خلوص بغدادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شہر بغداد شاید اپنی نوعیت کا واحد شہر ہے جس کی وجہ شہرت کوئی ایک بات یا کوئی ایک واقعہ یا کوئی ایک سانحہ نہیں ہے۔ بغداد کی تاریخ علم و حکمت ’جنگ و جدال اور عشق و محبت سے بھری پڑی ہے۔ بغداد میں بہتے علمی جھرنے ہوں یا کھجوروں کے گھنے لامبے درخت‘ دنیا بھر سے تشنگان علم کی آمد ہو یا منبر و محراب پہ واعظ کی داستانیں ’بغداد کی گلیوں میں انالحق کی صدائیں لگاتا ہوا منصور ہو یا حرم کاظمین کے مکیں‘ منگولوں کی مچائی ہوئی تباہی ہو یا تیمور کی خواہش ’خلافت عثمانیہ کا دور دورہ ہو یا داعش کا معرکہ اس شہر نے اپنے عروج و زوال میں کئی ایک کہانیاں اور بہت سے انمٹ نقوش دیکھے ہیں۔

بغداد کے مشہور زمانہ پہلوان جنید کے حضرت جنید بغدادی بننے کے قصے سے کم و بیش سب ہی واقف ہیں۔ حضرت جنید بغدادی کو صوفیا کے ماتھے کا جھومربھی کہا جاتا ہے یا جیسے بابا جی اشفاق صاحب فرماتے تھے کہ یہ وہ ہستی ہیں جنہیں صوفی ازم کا ’مڈھ‘ کہہ سکتے ہیں کہ اس سلسلے کا آغاز یہیں سے ہوا۔ یقیناً اس یادگار دنگل سے قبل کسی نے بھی اس کے انجام کا اور ایسے انجام کا نہیں سوچا ہوگا۔ دنگل میں ہار نے ہار کے معانی و مفہوم ہی بدل دیے۔ یہ وہ ہار تھی جس پہ جیت بھی نازاں تھی۔ لوگوں کے ہجوم کی طعن و تشنیع میں حقارت کی حدت کا احساس نہ تھا۔

مقابلے میں جیت کا جشن تو ہر کوئی مناتا ہے اور جیتنے والے کا حق بھی ہے لیکن اگر کوئی اپنی ہار پہ میدان سے شاداں و فرداں لوٹے تو لوٹنے والا یقیناً کوئی بڑا راز ’کوئی گہری بات‘ کوئی کمال کی رمز یا کسی مخفی کامیابی کا گر پا گیا ہوتا ہے۔ مخالف کو چار شانے چت کر دینے والا جب پلک جھپکتے ہی خود سے چت ہو جائے تو اس کی ایسی ہار نے بتا دیا کہ وہ ہار میں چھپی اصل جیت کا راز پا گیا ہے۔ با ادب ’با نصیب والوں کو ایسے ہی صلہ مل جاتا ہے۔ رابعہ بصری نے جیسے فرمایا کہ اللہ توبہ کہ توفیق دیتا ہی اسے ہے جس کی توبہ قبول کرنی ہو۔ بعینیہہ اصل جیت سے روشناس کروانے والوں کو ہی وہ ہار کا ایسا ہی مزہ چکھاتا ہے۔

میدان سے گھر تک ہجوم ہار کی باتوں ’شکست کے طعنوں اور بدنامی جیسی آوازوں سے چنگھاڑتا رہا لیکن دل و دماغ میں تو کامیابی و کامرانی کی دستار کا اعزاز ملنے والی خوشخبری پہ سرشار تھا۔ رات بھر کے جگ رتے میں روز قیامت کی ملاقات کی حسرت پلتی رہی۔ انتظار تو ایک پل کا بھی مشکل سے ہوتا ہے اور پھر قیامت تک کا انتظار تو خود کسی قیامت سے کم نہیں۔ جیسے غالب نے کہا کہ‘ کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور ’۔ دل کی سچی تڑپ نے کلیجہ جلا ڈالا اور سسکتی حسرت نے کرب کی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی وہ مقام بخشوا دیا کہ جس کی خواہش اور تمنا میں بلکتے کئی ایک خاک نشیں ہو گئے۔

کسی کی عزت کا مان اور جس شان سے سب شانیں بنیں ان کی عزت کا مان رکھ لینا ’کسی نہ کسی مقام پہ ضرور متنج کروائے گا۔ بس دل کی سچی لگن اور نیت کا خلوص شرط ہے۔ معاملے کی سپرداری اگر اسی کے طرف کر دی جائے جو سب سے بہترین منصبہ ساز ہے تو یقیناً وہ اپنی رحمت و برکت سے محروم نہیں رکھے گا۔ اپنے حصے کی کاوش اور اپنی پوری کوشش یہی ہمارے اختیار میں ہے۔ ہار کو جیت میں بدلنا اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں‘ لیکن اس کے لئے حضرت جنید بغدادی کا سا ادب و خلوص درکار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •