حکومتیں گرانے اور مغلظات کی سیاست
1990 میں میٹرک پاس کیا۔ والد صاحب نے کہا کہ بے نظیر نوکریاں دے رہی ہے۔ تم بھی کوشش کرو۔ ملازمت کے ساتھ آگے پڑھ بھی لینا۔ ابا جی نے اپنے حلقہ سے منتخب پیپلز پارٹی کے ایم این اے بریگیڈئر حامد نواز (سابق گورنر شاہد حامد اور لیگی رہنما زاہد حامد کے والد) کے نام چٹھی لکھ دی کہ میرا بیٹا میٹرک پاس ہے۔ معذور کوٹہ میں سرکاری ملازمت کرا دی جائے۔ بھرپور امید تھی کہ ملازمت مل جائے گی۔ بریگیڈ حامد نواز انگریزی میں لیٹر لکھ کر دیتے کہ فلاں کے پاس چلے جاؤ۔ سفارشی لیٹر پر اور کیا لکھا ہوتا زیادہ سمجھ تو نہ آتی مگر ایک سطر فی سبیل اللہ رومن اردو میں لکھی ہوتی وہی سمجھ پاتا مگر اس وقت فی سبیل اللہ کے معانی سمجھ نہیں آئے۔ بہت بعد میں مطلب کا اندازہ ہوا کہ نوکریاں مفت میں نہیں ملتی ہیں۔
سرکاری نوکری کا مرحلہ سر ہونے جا رہا تھا۔ محکمہ ڈاک میں انٹرویو اور ٹیسٹ ہو گیا۔ ہفتہ بعد جونئیر کلرک کا اپوائنمنٹ لیٹر مل گیا۔ بہت خوشی تھی۔ لاہور جی پی او میں داخل ہوتے ہی معلوم ہوا کہ حکومت ختم کردی گئی ہے۔ بھرتی کے تمام آرڈر منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
نواز شریف کے دور حکومت پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کا دور حکومت پھر نواز شریف کی حکومت اور پھر پرویز مشرف کے غیر آئینی اور قانونی اقتدار کا دور بھی گزر گیا۔ مگر ملازمت نہیں ملی اور ایسے لاکھوں نوجوان بے روزگاری کی بھینٹ چڑھتے گئے ہیں۔ عوام کے لئے گزشتہ حکومتوں کچھ کیا ہے اور نہ ہی موجودہ حکومت کچھ کر رہی ہے۔
عمران خان حکومت ابھی تک روزگار دینے کی بجائے چھین رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود ملک میں سیاسی استحکام اور پائیدار جمہوریت کی اشد ضرورت ہے۔ حکومتیں گرانے کے تجربے بہت کیے گئے ہیں اور ہر حکومت کے خلاف اپوزیشن کے نعرے یہی رہے ہیں جو آج پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اتحادی لگا رہے ہیں۔
سیاسی معاملات اور جمہوری حکومتوں میں جرنیلوں کی مداخلت کی حمایت کسی صورت بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔ آخری خواہش جمہوریت اور عوامی امنگوں کے مطابق نظام حکومت ہے۔ اس سے دستبرداری کا سوچنا بھی کفر کے مصداق ہے۔ مگر آنکھیں بند کر کے جمہوریت کے نام پر سیاسی بقا کی جنگ میں کودنا بھی عقل مندی نہیں ہے۔
ابھی تک تو دیکھ رہے ہیں کہ رائیونڈ کی خواتین اور زمان پارک کی عورتوں کا نام لے کر مغلظات سے کام لیا جا رہا ہے۔ یہ کام ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح، بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو بھی نشانہ بنتی رہی ہیں۔
پی ڈی ایم کی جماعتیں حکمران رہی ہیں۔ یعنی آزمائے ہوئے حکمران ہیں۔ مریم اور بلاول کی ضمانت کون دے گا کہ موجودہ حکومت گرا کر اقتدار میں آتے ہیں تو روزگار دیں گے۔ مہنگائی اور غربت میں کمی آئے گی۔ جمہوریت اپنی اصل میں بحال کی جائے۔ محض نعرے لگانے سے بات نہیں بنے گی۔ یہ کام تحریک انصاف نے کر کے دیکھا دیا ہے۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حصہ جماعتوں کی لیڈرشپ سمیت قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حاضر و سابق ارکان سمیت دیگر رہنماؤں کے بارے میں کرپشن، بدعنوانی کی بے شمار کہانیاں ہیں۔ کئی سزا یافتہ ہیں۔ کئی نیب سے پلی بارگین کر کے نکلے ہیں۔ نیز ان کے موجودہ اور سابقہ کاروبار کیا ہیں۔ ذرائع آمدن کیا ہیں۔
پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو اپنی لیڈر شپ اور دیگر ارکان، رہنماؤں کی اخلاقی پوزیشن واضح کرنی پڑے گی کہ آخر کیا میرٹ ہے۔ جس کے تحت الیکشن کے ٹکٹ جاری کیے جاتے ہیں اور پارٹی عہدے دیے جاتے ہیں۔ سب جماعتوں کو اپنی اخلاقیات کا بتانا پڑے گا۔ حکومتیں گرانے کی سیاست اور ایک دوسرے کو مغلظات بکنے سے عام کے مسائل حل ہوں گے اور نہ ہی پائیدار جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔


