اشاروں کی زبان کی تاریخ بولنے والی زبان سے زیادہ پرانی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آصف امین فاروقی نے بیچلر آف گرافک ڈیزائننگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ حرکت پذیری، فوٹوشاپ اور متعدد کمپیوٹر کورسز کر رکھے ہیں۔ کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔ سماعت سے محروم افراد کے سنٹر آف ایکسی لینس میں فنانس ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اشاروں کی زبان کے ریسرچ گروپ میں گرافک ڈیزائنرکے طور پر (جو پاکستان ایسوسی ایشن آف دا ڈیف کا ایک پروجیکٹ ہے) بھی تعینات ہیں۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف ڈیف (پی۔ اے۔ ڈی) کے صدر ہیں۔

1987 میں جاپان میں ہونے والی 17 ویں انٹرنیشنل چلڈرن آرٹ نمائش میں سلور میڈل حاصل کیا۔ 1999 کے ایشیا پیسیفک ایونٹ ”نیو میلینیم (کوالالمپور، ملائشیا) میں شرکت کا اعزاز حاصل کیا۔ ترکی میں ہونے والے کوکنگ کے مقابلوں میں دو مرتبہ پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے۔ آئیے ان سے ملاقات کرتے ہیں۔

سوال: سماعت سے محرومی کا مسئلہ کس عمر میں پیش آیا؟
یہ پیدائشی مسئلہ تھا لیکن اس کا پتہ بعد میں چلا۔
سوال: ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی اور کن مسائل کا سامنا رہا؟

ابتدائی تعلیم سکھر کے ایک اسکول سے حاصل کی۔ ناتجربہ کار اساتذہ اور تعلیم کے غیر معیاری نظام کی وجہ سے اس سکول کو جلد خیرباد کہنا پڑا۔ کچھ عرصہ ڈھرکی اینگرو نارمل بچوں کے سکول سے بھی تعلیم حاصل کی۔ نارمل بچوں کے سکول میں گزرا وقت خاصا مشکل رہا۔ اساتذہ کی بات سمجھ نہیں آتی تھی اور اساتذہ اشاروں کی زبان کے الفاظ سمجھنے سے قاصر تھے۔ والدہ کی کاوشوں سے کراچی کے ابسا اسکول میں داخلہ کروایا گیا۔ جہاں کے اساتذہ اشاروں کی زبان پر خاصی مہارت رکھتے تھے۔ سکول کا تعلیمی نظام بھی کافی بہتر تھا۔ انٹر تک تعلیم کامیابی کے ساتھ اسی سکول سے حاصل کی۔

سوال: کالج کی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟ گرافک ڈیزائننگ جیسے مشکل مضمون کا انتخاب کیوں کیا؟

انٹر تک تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ پھر والد صاحب کا تبادلہ لاہور ہو گیا۔ جس کی وجہ سے خاندان کو لاہور منتقل ہونا پڑا۔ بیچلرز کے لئے لاہور کے اورینٹل کالج آف آرٹس میں داخلہ لیا۔ جہاں صرف ایک میں ہی سماعت سے محروم طالب علم تھا۔

گرافک ڈیزائنر بننے کا شوق بچپن سے تھا۔ ہر وقت کچھ نیا کرنے کی جستجو میں لگا رہتا تھا۔ بیچلر کی ڈگری گرافک ڈیزائننگ میں کی۔ دوران تعلیم بھارت کے دورے کا موقع ملا۔ دورے کا مقصد انڈیا کے اہم تاریخی مقامات کی سیر اور عمارتوں کا جائزہ لینا تھا۔ قیام کے دوران گجرات، آگرہ، دہلی اور بہت سے دوسرے شہروں کے تاریخی مقامات کی سیر کا موقع ملا۔

سوال: کتنی ملازمتیں کر چکے ہیں؟ ملازمت کے حصول میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ موجودہ ملازمت کتنے عرصے سے کر رہے ہیں؟

گرافک ڈیزائننگ کی اہلیت کی وجہ سے حصول ملازمت میں کسی خاص دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ لکھ کر اپنی بات باآسانی دوسروں تک پہنچا سکتا تھا۔ انیمیشن، فوٹوشاپ اور آفٹر ایفیکٹس وغیرہ کے متعدد کورس کر رکھے ہیں۔ 1997 سے 2002 تک مائکرو ویژن انک، ایک پرائیویٹ ادارہ کے اسکول آف انیمیشن میں انیمیشن انچارج کی حیثیت سے کام کرتا رہا ہوں۔

(K) گروپ آف کمپنیز، تکافل پاکستان لمیٹڈ، اور طوایرقی اسٹیل ملز لمیٹڈ میں بھی ملازمت کرچکا ہوں۔ پچھلے دس سال سے پی اے ڈی میں بہرے بچوں کو کمپیوٹر گرافکس پڑھا رہا ہوں۔

سوال: پی اے ڈی کیا ہے اور یہ سماعت سے محروم افراد کی کس طرح رہنمائی فراہم کرتا ہے؟

پی اے ڈی کے ساتھ کافی عرصے سے وابستہ ہوں۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف دا ڈیف (پی اے ڈی) سابقہ کراچی ڈیف ویلفیئر ایسوسی ایشن (کے ڈی ڈبلیو اے) کا قیام کراچی کے کچھ متحرک (سماعت سے محروم) نوجوانوں نے 1987 میں کیا۔ پی اے ڈی پاکستان کے سماعت سے محروم افراد کی نمائندہ تنظیم ہونے کے ساتھ ساتھ ورلڈ فیڈریشن آف ڈیف (ڈبلیو ایف ڈی) کی بھی ممبر ہے۔ اس کا کام سماعت سے محروم افراد کی آواز کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اٹھانا ہے۔ پی اے ڈی ایشیا پیسفک سینٹر ڈیوپلمنٹ آن ڈس ایبلٹی (اے پی سی ڈی) کے ساتھ ساتھ بہت سی بین الاقوامی تنظیموں کی ممبر بھی ہے۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف ڈیف (پی اے ڈی) اشاروں کی زبان پر تحقیق کرنے کے ساتھ ساتھ سپورٹس کے ایونٹس کا انعقاد بھی کرواتی ہے، اس کے علاوہ سماعت سے محروم بچوں کی تعلیم و بہبود جیسے بہت سے کام کرتی ہے۔ تنظیم نے حال ہی میں سماعت سے محروم افراد کے لئے ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کی منظوری لی ہے۔ جس کی منظوری کے لئے وزیراعلی سندھ، آئی جی پولیس اور بہت سے حکومتی عہدیداروں سے میٹنگنز ہوتی رہی ہیں۔

سوال: سائن لینگوج یا اشاروں کی زبان کیا ہوتی ہے؟ اشاروں کی زبان کی تاریخ کیا ہے؟ پاکستان میں اشاروں کی کون سی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے؟

اشاروں کی زبان ابلاغ کی مینول زبان ہے۔ ابلاغ کی اس زبان میں ہاتھوں کے اشاروں، چہرے اور جسم کی حرکات و سکنات کے ذریعے پیغام دوسروں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اشاروں کی زبان کی تاریخ انسان جتنی پرانی ہے۔ ابتدائی انسان اشاروں کی زبان سے پیغام رسانی کا کام لیتا تھا۔ اسی طرح انسان نے ابتدائی تجارت کے لیے بھی اشاروں کی زبان ہی کا سہارا لیا۔ ہالی ووڈ کی ابتدائی فلمیں خاموش ہوا کرتی تھیں جن میں اشاروں کی زبان کی مدد سے اداکاری کی جاتی تھی۔

خاموش فلموں کے دور نے سماعت سے محروم افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے میں بھر پور کردار ادا کیا۔ آواز والی فلموں کے آنے کے بعد لوگ سماعت سے محروم افراد کے مسائل کو بھولنا شروع ہو گئے۔ جس کی وجہ سماعت سے محروم افراد پردے کے پیچھے چلے گئے اور اسی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کے مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

اشاروں کی زبان اور بولنے والی زبان میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے۔ گرائمر کے ایک ہی جیسے قوانین لاگو کیے جاتے ہیں۔ عام تاثر ہے کہ دنیا میں ایک ہی قسم کی اشاروں کی زبان بولی جاتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ دنیا کے ہر ملک کی اپنی اشاروں کی زبان ہے بلکہ بعض ممالک میں ایک سے زیادہ اشاروں کی زبان بولی جاتی ہے۔ ایتھنال لوگ (Ethanol Log) کے مطابق دنیا میں 137 سے زائد رجسٹرڈ اشاروں کی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جبکہ غیر رجسٹرڈ زبانوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

سوال: پی اے ڈی اشاروں کی زبان کے فروغ کے لئے کیا کام کر رہی ہے؟

اشاروں کی زبان کو سماعت سے محروم افراد اپنا سب سے قیمتی اثاثہ تصور کرتے ہیں۔ پاکستان میں اشاروں کی زبان کا باقاعدہ آغاز 2001 میں شروع ہوا۔ اشاروں کی زبان کو ہمہ گیر بنانے کے لئے تحقیق انتہائی ضروری ہے۔ دیہی علاقوں کے لوگ اشاروں کی زبان سے زیادہ آگہی نہیں رکھتے، جس کے نتیجے میں انھیں تعلیم کے حصول اور اپنی بات دوسروں تک پہنچانے میں شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پی اے ڈی نے ہمیشہ اشارے کی زبان کی تحقیق اور ترقی پر زور دیا ہے اور اس کے لئے پی اے ڈی میں ایک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ گروپ بھی کام کر رہا ہے۔ پی اے ڈی نے پی آئی یو سی این کے اشتراک سے سماعت سے محروم افراد کے لئے اردو زبان میں گرائمر سمیت اکیس اشاروں کی زبان کی کتابیں شائع کی ہیں۔ جدید تقاضوں سے ہم آہنگی رکھتے ہوئے سائن لینگوئج کی سی ڈیز بھی تیار کی گئی ہیں۔

ح۔ پاکستان میں سماعت سے محروم افراد کی تعداد کتنی ہے؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی 5 ٪ آبادی کسی نہ کسی قسم کے سماعتی مرض میں مبتلا ہے۔ سماعت سے محروم افراد وطن عزیز کی آبادی کا 5 ٪ ہیں، 2017 کی مردم شماری کے مطابق وطن عزیز کی آبادی 200.81 ملین ہے، اس حساب سے پاکستان میں سماعت سے محروم افراد کی تعداد تقریباً دس ملین بنتی ہے۔

وطن عزیز میں سماعت سے محروم افراد کے حوالے سے قوانین اور پالیسیز تو نظر آتی ہیں لیکن ان پالیسیز پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد کی بڑی تعداد تعلیم کے زیور سے محروم نظر آتی ہے۔ جن دوستوں نے ان چلینجز کا مقابلہ کرتے ہوئے ڈگریاں حاصل کر لی ہیں انھیں ملازمت کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے ان افراد کو زندگی کے ہر موڑ پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سوال: پی اے ڈی سماعت سے محروم افراد کی تعلیم اور روزگار کے حوالے سے کون سے اقدامات کر رہی ہے؟

پی۔ اے۔ ڈی کے صرف کراچی میں 700 سے زیادہ ممبر ہیں، ملک بھر کی سماعت سے محروم افراد کی بہت سے تنظیمیں پی۔ اے۔ ڈی سے منسلک ہیں، ہر تنظیم کے اپنے اپنے علاقوں میں سینکڑوں ممبرز ہیں۔ اس طرح پی۔ اے۔ ڈی کا نیٹ ورک نہ صرف ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے بلکہ ہر وقت نمائندہ تنظیموں سے رابطے میں بھی رہتا ہے۔

پی۔ اے۔ ڈی حصول تعلیم، ہنر، روزگار اور مددگار آلات کی فراہمی میں اپنی کمیونٹی کو مدد فراہم کرتی ہے۔ پی اے ڈی کے دروازے ملک بھر کے سماعت سے محروم افراد کی رہنمائی کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔

پی اے ڈی یوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی پروگرام کے تحت سماعت سے محروم طالب علموں کو بھر پور حوصلہ افزائی فراہم کرتا ہے۔ پی اے ڈی کے تعلیمی پروگراموں سے تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم اعلی عہدوں پر کام کر کے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

چ۔ سماعت سے محروم افراد کی تعلیم کے راستے میں کون کون سی رکاوٹیں حائل ہیں؟

سماعت سے محروم افراد کی تعلیم کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ آگہی کا فقدان ہے۔ اکثر والدین سماعت سے محروم بچوں کو نالائق اور ناکارہ سمجھ لیتے ہیں۔ دوسرا اہم ترین مسئلہ سکولوں کی نامناسب تعداد کا ہے جس کی وجہ سے بیشتر بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں، تیسرا اہم ترین مسئلہ اشاروں کی زبان کی سمجھ کا ہے حکومت میڈیا اور سول سوسائٹی نے اشاروں کی زبان کے فروغ کے لئے کام ہی نہیں کیا جس کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد اپنا دکھ درد کسی کو بتلانے سے قاصر ہیں، چھوتھا اہم ترین مسئلہ غربت کا ہے جس کی وجہ سے بہت سے والدین اپنے بچے کے لئے تعلیم، مدد گار آلات اور علاج کی سہولیات فراہم نہیں کر پاتے، پانچواں اور اہم ترین مسئلہ معاشرے کی منفی سوچ اور رویے ہیں جن کی وجہ سے سماعت سے محروم افراد احساس محرومی کا شکار نظر آتے ہیں۔

خ۔ سماعت سے محروم افراد نوکریوں سے کیوں محروم رہ جاتے ہیں؟

خصوصی افراد ملک کی آبادی کا 5 ٪ ہیں جبکہ تمام صوبوں میں نوکریوں کے لئے مختص کوٹہ دو سے پانچ فیصد کے درمیان ہے جو کہ خصوصی افراد کی آبادی کے تناسب سے ناکافی ہے۔ نوکریوں کے لئے مختص یہ مختصر سا کوٹہ بھی کسی صوبے میں پوری طرح لاگو نہیں ہے، کوٹے کے تحت کی گئی بھرتیوں میں شفافیت ایک سوالیہ نشان ہے۔ غیر سرکاری اور پرائیویٹ نوکریوں کے حصول میں رابطے کا فقدان، اشاروں کی زبان سے ناواقفیت اور منفی معاشرتی رویے بڑی رکاوٹ تصور کیے جاتے ہیں۔

د۔ سماعت سے محروم افراد اور معاشرے میں فاصلے کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟ الیکڑانک میڈیا اس ضمن میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟

متوازن معاشرہ ذات پات، رنگ نسل، قومیت، عقائد اور علاقائیت سے بالاتر ہو کر ہر شخص کو انصاف کی فراہمی اور آگے بڑھنے کے مواقعے فراہم کرتا ہے۔ خصوصی افراد بھی انسانی معاشرے کا ہی حصہ ہیں۔ خصوصی افراد کے حقوق کو انسانی حقوق تسلیم کیے بغیر متوازن معاشرے کا قیام ناممکن ہے۔

حکومت وقت کو معاشرے میں آگہی کے حوالے سے ایک بڑا پروگرام شروع کرنا چاہیے۔ پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا اور سول سوسائٹی اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ شروع میں جب پی ٹی وی ایک اکیلا چینل تھا۔ سماعت سے محروم افراد کے لئے اشاروں میں بھی خبریں چلتی تھیں۔ توقع کی جا رہی تھی کہ نئے چینلز اس میں اضافے کا باعث بنیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جدید میڈیا کے دور میں سماعت سے محروم افراد نمائندگی سے محروم نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے اور سماعت سے محروم افراد کے درمیان فاصلوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

سوال: شادی کب ہوئی؟ کیا رشتے کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

تعلیم اور روزگار کی وجہ سے شادی کے معاملے میں زیادہ مشکلات پیش نہیں آئیں۔ سترہ سال پہلے شادی کے بندھن میں بندھے۔ شادی کے وقت والد صاحب نے چوائس دی تھی کہ اگر چاہیں تو بولنے والی لڑکی سے بھی شادی ہو سکتی ہے۔ لیکن میں نے سماعت سے محروم لڑکی کو اپنے لئے پسند کیا۔ اور اپنی زندگی سے بہت مطمئن ہوں۔

ذ۔ آپ کے مشاغل کیا ہیں؟ فارغ وقت کیسے گزارتے ہیں؟

فارغ اوقات میں کمپیوٹر گرافک ڈیزائننگ، انٹرنیٹ، سماعت سے محروم برادری سے واٹس ایپ پر روابط، یوٹیوب سے اسلامک لرننگ، اور ٹین پن بولنگ کرنا پسند ہے۔

سوال: ترکی میں خصوصی افراد کے کھانا پکانے کے مقابلے کیوں منعقد کیے جاتے ہیں؟ آپ لوگ کتنی مرتبہ وطن عزیز کی نمائندگی کر چکے ہیں؟

ترکی کے شہر استنبول میں ہر سال خصوصی افراد کی کوکنگ کے بین الاقوامی مقابلے منعقد کرائے جاتے ہیں۔ کھانا پکانے کے ان مقابلوں میں آذربائیجان، بوسنیا ہرزیگووینا، تیونس، مقدونیہ، مصر، قطر، پاکستان، قازقستان، کوسوو سمیت مختلف ممالک سے خصوصی افراد کو مدعو کیا جاتا ہے۔ جیوری خصوصی حریفوں کی کھانا پکانے کی مہارت کا اندازہ لگاتی ہے۔ فاتحین کو ”گولڈن کوکنگ پاٹ ورلڈ ایوارڈ“ پیش کیا جاتا ہے۔ اس تقریب کا اہتمام ترکی کی خاندانی اور سماجی پالیسیوں کی وزارت، ترکی کی وزارت ثقافت اور سیاحت وزارت اور باسلر بلدیہ کے اشتراک سے کیا جاتا ہے۔ تقریب کے انعقاد کا مقصد خصوصی افراد کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اسمیں میں نے اور میری بیگم نے شرکت کی۔ اہلیہ کو اس تقریب میں دو مرتبہ پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے۔

ڑ۔ مستقبل میں کیا کرنا چاہتے ہیں؟

اپنے مشن کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں۔ وطن عزیز کے ہر سماعت سے محروم شخص کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں، اپنی کمیونٹی کے ہر تعلیم یافتہ فرد کو روزگار فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ منفی معاشرتی رویوں کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔

ژ۔ اپنی کمیونٹی کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟

اعتماد ایک ایسا ہتھیار ہے جس کی مدد سے آپ اپنی تمام مشکلات کا حل نکال سکتے ہیں۔ سماعت سے محروم دوست تعلیم اور ہنر پر توجہ دیتے ہوئے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •