الزامات اور کردار کشی پر مبنی سیاست
پاکستان کی سیاست میں الزام تراشیو ں، کردار کشی، لعن طعن اور ایک دوسرے کو قبول نہ کرنا یا سیاسی مخالفین کی تضحیک کرنے کا کھیل ہمیشہ سے ہماری سیاست میں غالب رہا ہے۔ سیاست دان اور سیاسی جماعتوں سمیت ان کے سیاسی کارکن مسائل کی بنیاد پر گفتگو کم اور ذاتیات پر مبنی گفتگو کر کے سیاسی ماحول کو زیادہ بدنما کرتے ہیں۔ اس کھیل میں سب ہی سیاسی جماعتیں، کارکن اور ان کی قیادتیں پیش پیش نظر آتی ہیں۔
یہ ہی کھیل کی نمایاں جھکیاں ہمیں ٹی وی ٹاک شوز میں سیاست سے جڑے سیاسی کرداروں کے طرز عمل میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے اوریہ سوچ تقویت پکڑتی ہے کہ ہم مہذہب، ذمہ دارانہ سیاست اور جمہوری طرزعمل سے بہت دور کھڑے نظر آتے ہیں۔
ایک عمومی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاست میں جو کچھ آج خرابیوں کی صورت میں ہو رہا ہے اس کی بڑی وجہ تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاست ہے۔ یعنی سیاست میں الزام تراشیوں، لعن طعن اور سیاسی تضحیک کا کلچر عمران خان کی سیاست سے پہلے نہیں تھا۔ حالانکہ ہماری سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو ایک شکل 1970۔ 77 کی سیاست میں بھٹو کے حامیوں اور مخالفین میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ دوسری شکل ہم نے 1985۔ 2000 تک نواز شریف اور بے نظیر کے سیاسی حامیوں اور مخالفین میں دیکھی اور اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے جو کچھ ہوا وہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کے بعد 2000۔ 2008 جنرل مشرف کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان سیاسی جنگ اور اب 2010۔ 20 ہمیں عمران خان کے حامیوں اور ان کے سیاسی مخالفین کے درمیان جنگ دیکھنے کو مل رہی ہے۔
یہ جو کچھ آج ہمیں زیادہ جذباتی انداز میں صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے اس میں بنیادی فرق سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا پھیلاو ہے۔ ماضی میں یہ ہی سارا گند موجود تھا اور بڑی شدت سے سیاسی حامیوں اور مخالفین کے درمیان یہ کچھ ہوتا تھا جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو، سیتا وائٹ، عمران خان کی اہلیہ جمایما خان، شرمیلا فاروقی سمیت کئی عورتوں کی نہ صرف کردار کشی کی گئی بلکہ سیاسی کلچر میں سیاسی سطح پر موجود مخالفین کو ملک دشمنی، غدار، غیر ملکی ایجنٹوں کے خطاب بھی سننے کو ملے۔
پیپلز پارٹی اور نواز شریف کے حامیوں کے درمیان سیاسی مخالفین پر کرپشن، بدعنوانی، لوٹ مار، کرپٹ جیسے الزامات بھی سننے کو ملتے رہے ہیں۔ بقول معروف صحافی و تجریہ کار اصغر عبدا اللہ کے ہمارے سیاسی کلچر میں بھٹو نے گالی کلچرمتعارف کروایا، نواز شریف نے پروان چڑھایا اور عمران خان نے اسے عروج پر پہنچایا۔ اسی کھیل میں یہ اضافہ بھی ہونا چاہیے کہ بھٹو نے جو کچھ سیاسی مخالفین کے ساتھ کیا وہ بھی سیاہ تاریخ تھی۔
اس لیے مسئلہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، جے یو آئی سمیت دیگر جماعتیں ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں نے مجموعی طور پر جو سیاسی کلچر متعارف کروایا یا اسے پالا پوسا اس نے پوری سیاست اور جمہوریت کے نظام کو اخلاقی بنیادوں پر کمزور کر دیا ہے۔ اب بھی جو کچھ ہم عمران خان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جاری سرد جنگ دیکھ رہے ہیں اس پر سوائے سیاسی ماتم کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر اعظم سمیت حکومتی وزرا، حزب اختلاف کے راہنماؤں کی مجموعی سیاست الزامات کے سہارے کھڑی ہے۔
سیاست میں موجود عورتوں کو بھی لعن طعن یا ان کی کردار کشی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ بنیادی طور پر سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کی یہ سیاسی حکمت عملی نظر آتی ہے کہ وہ اپنی سیاسی ناکامیوں کو قبول کرنے کی بجائے سارا ملبہ مخالفین پر ڈال کر اپنے ہی سیاسی کارکنوں کے سامنے سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ سیاسی کارکنوں کے درمیان یہ سرد جنگ یا محاذ آرائی یا الزام تراشیوں، لعن طعن، کردار کشی کی سیاست کا سہارا لے کر ہم اپنی عملی سیاسی مفاد یا سیاست کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
یہ ہی وجہ ہے کہ سیاست میں جو بھی فریق غیر سیاسی، غیر مہذہب، غیر اخلاقی، غیر ذمہ داری یا اخلاق سے گرا ہوا عمل کرتا ہے تو سیاسی قیادت کی جانب سے ان کی حوصلہ شکنی، تادیبی کارروائی کی بجائے اس کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ جب سیاسی قیادت خود آگے بڑھ کر ہی اپنے مخالفین پر تضحیک کی سیاست کریں گی تو یہ ہی کلچر پوری جماعت یا سیاسی نظام پر بالادست ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر بہت سی قیادت یہ کام خود براہ راست نہیں کرتیں تو انہوں نے دیگر لوگوں کو یہ ذمہ داری دی ہوتی ہے کہ وہ مخالفین کے خلاف آخری حد تک جائیں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جب تک سیاسی جماعتوں کے اندر ان معاملات میں داخلی احتسابی کا نظام یا سیاسی جماعتوں سے جڑے سیاسی کارکنوں میں یہ سوالات نہیں اٹھائیں جائیں گے، درستگی کا عمل ممکن نظر نہیں آتا۔
میڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ریٹنگ کی سیاست کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ اس کی مجبوری بن گئی ہے کہ وہ اپنی ریٹنگ کی سیاست کو تقویت دینے کے لیے خود محاذ آرائی کو پیدا کرنے کی سیاسست کے کھیل کا حصہ دار بن گیا ہے۔ جو کچھ ٹاک شوز میں ہو رہا ہے یہ ہی کلچر ہمیں عام سیاسی سطح پر موجود سیاسی مباحثوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک دوسرے کو سیاسی، سماجی اورمذہبی طور پر برداشت کرنا، رواداری کا مظاہرہ کرنا، تحمل و برد باری سے لوگوں کی باتوں کو سننا، اپنی ہی بات کو محض سچ سمجھ لینا اور دوسروں کے سچ کو قبول نہ کرنا، سیاسی، سماجی اور مذہبی فتووں کا کھیل، پر تشدد رجحانات کی حوصلہ افزائی کرنا، انتہا پسندی پر مبنی سوچ کا پرچار، لوگوں کی ذاتی یا نجی زندگیوں میں مداخلت کرنا اور محض الزامات کی بنیاد پر ان کی کردار کشی جیسے امور ہمارے سماج میں مضبوط ہو گئے ہیں۔
جو لوگ معاشروں میں رائے عامہ بناتے ہیں جب وہی اپنے مزاج میں کڑوے ہوجائیں یا الزام تراشی یا تضحیک سمیت کردار کشی کی سوچ کو اپنے مخالفین کے خلاف ”سیاسی ہتھیار“ بنالیں تو پھر معاشرے کی اصلاح کہاں سے ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کا مجموعی کلچر ہی میں بنیادی سطح کی بڑی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی باتیں تو بہت کرتی ہیں لیکن اصلاح و احوال کے لیے بنیادی نوعیت کی اصلاحات یا اس پر عملدرآمد کے نظام کو حتمی شکل ہی دینے کے لیے تیار نہیں۔ سیاسی کارکنوں کی تربیت کی بات کی جاتی ہے لیکن ہم تو مسئلہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ سیاسی قیادت اپنی سیاسی حکمت عملی میں اسی تضحیک کی سیاست کو اپنا سیاسی ہتھیار سمجھتی ہے۔ ہمارے علمائے کرام کا انداز بیان اور طرز عمل بھی مخالفین کے بارے انتہا پسندی پرمبنی ہوتا ہے۔
اس لیے محض اس ساری صورتحا ل یا سیاسی بگاڑ کی ذمہ داری کسی ایک جماعت پر ڈالنے کی بجائے یہ تسلیم کریں کہ یہ مجموعی سیاسی کلچر کی سیاسی ناکامی ہے۔ اس ناکامی میں سب ہی سیاسی فریق ذمہ دار ہیں۔ اگر صورتحال کو تبدیل کرنا ہے تو یہ کوشش اجتماعی بنیادوں پر کسی بڑی ٹھوس سطح کی منصوبہ بندی سے جڑا ہوا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان کچھ بنیادی نوعیت کے سیاسی کوڈ آف کنڈکٹ تیار ہونے چاہیے کے ہم مخالفت میں کس حد تک جا سکتے ہیں اور کیوں ہمیں سیاسی ریڈ لائن کو کراس نہیں کرنا۔ کیا ہم ایسا کرسکیں گے یہ ہی سوال اہم ہے اور ا س پر ملک کی سیاسی جماعتوں سمیت اہل دانش یا رائے عامہ تشکیل دینے والے اداروں کو ضرور غور کرنا چاہیے۔


