسرے مجموعہ کا نام ”دور دراز“ ہے۔

سیفؔ کے کلام کے چند نمونے

سیف انداز بیان رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
……………………
یہ حال بے قرار دل کا
داغوں میں ہے اب شمار دل کا
آتا نہیں دل تیری گلی سے
جاتا نہیں انتظار دل کا
……………………
میری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے
مجھے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے
جو سنائی انجمن میں شب غم کی آپ بیتی
کئی رو کے مسکرائے کئی مسکرا کے روئے
…………………………
جو محفل سے ان کی نکالے ہوئے ہیں
غم دوجہاں کے حوالے ہوئے ہیں
یہاں سیفؔ ہر دن قیامت کا دن ہے
وہ کس حشر پر بات ٹالے ہوئے ہیں
……………………
کس طرح روکتا ہوں اشک اپنے
کس قدر دل پر جبر کرتا ہوں
آج بھی کارزار ہستی میں
جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں
……………………
ہم کو تو گردش حالات پہ رونا آیا
رونے والے! تجھے کس بات پہ رونا آیا
کیسے جیتے ہیں یہ کس طرح جیے جاتے ہیں
اہل دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا
……………………
اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں
ہم سے واقف ہیں یہ دریایہ سمندر یہ پہاڑ
ہم نئے رنگ سے تاریخ کو دہراتے ہیں
……………………
دیکھا تو پھر وہیں تھے چلے تھے جہاں سے ہم
کشتی کے ساتھ ساتھ کنارے چلے گئے
جاتے ہی ان کے سیف، ؔ شب غم نے آ لیا
رخصت ہوا وہ چاند، ستارے چلے گئے
……………………

پاکستانی فلم و ادب کا یہ درخشندہ ستارہ 12 جولائی 1993 کو دنیا میں 72 سال گزارنے کے بعد لاہور میں ڈوب گیا۔ اللہ ان کی مغفرت کرے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •