عزیز اللہ ماما: مزاحمت کے پیکر

عزیز اللہ المعروف عزیز ماما 11 نومبر 1950 کو توبہ کاکڑی کے گاؤں قلعہ حاجی خان میں احمد خیل (کاکڑ) قبیلے کے سردار (خان) حاجی سید محمد خان المعروف حاجی صدو خان کے گھر پیدا ہوئے۔ ماما کے آبا و اجداد اپنے قبیلے کے سربراہ تھے۔ جو پشت میں معروف تاریخی شخصیت حاجی تاج محمد خان عرف حاجی خان کاکڑ (جن کے نام سے عزیز ماما کا موجودہ گاؤں منصوب ہے ) سے ملتا ہے۔ حاجی خان کاکڑ کے زوال کے بعد ان کے عزیز و اقارب قندھار میں رہائش پذیر ہوئے۔

اور نصف خاندان قلعہ حاجی خان (توبہ کاکڑی) میں آباد ہوا۔ اس طرح خاندان کے افراد کا قندھار اور قلعہ حاجی خان آنا جانا تھا حتیٰ کی عزیز ماما کے والد صاحب 1903 میں قندھار میں متولد ہوئے۔ اور اپنے والد حاجی محمد سعید خان کے ہمراہ 1909 میں قلعہ حاجی خان توبہ کاکڑی آئے۔ اس طرح دو تین گھرانوں کے علاوہ پورا خاندان قلعہ حاجی خان میں آباد ہوئے۔ حاجی صدوخان کے چچا حاجی خان افغانستان کے ابتداء ہی سے اس پورے جنوبی پشتونخوا کے گورنر رہے اور یہ عہدہ 1985 کے گندمک معاہدے تک اسی خاندان کے پاس رہا۔ عزیز ماما 16 بھائیوں اور 12 بہنوں میں ساتویں بھائی تھے۔

عزیز ماما نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں قلعہ حاجی خان کے پرائمری سکول میں حاصل کی۔ اس کے بعد 1962 میں پشین ہائی سکول میں داخل ہوئے اور پھر 1967 میں ملتان بورڈ سے میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا اور اپنے سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 1969 میں ملتاب بورڈ ہی سے ایف اے گورنمنٹ سائنس کالج کوئٹہ سے پاس کیا ار گورنمنٹ ڈگری کالج سریاب میں داخلہ لیا اور 1970 میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ 1971 میں جامعہ بلوچستان میں داخلہ لے کر 1973 میں ایم اے انگریزی ادب میں ڈگری حاصل کی۔ ماما نے 1973 میں یونیورسٹی لاء کالج میں داخلہ لیا مگر وقت کی کمی اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث لاء کی ڈگری نہ لے سکے۔

عزیز ماما سکول کے زمانے میں پشین بازار سے ملحق گاؤں فیض آباد میں اپنے نانا، جو علاقے کے مشہور مذہبی عالم اور سکالرتھے، کے گھر میں رہے۔ اس طرح عزیز ماما نے میٹرک کے طالب علم ہوتے ہوئے فقہ صلواۃ ہدایہ کے علاوہ ابتدائی اسلامی عقائد کی کتابیں پڑھیں۔

سکول کے زمانے ہی سے عزیز ماما نے پشتون طلبا کی ذہن سازی شروع کر دی تھی اور اس وقت کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ نیپ کے پرچم تلے ایوبی امریت کے خلاف جدوجہد شروع کی اور 1968 میں پہلی بار ڈگری کالج کوئٹہ کے پشتون طلبا کو نیپ کے لیڈروں سے مشاور کے بعد اکٹھا کیا۔ اور پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی اسی وجہ سے ایوبی آمریت نے سائنس کالج پر فائرنگ کی جس میں ظریف مندوخیل شہید ہوئے۔ ظریف شہید کی شہادت نے پشتون طلبا کے ذہنوں پر بغاوت کے اثرات چھوڑے تب ہی تو اس وقت کے سیاسی ذہن رکھنے والے پشتون طلبا نے ملک گیر پشتون تنظیم بنانے کی کوشش شروع کر دی۔

یعنی PSO کوئٹہ پشاور اور کراچی کی موجود پشتون، پی ایس ایف اور چھوٹی تنظیمیں یعنی ٹرائیبل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور دیر سٹوڈنٹس فیڈریشن اور دیگر تنظیمیں سب کی سب ایک صف میں کھڑے ہو کر باہم متحد ہو گئیں اور ملک گیر سطح پر واحد پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن تنظیم وجود میں آئی۔ عزیز ماما پی ایس ایف کے بانی رہنماؤں میں سے سب سے نمایاں حیثیت کے حامل تھے۔

پہلی مرتبہ عزیز ماما 1973 میں انسپکٹر کواپریٹو سوسائٹی میں ملازمت اختیار کی اور پھر اکتوبر 1974 میں بطور لیکچرر تربت کالج میں تعینات ہوئے۔ وہ ایک فرش شناس استاد تھے۔ جب 70 کی دہائی میں نیپ کی حکومتیں ختم کی گئیں تو ماما کی سیاسی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئیں۔ وہ کہاں برداشت کر سکتے تھے کہ پشتون خطے کی پسماندگی اور غربت سے لوگ ناجائز فائدہ اٹھا کر ان کی زبان، کلچر اور طرز زندگی پر دوسروں کے منفی اثرات مرتب ہوں۔

ایک عجیب نفسیاتی الجھن کی فضا تھی پشتونوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے قومی احساسات اور قومی شعور کو ختم کر کے مختلف نام سے پشتون خطے کو پکارا جاتا تھا۔ ان حالات میں عزیز ماما کے پاس دو راستے تھے ایک ملازمت جاری رکھنے کا تھا اور دوسرا راستہ پشتونوں کی قومی حقوق اوران پر اختیار کا حصول تھا۔ اس صورت حال میں پشتونوں کو اعتماد اور سہارے کی ضرورت تھی، لہذا ماما نے ملازمت سے استعفیٰ دے کر اس کٹھن راستے کا انتخاب کیا۔

اور 8 ماہ ملازمت کرنے کے بعد 1975 میں استعفیٰ دیا۔ ان دنوں صوبے میں سیاسی پارٹیوں پر پابندی تھی اور عزیز ماما نوجوانوں کو تربیت دے رہے تھے۔ حکومت نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جس سے ماما افغانستان جانے پر مجبور ہو گئے اور جلاوطنی اختیار کی۔ جلاوطنی میں عزیز ماما نے افغانستان کا سیاسی مطالعہ کیا اور پشتون قومی تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی۔

عزیز ماما نے 25 فروری 1978 کو اپنی جلا وطنی ختم کی اور ساتھیوں کے ساتھ پاکستان آئے۔ اس وقت حیدرآباد سازش کیس سے رہائی پانے والے ساتھیوں کی مشاورت سے لاء کالج میں داخلہ لیا اور ایل ایل بی کی جو ڈگری وہ ادھورا چھوڑ گئے تھے وہ 1981 میں حاصل کی۔ اسی دورانPSFمیں سابقہ سیاسی فعالیت اور جدوجہد کی بنا پر تبدیلی ناگزیر ہو چکی تھی جو کراچی میں پی ایس ایف کے تیسرے قومی کنونشن پر منتج ہوئی۔ اوپی ایس ایف دو دھڑوں میں بٹ گئی۔

ایک دھڑے کی قیادت عزیز ماما کے کندھوں پر آ پڑی اور دوسرے دھڑے کی قیادت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی سے منسلک رہی۔ اور 1979 میں پشتون ایس ایف کے مرکزی صدر منتخب ہو گئے۔ اس وقت افغان ثور انقلاب کے حوالے سے کافی تبدیلیاں آ چکی تھیں۔ اسی لئے ماما PSFکے نوجوانوں کو سیاسی شعور، علمی اور نظریاتی سوچ دیتے رہے۔ اور پی ایس ایف کو جدید علمی سائنسی خطوط پر استوار کرنے، منظم شکل دینے اور فعال بنانے کی بھرپور کوشش کی جس میں آپ کو کامیابی بھی ملی۔

عزیز ماما پی ایس ایف کے نوجوانوں کی ذہنی تربیت سازی کرنے کے لئے ماہانہ بنیادوں پر پشتو ”ٹرون“ اخبارکا اجراء کیا۔ آپ ساتھیوں کو سیاست کے آداب و مقاصد اور تاریخ پر لیکچر دیتے تھے اور ماما کے یہ لیکچر اس دور کے پشتو اخبار ”زوان ژغ“ میں باقاعدگی سے چھپتے رہے۔ اس کے علاوہ ماما کے مضامین اور سیاسی تجزیے بھی اخبار کی زینت بنتے رہے۔ زمانہ جلا وطنی میں عزیز ماما زوان ژغ اخبار چھاپتے تھے۔

1983 میں پی ایس ایف کے چھوتے قومی کنونشن کے موقع پر عزیز ماما نے رسماً فارغ ہو کر پہلے سے موجود ترقی پسندانہ سوچ پر مشتمل حلقے کو وسعت دے کر اکتوبر 1985 میں باقاعدہ سیاسی تنظیم ”پشتون اولسی کمیٹی“ کے نام سے منظم کیا اور اپریل 1988 میں دوسری قومی کانگریس کے موقع پر عوامی امنگوں اور پشتون قوم کو ایک پلیٹ فارم یکجا ہونے کی غرض سے آغاز پشتون اولسی کمیٹی ہی نے کیا اور پی یو سی عوامی نیشنل پارٹی میں ضم ہوئی ا۔ آپ نے 1988 کے عام انتخابات میں حصہ لیالیکن رجعتی قوتیں ماما کے خلاف ایک ہو گئیں جو آپ کی ہار کی وجہ بنیں۔ اور ماما کم ووٹوں سے یہ الیکشن ہار گئے۔

1989 اپریل میں، عزیز ماما اے این پی کے صوبائی سیکرٹری منتخب ہوئے عزیز ماما نے پارٹی کی آئی جے آئی کے ساتھ اتحاد کی بھرپور مخالفت کی اور اسی بنا پر عوامی نیشنل پارٹی سے علحیدگی اختیار کی۔

1989 کے اواخر میں ترقی پسندانہ سوچ رکھنے والے سیاسی حلقوں کا کنونشن ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقد کیا گیا اور قومی انقلابی پارٹی کے نام سے نئی پارٹی تشکیل دی گئی۔ جس کا دوسرا کنونشن فروری 1991 کے آخر میں چارسدہ میں منعقد ہوا اور قومی بنیادوں پر پارٹی تشکیل دیے جانے پر اتفاق ہوا، جس کے نتیجے میں قومی انقلابی عوامی نیشنل پارٹی حقیقی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میں مذاکرات کا عمل شروع ہوا۔ بالآخر کیو آئی پی اور اے این پی حقیقی ایک دوسرے میں مدغم ہوئیں اور نئی پارٹی ”پشتونخوا ومی پارٹی“ تشکیل دے دی گئی۔

جس کے سینئر نائب صدر عزیز ماما منتخب ہوئے۔ اس تمام عمل میں عزیز ماما کا کردار اصولی تھا اور کچھ عرصہ گرزنے کے بعد پی کیو پی کے سرکردہ رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ پشتون قومی سیاست کے لئے وسیع پلیٹ فارم کی ضرورت ہے چنانچہ پی کیو پی عوامی نیشنل پارٹی میں مدغم ہوئی۔ اس طرح وہ تمام عناصر جن کا تعلق سابقہ ادوار میں اے این پی کے ساتھ رہے تھے، وہ ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔ عزیز ماما نے پارٹی کی صوبائی الیکشن میں حصہ بھی لیا جس میں آپ انتہائی کم ووٹوں سے ہار گئے۔

عزیز ماما قلم کے دھنی بھی تھے۔ انہوں نے ایک درجن سے زائد کتابیں لکھیں۔ اگر موضوعات کو دیکھا جائے تو کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر عزیز ماما نے قلم نہ اٹھایا ہو۔ ادب ہو یا تاریخ، کرنٹ افئیر ہوں یا کوئی اور موضوع، عزیز ماما نے جس پر قلم اٹھایا تو کئی جلدوں پر مشتمل کتاب لکھ ڈالی۔ لیکن بدقسمتی سے ماما کی یہ کتابیں شائع نہیں ہوئی ہیں۔ ما سوائے ایک کتاب کے جو پشتو اداب کی تاریخ پر ہے اور اس کا بھی صرف ایک جلد شائع ہو چکا ہے۔

عزیز ماما نے وطن پر جان قربان کرنے والے کارکنوں پر قلم اٹھا تو زموژ شہیدان کے نام سے تصنیف مکمل کی۔ پشتو ادب کی تاریخ لکھ ڈالی۔ عزیز ماما کے خطوط کی عجیب کہانی ہے۔ زندانی خطوط کے نام سے ان کے جو خطوط محفوظ ہیں وہ اپنے ساتھیوں کی تربیت اور رہنمائی کے لئے تھے۔ یہ خطوط 18 صفحات سے لے کر 28 صفحات پر مشتمل ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا کے ماما جس موضوع پر قلم اٹھاتے تو انصاف کا تقاضا پورا کر کے ہی اس کا قلم رکھتا۔

ماما ایک مشہور اور ہر دل عزیز شاعر بھی تھے۔ شعر و ادب کا واسطہ آپ کو چھٹی جماعت سے پڑا۔ اور کالج کے زمانے میں عروج کو پہنچا۔ اور شعری مجموعے چنلی گلونہ اور شعری سیڑنی لکھیں۔ آپ عزیز اللہ غمزدہ کے نام سے شاعری کرتے تھے۔ ان کی شعری مجموعہ روغ باغ کے نام سے موجود ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کے زمانہ میں ادبی مضامین، پشتو اخبار ہیواد، پاڑکئی، اولس اور دیگر جریدوں میں لکھتے رہے۔ اسی دوران ایک ادبی تنظیم ”د پشین پشتو دودی ادبی ٹولنہ“ کی رکنیت اختیار کی۔ بعد ازاں اس کے جنرل سیکرٹری بن کر ادبی سرگرمیاں انجام دیتے رہے۔

اگرچہ عزیز ماما کی علالت طویل عرصے پر محیط تھی اور زیادہ تر عزیز و اقارب، سیاسی رفقاء اور تمام جاننے والے اس امر سے واقف اور ذہنی طور پر تیار تھے کہ آپ کی رحلت کسی بھی وقت واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود 3 دسمبر 2009 بروز جمعرات آپ کی وفات کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور کوئی بھی شخص اشکبار ہوئے بغیر نہ رہ سکا کیونکہ عزیز ماما نے جدید سیاست کی مدبر، مفکر اور استاد ہونے کے علاوہ پرجوش عملی سیاسی، ادبی اور سماجی رہنما کی حیثیت سے زندگی گزاری۔ انہوں نے کسی بھی سیاسی قدآور شخصیت کا سہارا لئے بغیر انتہائی پیچیدہ اور مشکل ادوار میں اپنا سیاسی لوہا منوایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words