‘وہ حسین ہے، ذہین ہے لیکن انڈین ہے’ اور تین سال کا خفیہ رشتہ ٹوٹ گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک انڈین طالبہ نے بارڈ کی حیثیت سے ویلز میں پزیرائی حاصل کی اور یونیورسٹی کالج لندن سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔

اگرچہ نسلی تعصب نے ان کے تین سالہ تعلقات کو ایک دل دہلا دینے والے خاتمے تک پہنچایا لیکن وہ پھر بھی گھر واپس نہیں گئیں۔

ڈوروتھی بینرجی پیدائشی طور پر انڈین تھیں لیکن ان کی پرورش انگلش تھی، شادی سے وہ فرانسیسی تھیں لیکن دل ان کا ویلش تھا۔

دوسرے الفاظ میں وہ ہمیشہ باہر والی رہیں اور مقامی نہیں بن سکیں، کبھی اتفاق سے اور کبھی اپنے انتخاب سے۔ یہاں تک کہ سنہ 1914 میں ان کی سب سے بڑی کامیابی کا لمحہ جب انھوں نے چھوٹی عمر میں ہی ویلز کے سب سے اعلیٰ ثقافتی انعاموں میں سے ایک حاصل کیا تھا، ان کو وہ مقام نہ دلا سکا جس کی وہ حقدار تھیں۔ اور اس کی واضح وجہ ان کا ویلش نہ ہونا تھا۔

انڈیا میں ڈوروتھی بینرجی کا خاندان اپنے درجے، تہذیب و ثقافت اور مذہب کے لحاظ سے بہت نمایاں تھا۔ وہ اعلیٰ ذات کے بنگالی برہمن تھے، لیکن ڈوروتھی نے اپنا بچپن بنگال سے سینکڑوں میل دور نیپال کے ساتھ ہندوستان کی سرحد کے قریب رام پور میں خاندانی اسٹیٹ پر سادگی سے گزارا۔ یہ خاندان مسیحی بھی تھا۔ ان کے دادا نے کلکتہ (اب کولکتہ) میں سکاٹش پادری کی حیثیت سے مشہور سکاٹش مشنری الیگزینڈر ڈف کے ذریعہ تبدیلی مذہب کے بعد خدمات انجام دی تھیں۔

ڈوروتھی کی زندگی 1904 میں اس وقت بالکل بدل گئی جب انھیں اپنے بھائیوں برٹی اور نیل کے ساتھ سکول کی تعلیم کے لیے لندن بھیج دیا گیا تھا۔ اس وقت وہ صرف 10 سال کی تھیں۔

ڈوروتھی کے والدین نے برطانیہ میں وقت گزارا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ان کے بچے بھی ان ہی کی طرح ‘انگلینڈ ریٹرنڈ’ ہوں جو کہ سامراجی طاقت کی طرف سے انڈیا چلانے والوں میں شامل ہوں۔

بینرجی خاندان کے ایک رکن کے مطابق انڈین اشرافیہ کے درمیان ان کے برطانوی تجربے کی وجہ سے انھیں ‘ایک قسم کی برتری اور امارت کا رتبہ حاصل تھا۔’

تینون کمسن بینرجی جب لندن پہنچنے تو اس وقت کی ایک تصویر آج بھی موجود ہے۔ ڈوروتھی سفید لباس میں ملبوس اپنے بالوں میں سیاہ رنگ کا ربن ڈالے نظر آرہی ہیں۔ برٹی، ان کا بڑا بھائی سوٹ اور ٹائی میں ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ وہ کتنے انگریز ہیں حالانکہ آس پاس کی دنیا انھیں ہمیشہ انڈین کی حیثیت سے دیکھتی رہی۔

ڈوروتھی کے والد ایک بیرسٹر ہونے کے ساتھ ساتھ زمیندار بھی تھے۔ وہ شاید اپنی والدہ کے قریب تھیں جو لڑکیوں کی تعلیم کی وکالت کرتی تھیں۔ دونوں بیٹی اور والدہ خواتین کے حقِ رائے دہی کی بہت بڑی حامی تھیں۔ اور اپنی والدہ کی بدولت ڈوروتھی کو ایک ایسا اعزاز حاصل ہوا جو ایک صدی قبل برطانیہ یا انڈیا میں شاذو نادر کے زمرے میں آتا تھا اور وہ یہ کہ وہ اتنی ہی زبردست تعلیم حاصل کر رہی تھی جتنی کہ ان کے بھائی۔

‘انگلینڈ ریٹرنڈ انڈینز’ نامی کتاب کی مصنفہ اور برسٹل یونیورسٹی میں استاد ڈاکٹر سمیتا مکھرجی کا کہنا ہے کہ ‘پہلی جنگ عظیم کے وقت برطانوی یونیورسٹیوں میں تقریباً ایک ہزار انڈین طلبا موجود تھے۔ اور ان میں سے 50 سے 70 کے درمیان خواتین تھیں۔’

سنہ 1912 میں ڈوروتھی بینرجی بھی خواتین کے اس گروپ میں شامل ہوگئیں۔ اہل خانہ ڈوروتھی سے لندن یونیورسٹی جانے کی توقعہ رکھتے تھے۔ لیکن خاندانی کہانیوں کے مطابق انھوں نے لندن کو زیادہ ‘سنوبش’ یعنی گھمنڈی پایا اور اس کے بجائے انھوں نے بڑے پیمانے پر ویلش بولنے والے ساحلی شہر ایبرسٹ ود میں یونیورسٹی کالج آف ویلز کا انتخاب کیا۔

کہا جاتا ہے کہ اس خبر پر ان کے والد نے چِڑ کر پوچھا کہ ‘یہ جگہ آخر کہاں ہے؟’ لیکن ڈوروتھی نے اپنی راہ لی۔ اور ان کے بھائی برٹی کو بھی وہیں داخلہ لینا پڑا، شاید اپنی بہن کی نگرانی کے لیے ہی۔

ہوسکتا ہے کہ ڈوروتھی کے اس فیصلے کے پس پشت کالج کی ترقی پسندی کی ساکھ رہی ہو۔ ایبرسٹ ود یونیورسٹی میں ایک آرکائیوسٹ اور مؤرخ ڈاکٹر سوزن ڈیوس کا کہنا ہے کہ ‘ایبرسٹ ود میں یونیورسٹی کالج کے قیام کا ایک بنیادی اصول یہ تھا کہ ہر قسم کے مذہبی اور ثقافتی پس منظر کا خیر مقدم کیا جائے۔’

اور یہ کالج جو یونیورسٹی آف ویلز بنانے والے تین سب سے قدیم کالجوں میں شامل ہے وہاں صنفی مساوات کا متاثر کن ریکارڈ تھا۔ جب ڈوروتھی وہاں پہنچیں تو طالب علموں میں تقریباً نصف خواتین تھیں جو اس وقت کی زیادہ تر برطانوی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تناسب تھا۔ سنہ 1916 میں ان کی گریجویشن کی تقریب کے وقت تک جب بہت سارے مرد فلینڈرز اور فرانس میں لڑ رہے تھے تو کالج میں خواتین واضح اکثریت میں تھیں۔

ڈوروتھی واضح طور پر ایک مقبول طالبہ تھیں جنھوں نے ادبی اور ڈیبیٹنگ سوسائٹی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ کالج کے جریدے کی ادارت میں بھی مدد کرتی تھیں۔ ان کا بڑا لمحہ فروری سنہ 1914 میں کالج کے سالانہ ایسٹیڈ فاڈ تقریب میں آیا جو ویلز ثقافت کا ایک جشن تھا جس میں مصنفین اور موسیقار انعامات کے لیے مقابلہ کرتے تھے۔ اگرچہ یہ قومی ایسٹیڈ فاڈ کی طرح زیادہ اہمیت والا نہیں تھا لیکن یہ ملک کے ویلش بولنے والے علاقوں میں ایک بڑی ثقافتی تقریب تھی۔

روایتی ویلش طرز میں شاعری کے اہم مقابلے میں فاتح کے لیے ہاتھ سے کندہ شاہ بلوط کی شاندار کرسی جیتنے کا موقع تھا۔ تمام نظمیں تخلص یا اختیاری نام کے تحت جمع کروائی گئیں۔ ایک ویلش اخبار کیمبریا ڈیلی لیڈر نے اپنے پہلے صفحے پر لکھا کہ جب فاتح کا اعلان کیا گیا تو ایک ہندو خاتون نے اس یادگار موقعے پر کرسی حاصل کی۔

انگریزی زبان میں ایک نظم لکھنے کے لیے ‘شیٹا’ کو سب سے اعلیٰ مقام دیا گیا اور کہا گیا کہ اس میں موضوع کو انتہائی شاندار اور ڈرامائی انداز میں پیش کیا گيا ہے۔۔۔ اور جب ‘شیٹا’ کے نام کے اعلان کے ساتھ مس بینرجی اپنا ایوارڈ لینے کے لیے کھڑی ہوئيں تو لوگوں نے کھڑے ہوکر ان کے لیے تالیاں بجائیں اور پھر کرسی پر بٹھانے کی تقریب پورے جوش و خروش سے ہوئی۔

ڈوروتھی کے والدین اپنی 19 سالہ بیٹی کی کامیابی دیکھنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ ان کے والد نے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے کس طرح ‘مختلف نسل اور ملک سے تعلق رکھنے والی کی کامیابی’ پر حوصلہ افزائی کی۔ انھوں نے کہا کہ اگر انڈیا نے کسی شاعر کو جنم دیا ہے تو ویلز نے اسے تعلیم دی اور اسے اپنی شاعری کو پروان چڑھانے کا موقع فراہم کیا۔

ڈوروتھی بینرجی کالج ایسٹیڈ فاڈ میں پہلی غیر ملکی طالب علم اور کامیابی حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ یہ ایک تاریخی کارنامہ تھا۔ قومی سطح پر ایسٹیڈ فاڈ میں کرسی جیتنے والی پہلی خاتون تقریباً سو سال بعد سنہ 2001 میں ہی سامنے آئیں۔

اپنی کامیابی سے حوصلہ پاکر انھوں نے دی ویلش آؤٹ لک نامی ماہانہ رسالے میں اپنی نظمیں بھیجیں۔ یہ رسالہ ویلز کی ثقافتی قوم پرستی کی عکاسی اور حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ یہاں تک کہ ویلز چھوڑنے کے بعد بھی ان کی نظمیں وہاں شائع ہوتی رہیں۔

ان کی بھانجی شیلا بینرجی کا کہنا ہے کہ ‘وہ ویلش سے محبت کرتی تھیں۔ وہ ویلش نہیں بول سکتی تھیں۔ لہذا وہ اس لحاظ سے ہمیشہ باہر والی رہیں۔ لیکن ان لوگوں نے انھیں قبول کیا۔’

تاہم ڈوروتھی کو ایبروسٹ ود میں جہاں شہرت ملی وہیں ان کا دل بھی ٹوٹا۔ شیلا بینرجی کے پاس ابھی تک ان کی ایک خستہ حال کالی ڈائری موجود ہے جس میں وہ اپنی نظمیں لکھا کرتی تھیں۔ ایک نظم کے ساتھ ڈوروتھی کا ایک نوٹ لکھا ہوا تھا: ’22 سال کی عمر میں لکھی گئی، جب تین سال کے پوشیدہ رشتے کے بعد ایک ویلش طالب علم نے مجھے چھوڑ دیا کیونکہ اس کے والدین نے کہا تھا کہ ‘وہ بہت حسین اور ذہین ہے لیکن وہ انڈین ہے۔’

شیلا کہتی ہیں کہ ‘اس نے انھیں چکنا چور کر دیا۔ وہ بہت پریشان ہو گئی تھیں۔ ایک نظم ہے جو ان کے بوائے فرینڈ کے کھو جانے کا احساس دلاتی ہے۔’ اس نظم کا نام ‘ریننسی ایشن’ ہے۔

Renunciation

So I must give thee up – not with the glow

Of those who losing much yet rather gain.

But losing all. Did never martyr go

Along the bleeding road of useless pain

Did never one held prisoner by a creed,

Obsessed by stern heroic ghosts, made dumb

By those who answered duty to his need,

With faithless loathing feet to his fate come

ڈوروتھی کو ‘آؤٹسائیڈر’ رہنے کی عادت تو ہو گئی تھی لیکن اس طرح سب سے مختلف رہنے کی ایک بہت تکلیف دہ قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔

ان کے بھائی نیل کو جنھوں نے بعد میں آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کی، وہاں تعصب کی ایک دیوار کا سامنا ہوا۔ انھوں نے لکھا کہ ‘یہ ضرور کہنا چاہیے کہ عام طور پر انڈینز، اور دوسرے رنگ و نسلیں، یونیورسٹی میں مقبول نہیں تھیں۔’ ان کے ساتھ والے دوسرے انگلش طالب علموں کے پاس وہ تھا ‘جو میرے پاس نہ تھا، جسے سلطنت کہا جا سکتا ہے۔ یہ ان کے پاس تھی جبکہ میں صرف اس سے تعلق رکھتا تھا۔’

ڈوروتھی دلیر تھیں۔ وہ ایبرسٹ ود سے اپنے بھائی برٹی کے ساتھ لندن آ گئیں، جہاں دونوں نے ایک سیکنڈ ڈگری کورس کیا۔ یہاں بھی وہ سب سے آگے تھیں۔ یونیورسٹی کالج لندن میں وہ پہلی خاتون تھیں جنھوں نے قانون کی ڈگری حاصل کی ہو۔ ان کے خاندان کو توقع تھی کہ ان کے بچے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انڈیا واپس جا کر وہاں زندگی گزاریں گے۔ ان کے بھائی تو والدین کی بات مانتے ہوئے فرمانبرداری سے بحری جہاز میں بیٹھ گئے لیکن ڈوروتھی نے بغاوت کر دی۔

وہ دو ثقافتوں اور سماجی اقدار کے درمیان پھنس گئی تھیں۔ وہ ایک آزاد روح تھیں اور عورتوں کی برابری کے لیے پر عزم تھیں۔ ان کو انڈیا میں خاندان کی طرف سے طے پائی گئی شادی کے لیے تیار کرنا آسان نہیں تھا۔ لہذا وہ ایک فرانسیسی آرٹسٹ پال سرتل کے ساتھ بھاگ گئیں۔

ان کے والد بہت برہم ہوئے۔ لیکن بظاہر ان کی والدہ نے انھیں سمجھا۔ دونوں نے 1921 میں شادی کر لی اور جنوبی فرانس میں بس گئے۔ اگرچہ سرتل نے بطور ایک مصور کافی نام کمایا لیکن ان کی بیوی زیادہ تر لوگوں کی نظروں سے دور رہیں۔ ان کے دو بچے ہوئے جس میں سے ایک لڑکے کی بہت چھوٹی عمر میں موت ہوگئی۔ تاہم ان کی شادی 1930 کی دہائی میں ختم ہو گئی۔ ڈوروتھی نے لکھا کہ ‘اخلاقی طور پر کمزور شوہر سے زیادہ تھکا دینے والی اور کوئی شے نہیں ہے۔’

ان کے خاندان نے ان کی منتیں کیں کہ وہ واپس انڈیا آ جائیں۔ لیکن انھوں نے پھر انکار کر دیا۔ شاید اس فیصلے ےا بعد انھیں افسوس بھی ہوا تھا۔ ڈوروتھی کی مالی حالت بہتر نہ تھی اور آخر کار ان کے والد نے انھیں پروونس کے علاقے گونفیرون میں انگور کا چھوٹا باغ خرید کر دیا جس میں وہ رہیں بھی اور اس سے ان کا گزر بسر بھی ہوا۔ ایسی زندگی کا انھوں نے سوچا بھی نہیں تھا اور انھوں نے پھر کبھی شادی نہیں کی۔

شیلا بینرجی بھی اپنی پھوپھی کی طرح 1950 کی دہائی میں انڈیا سے لندن آ گئی تھیں اور اس کے بعد کئی مرتبہ جنوبی فرانس گئیں۔ وہ اپنی پھوپھی ‘آنٹی ڈورف’ کو ایک نہایت نفیس اور غیر روایتی خاتون کے طور پر یاد کرتی ہیں۔ شیلا کہتی ہیں کہ کچھ لحاظ سے وہ کافی فرانسیسی تھیں۔ ‘وہ ہر کھانے کے ساتھ وائن پیتی تھیں، جو میرے لیے بطور ایک انڈین بڑا عجیب تھا اور کئی مرتبہ میں سوچتی کہ میں کیوں تمام دن غنودگی کی حالت میں رہی۔’ لیکن وہ فرانسیسی ذرا زور ڈال کر بولتی تھیں۔

ڈوروتھی بینرجی نے تمام عمر اپنے ویلش دوستوں سے رابطہ رکھا۔ انھوں نے اپنے بوڑھاپے میں اپنی یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا۔ شیلا بینرجی کہتی ہیں کہ 40 سال پہلے ‘میں ان کے ساتھ ایبرسٹ ود گئی تھی، اور شاید اس وقت وہ 80 کے پیٹے میں ہوں گی۔ یہ ان کے لیے ایک اہم دورہ تھا، کہ اپنی یادیں اکٹھی کریں۔’

اب ان کا نام ڈکشنری آف ویلش بائیوگرافی میں شامل کیا گیا ہے، جو کہ 5,000 ناموں میں سے واحد نام ہے جس کا تعلق انڈیا سے ہے۔ اسے یونیورسٹی آف ایسیکس کی ڈاکٹر بیتھ جینکنز نے لکھا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘ڈوروتھی نے یقیناً ویلش ثقافت کو اپنایا تھا اور انھوں نے ایبرسٹ ود میں اپنے قیام کے دوران اس میں نمایاں حصہ ڈالا تھا۔

ڈوروتھی تقریباً 90 سال زندہ رہیں۔ لیکن جوانی میں وہاں سے نکلنے کے بعد وہ کبھی انڈیا واپس نہیں گئیں۔ تاہم انڈیا سے تعلق ان کے لیے ہمیشہ اہم رہا۔ اہم دنوں اور چھٹیوں کے دوران وہ اپنے ہمسائیوں کے سامنے ساڑھی پہن کر آتیں۔ لیکن کئی طرح سے وہ ایک انڈین سے زیادہ فرانسیسی، زیادہ انگلش، اور شاید زیادہ ویلش تھیں۔ اور ہر جگہ وہ ہمیشہ ایک ‘آؤٹ سائیڈر’ (باہر والی) تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17380 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp