گیس لائٹر: کچھ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی توسیع میں
ثمینہ پبلک ریڈیو پر ایک سائیکالوجسٹ کا لیکچر سن رہی تھی اور ساتھ میں مٹر پلاؤ بھی پکا رہی تھی۔ یہ ثمینہ کا پسندیدہ ریڈیو شو تھا جس میں کبھی کبھار وہ فون ملا کر اپنی پسند کے گانوں کی فرمائش کرتی اور کبھی ماہرین سے سوال بھی پوچھتی تھی۔ لوکل ریڈیو ہوسٹ بھی اس کو نام اور آواز سے پہچاننے لگے تھے۔
سائیکائٹرسٹ : خوش آمدید سامعین۔ آج ہم گیس لائٹنگ کے بارے میں بات کریں گے۔ کسی بھی دو افراد کے تعلقات یا رشتے میں اگر ایک فریق ہمیشہ نکتہ چینی، طنز، اعتراض، تنقید، الزام تراشی، اور دوسرے کو شرمندہ کیے جانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے تو جان لیجیے وہ گیس لائٹر ہے اور دوسرا اس کا شکار!
ثمینہ ذرا سا ہنسی اور سوچنے لگی کہ یہ تو میرے شوہر کی طرح کے صاحب کے کام لگتے ہیں جن کو دن کے چوبیس گھنٹے مستقل مجھ پر تنقید کرنا ہوتی ہے جو صبح ہوتے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ انہی کو میرا کچھ صحیح نہیں لگتا۔ صبح شاور میں ہوں تو کہتے ہیں بیگم جلدی نکلو، پانی ضائع ہو رہا ہے۔ حالانکہ وہیں تو کچھ اکیلے میں سوچنے کا وقت مل جاتا ہے۔ لیکن اس نے یہ خیال اپنے ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی۔
سائیکائٹرسٹ: گیس لائٹر کو شناخت کرنے کی کچھ نشاندہی کیے دیتے ہیں۔
1۔ مضبوط سفید جھوٹ؛
گیس لائٹر ایسے جھوٹ بولتے ہیں کہ جھوٹ کی اصلیت جانتے ہوئے بھی سامنے والا ان پہ ایمان لے آتا ہے۔
2۔ اپنے کہے کو جھٹلانا؛
سننے والا جانتا ہے کہ گیس لائٹر نے کب کس موقع پہ کیا کہا؟ لیکن وہ اس شدومد سے تردید کرتا ہے کہ شکار ثبوت ہونے کے باوجود ذہنی ابتری میں مبتلا ہو جائے اور سوچے ”کہیں میں ہی غلط تو نہیں“ ۔ نتیجتاً شکار کا اپنے آپ سے یقین اٹھنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو غلط سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔
قدیر؛ میں اس گھر میں، اس شادی میں نہایت ناخوش ہوں، تم اپنی قانون دان دوست سے کہو کہ طلاق کے کاغذات تیار کرے۔
ثمینہ ؛ ثریا، تم شام میں کام کے بعد مل سکتی ہو۔ مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔
ثریا؛ ایسی کیا ضروری بات ہے جس کا انتظار نہیں ہو سکتا؟ اچھا ٹھیک ہے، شام 7 بجے میرے آفس کے نیچے کافی شاپ میں 15 منٹ کے لیے مل سکتی ہوں۔
ثمینہ؛ آنسو دباتے ہوئے۔ یہ ٹیکسٹ میسج دیکھو۔ میرے شوہر طلاق چاہتے ہیں اس لیے کہا ہے کہ تم سے کاغذات تیار کرواؤں۔
ثریا ؛ کیا تم لوگوں نے کونسلنگ لی؟
ثمینہ؛ ہاں۔ لیکن وہ ناکام ہو گئی۔ قدیر کونسلر سے نصیحت لینے کے بجائے اس پر یہ ثابت کرنے گئے تھے کہ ان کے ذہن اور رویے میں کوئی خرابی نہیں ہے۔
ثریا؛ اچھا ٹھیک ہے۔ میں دو دن میں سب تیار کرلوں گی اور ہم سپینا بھیج دیں گے۔
قدیر؛ یہ کیا ہے؟
ثمینہ؛ یہ وہ طلاق کے کاغذات ہیں جو آپ نے بنوانے کے لیے کہا تھا۔
قدیر ؛ نہیں نہیں، میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔
ثمینہ ؛ مجھے یقین ہے کہ آپ نے ایسا ہی کہا تھا۔ یہ دیکھیں ٹیکسٹ میسج۔ اس نے فون کھولا تو اس میں سے سارے میسیجز ڈیلیٹ کیے جا چکے تھے۔
قدیر؛ ایسا کچھ نہیں ہے۔ تم یہ کاغذات کینسل کردو۔
عظمیٰ؛ امی جب آپ سو جاتی ہیں تو ابو آپ کے فون میں دیکھتے رہتے ہیں۔
ثمینہ؛ دیکھنے دو۔ میرے فون میں کچھ نہیں ہے۔ ان کی تسلی ہو جائے گی۔
عظمیٰ؛ ہم اسکول میں سیکھ رہے ہیں کہ یہ برتاؤ گھریلو جذباتی تشدد کے دائرے میں آتا ہے اور ایک غیر صحت مند رشتے کی علامت ہے۔
سائیکائٹرسٹ ؛
3۔ پسندیدہ ترین اشیا کو ہتھیار بنانا؛
گیس لائٹر جانتا ہے کہ شکار کے لئے کس چیز کی کیا اہمیت ہے؟ مثال کے طور پہ ساتھی کی شناخت، کیرئیر، کتابیں، فلم بینی، دوستوں کی محفلیں، گفتگو۔ وہ ان سب پہ تنقید کرتے ہوئے کہے گا کہ اسے یہ سب پسند نہیں اور ساتھی بہتر بننے کی کوشش میں اپنی محبوب اشیا سے کنارہ کشی اختیار کرے۔ گیس لائٹر شکار کی بنیادی شخصیت پہ حملہ کرتے ہوئے اسے ہر بات میں معاشرے کے جملہ تصورات کے برعکس قرار دے کے احساس جرم میں مبتلا کرتا ہے۔
ثمینہ؛ آج کل تمہارے کالج میں کیا چل رہا ہے؟
کلثوم؛ ہم مائکروبایولوجی شروع کر رہے ہیں۔
ثمینہ؛ (خوشی سے ) اوہ، مائکروبایولوجی! وہ تو میرا فیورٹ سبجیکٹ ہے۔ اس کی وہ کتاب بہت اچھی ہے۔ مائکروبایولوجی میڈ ریڈیکیولس لی ایزی۔ اس کتاب سے ساری مائکروبایولوجی بالکل آسان لگتی ہے اور یاد بھی رہے گی۔ میں خریدتی ہوں، دو کاپیاں، ایک تمہارے لیے اور ایک میرے لیے۔ پھر ہم ساتھ میں پڑھیں گے۔ اس طرح میری بھی ریویژن ہو جائے گی۔
کلثوم؛ جی ٹھیک ہے۔
قدیر؛ تم نے کلثوم سے کیوں کہا کہ تم لوگ ساتھ میں پڑھو گے؟ کیا تمہارے پاس اتنا فالتو ٹائم ہے؟ یہ کیا کر رہی ہو؟
ثمینہ؛ میں ایک کتاب کا مسودہ لکھ رہی ہوں۔
قدیر؛ (صفحے الٹ پلٹ کرتے ہوئے ) تم یہ کتاب کیوں لکھ رہی ہو؟
ثمینہ؛ اس لیے تاکہ جو میں نے سیکھا ہے وہ دنیا کے باقی انسانوں کے ساتھ بانٹ سکوں۔
قدیر؛ نہیں۔ تم یہ کتاب اس لیے لکھ رہی ہو تاکہ اس پر تمہارا نام چھپے اور لوگ تمہاری تعریفیں کریں۔ بچپن سے اپنے اسکول کے ٹیچر ابا کو خوش کرنے کی کوشش میں یہی تمہاری عادت بن گئی۔
ثمینہ؛ ہیلو! چچا جی آپ کیسے ہیں؟ مجھے آج آپ سے ایک نہایت ضروری سوال پوچھنا ہے۔ چونکہ آپ سارے خاندان میں سب سے لائق اور تعلیم یافتہ ہیں، اس لیے میں نے سوچا کہ آپ سے پوچھوں۔
چچا؛ ہاں پوچھو بیٹا۔
ثمینہ؛ کیا میں یہ کتاب اس لیے لکھ رہی ہوں کہ دنیا میں معلومات پھیلیں یا پھر اس لیے کہ لوگ میری واہ واہ کریں؟
چچا؛ بیٹا دونوں باتیں ہی ساتھ چلتی ہیں۔ اب کتاب پر نام تو ہو گا ہی ناں۔ ورنہ کیسے لوگوں کو پتا چلے گا کہ اس معلومات پر بھروسا کریں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ وہ آسمان سے تو نہیں اتری ہوگی ناں۔
قدیر؛ یہ کیا ہے؟
ثمینہ؛ یہ ایک ورک بک ہے جو مجھے بک اسٹور میں دکھائی دی۔ ”دادی مجھے اپنی کہانی سنائیں! ’یہ اس لیے ہے تاکہ جب ہم مر چکے ہوں تو ہمارے پوتے پوتیاں اس میں ہمارے چھوڑے ہوئے پیغامات پڑھ سکیں۔ میں اپنی نانی اور دادی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ہوں۔ کاش وہ بھی ہمارے لیے کچھ لکھا ہوا چھوڑ جاتیں۔
قدیر؛ اب یہ بھی کرو گی؟ ہر وقت تمہیں کچھ نہ کچھ کرنا ہوتا ہے۔ میرے لیے تمہارے پاس وقت ہی نہیں۔
ثمینہ؛ آپ کے ساتھ کیا کرنا ہے؟ ٹی وی دیکھنے کے علاوہ آپ کیا کرتے ہیں؟ چلیں آج شام کو میڈم زہرہ دنیا کو بہتر بنانے کے لیے لیکچر دے رہی ہیں۔
قدیر؛ مجھے نہیں جانا ہے۔ میڈم زہرہ اور تم لوگ دنیا میں کچھ نہیں کر پاؤ گے۔
سائیکائٹرسٹ؛
4۔ توے پہ بیٹھا ہوا مینڈک!
گیس لائٹنگ ایک آہستہ رو عمل ہے۔ وقتاً فوقتاً جھوٹ، بار بار تنقید اور جھٹلائے جانے کی زد میں آئے ہوئے سمجھ بھی نہیں پاتے کہ ان کا اپنے آپ سے اعتماد اور ان کی شناخت چھینی جا رہی ہے۔ جیسے کسی مینڈک کو توے پہ بٹھا کے آہستہ آہستہ آنچ بڑھائی جائے اور مینڈک کو حرارت تو پہنچے لیکن یہ اندازہ کبھی نہ ہو سکے کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟
ثمینہ؛ (پیاز کاٹتے ہوئے سوچتی ہے ) بات جانی پہچانی تو لگتی ہے۔ معلوم نہیں صرف قدیر ہی ایسے ہیں یا باقی سارے لوگ بھی ایسے ہیں۔ باہر سے تو سب کی شادی ٹھیک ہی دکھائی دیتی ہے۔ کیا معلوم شادی شدہ زندگی ایسی ہی ہوتی ہو جس میں ہم کچھ پاتے ہیں، کچھ کھوتے ہیں۔ کچھ اچھا ہوتا ہے اور کچھ برا۔ کچھ اچھے دن ہوتے ہیں اور کچھ برے، شاید ایسے ہی زندگی گزر جاتی ہے لوگوں کی۔ شاید لوگ قریبی رشتے میں ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہماری زندگی ایک نارمل زندگی ہے۔
سائیکائٹرسٹ؛
5۔ قول و فعل میں تضاد!
گیس لائٹر کھوکھلی باتیں کرتا ہے اس کا فعل کچھ اور ظاہر کرتا ہے اور باتوں سے میل نہیں کھاتا۔
آدھی رات میں ثمینہ کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ قدیر مبہوت ہو کر اپنے موبائل فون کو دیکھ رہے ہیں۔ اس نے کروٹ لی اور دوبارہ سو گئی۔
قدیر؛ یہ نسیم باتھ روم میں اپنے فون کے ساتھ کیوں گیا ہے؟ وہ اتنی دیر سے باہر کیوں نہیں نکلا؟
ثمینہ؛ رہنے دیں۔ وہ ٹین ایجر ہے۔ اس پر مستقل تنقید درست نہیں ہوگی۔
قدیر؛ یہ عظمیٰ نے اپنے فیس بک پر یہ گانا کیوں پوسٹ کیا ہے؟
ثمینہ؛ کیا ہے؟ ایک خوبصورت گانا ہے۔ اس کو اچھا لگا ہو گا۔ بچی ہے۔
قدیر؛ (سہم کر) یہ گاڑی میں کیا انگریزی گانا چل رہا ہے؟ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔
ثمینہ؛ یہ وہی کہہ رہے ہیں جو ساری دنیا کی ساری زبانوں میں انسان ایک دوسرے سے کہتے ہیں۔
قدیر؛ میں سو نہیں سکتا ہوں، رات میں اپنے بستر میں کانپتا رہتا ہوں۔ معلوم نہیں تم لوگ کیا کرو گے؟
سائیکائٹرسٹ؛
6۔ تنقید و تعریف ساتھ ساتھ!
تنقید سہتا ہوا ساتھی ایک دن انگشت بدنداں رہ جاتا ہے جب گیس لائٹر ساتھی کی یک دم تعریف کرے اور ساتھی مزید ذہنی خلل و ہیجان کا شکار ہو کے سوچتا ہے کہ ”میرا شوہر یا بیوی یا ساتھی اتنا بھی برا نہیں“
7۔ ذہنی انتشار اور قوت ارادی کی کمزوری!
گیس لائٹر بھرپور کوشش کرتا ہے کہ ساتھی کو ذہنی طور پہ منتشر رکھا جائے اور ساتھی اپنی ذات پہ اٹھتے ہوئے اعتماد سے گھبرا کے پھر سے گیس لائٹر کی طرف رجوع کرنے پہ مجبور ہو جائے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

