بچوں کا جنسی استحصال: ’میری ماں نے کہا مرد مرد کے ساتھ سیکس کیسے کر سکتا ہے‘

کریم الاسلام - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکرم خان، جنسی ہراسانی، جنسی استحصال، پاکستان
BBC
'جب صبح میری امی اور ابو دفتر چلے جاتے تھے تو پھر ہمارا ملازم میرے ساتھ (جنسی عمل) کیا کرتا تھا۔ یہ کام وہ ہر دوسرے تیسرے دن کرتا تھا۔ یہ سلسلہ آٹھ سال چلا۔‘
قدموں کی آواز دروازے پر آ کر رُک گئی۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر دروازے کا ہینڈل گھوما۔ دروازہ آہستہ آہستہ کُھلا۔ 18،19 سال کا ایک لڑکا کمرے میں داخل ہوا اور چلتا ہوا بستر کے قریب آ کر رُک گیا۔ پھر وہ بیڈ پر موجود چار سالہ بچے کے ساتھ آ کر لیٹ گیا۔

بچہ خاموش رہتا ہے جیسے کچھ سمجھ نا پا رہا ہو کہ کیا ہو رہا ہے۔

لڑکا بچے کے پوشیدہ حصوں کو چُھوتا ہے اور پھر اُس کے ساتھ جنسی عمل کرتا ہے۔ کچھ دیر بعد وہ اُسی طرح کمرے سے باہر چلا جاتا ہے جیسے داخل ہوا تھا۔

اُس بچے کا نام اکرم خان تھا جو آج تقریباً نصف صدی بعد بھی وہ دن یاد کرتا ہے تو اُس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں کا جنسی استحصال کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن ساٹھ سالہ اکرم خان آج پہلی بار بچپن میں اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی کہانی دنیا کو سُنانے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شام: غذائی امداد کے بدلے ‘جنسی استحصال‘

امریکی ڈاکٹر نے ’265 لڑکیوں کا جنسی استحصال کیا‘

پاکستان میں ’سیکس اوفینڈر رجسٹر‘ کیوں موجود نہیں؟

جنسی استحصال کے الزامات کے بعد لارڈ نذیر برطانوی پارلیمان سے ریٹائر

نظر میں رہتے ہو جب تم نظر نہیں آتے

کراچی میں پیدا ہوئے اکرم خان کے والدین لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ دونوں ملازمت کرتے تھے اور اکرم کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نوکروں پر تھی۔

اُن دِنوں کو یاد کرتے ہوئے اکرم خان گلوگیر لہجے میں بتاتے ہیں کہ اُن کا اپنے والدین سے تعلق کچھ اِس گیت کے بول جیسا تھا ’نظر میں رہتے ہو جب تم نظر نہیں آتے۔‘

’جب صبح میری امی اور ابو دفتر چلے جاتے تھے تو پھر ہمارا ملازم میرے ساتھ (جنسی عمل) کیا کرتا تھا۔ یہ کام وہ ہر دوسرے تیسرے دن کرتا تھا۔ یہ سلسلہ آٹھ سال چلا۔‘

اکرم خان، جنسی ہراسانی، جنسی استحصال، پاکستان

BBC
چار سال کے اکرم خان میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ والدین کو بتا سکیں کہ اُن کے جانے کے بعد گھر میں کیا ہوتا ہے

ایسے ہی ہوتا ہے

اکرم خان کے بقول اُس وقت وہ اتنے کم عمر تھے کہ سمجھ نہیں پاتے تھے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔ وہ اِس سب کو کوئی نام نہیں دے پاتے تھے۔

’وہ ملازم مجھے کہا کرتا تھا کہ یہ بالکل نارمل ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے۔ میں یہ سمجھتے ہوئے بڑا ہوا کہ ایسا سب بچوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور ہر بچے کا ایک راز ہوتا ہے جو وہ کسی دوسرے کو نہیں بتاتا۔‘

اکرم خان بتاتے ہیں کہ اُن کے ساتھ یہ سلوک کرنے والا صرف ایک ملازم نہیں تھا بلکہ اُس عرصے میں ایک کے بعد ایک کئی افراد ملازم رکھے گئے تھے۔

’ہوتا یہ تھا کہ جب ایک ملازم جانے لگتا تھا تو وہ اپنی جان پہچان کے دوسرے شخص کو رکھوا دیتا تھا۔‘ یوں ان کے مطابق جنسی استحصال کا سلسلہ بھی چلتا رہتا تھا۔

کسی کو نہیں بتانا

چار سال کے اکرم خان میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ والدین کو بتا سکیں کہ اُن کے جانے کے بعد گھر میں کیا ہوتا ہے۔

’ملازم کہتے تھے کہ ماں باپ سے اِس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی ہے۔ میں بھی ڈرتا تھا کہ کہیں وہ والدین کو کچھ نا بتا دیں۔ میں سمجھتا تھا کہ شاید میں ہی کچھ غلط کر رہا ہوں۔‘

اکرم خان کے مطابق جنسی عمل کرنے والے لوگ اُن کے دماغ میں یہ بات ڈالتے تھے کہ یہ سب کچھ وہ خود کرنا چاہتے ہیں اور یہ عمل اُن کی جنسی تسکین کے لیے کیا جا رہا تھا۔

‘مجھے یاد ہے ہر دفعہ میں واش روم جا کر بار بار اپنے آپ کو صاف کیا کرتا تھا۔ مجھے یہ گمان ہو گیا تھا کہ شاید میں ناپاک ہو گیا ہوں۔‘

آٹھ کیسز روزانہ

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں روزانہ آٹھ بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’ساحل‘ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں بچوں سے جنسی استحصال کے 1489 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ساحل کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر منیزے بانو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تعداد پچھلے سال کے اِسی دورانیے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

’بچوں سے جنسی ہراسانی کے واقعات دنیا بھر میں رونما ہوتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کمزور ہوتے ہیں اور اُن کے ساتھ ہراسانی کرنا نہایت آسان ہے۔ لیکن ہراسانی کے کیسز کی تعداد میں اضافہ اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب ایسے واقعات کو زیادہ رپورٹ کیا جا رہا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔‘

بچوں کے جنسی استحصال کی کیا نشانیاں ہیں؟

ماہرین کے مطابق جنسی ہراسانی یا استحصال کا بچوں پر سب سے پہلا اثر رویوں میں تبدیلی کی صورت میں نظر آتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ بچوں کی عادات و اطوار پر مسلسل نظر رکھی جائے۔

ماہرِ نفسیات عمارہ بتول کے مطابق ہراسانی کا شکار بچہ اکثر کھویا کھویا رہنا شروع کر دیتا ہے اور اُس کی خود اعتمادی بھی متاثر ہوتی ہے۔

’بچے میں شرمندگی کا احساس ہوتا ہے۔ ایسے بچے رشتے نبھانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ مثلاً وہ دوست بنانے سے کتراتے ہیں اور دوسروں پر اعتماد کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔‘

عمارہ بتول کی رائے میں کچھ اور نشانیاں بھی ہیں جن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

’مثلاً اگر بچہ اپنے کھلونوں کے ذریعے مختلف جنسی ایکٹس تخلیق کر رہا ہے یا اگر وہ اپنی عمر سے زیادہ جنسی رویوں کے بارے میں معلومات رکھتا ہے تو یہ بھی ایک نشانی ہو سکتی ہے کہ اُس کے ساتھ جنسی استحصال ہو رہا ہے۔‘

اکرم خان، جنسی ہراسانی، جنسی استحصال، پاکستان

BBC
‘یہ سب میری شخصیت پر ایک زخم چھوڑ گیا۔ وہ ایک کمی کا احساس تھا۔ میں ایک ‘مِس فٹ’ تھا، ہر جگہ، سکول میں اور دوستوں کے درمیان بھی۔’

خودکشی کی کوشش

مسلسل آٹھ سال تک جنسی استحصال کا اثر اکرم خان کی مجموعی زندگی اور شخصیت پر بھی پڑا۔

’یہ سب میری شخصیت پر ایک زخم چھوڑ گیا۔ وہ ایک کمی کا احساس تھا۔ میں ایک ’مِس فٹ‘ تھا، ہر جگہ، سکول میں اور دوستوں کے درمیان بھی۔‘

اکرم خان کہتے ہیں کہ ذہنی انتشار کے باعث انھوں نے خودکشی کی کوشش بھی کی۔

’یہ میں نے اِس لیے کیا کیونکہ مجھے لگا کہ اب میں اور برداشت نہیں کر سکتا تھا۔‘

میں کیا ہوں؟

ہر لڑکے کی زندگی میں ایک دور ایسا بھی آتا ہے جب وہ دوسرے لڑکوں سے جنسِ مخالف اور سیکس کے بارے میں تجربات شیئر کرتا ہے۔ زندگی کے اُس مرحلے پر اکرم خان اپنی جنس اور جنسی رجحان کے بارے میں کنفیوژن کے شکار ہو گئے۔

’لڑکے بات کرتے تھے کہ ایسا ہوتا ہے ایسا ہوتا ہے۔ میں یہ سب سُن کر سوچا کرتا تھا کہ ارے ایسا تو لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہ سب تو میرے ساتھ ہوا تھا۔ کیوں ہوا؟َ کیا میں عورت ہوں یا مرد ہوں؟‘

اکرم خان کے بقول بچپن میں جنسی استحصال کا اثر اُن کی شادی شدہ زندگی پر بھی پڑا اور اب بھی وہ لمحات ان کے ذہن میں فلم کی طرح چلنے لگتے ہیں۔ ’جنسِ مخالف کے ساتھ جسمانی قربت اور جنسی تعلق میرے لیے اب بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔‘

یہ کون سی بڑی بات ہے؟

اپنے زمانے کا مشہور ٹی وی پروگرام ’اوپرا ونفرے شو‘ مشکل موضوعات پر کُھل کر بات کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔ ایک بار جب اِس شو پر بچوں کے جنسی استحصال کے موضوع پر بات کی گئی تو اکرم خان نے اپنے والدین کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔

’میری امی حیرت زدہ رہ گئیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ مرد بھی مرد کے ساتھ سیکس کر سکتا ہے۔‘

اکرم خان کے والد کا ردِعمل بھی کچھ کم حیران کُن نہیں تھا۔

’میرے ابو کا جواب تھا کہ یہ کون سی بڑی بات ہو گئی۔ ہمارے گاؤں میں تو یہ عام چیز تھی۔ بہت سے بچوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔‘

اکرم خان، جنسی ہراسانی، جنسی استحصال، پاکستان

BBC

زندگی بھر کا روگ

ماہرین کے مطابق بچوں کو تحفظ کا سب سے مضبوط احساس ماں باپ کی طرف سے ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنسی استحصال کے شکار کچھ بچے اپنے ساتھ ہونے والے استحصال کے لیے والدین کو موردِ الزام ٹہراتے ہیں۔ ماہرِ نفسیات عمارہ بتول کے بقول بچے کو ہراسانی کے اثرات سے نکلنے میں وقت لگتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ والدین اُس کا ساتھ دیں۔

’ماں باپ کو چاہیے کہ وہ بچے کے ساتھ وقت گزاریں اور ایسا ماحول تشکیل دیں کہ وہ ایک بار پھر اُن پر اعتماد کر سکے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کو باور کروائیں کہ اُس کی بات سُنی جائے گی اور اسے ہراسانی کا ذمہ دار نہیں ٹہرایا جائے گا۔‘

عمارہ بتول کے مطابق یہ بھی ضروری ہے کہ بچہ دیکھے کہ اس کا جنسی استحصال کرنے والے کو سزا مل رہی ہے۔

’اگر مجرم بچے کے آس پاس موجود ہے جیسا کہ گھر میں یا سکول میں تو والدین کو چاہیے کہ یا تو اُس شخص کو وہاں سے ہٹا دیا جائے یا پھر بچے کو۔ اگر ایسا ممکن نا ہو تو یہ یقینی بنایا جائے کہ بچے کا اُس شخص سے آمنا سامنا ہمیشہ کسی بڑے کی نگرانی میں ہو۔‘

ماہرِ نفسیات کی مدد

اکرم خان نے نفسیاتی صدمے سے نکلنے کے لیے اپنے دوست کی مدد لی تھی جو اُنھیں ماہرِ نفسیات کے پاس لے گئے۔

’علاج کے دوران مجھے بتایا گیا کہ اگر کسی کے ساتھ ایک بار جنسی استحصال ہو تو پھر بقیہ زندگی اُسے اِس تلخ تجربے کے ساتھ گزارنی پڑتی ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ اِس کرب کو کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔‘

غیر سرکاری تنظیم ’ساحل‘ کی منیزے بانو کہتی ہیں کہ جنسی استحصال سے گزرنے والے بچے کے لیے بحالی کا سب سے بڑا سہارا نفسیاتی کونسلنگ ہے لیکن پاکستان میں بہت کم لوگوں کو یہ سہولت حاصل ہے۔

’ساحل جیسے سماجی ادارے کچھ مفت سہولیات دیتے ہیں لیکن یہ وسائل ہر جگہ موجود نہیں ہیں۔ بہت سے لوگ تو ایسے ہیں جو کونسلنگ کے فوائد سے بھی آگاہ نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ماہرِ نفسیات کے پاس جا رہا ہے تو وہ ’پاگل‘ ہے۔‘

گُڈ ٹچ، بیڈ ٹچ

ماہرین کے مطابق بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کا بہترین طریقہ اُنھیں آگاہی دینا ہے۔ ماہرِ نفسیات عمارہ بتول کا کہنا ہے کہ آج کل بچوں کے پاس معلومات کے بے شمار ذرائع ہیں لہٰذا بہتر ہے کہ اُنھیں اُن کی جنس سے متعلق معلومات والدین کے ذریعے ہی ملے۔

’بچوں کو ’گُڈ ٹچ‘ اور ’بیڈ ٹچ‘ کے بارے میں بتایا جانا چاہیے۔ بچے کو یہ سمجھانا چاہیے کہ کسی غیر کا اُنھیں گُدگدی کرنا، گلے لگانا یا چومنا کس حد تک نارمل ہے اور کہاں وہ ضرورت سے زیادہ ہو کر ہراسانی کے زمرے میں آ جاتا ہے۔‘

اکرم خان کی ایک ہی بیٹی ہے جس کے بارے میں وہ شروع سے بہت محتاط ہیں۔ انھوں نے بیٹی کی سیکس ایجوکیشن تین سال کی عمر میں ہی شروع کر دی تھی۔

’میں نے اُسے بتانا شروع کر دیا تھا کہ آپ کے پوشیدہ اعضا کون کون سے ہیں جنھیں صرف بابا اور ماما ہاتھ لگا سکتے ہیں اور کوئی دوسرا ایسا نہیں کر سکتا۔‘

اکرم خان، جنسی ہراسانی، جنسی استحصال، پاکستان

BBC
اکرم خان چاہتے ہیں کہ بچوں سے جنسی ہراسانی کی سزا ایسی ہو کہ جرم کرنے والا اِس کا ارتکاب کرنے سے پہلے دس بار سوچے۔

ہراسانی صرف سیکس نہیں

ماہرینِ نفسیات کے مطابق بچوں سے جنسی ہراسانی صرف سیکس تک ہی محدود نہیں ہے۔ اگر ایک بالغ شخص کسی بچے سے جنسی گفتگو کرے، اُسے پورنوگرافی دکھائے، اپنے جنسی اعضا کی نمائش کرے یا کسی دوسرے بالغ فرد کے ساتھ بچے کے سامنے جنسی عمل کرے تو یہ تمام باتیں ہراسانی کے زمرے میں آتی ہیں۔

ماہرِ نفسیات عمارہ بتول کا کہنا ہے کہ والدین بچوں کو یہ بات سمجھائیں کہ ہر وہ عمل جو اُنھیں بے آرام کرے، وہ کسی قابلِ اعتماد شخص کو اُس بارے میں بتائیں۔

’بچوں کو یہ بات اُس شخص کو بھی بتانی چاہیے جو یہ کام کر رہا ہے کہ وہ اِس عمل سے غیر آرام دہ محسوس کر رہے ہیں۔ بچوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جب تک وہ کسی کو بتائیں گے نہیں، وہ محفوظ نہیں رہیں گے۔‘

سزا ضروری ہے

بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی ہراسانی سے نمٹنے کے لیے مناسب قوانین موجود ہیں، اصل مسئلہ اِن قوانین پر عمل درآمد ہے۔

منیزے بانو سمجھتی ہیں کہ بچوں سے ہراسانی یا ان کے استحصال کے موضوع پر پاکستان میں اب بھی بات نہیں کی جاتی۔

’ہمارے یہاں اکثر والدین یا گھر کے دیگر افراد ایسے واقعات پر بات کرنے اور اُنھیں رپورٹ کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ لوگ بدنامی سے ڈرتے ہیں۔ پھر اگر ہراسانی کرنے والا رشتہ دار ہو تو لوگ گھبراتے ہیں کہ تعلقات خراب ہو جائیں گے اور خاندانی دشمنیاں جنم لیں گی۔‘

’مجھے فرق نہیں پڑتا‘

اکرم خان چاہتے ہیں کہ بچوں سے جنسی ہراسانی کی سزا ایسی ہو کہ جرم کرنے والا اِس کا ارتکاب کرنے سے پہلے دس بار سوچے۔

’قوانین پر سخت عملدرآمد ہونا چاہیے۔ جن لوگوں پر یہ جُرم ثابت ہو جائے اُن کی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔ ایک سیکس افینڈرز رجسٹری ہو تاکہ ایسے لوگوں ہر نظر رکھی جا سکے۔‘

اکرم خان کے بقول کسی بھی شخص کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ معصوم بچوں کی زندگیاں تباہ کرتا پٍھرے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا شخص ذہنی طور پر بیمار ہوتا ہے۔

’اگر وہ بیمار ہے تو وہ پورے معاشرے کو بیمار نہیں کر سکتا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17409 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp