علامہ اقبال کی مسلمان عورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عین اس وقت جب یہاں کی عورت کو مغربی تہذیب کا میٹھا زہر دیا جا رہا تھا، ٹھیک اسی وقت ایک دانائے راز مغربی تہذیب کے اس سراب کا بھانڈا پھوڑ رہا تھا۔ چونکہ وہ خود مغربی دانشگاہوں کا تعلیم یافتہ تھا، لہذا نہ تو مغرب اور نہ ہی اس سے متاثر جدید دانشور اسے جاہل مولوی کہہ کر اس کی باتیں جھٹلا سکتا تھا۔ وہ یہ نعرہ مستانہ بلند کر رہا تھا ؛

”اے مسلمان عورتو! بچہ زبان کھولے تو اسے سب سے پہلے کلمہ طیبہ سکھاؤ تاکہ تمہاری تربیت سے وہ ایک ایسی بجلی بن جائے جس کے پیغام سے صحرا اور فلک بوس پہاڑ تک چمک اٹھیں۔ جدید (مغربی ) تہذیب تمہارے دین پر ڈاکا ڈالنے کے لیے تیار ہے اور معصوم لوگ اس کا شکار ہیں۔ اس تہذیب کے گرفتار خود کو آزاد سمجھتے ہیں لیکن در حقیقت آزاد اور زندہ وہی ہیں جو اس تہذیب کے چنگل سے بچ جائیں۔ تم شریعت محمدی کی امین ہو۔ تمہاری نئی نسل اپنی اسلامی تہذیب سے بیگانہ ہو رہی ہے۔ ان میں اپنی اقدار کو راسخ کرنے کے لیے تمہیں سیدہ فاطمہ کا کردار ادا کرنا ہوگا تا کہ تمہاری گود میں بھی کوئی شبیر پیدا ہو“ ۔

یہ کسی مولوی کے تقریر نہیں بلکہ مصور پاکستان اور جدید فلسفے کی سند علامہ اقبال کی شاعری کا ترجمہ ہے۔ اسرار خودی میں وہ دو عورتوں کی مثال دیتے ہیں۔ ایک عورت کسی دہقان کی ان پڑھ، جاہل اور بدصورت بیٹی ہے لیکن اگر وہ بار امومت (ماں کی ذمہ داریاں ) ذمہ داری سے اٹھاتی ہے اور اس کی گود سے امت مسلمہ کو ایک مرد حق پرست میسر آتا ہے۔ دوسری عورت حسن و جمال کا مرقع بھی اور جدید تعلیم سے لیس بھی لیکن اس کی آغوش خالی ہے اور وہ بار امومت (ماں بننے ) کو بوجھ سمجھتی ہے۔ قوم کو پہلے جیسی ان پڑھ عورتوں کی ضرورت ہے کیونکہ انہی کی شام سے قوم کی سحر فروزاں ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ملت اسلامیہ کا دامن دوسری قسم کی عورتوں کے داغ سے پاک رہے ”۔

علامہ اقبال نے ایسی عورت کو ”داغ“ کہا ہے جو اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے دور بھاگے۔ مغرب نے عورت کو اشتہار بنایا اور خاندانی نظام بگڑنے سے جب وہاں کا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو گیا تو امت مسلمہ بالخصوص پاکستان کے خاندانی نظام کو بھی اسی ہتھیار سے شکار کرنے کی کوشش کی گئی۔ چونکہ ماں کی حیثیت خاندان میں ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے، لہذا ایک طرف تو یہاں کی عورت کو ماں بننے سے متنفر کیا گیا اور دوسری طرف جو عورت ماں بن چکی تھی، اسے یہ باور کرایا گیا کہ بچے پیدا کرنا اور ان کو پالتے پالتے مر جانا جاہل عورتوں کا کام ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اول تو عورت بچے ہی پیدا نہ کرے اور اگر بفرض محال ایسا ہو بھی جائے تو وہ ان کی تربیت نہ کرنے پائے۔ اولاد پر پیسے کو ترجیح دینے عورت کو علامہ اقبال نے یوں مخاطب کیا ؛

”مال او فرزند ہائے تندرست
تردماغ و سخت کوش و چاق و چست ”

کسی قوم کی اصل دولت سونے چاندی کی بجائے وہ چاق و چوبند اور محنتی اولاد ہے جس کے دماغ (ماں کی تربیت سے ) روشن ہوں۔ وہ عورت کو روپے پیسے کی خاطر شمع محفل بننے کی بجائے اصل دولت یعنی اولاد کی تربیت کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں ؛

”بتولے باش و پنہاں شو از ایں عصر
کہ در آغوش شبیرے بگیری ”

یعنی اے عورت! اسوہ بتول پر عمل کر اور زمانے کی ہوس ناک نظروں سے اپنے وجود کو چھپا لے تاکہ تیری گود میں بھی ایسی اولاد جنم لے جو اسوہ شبیری کی حامل ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرد سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں لیکن تربیت کی بجائے اسے بھیڑیا کہنا اور اس کی غلطیوں کی آڑ میں عورت سے اسے ماں نہ بننے پر ابھارنا اسے گمنامی کی موت مارنا ہے۔ اقبال کہتے ہیں ؛

”تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت
ہے حضرت انساں کے لیے اس کا ثمر موت
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اس علم کو ارباب نظر موت ”

شاعر مشرق کی نظر میں خاتون خانہ اور سبھا کی پری میں وہی فرق ہے جو ایک قطرے اور گوہر میں ہوتا ہے۔ دونوں بارش کے قطرے ہیں لیکن ایک سمندر میں گر کر اپنا جود کھو بیٹھتا ہے اور دوسرا سیپ کا پردہ اوڑھ کر گوہر نایاب بن جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ؛

”آغوش صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہے
وہ قطرہ نسیاں کبھی بنتا نہیں گوہر ”
جب عورت کو جدید تعلیم کے نام پر زہر کا انجیکشن دیا جا رہا تھا اس وقت اقبال فریاد کر رہا تھا کہ؛
”لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
یہ ڈراما دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ ”
اور پھر خود ہی بتاتے ہیں کہ اس سین کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ
” یہ کوئی دن کی بات ہے اے مرد ہوشمند!
غیرت نہ تجھ میں ہو گی نہ زن اوٹ چاہے گی ”

اقبال اگر انگریزی تعلیم کے مخالف ہوتے تو خود کیوں انگریزی تعلیم حاصل کرتے؟ ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر عورت اپنے دین سے دور ہو کر جدید تعلیم حاصل کرے گی تو یہ اس کے لیے موت ہو گا۔ وہ کہتے ہیں ؛

”بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر موت ”

ان کی نظر میں پردہ عورت کے قند جبکہ بے پردگی جدید تہذیب زہر کی مانند تھی۔ آخر میں خوبیوں اور خامیوں کو واضح کر کے وہ کہتے ہیں ؛

”اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں سکتا
گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے وہ قند
کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب
پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند
اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں معذور ہیں مردان خردمند
کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
آزادی نسواں کہ زمرد کا گلوبند ”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •