ملکہ پکھراج، سوانح اور قاری
آہ! کیا زمانہ تھا جب سوانح عمریاں ڈھونڈھتا، پڑھتا اورسوچتا کیا انسان تھے کیا خودداری کی زندگی کر گے۔ بی۔ اے کا زمانہ اور مرحوم صوفی قدرت اللہ کا ”شہاب نامہ“ خاص کر وہ حصہ جن میں درباروں، ولیوں کا ذکر ہوتا، پڑھتا، روتا۔ یقین جانیے خدا سامنے دکھائی دیتا۔ ایم۔ اے میں آئے شہاب نامہ بالغ نظری سے پڑھا۔ اب بھی خدا کی جھلک پڑھی مگر تھوڑی دور سے۔ پڑھانے والے استاد محمد نعیم (جو اب گورنمنٹ کالج لاہور میں فرائض استاد نبھا رہے ہیں ) ہوں اور سمجھانے کے لیے شہاب نامہ، ایک بار تو دل میں آیا کہ اس کو لے جا کر دریا برد کر دوں، پر کچھ صحبت شہاب دوستاں کی آزاری دل مقصود نہ تھی۔
کچھ چیزیں شہود ضرور ہوئیں۔ بڑے بزرگوں سے جو، اب خال خال ہی رہ گے ہیں، نظر آتے ہیں خدا معلوم کیا وجہ ہے، سنا تھا کہ مرتے وقت انسان جھوٹ نہیں بولتا، اب تو جمنا کسی اور ہی رخ بہہ رہی ہے۔ جس سوانح کو اٹھاو جھوٹ کے پلندے۔ سہولت کے لیے دفتر کہہ لیں۔ بہ سوانح نگار اوم پرکاش والمیکی اور بلبیر مادھو پوری جیسے عنقا ادیب سورج لے کر بھی ڈھونڈوں تو نہ ملیں۔
مرے نزدیک سوانح عمری رازداری اور تیماداری کے مضمون سے ہے۔ اول ذکر اس طرح کے فرد تمام عمر لا تعداد، بے بیان راز جمع کرتا ہے۔ یہ سلسلہ انفردی اور اجتماعی دونوں سطحوں سے ہوتا ہے۔ ساری عمر شعور اور لاشعور میں لیے پھرتا ہے۔ خلوت، جلوت کے رازداں سے کہنے میں جھجکتا ہے۔ جب قلم سے کہنے پہ آتا ہے تو تاریخ رقم کرتا ہے اور تاریخ کی کوئی بات نہاں نہیں رہتی۔ اگر احتراماً یا خصوصاً چشم قلم سے لکھاوٹ نہیں کرتا تو صریحا جرم کا مرتکب ہوتا ہے یہ جرم ضمیری یا شخصی کہہ لیں۔
تیماداری کوبھی تنوع احساس سے مراد لیا جا سکتا ہے۔ اکثرداغ وقتی اورکچھ ساتھ وقت کے جڑیاپک کر اٹھتے، بیٹھتے چلتے پھرتے ہیں۔ سوانح عمری سے انسان خود کی تیمارداری ہی کرتا ہے خواہ کسی ہی رنگ میں کیوں نہ ہو۔ یہ بیماریاں انسانوں کی صورت میں لگ جاتی ہیں۔ اخلاق، اخلاص، اخوت، مروت، محبت، احتراماً انسان ایک دوسرے سے متاثر ہوتا ہے۔ اس کی جبلت میں ہے۔ جبلی طور پر انسان بیمار ہے۔ یہی سوانح، تیمارداری ہے تاکہ رخصتی سکون سے ہو جائے۔
ملکہ پکھراج (1912ء جموں۔ 2004ء لاہور) میں ہم سے رخصت ہوئیں۔ پوتی فرازے سید نے ان کی سوانح ”بے زبانی زباں نہ ہو جائے“ ترتیب دی۔ ایسے پراگندہ طبع لوگ ادب و فن کا سرمایہ ہیں۔ وجہ افتخار ہیں۔ ہماری پہچان ہیں۔ اجمل کمال ”آج“ کراچی والوں کا شکریہ مرے پاس شمارے آئے۔ دلچسپی سے نہایت مدغم ہو کر ابتدا سے انجام تک پڑھی۔ اسلوب نے خاصہ متاثر کیا۔ ملکہ کے ساتھ دربار و بار میں محو سفر رہے۔ کہانی کو سیدھا سادہ رکھا گیا ہے کوئی الجھاو نہیں۔
خیر یہ بات اپنی جگہ ہے تخلیق میں پچید گی نہیں ہونی چاہیے۔ مرے ساتھ یہ معاملہ ہوا کہانی کو جس تشنگی کے ساتھ پڑنا شروع کیا ختم ہونے پر برقرار رہی۔ معاف کیجیے گا مری رسائی ادب کے بڑے بھائیوں تک بھی نہیں، خطوط لکھیں، وقت لوں اور ہر سوال آسان ہو جائے۔ مرے دور کا ادیب بہت مصروف ہے۔ اس سے مراد صرف مصروف سے ہے۔ خیال سوجھتا ہے اجمل صاحب سے سب پوچھ لوں جو ملکہ نہیں بتا سکیں یا وہ صاحب جو اس وقت پڑھ رہے ہیں جیسے کہ
والد اور والدہ کی شادی کس طرح ہوئی جب کہ والد کا ابتدائی ذکر اچھے لفظوں میں نہیں۔ بعد میں والد کے متعلق خموش ہیں۔ نانا، نانی، دادا، دادی، خاندان کچھ بھی واضح نہیں۔ مہاراج ہری سنگھ کے دور بارے کوئی معلومات نہیں۔ ریاست ختم ہونے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوا، بمبئی میں بس مر گئے یہ معلومات کافی نہیں۔ خود کو دربار داری میں جمایا نہیں مگر سب واقعات سے خبر بھی رکھ رہی ہیں۔ تقسیم کے واقعات جو خود انھوں نے آنکھوں سے دیکھے، کے بارے کوئی تفصیل نہیں۔
ہجرت کا تجربہ انھوں نے بھی سہا۔ کراچی، لاہور ادب، ادیب، کلچر حوالے سے سکوت۔ جب کہ اسی دور میں بڑے بڑے ادبی معرکے ہو رہے تھے۔ شاہ جی کے حوالے سے اپنی شخصیت کو بڑا اوپر دکھایا ہے۔ شاہ جی کی نوکری کیسے گئی کچھ نہیں بتایا۔ بچوں کے حوالے سے بھی بہت محتاط ہیں نام ظاہر نہیں کیے۔ ادیبوں کے کردار، اخلاص کے متعلق بھی دوچار سطریں قاری کے ہاتھ آ سکتی تھیں۔ شاہ جی کے بعد تیس سے پنتیس سال بہت مختصر سامنے آئے ہیں جب کہ یہ آپ کے نہایت قیمتی سال تھے۔
میں محسوس کرتا ہوں ایک معصوم انسان نے بہت سارے معصوموں کے لیے لکھا ہے۔ پڑھتے ہوئے یہ شدت رہی کہ لکھاری خود بھی واضح نہیں۔ مجھ جیسے اور قاری بھی شاید تشنہ ہوں گئے۔ میں یہ بھول رہا ہوں کہ جب ملکہ خودنوشت لکھ رہی تھی اس وقت وہ بالغ تھی۔ میرؔکے ساتھ بھی یہ معاملہ ہوا جب ذکر میر لکھی جا رہی تھی وہ سات سال کے نہیں تھے۔ دونوں کے ہاں واقعات کی خاص ترتیب ہے میں یہ کیسے توقع رکھ رہا ہوں کہ یہ لکھو تا کہ قاری کی تسلی ہو۔ فرازے سید اور سلیم قدوائی کو نہایت سے اطمینان سے اور ترتیب سے یہ شائع کرنی چاہیے تھی۔ مرے خیال میں کچھ چیزوں پر پردہ ڈالا گیا ہو گا اس کی وجہ کچھ بھی رہی ہو گی۔
برحال سوانح عمری میں ایک باب کا اضافہ ہوا۔ انھوں نے بہت تاریخ سے ہمیں روشناس بھی کروایا۔ یہ بات اپنی جگہ مکمل ہے کہ جمودکے دور میں تحرک بنی۔ قدامت پسندی کی اقدار سے انحراف کیا جو بڑے بوڑھوں نے عورت پر لگا رکھی ہیں۔ سلیقہ مند عورتوں کے لیے بہت ساری نصحیتیں بھی ہیں۔ ریاض اور گیت سے کے متعلق گہرا مشاہدہ بھی نظر آتا ہے۔ الغرض ایسی بہت ساری باتیں کی جا سکتی ہیں۔


