سندھ، انگریز اور کراچی


سندھ میں اپنے زمانے کی بڑی بحری طاقتوں یعنی ولندیزی، پرتگالی اور انگریز تینوں کو کوئی خاص دل چسپی نہیں تھی۔ اس کا ساحلی علاقہ کراچی، ٹھٹھہ اور بدین پر مشتمل تھا۔ سنہ 1635 میں انگریزوں نے شاہ جہاں کے زمانے میں ٹھٹہ میں ایک تجارتی کوٹھی قائم کی تھی۔ یہ ابتدا میں یہاں سے بارود میں استعمال ہونے والا  Saltpetre (پوٹاشیم نائی ٹریٹ) لے جاتے تھے۔ اس لین دین کا وہاں رہنے والے میمنوں نے فائدہ اٹھایا، ان سے تجارت کے نت نئے گر سیکھے۔ چالیس سال بعد جب یہ تجارتی کوٹھی بند ہوئی تو انگریزوں کے ساتھ میمن بھی گجرات کی طرف نکل گئے۔ میمنی زبان گجراتی اور سندھی کی آمیزش ہے۔ میمن، لسانی اور نسلی حوالوں سے سندھیوں کے زیادہ قریب ہیں۔ کلہوڑہ حکمران نے بلوچوں کے خلاف مدد کرنے کے وعدے پر انگریزوں سے تجارتی لائسسنس بھی حاصل کیے مگر وہ مقامی جنگوں میں کبھی شامل نہ ہوئے۔

 کراچی کو جاننے سمجھنے کے لیے سندھ کے حوالے سے اس خطے کی انگریزوں کے ہاتھوں فتح اور پنجاب میں رنجیت سنگھ کی بادشاہت کا ذکر معنی رکھتا ہے۔ تاریخ میں قاری کی قومیت، زبان، نسل، مذہب اور ذاتی پسند نا پسند کا بھی بہت دخل ہے۔

غیرسندھی مورخین کا خیال ہے کہ سندھ کی فتح سر چارلس بہادر نیپیئر نواب بادشاہ ہند و سندھ کی ذاتی مہم جوئی کا نتیجہ تھا۔ سندھی مورخین البتہ اسے ذرا مختلف اور قوم پرستی کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔ وہ اصرار کرتے ہیں کہ سندھ کا وسائل سے مالامال ہونا بھی حملے کا جواز تھا۔ وہ سندھو دریا کے راستے پنجاب کی تجارت پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ جامعہ سندھ میں ہمارے کچھ استاد اس بات کی جانب بھی اشارہ کرتے تھے کہ انگریزوں کو سکھوں کی طرف سے بھی خوف تھا کہ وہ سندھ پر قابض ہونے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

سکھوں کے محمد بن قاسم، بیس بیویوں کے شوہر، گجرانوالے کے رنجیت سنگھ نے جب محض اٹھارہ برس کی عمر میں سنہ 1799 میں لاہور فتح کیا تو اس نے اپنی مہم جوئی کا رخ پنجاب سے آگے دہلی کی طرف لے جانے کی بجائے کابل کی طرف موڑ دیا۔ اس کی عسکری صلاحیتوں سے انگریز اس لیے خائف تھے کہ چیلیانوالہ کے معرکے میں انگریزوں کے بہت سے افسر مارے گئے تھے۔ وہ اپنے اندیشے کی بنیاد اس اطلاع کو بناتے تھے کہ اس نے سنہ 1823 سے مسلسل دو برس تک اس معاملے میں مشاورت اور تیاریاں کیں مگر انگریزوں کی جانب سے جب اسے ایک بھرپور اور سخت پیغام ملا تو وہ باز آ گیا۔ اس میں دل چسپ پہلو یہ ہے کہ رنجیت سنگھ انگریزوں کے سندھ فتح کرنے سے چار برس پہلے یعنی سنہ 1839 میں وفات پا چکا تھا

کلہوڑہ خاندان سے حکمرانی جب سندھ کے ایک بلوچ ٹالپر خاندان کے پاس منتقل ہوئی جسے کمال انسیت سے سندھ میں چوہیاری یعنی چار یاروں کی حکومت کہا جاتا تھا تو انگریز کو خدشہ ہوا کہ یہ تبدیلی سندھ کے گرم پانی تک رسائی میں زار روس کا ہدف ہو سکتی ہے اور یہ ٹالپر سردار اس میں ان کی معاونت کر سکتے ہیں۔ ایک طویل المدت معاہدہ اسی حوالے سے انیسویں صدی کے آغاز میں کیا گیا۔ سنہ 1842 میں انگریزوں کو افغان سردار امیر دوست بارکزئی کے ہاتوں بری طرح شکست ہوئی۔ پہلی دفعہ ایک میجر جنرل ولیم الفنسٹن کی ہلاکت ہوئی۔ اتنے بڑے رینک کا کوئی فوجی افسر آج تک ہندوستان کی کسی جنگ میں ہلاک نہیں ہوا تھا۔ تاریخ چونکہ یادوں کا مجموعہ ہوتی ہے لہذا کور اپ کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی ہلاکت دوران حراست ہوئی۔ بہت سے افراد کا خیال ہے کہ کراچی کی سب سے حسین شاہراہ الفنسٹن اسٹریٹ (موجودہ زیب النسا اسٹریٹ) ان کی یاد سے منسوب تھی۔ یہ درست نہیں یہ ماونٹ اسٹیورٹ الفنسٹن کے نام سے منسوب ہے۔ یہ افغانستان میں سرکار انگلشیہ کے پہلے سفیر تھے۔

بھارت میں مالوے (موجودہ مدھیہ پردیش کا علاقہ پہلے راجستھان) کی مہندی اور افیم بہترین مانی جاتی ہے۔ لتا منگیشکر کا ایک مشہور لوک گیت ہے کہ مہندی کو بویا تو مالوے میں گیا مگر اس کا رنگ گجرات میں دکھائی دیا۔ پان گٹکے کے علاوہ میمن گجراتی چونکہ کوئی اور سستا نشہ کرنے کے عادی نہیں لہذا افیم کے نشے سے وہ بے خبر تھے مگر اس کی تجارت سے نہیں۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے ہندوستان میں چین کو افیم کی برآمد وہی اہمیت رکھتی ہے جو اسکاٹ لینڈ کے لیے وہسکی اور ہمارے لیے کبھی جوٹ اور کچھ عرصے پہلے تک روئی کی ہوتی تھی۔ برطانیہ اسکاٹ لینڈ کی وہسکی کی ملکی و غیرملکی فروخت سے سالانہ سوا چار بلین پائونڈ کماتا ہے۔

کمپنی بہادر کا بنگال سے افیون کی تجارت پر مکمل کنٹرول تھا۔ مالوے کی عمدہ افیون البتہ کراچی سے ہندو پارسی میمن اور گجراتی اسمگل کیا کرتے تھے۔ وہ اسے اسمگلنگ نہیں سمجھتے تھے بالکل ایسے ہی جس طرح افغان ٹرانزٹ کا مال کے۔ پی۔ کا تاجر اسمگلنگ نہیں سمجھتا۔

سنہ 1803 میں اس وقت کے گورنر جنرل Wellesley کو ایک رپورٹ پیش کی گئی کہ کراچی سے اسمگل ہونے والی افیون کی وجہ سے بنگال کی افیون کی درست قیمت نہیں مل پا رہی۔ گورنر جنرل کا چینی کے کارخانوں یا دوائوں والی مافیا سے کوئی اے ٹی ایم والا رشتہ نہ تھا لہذا فوری طور کمپنی بہادر حرکت میں آگئی اور ایک سرکاری ادارہ Malwa Opium Agency’ ‘قائم کر دیا گیا جس نے کسٹم اور اینٹی اسمگلنگ ممبئی پورٹ پر انتظامات مزید سخت کردیے دیگر اقدامات کی بھی کوشش کی گئی مگر چونکہ مالوا کے علاقے پالی سے جودھپور، جیسلمیر، امر کوٹ، حیدرآباد، کراچی کا معاملہ وہی تھا جو بلوچستان اور سندھ میں ایرانی ڈیزل کا ہے۔ ہر طرح کے مقامی طاقتور حصے دار شامل تھے لہذا خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی۔ افیون کے بکسزکراچی سے بادبانی کشتیوں کے ذریعے دمن دیو (گوا) اور وہاں سے مکائو، ہانگ کانگ، شنگھائی۔ سندھ اور کراچی انگریزوں کے کے قبضے میں آنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ بنگال کی بجائے کراچی افیون کی برآمد کا مرکز بن گیا۔

سندھ اس زمانے میں تین میروں، میر آف خیر پور، میر آف حیدرآباد اور میر آف میرپور کے زیر انتظام تھا۔ اس ریاست کی مرکزی حیثیت میں زبان کے علاوہ ان میروں کی آپس میں تعلق داریاں اور مسلکی یگانگی بھی ایک اہم قدر مشترک تھی۔ 1831 میں انگریز نے ان کو سیاسی طور پر اس وقت آزمایا جب بادشاہ ولیم چہارم نے اپنے سفیر الیگزنڈر برنس کے ذریعے رنجیت سنگھ کو تحفے میں گھوڑے کراچی سے ٹھٹھہ دریائی راستے سے بھجوانے کی کوشش کی۔ اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ دریا کے کنارے آباد بستیوں اور ان کی تجارتی افادیت اور بود باش اور فوجی طاقت کا ایک جائزہ لے سکے۔ تینوں میر اس کے مخالف تھے۔ رنجیت سنگھ نے ناراضگی کے اظہا ر کے ساتھ فوج کشی کی دھمکی دی تو وہ مان گئے۔ سفیر برنس نے اس روٹ کی افادیت کے بارے میں مثبت رپورٹ دی تو میروں کے ساتھ اگلے برس ایک معاہدہ طے پایا جس کی رو سے سندھ کے زمینی اور آبی راستے خالص تجارتی مقصدکے لیے انگریزوں کو استعمال کی اجازت دے دی گئی۔ انگریزوں نے اندازہ لگا لیا کہ سندھ کے میروں میں رنجیت سنگھ کی جناب سے فوج کشی کا شدید خوف ہے اس لیے ایک معاہدے کے تحت تین سال بعد ایک ریذنٹ ایجنٹ حیدرآباد میں تعینات ہو گیا۔ جس کا بظاہر مقصد پنجاب اور سندھ کے تعلقات میں بہتری تھا۔ یہ سندھ پر قبضے کی باقاعدہ ابتدا تھی۔

اس دوران سندھ کےمیروں کے ساتھ ایک اور بڑا ہات ہوا۔ جب افغانستان میں انگریزوں کی مدد سے شاہ شجاع درانی کی حکومت دوبارہ قائم ہوئی تو اس کے نتیجے میں کیے جانے والے معاہدے میں رنجیت سنگھ کے علاوہ سندھ کے میروں کو بھی زبردستی شامل بھی کیا گیا اور ان سے شاہ شجاع کے نام پر پچیس لاکھ روپے بھی وصول کیے گئے۔ اس معاہدے کی ایک خفیہ شق یہ بھی تھی کہ افغانستان تک ان کا افواج اور اسلحہ سندھ کے راستے جائے گا۔ اس پر میر آف خیرپور معترض رہے تو چند ماہ بعد دسمبر 1838 میں زبردستی ایک ایسی دستاویز پر دستخط کرائے گئے جس کے تحت خیرپور اسٹیٹ تاج برطانیہ کے تابع قرار پائی۔ میر نصیر خان ٹالپر آف حیدرآباد اس معاہدے سے شدید ناخوش تھے۔ ان کی اس ناراضگی کے سدباب کے طور پر برطانوی بحریہ کا جہاز  ایچ ایم ایس Wellesley کراچی کے جزیرے منوڑہ کے قریب لنگر انداز ہوا اور دو دن کے اندر بغیر کسی بڑی فوج کشی کے انگریزوں نے فروری 1839 کو کراچی پر قبضہ کرلیا۔ یوں بھی میروں کو کراچی میں کوئی خاص دل چسپی نہ تھی۔ ان کا دار الحکومت یہاں سے سو میل دور حیدرآباد تھا۔ دو سال کے اندر میرپور خاص اور حیدرآباد کے میر یعنی تینوں میروںنے معاہدوں کے ذریعے سندھ کی عنان حکومت انگریز کو سونپ دی تھی۔

حیرت انگیز طور پر افغانوں سے سنہ 1842 کی جنگ میں انگریزوں کا ساتھ میروں نے بھی دیا تھا۔ شکست کے بعد جب ایران سے نکالے ہوئے اسمعیلیوں کو افغانستان سے فرار ہونا پڑا تو وہ ٹھٹھہ کے پاس جھرک میں آباد ہوئے تھے۔

جھرک ہی وہ علاقہ ہے جہاں جناح صاحب بھی پیدا ہوئے تھے۔ جناح مقامی بولی میں لفظ جھیں ڑا کا انگریزی ورژن  Jinnah  ہے جس کا مطلب منحنی یا بے حد دبلا پتلا ہے۔ گجرات کاٹھیاواڑ کے لوگوں میں شخصیت کا کوئی نمایاں پہلو ذات بھی کی شناخت بن جاتا ہے جیسا ایدھی (بمعنی کام چور، پردیسی، غریب، ٹیسٹی)، اسی طرح ان کے والد چونکہ جھرک میں اسمعیلی جماعت کے خزانچی تھے اس لیے ہندی گجراتی لفظ پونجی سے پونجیا کہلائے۔ سندھی ٹیکسٹ بک بورڈ کی درسی کتب میں سنہ ساٹھ کی ابتدائی تک اور بعد میں  جی۔ الانا جو خود بھی اسمعیلی تھے اور جناح صاحب کے ذاتی دوست تھے ان کی کتاب جناح اسٹوری آف اے نیشن میں بھی درج ہے کہ وہ جھرک میں پیدا ہوئے تھے۔

مشہور صحافی اردشیر کائوس جی بھی اس بات کا اقرار کرتے تھے۔ جن کے گھر جناح صاحب سے ان کے والد فقیر رستم جی کائوس جی سے دوستی تھی۔ یہ باتیں گجراتی بزرگوں میں عام تھیں یہ بزرگ گاندھی جناح صاحب، ولبھ بھائی پٹیل اور مرارجی بھائی ڈیسائی اور امبڈیکر صآحب کے دوست تھے۔ تاریخ کو اتنا ڈرائی کلین انداز میں برتنے کے عادی نہ تھے۔

مورخ اختر بلوچ لکھتے ہیں کہ جناح صاحب کی دوست سروجنی نائڈو نے جناح صاحب کی پہلی سوانح حیات لکھی اور اس کتاب کے مطابق ان کی تاریخ اور جائے پیدائش مسلسل بدلتی رہی۔ اس میں اس دور کی طاقت ور بیوروکریسی کا بھی بڑا رول ہے۔ انتہا پسند حلقے اس سلسلے میں حیدر آباد کے کمشنر مسرور حسن خان کا نام لیتے ہیں جو جھرک ٹھٹہ سے ان کے الزامات کی روشنی میں سب ریکارڈ لے گئے تھے۔ ضلع ٹھٹھہ اور جھرک دونوں کمشنر حیدرآباد کے زیر انتظام تھے جب کہ ان کی پیدائش کے وقت وزیر منیشن تو تعمیر بھی نہ ہوا تھا۔ سندھ میں انگریزوں کی مدد کے بعد اسمعیلی ٹھٹھہ سے ممبئی منتقل ہو گئے۔

آغا خان دوم کی شادی اور قیام ڈیفنس کراچی میں اس ٹھیکری پر رہا جس کو ہنی مون لاج کہا جاتا ہے۔ اسی اہم علاقے کو کراچی کا سرگوشیوں میں ڈیفنس فیز تھری مانا جاتاہے۔ یہیں ہز ہائی نیس سلطان محمد آغا خان سوئم سنہ 1877 میں پیدا ہوئے جن کا تحریک پاکستان میں بڑا حصہ ہے۔ وہ مسلم لیگ کے پہلے صدر تھے اور بڑی باکمال علم دوست شخصیت کے مالک تھے۔ برطانوی اشرافیہ اور مقتدر حلقوں کے بہت قریب تھے۔ انگریزوں کو یہ باور کرانے میں کہ مسلمانان ہند کے لیے پاکستان کی علیحدہ مملکت کی تشکیل ناگزیر ہے ان کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

Latest posts by اقبال دیوان (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 91 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan