کیا بھٹو کو منصفانہ سماعت ملی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ایک محترم اور معتبر صحافی جو ماضی میں ایک آزاد نجی چینل پر ایک مقبول ٹاک شو کیا کرتے تھے۔ یاد رہے کہ آزاد ٹی وی چینل موجودہ حکومت کے قیام سے پہلے ہوا کرتے تھے۔ ان کے شو کو میں بھی کبھی کبھار دیکھ لیا کرتا تھا لیکن ان محترم کے بولنے کے مخصوص درشت انداز کی وجہ سے کبھی کبھی ان کی باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر جاتی تھیں۔ جس کی وجہ سے اکثر اس شو کو ادھورا چھوڑ دیتا۔ دراصل میں اپنی نازک طبع کی وجہ سے اس قسم کے ٹاک شو دیکھنے سے کنی کتراتا ہوں۔

کیونکہ میں عمر کے اس حصے میں ہوں جس میں ڈانٹ ڈپٹ والی چیزیں مجھے ڈپرس کر دیتی ہیں۔ میرے ناقص خیال کے مطابق مصنف کی تحریر ہو یا کسی مقرر کی تقریر وہ جب تک اپنی شستگی کی وجہ سے قاری یا سامع کو اپنے سحر میں مبتلا نہ کردے تب تک اس کا حق بھی ادا نہیں ہو سکتا اور اسے دیکھنے یا سننے کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا۔ دوسرا آج تک مجھے اس بات کا اندازہ نہیں ہو سکا کہ کئی دوسرے صحافیوں کی طرح موصوف کا صحافتی قبلہ کس جانب ہے۔ خیر جس طرف بھی ہو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر صحافی کا فرض اولین یہ ہوتا ہے کہ وہ نوجوان قاری کے سامنے سچ بیان کرے تاکہ قلم کی Self respect برقرار رہ سکے۔

درحقیقت میری اس تحریر کا مقصد ان کا وہ کالم ہے۔ جو موصوف نے نواز شریف کی موجودہ سیاست اور ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کے موضوع پر لکھا ہے۔ جسے پڑھ کر مجھے یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اس مقدمے سے جڑے حقائق آج کے قاری کے سامنے رکھ دوں۔ محترم لکھاری اپنے کالم میں رقم طراز ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کو کسی فوجی عدالت نے نہیں بلکہ آئینی طور پر قائم سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ان کی یہ بات کسی حد تک تو درست ہو سکتی ہے لیکن تصویر کے دونوں رخوں کی عکاسی نہیں کرتی۔

اگر وہ اس حساس موضوع کو زیربحث لانا ہی چاہتے تھے تو تمام حقائق کا ذکر فرماتے تاکہ قلم کی حرمت بھی قاہم رہ جاتی اور انصاف کے تقاضے بھی پورے ہو جاتے۔ اس کے علاوہ موجودہ نسل کو حقیقت سے روشناس کرانے کا حق بھی ادا ہوجاتا۔ صرف یہ لکھ دینا کہ بھٹو کو آئین اور قانون کے تحت سزا سنائی گئی تھی کافی نہیں ہے۔ احترام کے ساتھ عرض ہے کہ آئین اور قانون کے کچھ تقاضے اور لوازمات بھی ہوتے ہیں اور جن کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ان کے بغیر کائے کا انصاف اور کائے کا آئین اور قانون۔ کسی دانا کا یہ کہنا کہ انصاف تو وہ ہوتا ہے جو ہوتا ہوا نظر آئے اصل حقیقت ہے۔ جو فیصلے کسی جبر اور دباو کے تحت دیے جاتے ہیں وہ نہ قانون اور انصاف کی کسوٹی پر پورا اترتے ہیں اور نہ ہی قانونی، اخلاقی اور شرعی طور پر درست مانے جاتے ہیں۔

کیا موصوف یہ بات نہیں جانتے تھے کہ وہ ضیاءالحق جیسے سخت گیر آمر اور جابر کا دور تھا جو بھٹو صاحب کو اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے ساری ریاستی مشینری کو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمے کے دوران استمال کر کے انہیں اپنے راستے سے ہٹایا۔ جنرل صاحب کے فرمان کے مطابق ایک قبر اور دو بندوں والا معاملہ درپیش تھا۔ لہذا بھٹو صاحب کو راستے سے ہٹانا ان کا مقصد حیات تھا۔ جنرل ضیاءالحق کے آمرانہ دور حکومت میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز ان کی مٹھی میں ہوا کرتے تھے۔

اسی لیے ذوالفقار علی بھٹو شہید کو فیئر عدالتی ٹرائل سے بوجوہ محروم رکھا گیا تھا۔ جب لاہور ہائی کے جج جسٹس صمدانی نے جناب بھٹو کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تو جنرل ضیاء نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ان کو دوبارہ گرفتار کرادیا تاکہ وہ ان کے لیے کوئی خطرہ نہ بن سکیں۔ بدقسمتی سے اس کے بعد آخر دم تک جناب بھٹو کو رہائی نصیب نہ ہو سکی۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرع عیاں ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین مرحوم کی بھٹو صاحب سے ذاتی مخاصمت تھی۔ اور مقدمے کی سماعت کے دوران جو ناخوشگوار واقعات پیش آئے ان کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں درج ہو چکا ہے۔ سپریم کورٹ میں بھٹو صاحب کی اپیل جو انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی۔ اس کی سماعت کے لیے جو بنچ قاہم کیا گیا تھا وہ ابتدا میں 9 ججز پرمشتمل تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ججز کی تعداد گھٹ کر سات رہ گئی تھی۔ ملک کے ایک سابق وزیراعظم کے خلاف قتل کا مقدمہ چل رہا تھا لیکن ریاست یا عدلیہ نے اس بات کا خیال رکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ مقدمے کے فیصلے تک بنچ کو برقرار رکھا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ یہاں یہ سوالات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں کہ کیا سابق منتخب وزیراعظم کو آئینی اور قانونی طور پر شفاف ٹرائل کے مواقع پوری طرع مہیا کیے گئے تھے یا نہیں؟

کیا وہ ججز جن پر بھٹو صاحب نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا ان کو قانونی اور اخلاقی طور پر بنچ میں شامل رہنا چاہیے تھا یا نہیں؟

کیا ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دینا جائز عمل تھا جبکہ ان کے خلاف فیصلہ چار اور تین کے فرق سے آیا تھا۔

یہ بات بھی تاریخ میں امر ہو چکی ہے کہ نواب محمد احمد خان کے قتل کی ایف آئی آر جنرل ضیاء کے دور میں نہیں بلکہ بھٹو شہید کے دور میں کاٹی گئی تھی۔ چونکہ آمر وقت ذوالفقارعلی بھٹو کو ہر قیمت پر راستے سے ہٹانا چاہتا تھا لہذا اس نے سرد خانے میں پڑی فاہل کھلوا کر مقدمہ درج کروایا۔ مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق ابتدائی ایف آر میں جناب بھٹو کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا تھا۔ اسی لیے ان کو موت کی سزا دینا نا انصافی پر مبنی اقدام تھا۔ کیونکہ وہ قتل میں براہ راست شریک بھی نہیں تھے۔

قانون کے بھی چند مسلمہ اصول ہوتے ہیں جن کو بروئے کار لائے بغیر انصاف کے تقاضے قطعی طور پر پورے نہیں ہوسکتے۔ اور یہ بات اظر من الشمس ہے کہ ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی کی سزا نے آئین اور قانون کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی تھیں۔ جنرل ضیا نے پاکستان کے نظام انصاف کو یرغمال بنا کر پاکستان کو ایٹمی ریاست بنانے والے لیڈر کو شہید کرادیا۔ اس مقدمے نے پوری مقننہ، انتظامیہ اور ریاست کے منہ پر کالک مل دی تھی جو شاید ہی کبھی صاف ہو سکے۔ سپریم کورٹ کے اس بنچ کے ایک رکن مرحوم جسٹس نسیم حسن شاہ نے ماضی میں اس حقیقت سے پردہ اٹھا دیا تھا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف قتل کا مقدمہ بدنیتی پر مبنی تھا۔ آج ہر دوسرا شخص جناب بھٹو کی پھانسی کی سزا کو عدالتی قتل سے تشبیہ دیتا ہے۔

ماضی کی سیاست پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس زمانے میں سیاسی میدان میں دو ایلیمنٹس یعنی پرو بھٹو اور اینٹی بھٹو جگمگا رہے تھے۔ تقریباً 50 سال گزرنے کے بعد آج وہ راقم اور میرے محترم لکھاری کی طرح بابے بن چکے ہیں۔ ان کے اندر بھٹو صاحب کی حمایت اور مخالفت برف کی چٹان کی طرع جم چکی ہے جسے نکالنا یا ختم کرنا بالکل ناممکن ہو چکا ہے۔ لیکن بھٹوز جنہوں نے جمہوریت اور آئین کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا انہیں پاکستانیوں کی اکثریت عقیدت اور احترام کی نظروں سے دیکھتی ہے۔ پاکستان میں آج جو تھوڑی سی شخصی آزادی اور آگاہی کا شعور ہے اس کا سہرہ ذوالفقارعلی بھٹو شہید کے سر پر ہے۔

موجودہ نوجوان نسل چونکہ ماضی میں پیش آنے والے حالات اور واقعات سے واقف نہیں ہوتی اور جو کچھ لکھاری لکھتا ہے وہ اسے سچ ماننے پر مجبور ہوتی ہے۔ اسی لیے میں نے موجودہ نسل پر تاریخ کی حقیقت روشناس کرانے کے لیے یہ کالم لکھا ہے تاکہ سند رہے۔

جہاں تک میاں نواز شریف کا تعلق ہے چلیں مان لیتے ہیں کہ میاں صاحب کو سپریم کورٹ نے صادق اور امین قرار دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ انہوں نے اقامہ رکھا ہوا تھا اور اپنے بیٹے سے تنخواہ وصول نہیں کیا کرتے تھے۔ لیکن مقدمہ تو جناب پانامہ پیپرز نامی کسی وقوعے پر چل رہا تھا تو پھر بیچ میں یہ اقامہ کدھر سے نکل آیا۔ قانون پر گہری نظر رکھنے والے اس بات پر اب تک حیران و پریشان ہیں۔ اور احتساب عدالت نے جس مقدمے میں میاں صاحب کو سزا سنائی تھی اس کی حقیقت بھی پورا ملک جانتا ہے۔ جہاں تک ان کی تاحیات نا اہلی کا تعلق ہے اس سے جڑے حقائق کا ذکر وفاقی وزیر اعجاز شاہ کر چکے ہیں اور اس پر لکھنا وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے۔

جہاں تک عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد کے بعد اقتدار کے ایوانوں تک رسائی کا تعلق ہے اس کی حقیقت پوری قوم جانتی ہے کہ وہ کس کا کاندھا استمال کر کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •