شبلی فراز اور پی ٹی آئی کا سیاسی دوغلا پن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شبلی فراز صاحب نے اپنی پریس کانفرنس میں میاں نواز شریف کی محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف اور جنرل ضیا الحق کے حق میں کی گئی تقریر چلائی۔ اور یہ کہا کہ جس سیاسی رہنما اور اس کی پارٹی نے پاکستان پیپلز پارٹی اور بی بی کے خلاف اتنے ظلم کیے، آج پیپلز پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ شبلی صاحب لیکن یہ بتانا بھول گئے کہ بی بی ہی خود چل کر میاں نواز شریف کے پاس گئی تھیں اور دونوں سیاسی رہنماؤں نے اپنے ماضی کو دفن کر کے میثاق جمہوریت کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کا مظاہرہ گزشتہ دہائی میں دیکھنے کو بھی ملا۔

بلاشبہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے کئی مواقع پر ایک دوسرے کی مخالفت بھی کی گئی۔ لیکن اس طرح سے کسی نے بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کی جس طرح سے نوے کی دہائی میں ہوتا رہا۔ اس کی ایک مثال دونوں سیاسی جماعتوں کا بغیر کوئی رکاوٹ ڈالے، ایک دوسرے کو اپنی اپنی مدت حکومت پوری کرنے دینا تھا۔ بلکہ 2014 میں جب عمران خان صاحب کا دھرنا تھا تب پیپلز پارٹی کے پاس موقع تھا کہ وہ عمران خان کے دھرنے کی آڑ لے کر میاں نواز شریف کی حکومت پر مزید دباؤ بڑھا سکتے تھے۔

مگر اس وقت حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ میں میاں نواز شریف کا ساتھ دیا۔ یہی دھرنا ناکام ہونے کی ایک بڑی وجہ بھی بنی۔ ہاں آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی اس وقت کی بلوچستان حکومت گرانے اور سینیٹ کا چیئرمین تبدیل کروانے کے عمل میں ضرور اسٹیبلشمنٹ کے آلۂ کار بنے جیسے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں میاں نواز شریف میمو گیٹ سکینڈل میں بنے اسٹیبلشمنٹ کے آلۂ کار بنے تھے۔ لیکن ان دونوں واقعات کے حوالے سے بھی بعد میں دونوں اطراف سے اپنی غلطی کو تسلیم کیا گیا۔ یعنی مجموعی طور پر میثاق جمہوریت پر دونوں سیاسی جماعتیں کاربند رہی ہیں۔

پی ڈی ایم میں دونوں سیاسی جماعتوں کا ساتھ مل کر چلنا بھی اس کا ایک ثبوت ہے۔ تو محترم شبلی فراز صاحب سے گزارش ہے کہ اگر ان کو یہ لگتا ہے کہ وہ اس طرح کے پرانے بیانات چلا کر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان کوئی بدگمانی پیدا کر لیں گے تو یہ ان کی خام خیالی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی پی ڈی ایم کے کراچی جلسہ کے بعد کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور اس کے بعد کے واقعات سے بھی ایسی کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ تو شبلی صاحب کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر بجائے ایسی ٹامک ٹوئیاں مارنے کے اپنی حکومت کی کوئی کارکردگی بیان کیا کریں۔

مگر چونکہ اس کے حوالے سے تو ان کے پاس بتانے کے لیے کچھ موجود نہیں ہے۔ اس لیے وہ پھر ایسی فضول حرکتوں پر ہی اکتفا کریں گے۔ جہاں تک بات ہے مسلم لیگ نواز کی طرف سے محترمہ بے نظیر کی کردار کشی کرنے کی تو اس پر جب محترمہ نے ہی بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا تو آپ کو آج ان کا درد اتنا کس لیے محسوس ہو رہا ہے؟ آپ ذرا اپنی طرف تو دیکھیں۔

آپ کی سیاسی جماعت کے رہنماؤں اور سپورٹرز کی طرف سے آج کل جس طرح سے مسلم لیگ نواز کی رہنما محترمہ مریم نواز کی کردار کشی کرنے کی ایک مذموم مہم چلائی جا رہی ہے اور جو ان کے بارے میں مغلظات بیان کیے جاتے ہیں۔ اس کے بارے میں شبلی فراز صاحب کی رائے کیا ہے؟ کیا ان میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ جس طرح سے آج انہوں نے بی بی کے خلاف ایسی مہم کے بارے میں بہت افسوس کا اظہار کیا ہے وہ مریم نواز کے خلاف اس مہم کے بارے میں بھی ویسے ہی اس رویے کی مذمت کر سکتے ہیں؟

یقیناً ان میں اتنی اخلاقی جرات نہیں ہے کیونکہ ان کو اور ان کے دیگر ساتھیوں کو تو وزیراعظم صاحب کی طرف زیادہ گالیاں دینے اور اپوزیشن کے بارے میں ایسا ناروا رویہ رکھے جانے پر شاباش دی جاتی ہے۔ تو اس مہم کا حصہ بنتے ہوئے وہ صرف محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں ایسی مہم کا ہی ذکر کریں گے۔ اب یہاں پر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ مسلم لیگ نواز کی طرف سے بی بی کے خلاف ایسی مہم چلائی گئی تو اس لیے اب مکافات عمل کی وجہ سے مریم نواز کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے۔ یہ ایک انتہائی فضول دلیل ہے۔

کیونکہ محترمہ بے نظیر کے خلاف کردار کشی کی مہم کو درست نہیں کہا جاسکتا اور اب مریم نواز کے ساتھ اس رویے کو اس کا جواز پیش کرنا بھی بہت غلط ہے۔ جیسے مسلم لیگ نواز کو محترمہ بے نظیر کی کردار کشی کر کے ماسوائے ذلت کے اور کچھ حاصل نہیں ہوا اسی طرح پی ٹی آئی کو بھی مریم نواز کی کردار کشی کر کے ذلت اور رسوائی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اور آج کی یہ پریس کانفرنس شبلی فراز صاحب اور پی ٹی آئی کے سیاسی دوغلے پن کی بھی غماز ہے۔ کہ ایک طرف جس سیاسی رویے کی آپ مذمت کر رہے ہیں وہی سیاسی رویہ آپ نے بھی اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ روا رکھا ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •