سلام آخر
اسی بندوق کے زور پر کمیٹی کے مشوروں میں صوبے دار صاحب کی رائے کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ زوار صادق حسین شاہ کو یقین تھا کہ گزری رات ان کے گھر دیسی مرغی کا قورمہ کھانے والے صوبے دار صاحب آج کے مشورے میں ان کی ہمنوائی کریں گے۔ کیوں کہ انہوں نے شاہ جی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں بے فکر ہو جانے کا اشارہ بھی دیا تھا۔ شاہ جی کو تسلی تھی کہ ان کے کندھے پر رکھا صوبے دار کا ہاتھ آج کی مشاورت میں اپنا کام دکھائے گا لیکن انہوں نے تو انگریزی کا ایک جملہ بول کے ہاتھ کھڑے کر دیے تھے۔
ایک آنکھ پر موتیا کی سبز پٹی باندھے نور شاہ نے مشورے میں حصہ لینے کے لئے لب کھولے
”پچھلے مہینے سے مسجد کے نلکے کی جالی پھٹی پڑی ہے۔ پانی کی بجائے ریت دے رہا ہے۔ مومنین میں اتنی ہمت نہیں کہ اس کی مرمت کرا سکیں اور تم کراچی سے علامہ بلانے کی بات کر رہے ہو۔ اردو زبان میں مجلس کون سنے گا شاہ جی؟“
نور شاہ نے علامہ نجفی کی زبان کا قضیہ اٹھاتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی
”اللہ پاک نے سرائیکی دنیا میں اتاری ہی اس لئے ہے کہ مولا کا ماتم کر سکے۔ جو عبادت سرائیکی مجلس میں ہوتی ہے اردو میں کہاں ہو سکتی ہے۔ کربل کے مصائب کا بھار یا تو مولا کے پاک کندھے اٹھا سکتے ہیں یا پھر سرائیکی۔ جب ہمارے پاس ثقلین شاہ جیسا ہیرا موجود ہے تو ہم کیوں باہر سے اس بندے کو بلائیں جسے صرف تم نے سنا ہے۔ اگر ثقلین شاہ کو معلوم ہو گیا تو وہ بہت ناراض ہو گا۔ ہم کیوں ایسے جلالی مومن کو خفا کریں جو سالوں سے مفت میں بی بی پاک کی نوکری کر رہا ہے“
نور شاہ نے وہ بات کہہ دی جو سب کے دل میں تو تھی لیکن زبان پر نہیں آئی تھی۔
ثقلین شاہ سیالاں والا کا وہ بے داغ ہیرا تھا جس پر مومنین جتنا ناز کریں اتنا ہی کم ہے۔ خدا نے اس خوبصورت جوان سید زادے کو بے پناہ صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا۔ سیالاں والا کی بڑی بوڑھیاں دعائیں کرتی تھیں کہ ان کے بیٹے بیٹیوں کے گھر میں بھی ثقلین شاہ جیسی اولاد ہو۔ اس جیسا مرثیہ کوئی لکھ سکتا تھا نہ پڑھ سکتا تھا۔ عاشور کی ڈھلتی شام جب وہ آخری سلام پیش کرنے کے لئے تھکی تھکی چال چلتا ممبر کی طرف بڑھنا شروع کرتا تو آدھا مجمع اس چال کو دیکھ کر ہی سسکنے لگتا۔ ابھی اس نے منبر کے پہلے پائیدان پر ہی قدم رکھا ہوتا کہ سینوں میں دل باہر آنے کو بے تاب ہو جاتے۔ مطلع ادا کرنے کے لئے جونہی زبان کھولتا، مومنین کی آنکھوں کے بند کھل جاتے۔ برسوں سے اس کا معمول تھا کہ وہ بوہڑ والے امام باڑے میں پہلی سے لے کر دس محرم تک دس مجلسیں اور شب عاشور سلام آخر پڑھ کے منبر چھوڑ دیتا لیکن وہ سلام مومنین کے دل و دماغ نہ چھوڑتا۔ چوپالوں میں ’کھیتوں میں‘ گھروں میں سارا سال اس کے ایک ایک مصرعے ایک ایک لفظ پر بات ہوتی رہتی۔
سیالاں والا اور اس کے گرد و نواح میں سارا سال سلام آخر کا بے تابی سے انتظار کیا جاتا۔ شاہ جی کے گھر میں اللہ کا دیا سب کچھ تھا اس لئے وہ ان مجالس کا معاوضہ لینا خنزیر کا گوشت کھانے کے برابر سمجھتا تھا۔ ایک بار چلتی مجلس کے دوران ایک مومن نے اسے سو روپے کی داد دینا چاہی تو وہ منبر سے اتر گیا۔ سیدھا اس مومن کے پاس آیا۔ اس کی آنکھوں میں اپنی جلالی آنکھیں گاڑتے ہوئے سو کا نوٹ اس کی جیب میں رکھا اور صرف اتنا کہا ”میں یہاں بی بی کے فضائل پڑھ رہا ہوں دوہڑے ماہیے نہیں گا رہا۔ سید ہوں میراثی نہیں۔ آئندہ خیال کرنا“ مجلس میں یک دم موت کا سناٹا چھا گیا۔ خدا گواہ ہے اگر اگلے دو سیکنڈ میں باقر قلندری نعرہ حیدری نہ لگاتا تو شاہ جی کی آنکھوں نے مومن کی روح قبض کر لینی تھی۔ اگر سادہ سے سادہ الفاظ میں ثقلین شاہ کی شخصیت کو بیان کرنا ہو تو آپ اسے مولا کا ایک چلتا پھرتا معجزہ کہہ سکتے ہیں
نور شاہ کی بات سن کر زوار صادق حسین شاہ کے چہرے پر مایوسی پھیل گئی انہیں یقین ہو گیا کہ ان کا خواب کبھی پورا ہونے والا نہیں۔ ابھی وہ کچھ کہنے کے لئے اپنے دماغ میں جملہ ترتیب دے ہی رہے تھے کہ فدا شاہ نے بات وہیں سے اٹھائی جہاں نور شاہ نے بٹھائی تھی۔
”ثقلین شاہ کا کوئی مسئلہ نہیں وہ کیوں ناراض ہو گا؟ اپنے گھر کا بچہ ہے۔ وہ تو خوش ہو گا کہ باہر سے کوئی پڑھنے آ رہا ہے۔ اصل مسئلہ علامہ صاحب کے نذرانے کا ہے۔ دعا کرو اس سال محرم میں مومنین اچھی طرح سے جیبیں ہلکی کریں تو ہو سکتا ہے اگلے سال ہم اس قابل ہو جائیں کہ علامہ صاحب کو بلا لیں“
فدا شاہ نے اپنی عقل کے مطابق درمیان کا راستہ نکالتے ہوئے صلاح دی۔ لیکن زوار صادق شاہ تو جیسے فیصلہ کر چکے تھے کہ آج اپنی بات منوا کے اٹھیں گے۔ اس لئے انہوں نے وہ بات کی جس کی ان سے کوئی توقع ہی نہیں تھی۔
اگلا سال کس نے دیکھا ہے فدا شاہ۔ میں تو اسی سال علامہ کو بلاؤں گا۔ اور ان کا نذرانہ بھی میں ہی دوں گا۔ کمیٹی کو ایک آنہ دینے کی ضرورت نہیں۔ میں آج ہی اپنی آدھی کنال زمین بیچتا اور علامہ صاحب کو پورے محرم کے لئے بک کرتا ہوں۔
”یہ کیسے ہو سکتا ہے شاہ جی؟“
نور شاہ نے موتیا کی سبز پٹی سے آزاد ایک آنکھ پھاڑتے ہوئے پوچھا
”ہو سکتا نہیں، ہو چکا ہے۔ میں علامہ صاحب کو زبان دے آیا ہوں۔ اب یہ سید سر کٹوا دے گا لیکن اپنی زبان سے پیچھے نہیں ہٹے گا“
زوار صادق شاہ اپنے تمام ہم جلیسوں کو آزمائش میں مبتلا کر کے وہاں سے چل دیے۔
”صادق شاہ کے دماغ کی ڈبریوں کوب ہی زنگ لگ گیا ہے خیر سے“
یہ بات کہتے کہتے صوبے دار امام بخش نے غصے سے اپنی چوبی ٹانگ کے گھٹنے کی ایک نازک سی ڈبری اتنے زور سے مروڑی کہ اس کے اندر کا سپرنگ اچھل کر جعفر شاہ شیرازی کے ہاتھ میں موجود دوائی والے گلاس میں جا گرا۔ شیرازی صاحب نے بے زاری سے دوائی اپنے حلق کی بجائے بوہڑ کی جڑوں میں انڈیل دی۔ زوار صادق شاہ کے جانے کے بعد مغربین تک تین سادات اور ایک امتی فوجی ایک دوسرے کو مشورے دیتے رہے کہ کس طرح اس گرداب سے نکلا جائے۔ ایک طرف بوڑھے سید کی زبان تھی تو دوسری طرف جوان سید کا منہ۔ چاروں یہی سوچ رہے تھے کہ اب ثقلین شاہ کو کیا منہ دکھائیں گے۔
شاعری کو عبادت کا درجہ دینے والا ثقلین شاہ ہمیشہ باوضو ہو کر سلام مرثیہ اور نوحہ کہتا تھا۔ آج بھی حسب معمول وہ وضو بنا کے اپنے ڈیرے کی اس چھوٹی سی کوٹھڑی میں داخل ہوا جہاں بیٹھ کر وہ فکر سخن کرتا تھا۔ یہی اس کا کتب خانہ اور یہی عبادت خانہ۔ کوٹھڑی کے کونے میں لگے علم کو بوسہ دے کر وہ نشست پر آیا تاکہ بحر سخن میں غوطہ زن ہو سکے۔ اس سے پہلے کہ کسی کربلائی شعر کی آمد ہوتی کوٹھڑی کے دروازے پر دستک کے ساتھ چار رکنی انتظامی کمیٹی کی یاعلی مدد کے سلاموں کے ساتھ آمد ہو گئی۔ سلام دعا تھمنے کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


