رگوں میں اترتے سکوں کے جزیرے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ سانحے دل پہ گہری ثبت لگاجاتے ہیں جب زندگی سے بھرپور چہرے اچانک موت کی وادی میں اتر جائیں۔ رگوں میں آرٹیفشل سکون کے جزیرے اور خوابوں کی دنیا فشار خون میں شامل کر دی جائے۔ اور وہ سکون جو دلوں پہ اترتا ہے کسی غبار کی شکل آنکھوں کے پردے پہ اتر آئے تو راستہ موت نہیں بلکہ اموات کی طرف جاتا ہے۔ نشہ کسی بھی شے کا ہو جان لیوا ہی ہوتا ہے اور پھر اگر اس نشے میں منشیات کا زہر بھی شامل ہو تو پیچھے کیا بچتا ہے سوائے تلخ تجربات کے اور عزیزوں کے دن رات مرنے کے، مایوسیوں کے۔

اپنوں کو نشے کی لت میں پڑ کے دن رات تڑپنے اور مرنے کی تکلیف صرف وہی جان سکتے ہیں جن پہ یہ لمحہ لمحہ موت ٹپکتی ہے سو لمحہ لمحہ مرتے وجود کو مرتا دیکھنے والے کس موت سے گزرتے ہیں۔ تو بیچنے اور لگانے والوں کے لئے دل سے بدعائیں ہی نکلتی ہوں گی۔ کیونکہ کینیڈا جیسے اتنے سیویلائزڈ معاشرے میں بھی اس لت کو کنٹرول میں لانا آسان نہیں تو ہم پاکستان اور اس جیسے تھرڈ ورلڈ ملکوں کے حالات کے بارے میں کیا امید رکھ سکتے ہیں

غریب بیچارہ کوئی عشق کی ناکامی یا غربت کی اذیت میں نشہ کربیٹھے تو سمجھ بھی آتی ہے مگر ایلیٹ اور بزنس کلاس کو ایسا کون سا غم ہے جو یہ بھی نشے کی لت میں پڑ کے سکون تلاش کرتے ہیں۔ یا یہ محض تھرل اور فیشن کے چکر میں زندگی کو گھن لگا بیٹھتے ہیں

ایک آزاد ملک میں دھڑلے سے آزاد پھرنا، افئیرز چلانا، تعلقات رکھنا، جو دل میں آئے کرنا کسی کے لئے بھی مشکل نہیں نہ کوئی روک سکتا ہے نہ کوئی انگلی اٹھا سکتا ہے جو بھی انگلی اٹھائے گا اپنے لئے خود مشکلات کھڑی کرلے گا بات عدالتوں تک پہنچ سکتی ہے اور بھاری جرمانوں کی صورت میں بھگتنی بھی پڑسکتی ہے۔ سو شخصی، فکری، ریاستی آزادی کے اس گہوارے میں کچھ لوگ آزادی کے نام پہ تباہ ہو رہے ہیں اور کچھ اس آزادی کو ترس رہے ہیں کیونکہ تصویر کا دوسرا رخ بہت گھناؤنا ہے۔

بات منشیات، سیکس ٹریفکنگ تک نکل جاتی ہے اور ہم پاکستان کو رونے والے جان بھی نہیں پاتے کہ یہاں پہ نوجوان لڑکیوں کو کس طرح ہمدردی، محبت اور گھر کے جھانسے دے کر منشیات اور سیکس ٹریفکنگ کرائی جاتی ہے۔ آئے دن رپورٹس آتی ہیں۔ لیکن اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چلتا لاء اینفورسمنٹ کی انتہائی کوششوں کے باجود بھی ناسور کی طرح پھیلتا یہ منشیات کا زہر گھروں تک پہنچ رہا ہے اور پارٹیز میں محض فن اور مزے کے لئے جانیں داؤ پر لگ جاتی ہیں پر اس خاص مزے کا مقابلہ صرف موت ہی کرپاتی ہے

دل کانپ گیا تھا اور کانپ جاتا ہے ہر بار جب کوئی ایسی خبر آتی ہے۔ گلیوں میں بکنے والی منشیات پہ لگائی جانے والی فینٹانیل جو کہ ہیروئن اور کوکین سے مل کر بنتی ہے انتہائی جان لیوا ہے

کچھ عرصہ پہلے ایک ٹین ایجر لڑکے کی فینٹانیل سے ہونے والی موت کا سن کے انتہائی تکلیف ہوئی تھی جو شاید کسی دوست کی طرف گیا تھا اور جانے کیسے اس زہر کا شکار پوگیا تھا گھر صرف لاش پہنچی تھی

آزاد ملک میں مکمل شخصی آزادی اور پرائیویسی سے رہنا ہماری خوش قسمتی ہے اور اس پہ جتنا شکر کریں کم ہے مگر پورے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ پر گاڑی چلاتے ہوئے لوکل سڑک پر ایک دم دھیان آیا کہ میں کچھ زیادہ ہی تیزی سے جا رہی ہوں پھر دیکھا کچھ گاڑیاں مجھ سے بھی زیادہ تیزی سے جا رہی تھیں خیال آیا کہ ان کوئی روکنے والا نہیں اور خیال کے اگلے ہی لمحے دائیں جانب نظر پڑی تو ایک پولیس والا اوور سپیڈنگ کی ٹکٹ لگارہا تھا۔ اور ایک اچھے سے شاعر سے بہت معذرت کے ساتھ :

” رفتہ رفتہ پاؤں ہمارا بریک کی جانب بڑھنے لگا“

آزادی کی اس بہت بڑی ذمے داری کے ساتھ ہم انسانی اور معاشرتی اقدار کے بھی پابند ہیں اور یہی وہ کنٹرول پینل ہے جو ہمیں تباہی کی جانب جانے سے روکتا ہے۔ پاکستان میں یہ اقدار نہیں ہیں سو ملک تباہی کے دھانے پہ کھڑا ہے اور یہاں ان اقدار کی پاسداری قانون کراتا ہے اور یہاں کی انسانیت بھری روایات۔ اس آزادی کی قدر اور اس کی صحیح سمت میں پرواز رکھنا ہمارے اپنے سکون اور بقا کے لئے بہت ضروری ہے

اگر آج ہم منشیات سے متعلقہ مسائل کو سامنے نہیں لائیں گے ان کا استعمال کرنے والوں، بیچنے والوں کو سامنے نہیں لائیں گے اس چیز کو روکنے کی سعی نہیں کی جائے گی قانون کو خبر نہیں کی جائے گی تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے خود گڑھے نہ صرف کھود رہے ہیں بلکہ انھیں اس زہر سے بھر رہے ہیں۔ قانون کا ساتھ دے کر نہ صرف قانون کی مدد ہوگی بلکہ اپنے معاشرے کی بقا اور اپنے آنے والی نسلوں کی حفاظت کا وعدہ بھی پورا ہوگا۔ تھوڑا سا حوصلہ بہت ضروری ہے۔ کچھ دوستوں نے کر کے مجھے بتایا ہے اور لوگوں کو بھی کرنا ہوگا صرف اپنے بچوں کا سوچیں۔ ٹین ایج میں نشے سے مرنے والے بھی کسی کے بچے ہوتے ہیں جو کلیوں کی صورت میں ہی نوچ لئے جاتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •