لو میرج یا اریجنڈ میرج؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ سر پر دوپٹہ لیے ایک ہی صوفے پر ماں اور بہن کے درمیاں بیٹھی تھی۔ جاب کرتی ہے؟ سامنے صوفے پر بیٹھی خاتون نے پوچھا تھا۔ وہ 45 سے 50 سال کی عمر کی عورت تھی۔ اس کے ساتھ اس کا شوہر اور ساس بیٹے کا رشتہ دیکھنے آئے تھے۔

جی ٹیچنگ کرتی ہے نوویں دسویں کو اردو پڑھاتی ہے۔ ماں جواب دیتی ہے۔

اچھی بات ہے آج کل میاں بیوی دونو ں کو مل کر گھر چلانا پڑتا ہے۔ مہنگائی ہی بہت ہے بابا اکیلے گھرچلانا مشکل ہو گیا ہے۔

جی بہن صحیح کہا آپ نے۔ آپ کچھ لیں نا کچھ لیا ہی نہیں آپ نے۔
بہن سموسے کی پلیٹ آگے کرتے ہوئے کہتی ہے۔
نہیں۔ بس شکریہ میں نے لے لیا ہے۔
چلیں تو اب ہم چلتے ہیں۔ وہ تینوں ایک ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔
جی میں بیٹے کی رائے جاں لوں پھر آپ کو بتادوں گی۔
اللہ حافظ!
وہ یہ کہہ کر نکل جاتے ہیں۔ ماں اور بہن گیٹ تک چھوڑنے جاتے ہیں۔
اللہ کرے اس بار ہاں ہو جائے پچھلے 4 رشتوں سے انکار ہی ہوا ہے۔
اماں پریشان نہ ہو ں۔ اللہ بہتر کرے گا۔
ہاں جہاں سے ہو رہا ہے وہاں آپ لوگ کون سا شکر ادا کر رہے ہیں؟

ندا بکواس بند رکھو۔ تمہارے باپ کو تم پر ویسے ہی غصہ ہے۔ شکر کرو اس نے تمہیں بخش دیا ہے ماں غصے سے بولتی ہے۔

وہ اور حماد ایک ہی یونیورسٹی سے پڑھتے تھے اور ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ 1 سال میں وہ بخوبی ایک دوسرے کو جان چکے تھے۔ حماد نے اپنی پسند کا اظہار اپنے والدین کے سامنے کر دیا تھا اور انہیں حماد کی پسند پر کوئی عتراض نہیں تھا۔ حماد کو اسی یونیورسٹی میں جس سے اس نے پڑھا تھا، اسسٹنٹ پروفیسر کی جاب مل جاتی ہے او راب وہ ندا کی طرف رشتہ بھیجنا چاہتا تھا۔ مگر ندا اسے کچھ دن انتظار کرنے کا کہتی ہے تا کہ وہ اپنی بہن کو بتا سکے۔

ندا کا باپ کافی سخت تھا۔ وہ کسی بھی اجنبی، کم آمدن اور کیسی بھی عام صورت شکل کے آدمی سے اس کی شادی کر دے گا۔ مگر پسند کی شادی۔ وہ تو اس کے نزدیک کسی فحاشی اور بے غیرتی سے کم نہیں ہے۔

ندا کی اپنی بہن سے اچھی دوستی ہے وہ شادی شدہ ہے۔ اس کی شادی کو 8 ماہ ہو گئے تھے۔

ندا اپنی بہن کو حماد کے بارے میں بتاتی ہے۔ ندا باپ کی عادت جانتے ہوئے بھی اسے رشتہ کا مشورہ دیتی ہے وہ دونوں اس بات سے نا واقف تھے کہ ان کاباپ اس قدر دقیانوسی خیالات کا مالک ہے۔

حماد اگلے دن ہی ندا کے گھر رشتہ بھیجتا ہے۔

تمام لوگ گھر پر ہی موجود ہوتے ہیں۔ ندا کے گھر میں اس کے ماں باپ اور ایک چچا رہتے تھے۔ اور تایا الگ قریب ہی محلے میں رہتے تھے۔ ان کی ایک بیٹی تھی جبکہ چچا کا کوئی بچہ نہیں تھا۔

جی آپ کون؟
شاہد ندا کا چچا دروازے پر ہی پوچھتا ہے۔ ​
ہم در اصل ندا کے رشتے کے سلسلے میں آئے ہیں۔

ندا کے رشتے کی بات آج کل چل رہی تھی۔ وہ اس بات پہ حیران نہیں ہوتا اور انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھاتا ہے۔ اور بھائی اور بھابھی کو ان کے آنے کی اطلاع دیتا ہے۔

بھائی کوئی لوگ آئے ہیں رشتے کے لیے۔
کون لوگ۔ ؟ مجھے تو نہیں کال آئی فہمیدہ آپا کی۔
فہمیدہ آپا رشتے کرنے والی ایک خاتون تھیں اور ان کے دوست کی بھابھی بھی تھیں۔
پتہ نہیں آپ دیکھ لیں آکر۔ ​
وہ دونوں ڈرائنگ روم میں جاتے ہیں۔

السلام علیکم انکل! حماد اٹھ کر ملتا ہے۔ حماد کا پاب اور سلمان ہاتھ ملاتے ہیں اور آمنے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔

جی میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔
جی ہم ندا کے رشتے کے سلسلے میں آئے ہیں۔
آپ کو فہمیدہ آپا نے بھیجا ہے؟
نہیں نہیں۔ ندا اور حماد کلاس فیلوز رہ چکے ہیں اور حماد کو ندا پسند ہے۔
سلمان کے ماتھے پر بل پڑ جاتے ہیں۔ جی معذرت کے ساتھ مگر ہمارے یہاں پسند کی شادی نہیں کی جاتی۔
اوہ بھائی صاحب! یہ نیا دور ہے اور ویسے بھی بچوں کا شرعی حق ہے۔

بھائی جان دور جو بھی ہو۔ رواج بھی کوئی چیز ہے اور ماں باپ ہونے کی حیثیت سے یہ ہمارا فرض بھی ہے اور بچوں پر حق بھی۔

لیکن! فرزانہ (حماد کی ماں ) اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی سلمان کہتا ہے اور ویسے بھی آپ کو شاید دیر ہو گئی۔ ندا کا رشتہ تہہ ہو چکا ہے۔

یہ بات حماد پر بجلی کی طرح گرتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو قابو کرتا ہے اور وہ اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔

وہ دن ندا کی ماں اور ندا کے لیے کافی غضب ناک ہوتا ہے۔ سلمان ندا کی ماں اور ندا کو حاضر کر لیتا ہے اور خوب سناتا ہے۔

ندا کان کھول کر سن لو یہ بے غیرتی میں برداشت نہیں کر سکتا۔ تمہاری شادی وہاں ہی ہو گی جہاں ہم چاہیں گے۔ نہیں تو بے شک کنواری بیٹھی رہنا لیکن یہ عشق محبت بے غیرتی ہے۔

ندا حماد کو میسج اور کال کر چکی تھی لیکن نمبر بلاک کر دیا گیا تھا۔

آج اس بات کو 1 ماہ گزر چکا تھا اور ندا کا پانچواں رشتہ آیا تھا۔ اس سے پہلے 4 رشتوں کو انکار ہو چکا تھا۔ جس کی وجہ ندا کا دبا ہوا رنگ اور اس کا چھوٹا قد تھا۔

ندا ماں سے ڈانٹ سننے کے بعد کمرے میں چلی جاتی ہے۔
***

پتہ نہیں میں کیا کروں اس کے رنگ کا اس رشتے سے بھی انکار ہو گیا ہے۔ فردوس اپنے شوہر شاہد کو بتاتی ہے۔

شاہد گہرا سانس لیتا ہے اور موبائل پر مصروف ہوجاتا ہے۔

مجھے آج احمد کی کال آئی تھی۔ جو میرا دوست ہے۔ وہ رشتے کے لیے انٹرسٹڈ ہیں۔ اس کا بیٹا باپ کے ساتھ ہی کام کر رہا ہے۔

بس کر دیں سلمان۔ بیٹی کو یوں شو پیس کی طرح لے جانا اور روز انکار کروانا میرا دل دکھتا ہے۔ آپ اب تصویر کے ذریعے بات چلائیں۔

وہ لوگ ہما کی شادی پر بھی آئے تھے اور وہاں ملاقات ہوئی تھی۔ انہیں رشتہ پکا کرنا ہے اور اگلے ماہ شادی۔

اچھا یہ تو پھر بہت اچھی بات ہے۔ آپ کل ہی بلا لیں انہیں پھر۔ ہاں وہ کال شام کو بات پکی کرنے آئیں گے۔
***

رشتے کے لیے سلمان کے دوست کی فیملی آئی ہوئی ہے۔ اتنے میں سلمان کے موبائل پر کال آتی ہے اور وہ باہر اٹھ کر جاتا ہے۔

السلام علیکم بھائی صاحب!
کیسے ہیں؟ خیریت؟
اللہ کا شکر۔
تمہیں خوش خبری دینی تھی۔ تمہاری بھتیجی کا رشتہ تہہ ہو گیا ہے اور اور کل نکاح ہے۔
مبارک ہو بھائی صاحب لیکن اتنی جلدی؟

ہاں بس لڑکے والے سادگی سے نکاح اور رخصتی چاہتے ہیں۔ کافی اچھے لوگ ہیں اور پھر تمہیں پتہ ہے کہ میں بھی سادہ سا بندہ ہوں۔

چلیں جیسے آپ کو مناسب لگے۔ بس جانچ پڑتال کر لیجیے گا۔
ہاں ہاں سب ہو گیا ہے بلکہ تم جانتے ہو لڑکے کو۔
میں؟

ہاں حماد نام ہے ندا کا کلاس فیلو رہ چکا ہے۔ رشتے والی نے رشتہ کرایا تھا تو وہ بتا رہے تھے کچھ عرصہ پہلے اسے علاقے میں آئے تھے تو پتہ چلا کہ ندا کے لیے آئے تھے۔

مجھے حیرت ہوئی کہ تم نے انکار کیوں کیا۔ وہ بتا رہے تھے کہ ندا کا رشتہ پکا ہو گیا ہے۔ کیا ایسا ہی ہے؟

یہ سن کر سلمان کو شاک لگتا ہے۔

جی جی بھائی صاحب ایسا ہی ہے۔ ابھی بھی ادھر ہی مصروف ہوں تاریخ کے لیے آئے ہیں وہ لوگ۔ آپ سے پھر بات ہوتی ہے۔

اچھا چلو مبارک ہو۔ اللہ نصیب اچھے کرے۔ خیال رکھنا۔ اللہ حافظ۔
***

آج ندا اور آمنہ کی شادی کو 9 ماہ ہوچکے تھے۔ آمنہ نے آگے تعلیم حاصل کرنا شروع کردی تھی۔ اس کے شوق کو دیکھتے ہوئے حماد نے اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی تھی۔ ندا دوسری مرتبہ اپنے ماں باپ کے گھر آئی تھی اور اس بار اسے 2 ہفتے ہو چکے تھے۔ وہ رہنے نہیں آئی تھی بلکہ نکالی گئی تھی۔ دو ہفتے پہلے رات کو سمیر نے نشے کی حالت میں 9 ماہ میں دوسری بار اسے نکالا تھا۔

رات کے 1 بج رہے تھے اور وہ بے سروسامان چہرے کو پلو سے ڈھانپے کھڑی تھی۔
سلمان اس وقت بیل کی آواز سے چونک کر اٹھتا ہے۔
اس وقت کون آ گیا؟
دھیان سے جایئے گا سلمان۔
کون؟ کون ہے بھئی؟
کھولیں ابو!
یہ آواز سنتے ہی سلمان فوراً دروازہ کھول دیتا ہے۔
ندا اندر داخل ہوتی ہے اور چہرے پر سے پلو ہٹاتی ہے۔
سلمان کی آنکھوں میں سے بے ساختہ آنسو گر پڑتے ہیں۔

ندا کچھ کہنا چاہتی ہے مگر چپ رہتی ہے۔ اس کی آنکھیں، آنسو اور چہرے پر نمایاں نشانات بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔ بہت کچھ!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •