پشاور کی ایک گلی میں مشرقی پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھتر سال کے بوڑھے الطاف حسین نے اپنی کہانی سنانی شروع کی۔

میری عمر تب تین سال تھی جب میرے والدین اور خاندان کے دوسرے لوگ اُنیس سو سینتالیس میں ہندوستان کے صوبے بہار سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے سید پور علاقے میں آئے جو ہندوستان اور نیپال کے سرحدی علاقے دارجلنگ کے قریب تھا۔

یہاں ہم ایک سکون کے ساتھ رہتے اور اپنی محنت مزدوری کرتے۔ 1970کا الیکشن آیا تو میں تب پچیس سال کا نوجوان تھا۔

شیخ مجیب الرحمٰن کی طوفانی مقبولیت اور مکتی باہنی ایک ساتھ پروان چڑھنے لگے تھے لیکن ہم (بہاری مہاجر) عوامی لیگ کی بجائے مغربی پاکستان اور فیڈریشن کے حامی تھے اس لئے ہم جماعت اسلامی یا ان پارٹیوں کی حمایت کرتے رہے جو فیڈریشن کے حق اور علحیدگی کی مخالفت میں کھڑے تھے۔

الیکشن کے بعد فسادات پھوٹ پڑے اور کچھ عرصہ بعد مشرقی پاکستان الگ ہو گیا تو ہماری زندگی بھی مکتی باہنی کے ہاتھوں مزید اجیرن ہوگئی۔

ہمیں مکتی باہنی نے ایک طرح سے محصور کر لیا اس لئے بنگلہ دیشی حکومت نے کچھ عرصے بعد ہمیں ڈھاکہ شفٹ کر دیا جہاں مسلسل ایک دہشت اور مشکلات کا سامنا ہم کرتے رہے۔

مکتی باہنی کے اکثر کارکن ہمیں پاکستانی ایجنٹ کہہ کر پکارتے اور اذیتیں دیتے رہے تاہم بنگلہ دیشی حکومت کا رویہ اس کے برعکس تھا اور وہ ہمارے ساتھ تعاون کرتی اور تحفظ فراہم کرتی رھی۔

جون 1974 میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو بنگلہ دیش کے دورے پر آئے تو شیخ مجیب الرحمٰن نے ان پر زور دیا کہ اپنے مہاجر (بہاریوں) کو واپس لے جائیں لیکن بھٹو صاحب نے جواب دیا کہ شملہ معاہدے کی رو سے جتنے مہاجرین (بہاریوں) کو واپس لے جانا تھا وہ کوٹہ پورا ہو چکا ہے اور مزید بہاری لینے سے انکار کیا اس لئے دو دن بعد ہم (بہاری) ڈھاکہ میں پاکستانی سفیر کے پاس گئے اور انہیں اپنی مشکلات سے آگاہ کیا جنہوں نے اسلام آباد کے ساتھ رابطہ کیا اور ایک سلسلہ چل پڑا۔

تقریبًا پانچ سال بعد جنرل ضیا الحق کے حکم پر ہم تیس خاندانوں کو ڈھاکہ سے کراچی پہنچا دیا گیا اور کچھ دن بعد بذریعہ ٹرین پشاور پہنچا کر چارسدہ روڈ پر قائم ہارون ٹیکسٹائل ملز کے کوارٹروں میں ٹھہرایا گیا، یہ 1979 کا سال تھا۔

ہم لوگ مل میں یا آس پاس کے علاقے میں چھوٹی موٹی مزدوری کرکے گزراوقات کرتے رہے۔

حکومت کا ارادہ تھا کہ ہم لوگوں کو ڈیرہ اسماعیل خان میں گھر الاٹ کر کے وہاں شفٹ کیا جائے لیکن ہم نے اپنی مجبوری سامنے رکھی کہ چونکہ وہاں کارخانے اور انڈسٹری نہیں اس لئے ہمیں مزدوری کے حوالے سے مشکلات پیش آئیں گی۔ ہمارے اس مطالبے کو حکومت نے تسلیم کر لیا اور پشاور ہی میں ہمیں مستقل طور پر پر بسانے کا منصوبہ بنانے لگے۔

دو تین سال بعد غالبًا 1982 میں پشاور کے جدید رہائشی منصوبے حیات آباد کا آغاز ہوا تو ایک سال بعد یعنی 1983 میں محکمہ مال نے حیات آباد کے فیز 2 کے کنارے پر ایک گلی ہم لوگوں (بہاریوں) کے لئے پی ڈی اے (پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی) سے خرید لی، اس گلی کے ساڑھے چار مرلے کے ہر پلاٹ پر حکومت نے ایک ایک کمرہ، ایک کچن اور ایک واش روم تعمیر کرکے ہمیں مالکانہ حقوق کے ساتھ دے دئے اور ہم پہلی بار اپنی چھت کے نیچے رہنے لگے۔

یہ انتہائی مہنگی اور جدید رہائشی بستی حیات آباد کے مشرقی کنارے پر ایک تنگ سی گلی ہے جسے مقامی لوگ بہاری کالونی کے نام سے جانتے ہیں۔

اس گلی میں بنگلہ دیشی مہاجرین (بہاریوں) کے انچاس خاندان آباد ہیں جو چھتوں کی سیلنگ، مستری، پلمبر، ٹیلرنگ، دودھ فروشی یا کریانے کی چھوٹی سی دوکان چلانے کے پیشوں سے وابستہ ہیں۔

ان لوگوں نے اپنی محنت کے بل بوتے پر ان چھوٹے چھوٹے گھروں کو وقت کے ساتھ قدرے جدید شکل میں بھی ڈھال دیا ہے۔ اب ان کی نئی نسل روانی کے ساتھ پشتو بھی بول لیتے ہیں تاہم بزرگ حضرات کو اس حوالے سے مشکل کا سامنا ھے۔

مقامی لوگ اپنے اے سی فریج واشنگ مشین اور گھریلو استعمال کی دوسری مشینری مرمت کرانے کے لئے اسی گلی ہی کا رخ کرتے ہیں۔

جب شام ڈھلے آپ کبھی اس گلی میں داخل ہوں تو ایک لمحے کے لئے بھول جاتے ہیں کہ اس وقت آپ پشاور کی جدید اور فیشن ایبل بستی حیات آباد میں موجود ہیں بلکہ یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ آپ مشرقی پاکستان کے ڈھاکہ یا چٹاگانگ کے کسی پرانے بازار میں گھوم رہے ہیں۔

اجنبی زبان، گہری سیاہ مائل رنگت، مخصوص ٹوپیاں، دھاری دار چادریں اور نرم لہجے میں گفتگو آپ کو قدرے اجنبی اور دلچسپ رومان کا شکار بنا دیتے ہیں، بشرطیکہ سمجھنے کی حس ہو۔

بہاری کالونی کی تنگ سی گلی کے نکڑ کے ایک تھڑے پر حیرت انگیز یادداشت اور سمجھ کے مالک پچھتر سال کے بوڑھے الطاف حسین کا انٹرویو لے کر میں روانہ ہونے لگا تو میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر ایک عجز بھرے دکھ کے ساتھ کہا۔

بیٹے میں تین سال کی عمر میں ہندوستان کے صوبے بہارِ سے پہلی ہجرت پر نکلا تھا لیکن پینتیس سال کی عمر میں در بدر پھرنے اور چوتھی ہجرت کے بعد ایک اجنبی شہر پشاور نے بالآخر ہم پر رحم کھا کر ٹھکانہ بھی فراہم کیا اور پانچویں ہجرت سے بھی بچا لیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •