کرونا اور جذباتی تشدد
وہ صبح سے اپنے معمول کے کاموں میں مگن تھی بچوں کو اسکول کی چھٹی کی وجہ سے آج قدرے آرام دہ دن کا آغاز رہا تھا کافی دیر تک بچے اپنے ابا کے کمرے میں ان کے ساتھ باتوں میں مشغول رہے۔ سردی کی شدت کافی بڑھ گئی تھی اور بارش کی وجہ سے کسی بھی باہر کی سرگرمی کا امکان نہیں تھا۔ وہ تھوڑی دیر تک اپنے میاں کے مشترکہ کمرے میں داخل ہوئی اور بلند آواز میں بچوں سے پوچھا ہاں بھئی ناشتے کا کیا پروگرام ہے اس کی چھوٹی بیٹی نے کہا ”نہیں ابھی نہیں ہم ابھی ابو سے اور باتیں کریں گے“ بڑا بیٹا بھی بہن کے ساتھ یک زبان ہو کر بولا ابھی نہیں تھوڑی دیر بعد۔
اچھا ٹھیک ہے جب بھوک لگے تو بتا دینا یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئی کافی دیر غیر ضروری کاموں میں خود کو مصروف رکھا پھر بالآخر بچوں کی آواز آئی ”ماما بھوک لگی ہے“ اچھا ٹھیک ہے میں ناشتہ بناتی ہو تم لوگ ٹیبل سیٹ کرو یہ کہہ کر وہ کچن کی جانب چلی گئی۔ یہ تقریباً تیسرا ہفتہ تھا کہ ہر چھٹی کے دن اس کے میاں کا رویہ الجھا رہتا تھا پردیس میں چھٹی کا دن کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ مگر ہر دفعہ کسی نہ کسی وجہ سے فرقان کا موڈ خراب رہنے لگا تھا۔ حتی الامکان کوشش کے باوجود کے بچوں کے سامنے گھر کا ماحول متاثر نہ ہوں۔ ان دونوں کے بیچ فاصلہ کی دیوار بڑھتی جا رہی تھی۔
کرونا کے وبا کی وجہ سے ہر طرف سے مختلف طرح کی پابندیاں لگی ہوئی تھی۔ فرقان بھی پچھلے کئی مہینوں سے گھر سے کام کر رہے تھے۔ اور بچوں کا سکول بھی آن لائن ہی چلتا رہا۔ بالآخر دو مہینے پہلے ہی بچوں کے اسکول میں تعلیمی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ مگر چونکہ فرقان گھر سے ہی کام کر رہے تھے اس لیے ان کی ذہنی صحت بھی کافی متاثر ہوئی تھی اس پر پاکستان سے ان کے گھر والوں کو فون کہ ابھی تک کہ ابھی تک پاکستان کا چکر کیوں نہیں لگایا ہم سب بہت اداس ہے۔
ایسے اور اس جیسے چھوٹے چھوٹے جملے کہ جن پر بے بسی کا اظہار ہی ممکن تھا کیونکہ ان باتوں پر عمل بھی نہیں کر سکتے کیونکہ کئی ممالک پر سفری پابندیاں لگی ہوئی تھی۔ اور بے یقینی کی کیفیت تھی اس نے بھی اپنے آپ کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کر لیا تھا۔ وہ میاں صاحب کو بھی مشورہ دیتی کہ آپ بھی اپنے آپ کو کسی سرگرمی کو جوائن کر لیں ہو سکتا ہے کہ آپ میں بہتری کے آثار نظر آئے لیکن ذہنی صحت کا خیال رکھنے کے حوالے سے ان کا اپنا ہی نظریہ تھا۔ ان کے بقول یہ سب بھرے پیٹ کی باتیں ہیں اور مذہب میں ہی ان کا حل ممکن ہے۔
کل بھی ان کی اس موضوع پر بحث ہوئی جب وہ ایک دم کہنے لگے چلو پاکستان چلتے ہیں وہ اور فرقان ٹی وی پر مووی دیکھ رہے تھے کہ اچانک فرقان کے دل میں خیال آیا اور اس سے پوچھا پاکستان کا چکر لگائیں؟ خیریت تو ہے۔ فرقان لوگ شکر کر رہے ہیں کہ ابھی تک اس وبا سے محفوظ ہیں یہ تو خود گھر سے نکل کر وبا گھر لانے کی بات ہے۔ اور پھر اپنے پیاروں کو بھی مشکل میں ڈالنا۔ ”یار میں سوچ رہا ہوں کہ بچوں کی چھٹیاں ہے تو گھر بیٹھنے سے بہتر ہے پاکستان ہو آئیں ان کا سکرین ٹائم بھی بڑھ گیا ہے۔
فرقان آپ ان کا نارمل حالات سے مقابلہ مت کریں۔ ہمیں بھی پتہ ہے کہ نارملی ہم اپنے بچوں کے سکرین ٹائم کے بارے میں بہت سخت ہیں اب آج کل باہر بھی نہیں نکل سکتے تو ان کے پاس تو کوئی آ پشن نہیں ہے پھر بھی ہم نے ان کے لیے کتنی ایکٹیویٹیز ارینج کرتے ہیں ہم کوشش تو کر رہے ہیں کہ زیادہ وقت سکرین پر نہ گزرا کریں۔
بس اس کے بعد میاں صاحب نے چپ کی دبیز چادر اوڑھ لی اور غیر محسوس سی بیگانگی کا مظاہرہ کرنے لگے۔ اس نے کئی دفعہ بات کرنے کی کوشش کی۔ اتنی دفعہ پیار سے سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن جیسے کچھ جانتے بوجھتے سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھے۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر وہ اس مسئلے کا حل کیسے نکالے اس نے کئی دفعہ بات کرنے کی کوشش کی۔
کرونا کے وبا کو دس مہینے سے زیادہ ہو گئے تھے اور شاید شوہر صاحب بھی گھر بیٹھے بیٹھے اکتا گئے تھے زندگی میں یکسانیت اور بوریت بڑھنے لگی تھی شاید اسی وجہ سے میاں حضور کے مزاج پر برا اثر تھا اندر سے آواز آئی تم بھی تو انہی حالات سے گزر رہی ہو۔ تم کیوں نہیں اپنی بھڑاس اس طریقے سے نکالتی۔ غصہ جھٹک کے وہ دوبارہ اپنے آپ کو کام میں مصروف کرنے لگی۔ یہ وہ جذباتی تشدد تھا جس سے بچنے کے لئے وہ اپنی ذات کی پھر سے تعمیرنو کرنے لگ جاتی تھی۔

