آئندہ دلربا سے ملنے آنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیس سالہ خوبرو عارف کیٔ مرتبہ جنت بی بی سے مل چکا تھا بلکہ ایک دو بار اس کے گھر میں رات بھی گزارچکا تھا۔ آج پھر وہ جنت بی بی کے سامنے بیٹھا ہوا تھا لیکن ایک بت کی طرح ساکت۔ اس کی زبان نے جذبات کی کشمکش کی وجہ سے ہلنے سے انکار کر دیا تھا۔ جنت بی بی سے ا س طرح کی بات کرنا عارف کے لئے شاید زندگی کا مشکل ترین کام تھا۔ عارف کو محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کی زندگی کا سفر رک گیا ہے۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ جنت بی بی سے حساب چکا کر اپنی زندگی کو دوبارہ رواں دواں کرے۔ آج وہ اس سے ہر بچے کا حساب لے گا۔ مگر کیسے؟ وہ جنت بی بی کا احسان مند بھی تو تھا۔

عارف گھور کر جنت بی بی کودیکھ رہا تھا۔ ”پچاس پچپن سال کی عمر میں بھی اس کے چہرے پر کتنی معصومیت ہے۔ پتا نہیں اس کے آگے پیچھے کوئی ہے یا نہیں لیکن اس نے بچوں کے کاروبار سے ایک خوبصورت مکان کھڑا کر لیا ہے۔“

اچانک جنت بی بی کی آواز نے اس کی سوچ کا تسلسل توڑ دیا۔ ”عارف بیٹا، کیسے آنا ہوا؟ تو کچھ پریشان لگ رہا ہے، میں لسی بنا کر لاتی ہوں۔“

”نہیں، میں نے کچھ نہیں پینا۔“ عارف اپنی بات شروع کرنے کے لئے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا۔ ”چاچی، تو نے اچھا نہیں کیا!“

جنت بی بی نے اپنی موٹی گول آنکھوں کو سکیڑتے ہوئے کہا۔ ”شازیہ بیگم تو تجھ سے بہت خوش ہے اور سال میں دو بار اضافی تنخواہ بھی دیتی ہے! پھر کیا مسئلہ؟“

عارف نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ”میں اپنی بات کرنے نہیں آیا، میں دوسرے بچوں کی بات کرنے آیا ہوں۔“ عارف کا لہجہ اب قدرے تلخ تھا۔

”بیٹا میں نے تو کسی بچے کے ساتھ برا نہیں کیا۔ جو تیرے ساتھ کیا وہی ان کے ساتھ۔ اب دیکھ تو کام پر لگ گیا، اچھے پیسے کما لیتا ہے، کچھ لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیا ہے۔ تیرے گھر والے بھی اب تین وقت کا کھانا کھاتے ہیں۔ تجھے یاد نہیں کہ تیری ماں کی آمدنی میں تم لوگوں کا پیٹ نہیں بھرتا تھا۔ سارا دن وہ سوتر کے گالے چنتی پھر بھی بعض دفعہ تم لوگ بھوکے سوتے۔ یہ سب کچھ تیری ماں نے مجھے بتایا تھا۔“ جنت بی بی نے یہ کہہ کر ایک لمبا سانس لیا۔

عارف نے اپنی زبان کو ذرا نرم کرتے ہوئے کہا۔ ”میں اپنی بات نہیں کر رہا۔ میں اپنے دوست نثار کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں اور فضلو چاچا کا بیٹا اور بیٹی، یہ سب لوگ کہاں گئے؟ کبھی تو نے پتا کروایا کہ ان کے ساتھ کیا بیتی ہے؟“

جنت بی بی ایک لمحے کے لئے خاموش ہو گئی شاید یکے بعد دیگرے سوالوں سے۔ ”عارف بیٹا، تو خواہ مخواہ ہی مجھ پر الزامات لگا رہا ہے۔ اگر یہ لوگ کام سے بھاگ کر کہیں اور چلے گئے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟“

”چاچی تجھے پتا ہے کہ نثار کے ماں باپ کا کیا حال ہے، رو رو کر آنسو خشک ہو چکے ہیں۔ اور فضلو چاچا تو آس پاس کے شہروں میں مزاروں پر اپنے بچوں کی تلاش میں پاگلوں کی طرح پھرتا ہے۔“ عارف کی آواز پھر اونچی ہو گئی تھی۔

جنت بی بی نے فوراً جواب دیا۔ ”میں نے اپنے تئیں ان سب کے بارے میں پتا لگانے کی کوشش کی لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ یہ کہاں غائب ہیں۔“

عارف نے گھور کر جنت بی بی کو دیکھا۔ ”کیا تجھے احساس نہیں کہ یہ بچے کہاں مر کھپ گئے ہیں!“
”تم بتاؤ کہ یہ بوڑھی جان اکیلی کس کس کے پیچھے دوڑے گی۔ جتنا مجھ سے ہو سکا میں نے کیا۔“
”اور کتنے بچے غائب ہو گئے جو تو نے رکھوائے تھے؟“ عارف کی گہری آنکھیں آگ کے تیر برسا رہی تھیں۔
جنت بی بی تھوڑا سا پیچھے کی طرف ہٹی۔ ”تو اتنا غصہ نہیں کر، کبھی کبھار ایک آدھ کیس ہو جاتا ہے۔“

عارف پھر ایسے بولا جیسے وار کر رہا ہے۔ ”مجھے یقین ہے کہ تجھے فضلو چاچا کی بیٹی کے بارے میں پتا ہے لیکن تو چھپا رہی ہے۔ سچ سچ بتا ورنہ میں تھانے میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ کروادوں گا۔ اس علاقے کا ایس پی میرا پرانا یار ہے۔ تو نے نام تو سنا ہو گا خاور کا!“

جنت بی بی نے اپنا لہجہ سخت کیا۔ ”میں نے تیرا مستقبل بنایا۔ تیرے ماں باپ تو میرا شکریہ ادا کرتے نہیں تھکتے اور تو مجھے پولیس کے حوالے کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ کیا تو اس طرح میرا احسان چکائے گا؟“

عارف اب کھڑا ہو گیا۔ ”میں ابھی خاور کو فون کرتا ہوں۔ بتا مجھے کہ فضلو چاچا کی بیٹی کہاں ہے۔ میں نے اس کے بارے کئی الٹی سیدھی افواہیں سنی ہیں۔“

جنت بی بی نے بہت راز داری سے کہا۔ ”تو سننا چاہتا ہے تو سن لے۔ وہ سکینہ گوجرپورکے چکلے میں چلی گئی ہے۔“

عارف ابل پڑا۔ ”تو نے اسے چکلے والوں کو بیچ دیا! اب تو چل میرے ساتھ، اس کو وہاں سے واپس لے کر آئیں گے۔“

”نہیں! میں نے اسے نہیں بیچا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ میں نے تو یہ اڑتی اڑاتی خبر سنی تھی۔ تو خاور کو ساتھ لے جا اور اسے واپس لے آ۔“

اگلے دن عارف اپنے دوست خاور کے ساتھ سکینہ کو لینے گیا۔ ایک ملازم نے دونوں کو دالان میں بٹھا دیا۔ جب پندرہ سالہ سکینہ گھبرائی ہوئی باہر آئی تو خاور اس کی شکل دیکھتے ہی غائب ہو گیا۔ عارف سکینہ کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ ”تنگ بلاؤز، گھاگھرا، میک اپ لیکن دیہات کا الھڑپن کم نہیں ہوا۔ پندرہ سال کی نوخیز کلی کو بازاری عورت بنا کے رکھ دیا۔“

سکینہ نے پہل کی۔ ”تم کون ہو؟ آؤ اندر آ جاؤ۔“

”سکینہ، میں اعجاز ماروی کا بیٹا عارف ہوں، تیرے ہی گاؤں سے آیا ہوں۔ فوراً بھاگ چل میرے ساتھ۔ تیرے ماں باپ تجھے یاد کر کے دن رات روتے ہیں۔“

سکینہ کی سیاہ آنکھوں سے دو موتی ٹپکے اور گردن تک بہہ گئے۔
عارف بے چین ہو رہا تھا۔ ”جلدی کرجلدی، ابھی موقعہ ہے۔“

سکینہ نے اطمنان سے جواب دیا۔ ”پہلے بھی ایسے موقعے آ چکے ہیں۔ میں ایک دفعہ بہت ہمت کر کے یہاں سے بھاگ کر گھر پہنچ گئی لیکن اماں اور ابا کو کسی نے بتا دیا تھا کہ میں چکلے میں کام کرتی ہوں، انہوں نے مجھے فوراً گھر سے نکلنے کے لئے کہا۔ میں کہیں نہیں جا سکتی۔ کیا تیرے گھر والے مجھے رکھ لیں گے؟“

عارف پر کچھ دیر کے لئے سکتہ طاری ہو گیا۔ ”مگر تجھے یہاں کون لے کر آیا؟“

”مجھے جنت بی بی نے نیاز تالپور کے ہاں نوکری پر رکھوا دیا تھا۔ اس کے گھوڑوں کی رکھوالی کرنے والے نے مجھے محبت کا جھانسا دے کر میرے ساتھ بہت زیادتیاں کیں۔ میں ٹوٹی پھوٹی وہاں سے تھانے پہنچی تا کہ وہ مجھے گھر پہنچا دیں۔ وہاں پر تھانیدار کے دوست نے میری عزت لوٹی سوال جواب کرنے والے کمرے میں، پھر مجھے یہاں لا کر بیچ دیا۔“ پھر سکینہ کی آواز میں زور آیا۔ ”تیرے لئے یہ چکلہ ہے لیکن میرے لئے یہ گھر ہے، کبھی یہ میری جنت ہے اور کبھی میرے لئے جہنم۔

“ سکینہ کی آنکھوں میں آنسو ٹمٹما رہے تھے۔ وہ مزید کچھ کہے بغیر اندر کی طرف چل دی۔ چند قدم چل کر اس نے پیچھے مڑ کر عارف کو دیکھا، باہنی طرف سے اپنا بلاؤز تھوڑا سا اونچا کیا۔ ”اگر آئندہ مجھ سے ملنا ہو تو رات میں آنا اور کسی ملازم کو بتا دینا کہ دلربا سے ملنا ہے۔“ پھر وہ مسکراتی ہوئی عارف کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •