پی۔ ڈی۔ ایم جلسہ: کامیاب یا ناکام؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

13 دسمبر بروز اتوار پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے لاہور میں حکومت مخالف جلسہ کا اعلان کیا تو پنجاب حکومت نے کورونا کے پھیلنے کی وجہ سے اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا۔ مگر اپوزیشن بضد رہی کہ جلسہ ہوگا اور منٹو پارک میں ہی ہوگا۔ پنجاب حکومت نے منٹو پارک میں پانی چھوڑنے کی کوشش کی تو اس کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس سے حکومت نے پھر اس پانی کو خشک بھی کر دیا مگر قدرت نے بھی حکومت کی سن لی اور دو دن بارش نے حکومت کی خواہش بھی پوری کردی۔

انتہائی سرد موسم بھی اپوزیشن کو اس جلسہ سے روک نہ سکا۔ اور جلسہ گاہ تیار ہونے لگی۔ حکومت نے اعلان کر دیا کہ جلسہ میں جس جس نے سہولت کار بننے کی کوشش کی تو اس پر مقدمہ درج کر دیا جائے گا اور وہ جیل کی ہوا کھائے گا، جیسا کہ ٹینٹ سروس، کرسیاں، ساونڈ سسٹم، کھانا وغیرہ مہیا کرنے والے اور اس بات کو مستحکم کرنے کے لیے دو دن پہلے ڈی۔ جے۔ بٹ کی گرفتاری سے اس بات کا اشارہ بھی دے دیا کہ کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا چاہے اس نے چار ماہ عمران خان کے دھرنے میں بھی خدمات دی ہوں مگر اس جلسہ میں کوئی خدمت دینا سختی سے منع ہے۔

پنجاب حکومت تو اس حد تک بھی چلی گئی کہ دوران ریلی مریم نواز کے ایک ہوٹل سے کھانا کھانے پر اس ہوٹل کو ہی سیل کر دیا اور اس کے مالک پر بھی مقدمہ درج کر دیا حالانکہ پورے لاہور میں تمام ہوٹلز اپنی سروسز مہیا کر رہے ہیں اور کوئی روک ٹوک نہیں۔ بہر حال پنجاب حکومت اس سب کے باوجود بھی اپوزیشن کو جلسہ کرنے سے روکنے میں ناکام رہی۔ اپوزیشن نے کرسیاں خود خرید کر پنڈال سجا لیا اور جلسہ ہو بھی گیا۔ اس با ت پر بہر حال خوشی ہوئی کہ حکومت پنجاب نے جلسہ میں آنے والوں کے راستے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی اور نہ ہی لاہور کی عوام کو راستے بند کر کے اپنے روز مرہ کے کاموں کے سلسلے میں کسی پریشانی میں مبتلا کیا جیسا کہ ملتان کے جلسہ میں کیا گیا تھا۔

جلسے کے دن کا تو سب کو پتہ تھا مگر وقت کا کسی کو نہیں پتہ تھا کہ کب شروع ہوگا۔ لوگ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے پوچھتے رہے کہ جلسہ کتنے بجے ہوگا مگر اپوزیشن کے کسی رہنما نے ان کی کوئی رہنمائی نہیں کی۔ بہر حال جلسہ والے دن کتنے لوگ تھے اس بات پر پاکستانی میڈیا تقسیم ہو گیا۔ کچھ نے تین ہزار، کچھ نے چار ہزار، ایک چینل پہ ستر ہزار بتانے پر حکومتی ترجمان نے غصے کا اظہار بھی کیا اور عوام کو یہ سمجھا دیا کہ میڈیا زیادہ تعداد نہیں بتا سکتا۔

اس لیے کچھ چینلز نے خاموشی میں ہی عافیت جانی اور تعداد پہ بات ہی نہیں کی۔ حکومتی ترجمانوں نے جلسے کی ناکامی پر ایسا شور ڈالا کہ وزیر اعظم صاحب نے بھی ناکام جلسے پہ سوشل میڈیا پہ اپوزیشن کو شرم دلانے اور این۔ آر۔ او نہ دینے کا ٹویٹ کر دیا۔ مگر عالمی میڈیابی۔ بی۔ سی اور الجزیرہ ٹی وی نے اسے ایک کامیاب جلسہ قرار دیا اور کافی تعداد میں لوگوں کی شرکت کا دعوی بھی کیا۔ ساتھ ہی اس بات کا اشارہ بھی دے دیا کہ پاکستانی میڈیا کے لوگوں کو اس بات کی ہدایات ان کے رپورٹر کی موجودگی میں ملتی رہیں کہ وہ فوٹیج بھیجو جس میں بندے کم ہوں اور پنڈال خالی خالی نظر آئے۔

منٹو پارک کے قریب رہائشی لوگوں نے مجھے بھی یہی بتایا کہ لوگ بہت تھے مگر بکھرے ہوئے تھے اور اس کی وجہ اپوزیشن رہنماؤں کا دیر سے پنڈال میں آنا تھا کیونکہ لوگ دور دور سے آئے ہوئے تھے تو وہ صبح جلدی پنڈال میں پہنچ گئے مگر رہنما پنڈال میں مغرب کے وقت پہنچے۔ سارا دن سردی بھی کافی تھی تو اتنا انتظار کرنا ایک مشکل کام ہے اس لیے وہ سیر کرنے میں مگن ہو گئے۔ اس لیے سڑکوں پر کافی لوگ تھے۔ مذہبی جلسوں اور سیاسی جلسوں میں بہت فرق ہوتاہے۔ مذہبی جلسہ منظم ہوتا ہے اور اس میں لوگ ایک جگہ ٹک کر بیٹھتے ہیں اور ان کی توجہ تقاریر سننے پر ہوتی ہے مگر سیاسی پاور شو اس سے قطعی مختلف ہوتا ہے۔ سیاسی جلسے کبھی بھی مذہبی جلسوں کی طرح منظم نہیں ہوتے بلکہ ان میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔

جلسہ ناکام ہوا یا کامیاب اس کا فیصلہ تو عوام نے کرنا ہے مگر کیا ان جلسوں سے حکومت وقت کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے تو اس کا جواب ہر ایک کی زبان پر ایک ہی ہو گا کہ ”نہیں“ کیونکہ اگر ان جلسوں یا دھرنوں سے حکومت کو خطرہ ہوتا تو تحریک انصاف کے 126 دن دھرنے سے حکومت ختم ہو جاتی مگر ایسا تو کچھ نہیں ہوا بلکہ مسلم لیگ ”ن“ نے اپنا دور حکومت مکمل کیا۔ میاں نواز شریف بھی عدالت کے فیصلے سے نا اہل ہوئے، جلسے یا دھرنوں سے استعفی تو انہوں نے بھی نہیں دیا بلکہ انہوں ملکی معیشت پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔

موجودہ حکومت کی ساری توجہ اپوزیشن کے رہنماؤں کے بیانات، جلسوں اور حرکات و سکنات پر مرکوز ہے جو کہ ایک خطرناک طرز عمل ہے۔ سمجھداری کا تقاضا تو یہ ہے کہ اپوزیشن ہو یا حکومت اس کی طاقت عوام ہیں اس لیے عوام کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کے لیے ایسے عوامی منصوبے لانے کی ضرورت ہے جن سے عوام کو اپنی خوشحالی کی امید نظر آئے، جن سے ان کے پیٹ کی بھوک مٹتی نظر آئے، تو یہی عوام حکومت کے حق میں نکلیں گے۔

حکومت مخالف تحریک کو ہمیشہ کسی ایسے بیانیے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بل بوتے پر وہ عوام کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے ان کی ذہن سازی کر سکیں اور موجودہ حکومت ایسے بیانیے خود مہیا کر رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، ڈوبتی ہوئی معیشت، ناکام خارجہ پالیسی، بیانات اور عملی کام میں تضادات، احتساب کی بجائے انتقام، اخلاقیات کا فقدان، جبر و استبداد، انصاف کی فراہمی میں ناکامی، غربت اور کشمیر کاز یہ وہ محرکات ہیں جو اپوزیشن کو مضبوط کرتے ہیں۔ لاہور جلسہ ناکام ہو ا یا کامیاب یہ بحث عوام اور صحافیوں کو کرنے دیں اور حکومتی ترجمان اگر اپوزیشن کو گندا کرنے، یا ان پر الزامات لگانے کی بجائے، حکومتی کارکردگی بتائیں اور حکومت تک عوام کی مشکلات و ضروریات پہنچائیں تو اس سے وطن عزیز کو فائدہ ہوگا اور حکومت بھی مضبوط ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •