وبا کے دنوں میں کو بہ کو پھیلتی اردو کی خوشبو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں پھیلا بے دید و بے برگ وبائی جرثومہ کثیر الخلیاتی مخلوق انسان کو بے بس کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، شناخت کے نشے میں چور انسان بذریعہ ماسک صورت پوشیدہ کیے پھرتا ہے، اپنے پیاروں سے مصافحے اور معانقے سے محروم ہو چکا ہے۔ وبا نے دنیا کے بہت سے جگمگاتے ستارے چھین لئے، سال بھر ملک بھر سے نمایاں افراد کی اموات کی اطلاعات نے دل و ذہن بوجھل کیے رکھے، کراچی کی ہر دلعزیز شخصیات بھی وبائی لپیٹ میں آئیں، ادبی دنیا کے اہم جگمگاتے محنتی ستارے رخصت ہوئے، اس برس سیل فونز کے کی پیڈز پر سب سے زیادہ ٹائپ کیے جانے والے کلمات انا للہ وانا الیہ راجعون رہے، تعزیتی سطور لکھتے اور دعائیں کرتے ہم حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اہل ادب اپنے عزیز رفقاء کرام کے بچھڑنے پر تعزیتی محافل و ماتم بھی نہ کر سکے کہ ہجوم پر پابندی ہے۔ بس چپکے چپکے رویا کیے ۔

پورے سال شہر میں ادبی محافل و مشاعرے منعقد نہ ہو سکے، خدشہ تھا کہ شاید عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد بھی نہ ہو سکے لیکن آرٹس کونسل کے سربراہ محمد احمد شاہ (ستارہ امتیاز) اور دیگر منتظمین نے گزشتہ بارہ برس سے جاری روایت ہمت و عزم کے ساتھ برقرار رکھی اور ” تیرہویں عالمی اردو کانفرنس“ کا بھرپور اور ورچوئل انعقاد کیا گیا۔ ماہ دسمبر کا آغاز ”تیرہویں عالمی اردو کانفرنس“ سے ہوا۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں اردو سے محبت کرنے والے افراد نے براہ راست اردو کانفرنس دیکھی اور سنی، اہل ادب و ذوق سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی رائے بذریعہ کمنٹس درج کرتے رہے۔

بیرون ممالک سے مندوبین کی آمد نہ ہو سکی، دوسرے شہروں سے گنے چنے افراد تشریف لائے، لیکن ڈیجیٹل سسٹم یعنی ویڈیو لنکس کے ذریعے دنیا بھر سے اورملک کے دیگر شہروں سے اہل ادب رابطے میں رہے، اور عالمی اردو کانفرنس کا حصہ بنے رہے۔

وبائی صورتحال کے باوجود اہل کراچی آرٹس کونسل میں کشاں کشاں کھنچے چلے آئے۔ آرٹس کونسل کے منتظمین و رضا کار مکمل ایس او پیز کے ساتھ سرگرم عمل رہے، کانفرنس میں آنے والے شہر کراچی کے اساتذہ کرام، اہل ادب اور ہمارے جیسے پرشوق طالب علموں کی میزبانی کرتے رہے۔ ایس او پیز کی یاد دہانی کرواتے رہے، ماسک۔ سینی ٹائزر، فاصلے پر رکھی گئی نشستیں اورصفائی کا خاص انتظام کیا گیا تھا۔

چار روزہ اردو کانفرنس میں زبان و ادب پر گفتگو کے لئے تیس سے زائد سیشنز رکھے گئے۔
اس برس عالمی اردو کانفرس کی نمایاں خصوصیت زبان و ادب اور اردو صحافت کا صد سالہ جائزہ تھا۔
مختلف سیشنز کے عنوانات یہ تھے۔
اردو نظم۔ سو برس کا قصہ
اردو ناول کی ایک صدی
نعتیہ اور رثائی ادب کی ایک صدی
اردو غزل کا سو سالہ منظر نامہ
اردو افسانے کی ایک صدی
اردو میں ایک صدی کا نثری ادب
اردو میں تنقید و تحقیق کے سو برس
ہمارے ادب و سماج میں خواتین کا کردار
اردو صحافت کے سوبرس
پاکستان میں فنون کی صورتحال
ہماری تعلیم کے سوبرس اور دیگر بین الاقوامی و مقامی ادب کے سیشنز۔

علاقائی زبانوں کے سیشنز بھی منعقد ہوئے۔ ان سیشنز میں پشتو۔ سندھی۔ بلوچی۔ پنجابی۔ سرائیکی زبان و ادب پر گفتگو ہوئی، سو سالہ جائزہ پیش کیا گیا۔

بچوں کے ادب پر رضا علی عابدی صاحب۔ روف پاریکھ صاحب، محمودشام صاحب۔ سلیم مغل صاحب نے سیر حاصل گفتگو کی۔

چار روزہ کانفرنس میں پندرہ کتب کی رونمائی کا اہتمام کیا گیا۔ جن میں افسانے۔ ناول، شاعری۔ سیاست و معیشت پر مبنی کتب شامل ہیں، ہر کتاب پر دلچسپ و تاثراتی گفتگو کی گئی۔

اردو کا شاہکار مزاح جناب ضیاء محی الدین نے پیش کیا۔ نوجوان شعراء کی حوصلہ افزائی کے لئے مشاعرہ منعقد کیا گیا، نوجوان شعراء کے کلام کو آن لائن لاکھوں افراد نے سنا اور سراہا۔ دنیا بھر سے اردو غزل و نظم کے شعراء کرام کو باہمی ویڈیو لنکس کے ذریعے رابطے میں لا کر ”عالمی مشاعرے“ کا انعقاد کیا گیا۔ اردو سے محبت کرنے والے افراد مشاعرے سے محظوظ ہوئے۔

” یاد رفتگاں“ کے نام سے سیشن رکھا گیا جس میں مسعود مفتی۔ سرور جاوید۔ اطہر شاہ خان۔ مظہر محمود شیرانی۔ عنایت علی خان۔ راحت اندوری جیسی نابغہ روزگار شخصیات کی علمی، ادبی و سماجی خدمات پر گفتگو کی گئی۔ یہ معزز ہستیاں رواں برس ہم سے بچھڑ گئی ہیں، ان ہستیوں کی جدائی کے باعث اردو ادب میں پیدا ہو جانے والے خلاء کو پر کرنا مشکل ہے۔

” بیاد آصف فرخی“ خصوصی نشست رکھی گئی۔
محفل موسیقی منعقد کی گئی۔
اختتامی تقریب میں انور مقصود نے طنز و مزاح سے مزین تحریر پیش کی۔

وبا کے دوران اختیار کی گئی احتیاطی تدابیر کے باعث بہت سارے احباب عالمی اردو کانفرنس میں بھرپور شرکت نہ کر سکے لیکن آن لائن مستقل آرٹس کونسل سے جڑے رہے۔

ہمت مجتمع کر کے فدویہ نے دو روز کانفرنس میں شرکت کی، اردو ناول، اردو افسانے اور صحافت کے پروگرامز میں اساتذہ کرام کی بھرپور گفتگو سے بہت کچھ سیکھا۔ اہل قلم احباب سے ملاقات رہی۔ اساتذہ کرام سے دستخط حاصل کیے ۔

اساتذہ کرام کے چہروں کی روشنی، آنکھوں کی چمک اور مشفقانہ برتاو سے نئی توانائی حاصل کی۔ انمول و یاد گار تصاویر بنوائیں۔ کتب خریدیں اور تحفتا بھی وصول کیں۔ امید اور دعا ہے کہ ادارہ آرٹس کونسل اسی طرح علم و ادب کی محافل کا انعقاد کرتا رہے، اور زبان و ثقافت و فنون کی خدمات انجام دیتا رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •