علم کشش ثقل سے زیادہ طاقتور ہے


تبدیلی اور ترقی کے راستے میں رکاوٹیں۔ ( 1 ) جاگیرداری نظام، وراثتی اور خانقاہی سیاسی کلچر۔ ( 2 ) سیاست میں لوٹا ازم کا فروغ۔ ( 3 ) شخصیت پرستی۔ ( 4 ) بے لگام کرپشن۔ ( 5 ) تعلیم اور صحت کے نظام کو ترجیح نہ دینا۔ یہ سارے عوامل مل کر جمہوری اصولوں اور صحت مند زندگی کے قواعد و ضوابط اور اخلاقی قدروں کی نفی اور ملکی بحران کی شدت میں اضافے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ ان حالات میں سب سے زیادہ متاثرین میں افتادگان خاک ہیں۔ جن پر علم کے دروازے بند رہتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ دانستہ بند کر دیے گئے ہیں۔ یہ عوامل ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہوئے ہیں۔

سیاسی وفاداریاں بدلنے کا کاروبار کروڑوں اور اربوں کا کھیل ہے۔ بس ایک دفعہ اسمبلی کے ممبر بن جائیے۔ مال بنانے کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں۔ نام نہاد قانون سازوں کی نیلامی کے بازار سج جاتے ہیں۔ گھر بیٹھے سینٹ کے ممبر بن جاتے ہیں۔ محلات میں بسیرا، ہارس ٹریڈنگ کے لئے لوٹوں کی موجیں۔ دن رات یہ رٹ لگائیں ”ملک غریب ہے۔ مقروض ہے“ بچوں کی تعلیم اور صحت کے لئے خزانہ میں پیسہ نہیں۔ کرپشن کا بازار گرم۔ غریب کا برا حال۔ بھوک سے نڈھال اور حکمران دولت کے نشے میں مست۔

جاگیر دار ہمیشہ ہر اس قوت کا ساتھ دیتے ہیں جو اقتدار میں ہو۔ عام لوگوں کی پہچان ”کمی“ سے ہوتی ہے۔ (جو کام کرتے ہیں ) ۔ حلال کھانے والے عزت کے اہل نہیں۔ اور ”نکمے“ جو کام نہیں کرتے ”ح۔۔۔ کھانے والے عزت کے لائق“ ۔ ”یہ خاندانی، بڑے لوگ کہلاتے ہیں۔ ذرا سوچیں۔ غور و فکر کریں۔ ان حالات میں کیا ملک ترقی کر سکتا ہے؟ ان کی غلامی سے آزادی کے بغیر کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد ملک خاندانی سیاست سے آزاد ہو گیا ہے۔

سیاست تو ابھی تک شخصیت پرستی کے دائرے میں قید ہے۔ تحریک انصاف مائنس عمران خان پی ٹی آئی پارہ پارہ ہو جائے گی۔ سب سے پہلے چھوڑنے والے وہ ہوں گے جو 11 اکتوبر 2011 کو پی ٹی آئی کا جلسہ دیکھ کر شامل ہوئے۔ ان سارے عوامل نے پورے معاشرے کو کرپشن کے گرداب میں دھکیل دیا۔ عوام کے لئے ترقی کے راستے مکمل طور پر دانستہ بند کر دیے گئے ہیں۔

ملکی نظام تعلیم اور زندگی کے ہر پہلو میں شخصیت کی مبالغہ آمیز پرستش۔ ٹیلی وژن کے ٹاک شوز میں خوشامدیوں کا شور، لڑائی جھگڑا اور تکرار۔ لیڈروں کو خوش کرنے کے لئے مبالغہ آرائی کے وعظ۔ کان پڑی بات سنائی نہیں دیتی۔ عام لوگوں کے مسائل، مہنگائی، بے روزگاری، نظام تعلیم اور صحت، جرائم لا قانونیت جیسے ایشوز کو زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ تعلیمی مسائل کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں گیا۔ اگر ایک یکساں نصاب جو وقت کے تقاضوں کے ہم آہنگ ہو، نافذ کر بھی دیا جائے۔ تو ٹیچرز کہاں سے لائیں گے۔

پاکستانی سماج کے بالا دست طبقوں نے عوام پر ایسا نظام مسلط کر رکھا ہے، جس میں انصاف ناپید ہے۔ ہمارے ریاستی اداروں کی ناکامی اور مکمل تباہی کی وجہ سے ”ہم سب“ لوگ اپنا زیادہ تر وقت آپس میں بے معنی تکرار اور لڑائی جھگڑوں میں گزارتے ہیں۔ اپنے لین دین، جائیدادوں کی تقسیم اور بچوں کی لڑائی میں ملوث ہو کر اپنی جان تک کھو بیٹھتے ہیں۔ چند دن ہوئے دو خاندان کی لڑائی میں 1122 زخمیوں کو ہسپتال لے گئی۔ دونوں پارٹیوں کا ہسپتال جا کر مسلح تصادم ہو گیا۔

لوگ ٹریفک ایکسیڈنٹ میں زندہ جل جاتے ہیں۔ خوراک اور دوائیوں میں ملاوٹ۔ لوگ روزمرہ کی زندگی ایسے دل دہلا دینے والے ماحول میں گزارتے ہیں، کہ ان کے لئے زندگی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ لوگ زندگی کو بوجھ تصور کر نے لگے ہیں۔ حیات کے اس کرب میں مبتلا وہ اپنے مسائل سے فوری ریلیف کے متلاشی ہیں۔ سماج میں ایسی صورت حال ”عوام کے ملازم“ حکمرانوں کے لئے سکون کا باعث ہے۔ لوگ آپس کے لڑائی جھگڑوں میں مصروف رہیں۔ حکمرانوں کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ لوگوں کو سبز باغ دکھا کر ووٹ لئے جاتے ہیں۔ لیکن مسائل میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اور عوام ہے کہ ہر دلکش نعروں اور وعدوں کے لالی پاپ والے راہنما کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ زمینی حقائق کو پرکھنے کی صلاحیت سے نابلد عوام کو بالآخر مایوسی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ موجودہ سیاسی صورت بزبان غالب۔

چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں

حکمرانوں اور بالا دست طبقوں نے ملکی وسائل اور لوگوں کی محنت مشقت سے پیدا کردہ دولت کو لوٹ کر ان کو غربت اور بے چارگی کے گڑھوں میں دھکیل دیا ہے۔ اس کے برعکس اس تباہی کو ملک و قوم کی اس غربت سے منسوب کرتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملکی پیداواری قوتیں کمزور اور غریب ہیں، تو پھر جاتی عمرہ، بلاول ہاؤس اور بنی گالہ کے محلاتی جزیرے غربت کے سمندر میں کہاں سے نمودار ہو گئے۔

غربت کے سمندر کا ایک قصہ سن لیں۔ (لاہور گریمر اسکول میں اے لیول کی طالبات کو 1995 میں ایک لیکچر کے دوران) میں نے پاکستانی سوسائٹی پہ تنقید کرتے ہوئے کہا۔

Pakistan is a big ocean of poverty and filth. Amidst this environment there are few islands of affluence like Gulberg, DHA etc. when and if a storm hits the ocean, all the islands of affluance will sink in it. One student in the class, Exclaimed, "Sir we have just built the house in DHA. I calmed her down, telling her don’t worry it is not going to happen soon rather will take some time.

پرنسپل صاحبہ میری کلاس روم میں ایسی گفتگو سے خوش نہیں تھیں۔ لیکن میں نے اپنا مقدس مشن جاری رکھا۔ امریکہ 1960 کی دہائی میں یونیورسٹی میں میں کلاس روم میں لیکچر کے دوران ویت نام کی جنگ پر اپنا تنقیدی نقطہ نظر بیان کرتا تھا۔ LGS پرنسپل کے رویے کے برعکس امریکن یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ امریکی طلبا میرے بیانیے کی قدر کرتے تھے۔

پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد ہی زرعی اصلاحات ہو جاتیں تو پیداواری قوتیں زراعت اور صنعتی ترقی کے پہیہ کو جدید سائنسی ٹیکنالوجی کی طاقت سے وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھاتیں۔ ارتقائی عمل سے صحت مند معاشرہ جنم لیتا۔ اس کے نتیجے میں آج اچھی خاصی مڈل کلاس اور محب وطن صنعت کار کلاس ایک مضبوط سیاسی قوت بن جاتی۔ کسان خوشحال ہوتا۔ معاشرہ لوٹا ازم، وراثتی اور خانقاہی سیاست سے پاک ہوتا۔ عام لوگوں کے لئے سیاست شجرہ ممنوعہ بھی نہ ہوتی۔ لوٹا ازم بھی ہمارے سیاسی کلچر میں جگہ نہ حاصل کر پاتا۔ آج کی صورت حال میں لوگ بند گلی میں پھنس کر ”بھیڑ چال، اندھی تقلید اور بلوائی ذہنیت“ کا شکار ہو کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تواتر سے دل ہلا دینے والے واقعات رو نما ہو رہے ہیں۔

(نیچرل لا، قدرت کا قانون، سائنس کا قانون، سائنٹیفک لا، جو بھی نام دے دیں۔ ) ہماری زندگی کا ہر عمل جو نیچرل لا (قدرت کا قانون) سے متصادم ہے۔ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ حکمران عقل کے ناخن لیں۔ ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کہ قدرت کے قانون (نیچرل لا) کی خلاف ورزی یا فطرت کے خلاف کوئی بھی عمل جیسا کہ بغیر محنت دولت کا حصول، اس کی غلط تقسیم۔ لوگوں کے حقوق نہ ملنا، معاشی عدم مساوات جرائم میں اضافہ۔ سماج کے ہر پہلو کو ضرر سے دو چار کرتا ہے۔ امیر اور غریب میں وسیع خلیج بھی معاشرے کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔

آدھی سے زیادہ آبادی کو صاف پینے کا پانی میسر نہیں۔ لوگ آلودہ پانی پی کر بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ حکمرانوں کو اب کون سمجھائے۔ لوگوں کو ملاوٹ سے پاک خوراک اور صاف پانی مل جائے تو بیماری کی شرح کافی حد تک کم ہو جانے سے صحت کا بجٹ آدھے سے کم ہو جائے گا۔ ملک میں وسائل کی کمی نہیں۔ لوگ محنتی ہیں۔ وسائل کی بد انتظامی اور اس کا ضیاع۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ہمارے مسائل کی اصل وجوہات ہیں۔

ہماری صفائی کے معاملے میں لا پرواہی ایک وبا سے کم نہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے تمام پبلک ادارے بینک، سرکاری دفاتر، پٹرول پمپس۔ حتیٰ کہ مساجد، ہسپتال، تعلیمی ادارے جہاں آئندہ نسلوں کے ذہنوں کو علم کی روشنی سے منور کرنا ہوتا ہے۔ ان کے ٹوائلٹ گندے اور ناقابل استعمال ہوتے ہیں۔ صابن، تولیہ اور نہ پانی۔ اور اگر تولیہ ہے تو اتنا گندا کہ سب اس کو استعمال کرتے ہیں۔ شادی گھروں اور ریسٹورینٹس میں باورچی اور ویٹر بظاہر تو دھلی ہوئی سفید شرٹ اور کالی پینٹ میں ملبوس ہوتے ہیں۔

لیکن ان میں شاید ہی کوئی ٹوائلٹ استعمال کرنے کے بعد صابن سے ہاتھ دھوکر صاف تولیہ یا پیپر ٹاول سے ہاتھ خشک کرتا ہو۔ میں نے لوگوں کے گھر کے کچن میں بخار، فلو اور نزلہ و زکام میں مبتلا باورچی کو کھانا تیار کرتے دیکھا ہے۔ یہ حال ہے، ہمارے اسلامی معاشرے کا ۔ آدھا ایمان صفائی نہ ہونے سے ختم ہو جاتا ہے اور آدھا جھوٹ بولنے سے۔

اس بھنو ر سے باہر آنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے علم کا حصول۔ علم کا حصول بھی سائنسی بنیادوں پر ہونا ضروری ہے۔ نظام تعلیم کا بنیادی ڈھانچہ سائنسی، تکنیکی علم (Technical know۔ how) تخلیقی اور تنقیدی سوچ و فکر پر استوار ہو۔ باہمی گفتگو (Dialogue ) نہ کہ خود کلامی (Monologue ) پر ہو۔ علم کو مثالیں دے کر روز مرہ کی زندگی سے تعلق جوڑا جائے۔ بچوں کو سوال پوچھنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تقلیدی عمل سے دور رکھا جائے۔

وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نظام تعلیم میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ تعلیم اور صحت کے نظام کو ملکی سیکیورٹی اور دفاع کے برابر اہمیت دی جائے۔ پڑھا لکھا اور خوشحال، باشعور اور تعلیم یافتہ پاکستان ایٹمی قوت سے کم اہمیت کا حامل نہیں ہوگا۔ تعلیم کے بغیر اوپر بیان کیے مسائل پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے۔ جب تک تعلیمی نظام کو ٹھوس سائنسی بنیادیں پر استوا ر نہیں کیا جاتا۔ ترقی ناممکن۔

تعلیم کے حصول کے دو مقاصد۔ ( 1 ) علم اور ڈگری کا حصول۔ ڈگری انسان کی اہلیت، صلاحیت اور قابلیت کا ایک ایسا پیمانہ ہے۔ جس کی بنیاد پر اس کو ملازمت ملتی ہے۔ اور اپنی ضروریات زندگی پوری کرتا ہے۔ اس کی حقیقی خوشی اور خوشگوار زندگی کا انحصار اس بات پر ہو تا ہے۔ اور ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ضروریات زندگی تک محدود رکھے۔ اس کے برعکس ہمارے پروفیشنل نے علمی انداز فکر اور سوچ کے دھاروں کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں کی راہیں روشن کرنے کی بجائے دولت جمع کرنے کی بے مقصد اور اندھی دوڑ میں شامل ہو کر اپنے آپ کو ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی رشتوں میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔

ہر شخص خاص طور پر نوجوان تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر اپنے بہتر مستقبل اور ملک میں کبھی واپس نہ آنے کی تمنا لئے ترقی یافتہ ملکوں میں جا کر آباد ہو جاتے ہیں۔ میں بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو صرف اپنے والدین کی وفات پر اپنی جائیداد کے معاملات اور بٹوارہ کرنے چند دن کے لئے اپنے وطن آتے ہیں۔ آج ہمارے ملکی بحران، جرائم، لاقانونیت، حادثات، قتل، بچوں سے جنسی زیادتی، عدم تحفظ اور لوٹ مار میں اس قدر شدت آ چکی ہے۔ اگر کوئی اپنے پیاروں سے ملنے آنا بھی چاہے تو ان حالات میں ہمت نہیں کر پاتا۔ کورونا کی وبا نے انسانی نقل و حرکت کو مزید محدود کر دیا ہے۔

( 2 ) دوسرا مقصد۔ علم و فکر کی روشنی انسانی ذہن کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ انسان سماج کے اندر مثبت تبدیلی کے لئے رہنما کے کردار کی حیثیت سے اپنی پہچان بناتا ہے۔ علم انصاف اور امن کی راہیں متعین کرتا ہے۔ علم ہی سے سماج میں انسانی رشتے خوشگوار بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں۔ علم اور ڈگری دونوں لازم و ملزوم ہیں۔

علم کی بنیاد سائنسی اصولوں پر ہو تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔ ایک دوسرے کو صبر اور توجہ سے سننے اور قوت برداشت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ”بھیڑ چال، اندھی تقلید اور بلوائی ذہنیت“ سے نجات کا ذریعہ بنتی ہے۔ استحصال کے راستے تنگ ہو جاتے ہیں ”لوگ آسان اور فوری حل“ کی تلاش میں رہنے کی بجائے محنت پر انحصار کرتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لئے تعلیمی نظام کو سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جانا ضروری ہے۔ نظام تعلیم کی ابتدا پرائمری ایجوکیشن سسٹم سے کرنا لازمی ہے۔ موجودہ دور میں سائنس علم کے مختلف شعبہ جات کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ آج وہ قومیں دنیا میں قیادت کی صف اوًل میں ہیں جو علم کے زیور سے آراستہ ہیں۔

Facebook Comments HS