گیس لائٹر: کچھ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی توسیع میں


قدیر؛ (انگلیاں ثمینہ کی پیشانی پر تھپکتے ہوئے ) تم کون سی دنیا میں گم رہتی ہو؟ تم کیا سوچ رہی ہو؟

ثمینہ؛ میں سوچ رہی ہوں کہ کیا تمام جذبات محسوس کیے جا چکے ہیں اور تمام احساسات ویسے ہی ہیں اور انسان دنیا میں نئے چلے آرہے ہیں بالکل انہی باتوں کو پھر سے دریافت کرنے کے لیے؟

قدیر؛ یہ کیا فضول اور بے کار سوچ ہے۔
قدیر؛ تم اسکائپ پر کس سے بات کر رہی ہو؟
ثمینہ؛ یہ ایک لڑکا ہے اور اس کی دو بہنیں ہیں۔ میں ان تینوں کو سائنس پڑھا رہی ہوں۔
قدیر؛ نہیں۔ تم ان کو مت پڑھاؤ۔ وہ ہمارے شہر کے ہیں، معلوم نہیں کیا باتیں کریں گے۔
ثمینہ؛ کوئی کچھ بھی کہتا رہے، اس سے ہمیں اچھے کام کرنا بند نہیں کردینے چاہئیں۔
دو ہفتے بعد

قدیر؛ تمہاری پانی کی مختلف اشکال پر لیکچر سنا میرے رشتہ داروں نے۔ بہت تعریف کی۔ میں نے بہت فخر سے کہا کہ ہاں ہاں بیگم کس کی ہے؟ آخر کو میں نے خود اپنی پسند سے شادی کی تھی۔ سارے خاندان میں اتنی لائق کسی اور کی بیوی نہیں۔ ہاں اپنی کتاب کی چھ کاپیاں بھی دے دینا۔ میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے لے جاؤں گا۔

سائیکائٹرسٹ؛
8۔ بد سے بدنام برا!

گیس لائٹر خود چاہے جو مرضی کر رہا ہو لیکن ساتھی کی کمزوریوں کا ڈھنڈورا پیٹنا اس کا بہترین شغل ہے۔ یوں ساتھی ہمیشہ اپنے آپ کا دفاع کرنے پہ مجبور اور گیس لائٹر حملہ آور کے مقام پہ رہتا ہے۔

9۔ ہمنوا اور مخالف!

گیس لائٹر بہت سے لوگوں کو ساتھی کی مخالفت میں اپنا ہمنوا بنا لیتا ہے۔ مثال کے طور پہ ”ایکس بخوبی واقف ہے کہ تم میں کیا برائی ہے“ ، ”سب رشتے دار جانتے ہیں کہ تم کچھ نہیں کر سکتے“ ۔

گیس لائٹر ساتھی کی نام نہاد کمزوری کو لوگوں کے نام سے اور لوگوں کے بیچ یوں مشتہر کرتا ہے کہ ساتھی جان ہی نہیں پاتا کہ احباب میں سے کون اس کی بات پہ یقین کرے گا اور کون نہیں۔ نتیجتاً اس کا انحصار گیس لائٹر پہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔

ثمینہ؛ ( پلاؤ کو دم پر رکھتے ہوئے سوچنے لگی) قدیر کی کوششیں ناکا م ہیں لیکن وہ پھر بھی کرتے رہتے ہیں۔ کوئی اور خاتون کسی اور خاندان سے ہوتیں جن کی اپنی نوکری نہ ہوتی، اپنا ذاتی سماجی دائرہ نہ ہوتا اور پیچھے سے ماں باپ کی سپورٹ نہ ہوتی تو شاید حالات مختلف ہوتے۔

قدیر؛ میں نے آپ کو اس لیے فون ملایا ہے کہ آپ کی بہن کی شکایت کروں۔ وہ بچوں کی اچھی تربیت نہیں کر رہی ہے۔ یہ لوگ میرا کچھ نہیں سنتے ہیں۔ جو دل میں آئے وہ پہن لیتے ہیں، جو دل کرے کھاتے ہیں۔ ان کو اللہ رسول مذہب کسی چیز کی کچھ فکر نہیں۔ آپ کی بہن سے کہتا رہتا ہوں کہ بال لمبے کرو اور سر پر دوپٹہ لو مگر وہ میری کچھ نہیں سنتی۔ کہتی ہے کہ شادی سے پہلے جیسی تھی اب بھی ویسے ہی رہوں گی۔ میں کہتا ہوں کہ میرے ساتھ حج پر چلے لیکن وہ کہتی ہے کہ آپ خود چلے جائیں۔ وہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزید لبرل ہوتی جا رہی ہے۔ بھلا بتائیے ایسے کوئی کہتا ہے؟

سلمان؛ قدیر بھائی! آپ بھی تو ٹوپی نہیں پہنتے۔ ہم تو پہلے سے خاندان اور ملک سے باہر اس شادی کے خلاف تھے۔ آپ لوگوں نے خود ایک دوسرے کو پسند کیا۔ آپ نہایت ناخوش سنائی دیتے ہیں۔ آپ یوں کریں کہ میری بہن کو طلاق دیں اور جیسی خاتون آپ کو پسند ہو، اس سے شادی کر لیں۔

قدیر؛ (گڑبڑا کر) نہیں نہیں! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ ہم اپنے گھر میں خوش ہیں۔
اس دن ڈنر کے دوران ثمینہ بالکل خاموش تھی۔ شاید اس رشتے کے دن پورے ہوچکے ہیں؟
قدیر؛ تم لوگ تیار ہو کر کہاں جا رہے ہو؟
ثمینہ؛ فلاں دوست کی شادی ہو رہی ہے۔ آپ کو بھی بلایا ہے۔ آپ بھی چلیں۔
قدیر ؛ میں نسیم کو گھر سے باہر پھینک رہا ہوں اور اس کی گاڑی چھین رہا ہوں۔
ثمینہ؛ وہ کیوں؟ اور یہ ڈرامہ اس وقت کیوں؟

قدیر؛ ڈرامہ کوئی نہیں ہے۔ یہ بن ٹھن کر اپنی کسی کلاس فیلو کو لے کر چڑیا گھر گھومنے گیا۔ بس حد ہو گئی۔ آج میں اس کو نکال دوں گا۔

ثمینہ؛ نسیم یہیں رہے گا اور آپ یہاں سے جائیں گے۔ یہ کہہ کر اس نے اپنا دروازہ بند کر لیا۔ چھٹی کا ایک دن ہوتا ہے ہفتے میں۔ اس میں بھی اس گھر میں کوئی سکھ نہیں۔

سائیکائٹرسٹ؛
10۔ ساتھی نارمل نہیں!

گیس لائٹر لوگوں کو باور کرا دیتا ہے کہ قصوروار ساتھی ہے اور وہ خود معصوم۔ سو اگر ساتھی اپنے احباب میں گیس لائٹر کے ذہنی یا جذباتی تشدد کا ذکر کرنا چاہے، سب بیک زبان یہی کہیں کہ گیس لائٹر تو ساتھی پہ جان چھڑکتا ہے، اس کی مدد کے بنا ساتھی کچھ بھی نہیں، ساتھی کی کمزوریوں کو سنبھالنا گیس لائٹر ہی کا کام ہے۔

گیس لائٹر کے تیار کردہ سٹیج، ایکٹ اور سکرین پلے کی داد دیجیے جس میں وہ طاقت اور اختیار کا پلڑا اپنے پاس رکھتے ہوئے، متشدد رویوں کے باوجود معصوم بنتے ہوئے احباب کی ہمدردیاں سمیٹنے میں کامیاب رہتا ہے اور اصل میں مظلوم ساتھی اپنے آپ سے ہی سوال کرتے ہوئے رہ جاتا ہے،

شاید میں ہی غلط تھا/ تھی!
شاید میں نے ہی ہمیشہ غصہ دلایا!
شاید میں ہی اکثریت مرد/ عورتوں سے مختلف ہوں!
شاید میرا ہی قصور تھا!
اگر میں اس طرح نہ کرتا/کرتی تو میرا ساتھی مجھ سے ناراض تو نہ ہوتا!
شاید میں ہی بحث کرتا/ کرتی ہوں!
اگر، اگر، شاید، شاید۔ یہ وہ ابہام اور گرداب ہے جس میں گیس لائٹر کا شکار پھنس کے رہ جاتا ہے۔

صبح ثمینہ نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو باہر سرخ گلاب کے پھول زمین پر رکھے ہوئے تھے۔ اس نے جاکر قدیر کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

ثمینہ؛ یہ کیا ہے؟

قدیر؛ مجھے معاف کردو۔ میں سب سمجھتا ہوں۔ بچے بڑے ہو گئے ہیں۔ ان کی اپنی شخصیت ہے، اپنی زندگی ہے۔ ان کو بھی حق ہے کہ اپنی پسند کے لوگ چنیں جیسے ہم نے ایک دوسرے کو پسند کیا تھا۔ وہ اگلی نسل کے ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے میں سرمایہ کاری کی ہے۔ اتنے سال ساتھ گزارے ہیں۔

ثمینہ نے محسوس کیا کہ اس کا غصہ کم ہو گیا ہے۔ دونوں ساتھ میں بستر پر بیٹھ گئے اور گھنٹہ بھر باتیں کرتے رہے۔ قدیر نے اپنا بازو اس کے گرد لپیٹا اور ثمینہ نے اپنا سر اس کے کاندھے پر ٹکا کر کہا۔ پھر روز یہی باتیں لے کر آپ کو کیوں بلاوجہ گھر میں جھگڑا کرنا ہوتا ہے؟

موبائل کی لائٹ آن ہو گئی۔ فون میں ٹیکسٹ میسج تھا ثریا کی طرف سے۔ تمہارے سارے طلاق کے کاغذات تیار ہیں، آ کر میرے گھر سے لے جاؤ۔ ثمینہ نے اس کو نظر انداز کر دیا اور ناشتہ بنانے چلی گئی۔ دوپہر کے قریب دروازہ بجا۔ شازیہ تھی! چھٹی کے دن اپنی بہن کو دیکھ کر ثمینہ خوش ہو گئی۔ یہ خوبصورت پھول کہاں سے آئے ہیں؟ یہ میں اپنی بیگم کے لیے لایا ہوں، قدیر نے سینا چوڑا کر کے فخر سے کہا۔ وہ سب ہنسنے لگے۔ کچھ دیر گپ شپ کے بعد وہ ڈنر کی تیاریوں میں لگ گئی۔ باہر صحن میں دیکھا تو دونوں سالی اور بہنوئی ساتھ میں بیٹھے تھے۔

قدیر؛ میں آپ کی بہن سے نہایت ناخوش ہوں۔ بچے اور یہ بیگم میری کچھ نہیں سنتے۔ اس گھر میں کوئی ضوابط موجود نہیں ہیں۔ جس کا جو دل چاہے کرتا پھرتا ہے۔ میری اس گھر میں کوئی عزت نہیں ہے۔

ثمینہ نے اپنے بازو سے پکتے ہوئے پلاؤ کی پتیلی کو زمین پر دھماکے سے گرا دیا اور دوڑتی ہوئی سامنے والے دروازے سے باہر نکل گئی اور گھٹنوں پر گر کر حلق کے بل چلانے لگی کہ کوئی میری مدد کرے۔ شازیہ اپنی بہن کو تسلی دینے کی کوشش کرتی رہی۔ آپ کو پتا ہے کہ کیا کرنا چاہیے؟ وہ آپ کو ہی کرنا ہوگا۔ اور کوئی نہیں کر سکتا۔

قدیر ؛ بچوں، تم لوگ گھر پر نہیں تھے لیکن تمہاری ماں پاگل ہو چکی ہے اور اس کو ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔

بچے کچھ نہ بولے اور اس آدمی کو چپ کر کے دیکھتے رہے جو ساری زندگی ساتھ میں رہنے کے باوجود ایک اجنبی لگتا تھا۔

(یہ کہانی ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے مضمون ”تپتے توے پہ پھدکتا مینڈک“ میں بیان کی ہوئی گیس لائٹنگ سے متعلق ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اور اس کہانی کی مرکزی کردار سے اجازت لے لی گئی ہے۔ یہاں قارئین کے ذہن میں یہ سوال شاید ابھرے کہ یہ گیس لائٹر افراد ایسا رویہ جان بوجھ کر اختیار کرتے ہیں یا یہ ایک لاشعوری فعل ہے۔ اس کے بارے میں ماہرین کی رائے یہ ہے کہ کچھ افراد مثلاً برے لیڈر جان بوجھ کر گیس لائٹنگ کرتے ہیں اور کچھ افراد کو بے چینی کی بیماری ہوتی ہے۔ یہ افراد ہر صورت حال کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے شدید خواہش مند ہوتے ہیں اور اس کے لیے مستقل گیس لائٹنگ کرتے ہیں چاہے اس سے ان کے ارد گرد کے افراد کو اور خود ان کو نقصان پہنچے۔ شکریہ)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2