لاؤ تو قتل نامہ مرا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی تاریخ کے 74 برس میں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے 53 برس خدانخواستہ نکالنے پڑجائیں تو شاید آمریت اور اس کی باقیات کے سوا کچھ باقی نہ بچے۔ 30 نومبر 1967 کے بعد سے لے کر آج بھی یہ جماعت 53 روایت کے عین مطابق آتش و آہن کے اذیت دہ ماحول کا سامنا کر رہی ہے جب اس کے پہلے بانی چیئرمین کا باقاعدہ اعلان کیا گیا یعنی ذوالفقار علی بھٹو۔ وہ بھٹو جس نیمعاشرے کے تمام کچلے ہوئے طبقات کو اکٹھا کیا اور پھر جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے کے جذبے سے سرشار اور اپنی ذاتی یشانیوں سے بے نیاز، انقلابیوں کے ایک گروپ نے ملک بھر سے اکٹھا ہو کر شہید وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی تشکیل دی۔

پاکستان کے تمام لوگوں کو یکساں طور پر با اختیار بنانے کے لئے قوم کو ایک نجات دہندہ اور قائد کی ضرورت تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہی پاکستان کو تباہ کرنے والی آمریت اور استبداد کا حل تھا۔ اس نے پرامن اور ترقی پسند پاکستان کے لئے منظم جدوجہد کا آغاز کیا۔ شاید نہیں یقیناً برصغیر کی سیاسی تاریخ کی روشنی میں یہ ایک ایسی قومی سیاسی جماعت ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد عوام کی لاشعوری آرزوؤں اور ناگزیر تاریخی ضرورت کی دھرتی سے سر ابھارا تھا۔

یہ محض سیاست کے شوق کی پیداوار نہیں تھی نہ اسے حصول اقتدار کے جاری ڈھانچے کی ایک سیڑھی کے طور پرتشکیل کیا گیا تھابلکہ یہ جماعت پاکستان کے نظریے، اسلام کی آفاقیت، روٹی، کپڑے اور مکان کی صورت میں عوام کی اقتصادی آزادی اور قومی سیاست میں آئینی حاکمیت کے تخم کی آبیاری کا اعلان تھا۔ جس میں آج تک سرمو فرق نہیں پڑا۔

پی پی نے ان تینوں محاذوں پر پاکستانی عوام کے ساتھ اپنا عہد نبھایا۔ اس کا دامن قید و بند، مصائب و آلام اور شہادتوں سے بھرا ہوا ہے۔ پی پی کسی فوجی نرسری کے گملے کا پودا نہیں، عوام کی قلبی سلطنت کا تاج ہے۔ وہ تاج جسے عوام نے ہمیشہ اپنے سروں پر سجایا اور اس کی حرمت کے لئے قربانی کی وہ لازوال تاریخ رقم کی جس پر پاکستان ہی نہیں دنیا کی سیاسی و جمہوری تاریخ نازاں ہے۔ اس تاریخ کا ایک ایک حرف اور اس کا ایک ایک نقطہ اس کے جیالوں اور رہنماؤں نے اپنے سرخ لہو سے تحریر کیا اور پھر اپنے ہی لفظوں کی سچائی ثابت کرنے کے لئے جیلیں بھگتیں، سرعام ہزاروں کے مجمع میں اپنی ننگی پیٹھوں پر کوڑے کھائے، لہولہان ہوئے، جلا وطنیاں کاٹیں، خود سوزیاں کیں، پھانسیاں چڑھے اور قتل ہوئے۔ لیکن جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے ہر بار قتل گاہوں سے بغاوت کے علم چن کر عشاق کے قافلے نکلتے رہے، آمریت کو للکارتے رہے، پکارتے رہے۔

تم کتنے بھٹو ماروگے، ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔
زندہ ہے بھٹو زندہ ہے

میکسم گورکی کا قول ہے ”اگر مقدس حق دنیا کی متجسس نگاہوں سے اوجھل کر دیا جائے تو رحمت ہو اس دیوانے پر جو انسانی دماغ پہ یہ سنہرا خواب طاری کر دے“ ۔ اور انسانوں کا شاید سب سے زیادہ حق ان کی عزت نفس کے حق کا تسلیم کیا جانا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے تختہ دار پر سرفراز کیے جانے اور بی بی کے مرتبہ شہادت پر فائز ہونے کے بعد اس آئین اور اس مقدس حق کی یاد تک لوگوں سے اپنے باپ کی وراثت سمجھ کر ہتھیا لی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے تختہ دار سے سرفرازی کے کتنے برسوں بعد تاریخ ایک بار پھر زندگی کے دریچوں سے اپنی سنہری کرنوں سمیت طلوع ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 53 برس پہلے پاکستان کے عام آدمی کی اسی عزت نفس کے آدرش کا پیغام دیا تھا، اس کی صحیح معنوں میں جانشین صاحبزادی بینظیر بھٹو شہید نے لوگوں کی زندگیوں کے لئے اپنے باپ کے اس سربر آوردہ پیغام کی روایت کا علم بلند کر کے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اپنے لہو سے گواہی ثبت کی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بی بی کے قتل کا کھیلا گیا خونی کھیل ابھی تک ہمارے ملک کی گردن نہیں چھوڑ رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خون کے اندر کے چھپے ہوئے خطرے ابھی بھی ہماری سلامتی اور بقا کو گھیرے ہوئے ہیں۔ اس ملک میں بابائے پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، شہید ملت لیاقت علی خان، مادر ملت فاطمہ جناح، خواجہ نظام الدین، حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اس کے دو جوان بیٹوں کی پراسرار موتیں، بینظیر بھٹو کی شہادت جیسے واقعات چشم فلک نے دیکھے اور اس پاک دھرتی نے سہے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ ایک مرتبہ پھرنازک اور خطرناک دوراہے پر کھڑی ہے۔ پاک سر زمین کو بہت زیادہ دیدہ و نادیدہ دشمنوں نے گھیر رکھا ہے، ہمیں بھی یہ ذہن میں رکھنا چاہیے اور اداروں کو آئینی دائرے میں لانے کے لئے اپنی آئینی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے، یہی ہماری اندرونی و بیرونی سلامتی اور بقا کے لئے ضروری ہے۔ انارکی کی صورت میں ہم میں سے کوئی بھی پاکستان سمیت فائدے میں نہیں رہے گا۔ ہمیں اپنے آج کے حالات میں ہر شعبے میں عدم تشدد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا اور اختیار کرنا چاہیے۔

ہمیں گمراہ کرنے کے لئے کوئی بھی جو ہمیں جبر، تشدد خون ریزی اور دوسرے غیر قانونی راستے اختیار کرنے کی ترغیب دے وہ اپنا بھی دشمن ہے، ہمارا بھی اور پاکستان کا بھی۔ ہمیں خدا پر بھروسا رکھتے ہوئے قربانی اور اخلاقی و ایمانی طاقت کے راستے پر ہی چلتے رہناہے۔ خود بھی نہ تو پرامن آئینی راستہ چھوڑنا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اسی کی نصیحت کرنی ہے اور جو آپ کی بات نہ مانے اس کو بھی پاکستان کے لئے اس کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تشدد کے جواب میں تشدد کبھی اچھے نتائج پیدا نہیں کرتا۔ تاریخ ہمارے انتظار میں ہے اور پاکستان میں بھی بالآخر مکمل آئینی حکمرانی کا سنہرا دورانشاء اللہ آئے گا اوریہی پاکستان کے لئے اندرونی اور بیرونی سلامتی کا واحد راستہ ہے۔

مگر افسوس پاکستان کے عوام کا مینڈیٹ چوری کرنے والی اس سلیکٹڈ حکومت نے ایسے راستوں کا انتخاب کیا جن سے انتقام اور نا انصافی کے اشارے ملتے ہیں، سچائی چھپائی نہیں جا سکتی۔ ان دنوں کشمیر کے مسئلے پر جس ماحول کو ہم دیکھ رہے ہیں ہو سکتا ہے اس ماحول کے اندر چھپی ہوئی سچائی وقت آنے پر ہمیں حیران کر دے۔ ملک کے اندرونی حالات میں عوام جس قسم کی مہنگائی اور لاقانونیت کا سامنا کر رہے ہیں اس نے ان کے اندر ایک ایسی مایوس کن حالت پیدا کر دی ہے جس کا موقع آنے پر وہ اپنے ووٹ کے ذریعے ایسا اظہار کریں جو شاید عمران حکومت کے خوابوں میں بھی نہیں ہو گا۔ آمریت کا پروردہ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ اپنے فکری انتشار کا شکار ہو کر ہمیشہ سے ہی پی پی قیادت کو ٹارگٹ کرنا اپنا فرض حیات سمجھتا رہا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بلاول بھٹو زرداری تک اس فنی پرکاری کا نہایت برموقع اور نہایت بے دردی سے استعمال کیا گیا۔

ماضی میں پیپلز پارٹی پر ہر طرح کی ضرب کاریوں کے تذکرے میں جانے کا وقت نہیں، یہ فیصلہ تاریخ ہی کے سپرد کرنا پڑے گا۔ آپ لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کی بھیانک سازش گریوں کو شاید کبھی نہ کبھی جان سکیں۔ پی پی بہرحال تاریخ میں سرخرو ہے، عوام کی اس نمائندہ جماعت نے پورے ملک کے حاضر و غائب حکمرانوں کو عوامی ووٹ کے در پر دستک دینے کی آئینی فرمانبرداری پر جس طرح مجبور کر دیا، اس کی شہادت بھی آنے والا وقت اورلکھی جانے والی تاریخ ضروردے گی۔

لاؤ تو قتل نامہ مرا، میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئی۔ (فیض)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •