کورونا کی دوسری لہر اور ہمارے رویے



کچھ مہینے قبل تک پوری دنیا میں سب کچھ نارمل چل رہا تھا۔ زندگی کی گاڑی سرپٹ دوڑ رہی تھی۔ ہر طرف موج مستی کا عالم تھا۔ ہر ذی روح اپنی اپنی دھن میں مگن تھا۔ اور زندگی کے رنگوں سے اٹکھیلیاں کرنے میں مصروف تھا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ قدرت کی طرف سے ایک آزمائش کرونا وائرس کی صورت میں ان کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ ایک خطرناک دشمن لوگوں کی خوشیوں کے درپے ہو چکا تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر ہر طرف تباہی اور بربادی کی ایک داستان رقم کردی۔ خوشیوں اور مسرتوں کی جگہ سسکیوں اور آہوں نے لے لی۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جن کا نظام صحت جدید ترین بنیادوں پر استوار تھا مکمل طور پر زمین بوس ہو گیا۔ بدقسمتی سے اس خطرناک وائرس کا کوئی علاج بھی موجود نہیں تھا جو لوگوں کے لئے اطمینان کا باعث ہوتا۔

اب تک مختلف ممالک کے لاکھوں افراد اس مہلک وبا کا شکار ہوچکے ہیں۔ اور کئی لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ ناموافق حالات اور مناسب سہولتوں کے فقدان کے باوجود پوری دنیا میں طب کے پیشے سے تعلق رکھنے افراد نے اپنی زندگیاں انسانیت کے لئے وقف کردیں۔ اور مریضوں کے علاج میں جت گئے۔ یہ ایک طویل جنگ کا آغاز تھا۔ ستم ظریفی کی بات یہ تھی کہ دشمن بھی نظروں سے اوجھل ہو کر وار کرنے میں مصروف تھا۔ لیکن نظام صحت اس کے سامنے چٹان بن کر کھڑا ہو گیا۔ اور اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے کمربستہ ہو گیا۔

پاکستان بھی کرونا سے بہت متاثر ہوا۔ لیکن یہاں اس مہلک وبا میں مبتلا ہونے والے مریضوں کی تعداد باقی ممالک کی نسبت خاصی کم رہی۔ اس عفریت کا شکار ہونے والے افراد میں عام لوگوں کے علاوہ طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد بھی شامل تھے۔ جو حفاظتی کٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ عام مریضوں کے علاوہ کئی درجن ڈاکٹر اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ مسیحاؤں کی ان بے مثال قربانیوں کی وجہ سے پاکستان میں وفات پانے والوں کی تعداد دیگر ممالک کی نسبت خاصی کم رہی ہے۔

خوش قسمتی سے موجودہ حکومت کے بہتر انتظامات اور موثرحکمت عملی کی وجہ سے کرونا کے پہلے فیز پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے ملک میں صورتحال کنٹرول میں آنا شروع ہو گئی تھی۔ مگر اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ عوامی سطح پر اگر احتیاط نہ برتی گئی تو یہ وبا دوبارہ حملہ آور ہو سکتی ہے۔ بدقسمتی سے عام لوگوں نے تمام حفاظتی اقدامات کو پست پشت ڈال کر زندگی کی رنگینیوں کی طرف پلٹنا شروع کر دیا۔ مارکیٹس میں خریداری کرنی ہو یا شادی بیاہ کی تقریبات میں شرکت لوگوں نے ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دیں۔ نہ ماسک کا استمال اور نہ سماجی فاصلے کی فکر۔ پاکستانی یہ بات شاید بھلاچکے تھے کہ کبھی کرونا نامی بیماری بھی ان کی زندگی میں آئی تھی۔ عوام کی لاپروائی کے سنگین نتائج ظاہر ہونا شروع ہوچکے ہیں۔ کرونا وبا کی دوسری لہر نے اب اپنے پنجے دوبارہ گاڑنا شروع کردیے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق اس موذی وبا کی دوسری لہر خطرناک شکل اختیار کررہی ہے۔ لہذا لوگوں کو ہوش کے ناخن لینے پڑیں گے۔ اور بازاروں اور مارکٹس میں سماجی فاصلہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ماسک اور سیناٹائزر کے استمال کی ہر صورت پابندی کرنی ہوگی۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک طرف سرکاری ہسپتالوں اور ہنگامی طور پر قاہم کیے گئے یونٹس میں عوام کو مفت طبی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف مختلف شہروں میں واقع نجی ہسپتال اور کلینک کرونا کے مریضوں سے لاکھوں روپے بٹورنے میں مصروف ہیں۔ یاد رہے کہ کرونا وائرس کا ابھی تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا۔ عالمی سطح پر ویکسین کی تیاری کی خبریں آ رہی ہیں۔ پاکستان میں ویکسین کی درآمد 2021 کی دوسری سہ ماہی سے شروع ہو سکے گی۔

لیکن نجی ہسپتالوں کا مریضوں سے بھاری اخراجات وصول کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیونکہ سرکاری یا نجی ہسپتال میں کرونا کے مریضوں کا کوئی خاص علاج نہیں کیا جاتا۔ بلکہ ان کی صرف دکھ بھال کی جاتی ہے۔ یا زیادہ سے زیادہ آکسیجن لگا دی جاتی ہے۔ چلیں مریض کو آکسیجن یا وینٹی لینٹر کی ضرورت پڑتی ہے تو اس صورت میں فیس چارج کرنا مناسب اقدام ہے۔ لیکن بیڈ، ڈاکٹر کی چیکنگ اور نرسز کی دیکھ بھال کی مد میں بھاری بھرکم رقم وصول کرنا نہایت نامناسب قدم ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض ہسپتال بھاری رقم چارج کرنے کے باوجود بھی مریض کی مناسب دیکھ بھال نہیں کرتے۔ اسی لئے بعض افراد اپنے مریض کو ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال میں شفٹ کرتے رہتے ہیں۔ چند ایک علاج سے غیر مطمہن ہو کر گھر واپس چلے جاتے ہیں اور ٹوٹکوں وغیرہ سے اپنا علاج کرتے ہیں اور شفایاب بھی ہو جاتے ہیں۔

جہاں تک کرونا وائرس کی ویکسین کا تعلق ہے تو بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ، چین اور برطانیہ اس مقصد میں کامیابی حاصل کرچکے ہیں۔ صحت کی وفاقی پارلیمانی سیکرٹری کے بیان کے مطابق یہ ویکسین اگلے سال کی دوسری سہ ماہی کے بعد ملک میں مفت دستیاب ہو سکے گی۔ اس کے لئے حکومت نے فنڈز بھی مختص کر دیے گئے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستان میں موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے مافیا بھی متحرک ہوجاتا ہے۔ اور دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ کرونا مریضوں کی جان بچانے والے انجکشنز کی بلیک مارکیٹ میں فروخت کا سکینڈل ماضی قریب میں میڈیا پر نشر ہو چکا ہے۔ اس کی علاوہ ماسک اور سیناٹائزر کی قلت بھی مافیا سرکار کا کارنامہ تھا۔ اس موقع پر اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو کرونا ویکسین عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو سکتی ہے۔ اس کی علاوہ ایک اور سیکنڈل اس کے گلے کا طوق بن جائے گا۔

Facebook Comments HS