چرب زبانی کے پیکٹ میں موت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں بچوں کے ادب کا سب سے بڑا نام اشتیاق احمد کا ہے، آپ کو ہم سے جدا ہوئے 4 سال ہو گئے۔ آپ کے اولین ناولوں میں سے ایک کا عنوان ’پیکٹ میں موت‘ تھا۔ جاسوسی ناولوں کے ایسے ہی نام ہوا کرتے تھے اور ان ناولوں کے سرورق بھی بڑے پراسرار ہوا کرتے۔ کتاب کا نام پڑھ کر، اس کا عنوان پڑھ کر ہی انسان میں تجسس جاگ جاتا کہ اس کتاب کو پڑھ لے مگر بعض اوقات کہانی کا صرف نام ہی دلچسپ ہوا کرتا۔ خیر یہ تو ہر ایسے قلم کار کے ساتھ ہو سکتا ہے جو بہت کثرت سے لکھتا ہو، آخر ہر بال پر چھکا تو نہیں مارا جا سکتا۔

اشتیاق احمد نے چھکے اور چوکے تو شاید بہت زیادہ نہ مارے ہوں مگر وہ آخری دم تک جاوید میانداد کی طرح ’سنگل، ڈبل‘ لے کر ’فیلڈ‘ میں کھڑے رہے اور ملک الموت کے علاوہ ان کو کوئی آؤٹ نہ کر سکا۔ اس مضمون کا مقصد اشتیاق احمد مرحوم کے فن پر بات کرنا نہیں کیونکہ ان کا عنوان اپنے مضمون میں مستعار لے رہا ہوں، اس لیے اتنا خراج عقیدت ان کو پیش کرنا ضروری تھا۔ یہ عنوان میرے آج کے مضمون کے موضوع سے کیسے متعلق ہے، یہ آگے واضح ہو جائے گا۔

’پیکٹ‘ ایک دور جدید کی ایجاد ہے۔ یہ ایک خاص تناظر میں ’برانڈ‘ کے تصور سے منسلک ہے، کوئی بھی ’پروڈکٹ‘ یا ’سروس‘ جو کسی خاص برانڈ سے مخصوص ہوتی ہے، وہ کسی خاص قسم کے پیکٹ یا پیکیج میں ملفوف کر دی جاتی ہے، اب وہ چاکلیٹ ہو، موبائل فون ہو یا ریڈیو کا کوئی پروگرام، کوئی ڈبے میں بند مٹھائی ہو یا سینما کے پردے پر منعکس کوئی فلم۔ ہر ’پروڈکٹ‘ پر برانڈ کی مہر ثبت ہوتی ہے اور وہ پیکٹ میں ملفوف ہوتی ہے۔

دور جدید کے لوگ برانڈز کے اس قدر عادی ہیں کہ اگر کوئی شے بغیر برانڈ کی مہر کے اور بغیر پیکٹ کے (یعنی عرف عام میں ’کھلی‘ ) ملے تو اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور غیر معیاری سمجھتے ہیں، خیر ہمارے وطن میں تو ابھی یہ حالت نہیں ہوئی مگر ہم بھی چل اسی راستے پر رہے ہیں، بعض اوقات سڑک پر ملنے والی بڑی سستی اشیاء کسی بھی برانڈ کا ٹھپا لگا کر بے حد مہنگی فروخت کی جاتی ہیں، مثلاً ہمارے وطن میں گلی گلی میں ابلا ہوا بھٹا فروخت ہوتا ہے مگر ایک بڑی فاسٹ فوڈ کی چین میں ابلا ہوا آدھا بھٹا اتنی قیمت میں مل رہا تھا کہ جس میں سڑک کی یہ سوغات درجن بھر آ جائے، خیر اس نوع کی حرکت کو تو عرف عام میں ”ڈیڑھ ہوشیاری“ کہا جاتا ہے مگر اس سے بھی خطرناک بات کبھی کبھار پیکٹوں کے ٹوپی ڈرامے میں ہو جاتی ہے۔

ایسی ہی ایک بلا کا نام ’نیورو لینگوسٹک پروگرامنگ‘ یعنی NLP ہے اور ہے کیا یہ نیورو لینگوسٹک پروگرامنگ؟ نام سن کر تو آپ کے ذہن میں کئی سائنس فکشن فلمیں گھوم گئی ہوں گی۔ یہ ’نیورو‘ لفظ اعصاب ہی کے لیے تو استعمال ہوتا ہے، یہ دماغ اور اس سے منسلک اس نظام کے لیے استعمال ہوتا ہے جو سارے جسم کو چلاتا ہے اور اس بلند آہنگ نام کا دوسرا لفظ ’لینگوسٹک‘ لسانیات کے ہم معنی ہے اور ’پروگرامنگ‘ کمپیوٹر کی لغت کی اصطلاح ہے مگر بے فکر رہیے، اس ’نیورو لینگوسٹک پروگرامنگ‘ میں ان میں سے کوئی بھی شے موجود نہیں۔

سلیم احمد نے ایک مقام پر جوش ملیح آبادی کی شاعری کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کا آہنگ بہت بلند، لہجہ بڑا پرشکوہ ہوتا ہے مگر اس کا خیال بے حد عامیانہ ہوتا ہے اور اس پر ’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘ کی مثال صادق آتی ہے۔ یہ نیورو لینگوسٹک پروگرامنگ کا عنوان بھی ایسی ہی ایک چیز ہے اور اس NLP میں ہوتا کیا ہے بھلا؟ اس سے قبل یہ جان لیتے ہیں کہ یہ شے ایجاد کس نے کی اور اس کے ساتھ ہمیشہ ہی ’ہپناٹزم‘ کو کیوں جوڑ دیا جاتا ہے؟

امریکا میں ایک صاحب ہیں جن کا نام ہے رچرڈ بینڈلر، انہوں نے ڈیل کار نیگی کی نوع کی ’اچھی اچھی، بڑی بڑی‘ باتوں سے پیسے بنانے شروع کیے۔ یہ بڑی آسان سی باتیں ہوتیں، اپنی آسانی کے لیے آپ ان باتوں کو زبیدہ آپا مرحومہ اور اشفاق احمد مرحوم کی باتوں کی کھچڑی کہہ سکتے ہیں۔ بس فرق یہ کہ اشفاق صاحب کے یہاں روایت اور مذہب کے حوالے ہوتے تو بینڈلر صاحب کے یہاں ’کومن وزڈم‘ کے۔ پھر بینڈلر صاحب نے NLP کی داغ بیل ڈال دی۔

موصوف بالکل کسی ٹوپی میں سے خرگوش نکالنے والے جادوگر کے سے لباس پہنتے ہیں اور اکثر اسٹینڈ اپ کامیڈین معلوم ہوتے ہیں۔ آپ نے جو نظریہ اس بلند آہنگ عنوان ’نیورو لینگوسٹک پروگرامنگ‘ کے پیکٹ میں پیش کیا وہ بڑی حد تک ’کاگنی ٹیو سائکولوجی‘ کے ایرون ٹی بیکؔ اور ’ریشنل ایموٹو تھراپی‘ کے الربٹ ایلسؔ کے نظریات کا سرقہ ہے۔ وہی سوچ کی زبان بدلنے کا تصور، وہی Thinking، Feeling، Sensing، Intuitive کی گردان جو ’کاگنی ٹیو سائکولوجی‘ سے بھی قبل کارل یونگؔ کے یہاں موجود تھی۔

پھر اس پرانے سالن پر کسی ہوشیار باورچی کی طرح بینڈلرؔ ؔصاحب نے تڑکا تازہ لگایا اور وہ تڑکا تھا ’ہپناٹزم‘ کا۔ ہپناٹزم جو بڑی تعداد میں فلموں اور ناولوں میں استعمال ہونے والا ایک ایسا تصور ہے جس میں عوام الناس کے لیے بڑا سحر ہے مگر حقیقت میں یہ تصور بھی بڑی حد تک ناکام ہے۔ فرائیڈؔ نے بہت شروع میں ہی ہپناٹزم پر لعنت بھیج کر آزاد تلازم کا طریقہ اختیار کر لیا تھا۔ ویسے بھی جس قدر تیزی سے لوگ فلموں میں ہپناٹائز ہو جاتے ہیں ایسے اصل زندگی میں کب ہوتے ہیں؟

اس پورے پیکیج کو بڑی خوبصورتی سے، جدید ابلاغی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وطن میں اور دنیا کے کئی دیگر ممالک میں پھیلایا گیا اور لوگ بڑی تیزی سے ان کورسز میں داخلہ لینے لگے۔ پھر لوگوں کو ان کورسز کے سرٹیفکیٹ، ڈپلومہ اور ڈگریاں ملنے لگیں۔

ستم بالائے ستم یہ کہ یہ ڈپلومہ کر لینے والے لوگ بڑے زور و شور سے سرٹیفکیٹ لیتے ہوئے حلف لیتے ہیں اور پھر یہ لوگ ملک میں جگہ جگہ ’پریکٹس‘ شروع کر دیتے ہیں، اور پریکٹس کس چیز کی؟ ڈاکٹرپریکٹس کرتا ہے طب کی اور علم نفسیات کا ماہر نفسیاتی علاج کی پریکٹس کرتا ہے مگر یہ لوگ کس چیز کی پریکٹس کرتے ہیں؟ اور کس پر کرتے ہیں پریکٹس؟ وہی شیزو فرینیا کے مریض، وہی مایوسی یا تشویش کی بیماری کے حاملین جن کا علاج صرف اور صرف علم نفسیات کی ہی روشنی میں ہونا چاہیے، اور معالج افراد کا پس منظر کیا ہوتا ہے؟ بی کام کیے ہوئے افراد بھی یہ ڈپلومہ کر کے ’نیورو لینگوسٹک پروگرامنگ‘ کے ذریعہ کسی بھی مرض کا علاج شروع کر سکتے ہیں۔

علم نفسیات ہمیں بتاتا ہے کہ الجھے ہوئے نفسیاتی مسائل کا کوئی سادہ علاج نہیں ہوتا۔ بڑی بڑی باتوں کا لیکچر پلا کر ’شیزو فرینیا‘ اور ’باڈی ڈسمورفک ڈس آرڈر‘ کسی سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ نفسیاتی علاج نہ تو نصیحت کے کسی سیشن کا نام ہے نہ ہی ایسی کسی تفریحی سیر کا کہ جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر مطلق العنان نفسیاتی معالج براجمان ہو۔ یہ تو ایک ایسا سفر ہے کہ جس کا راہی اور منزل دونوں خود ہی وہی شخص ہے جو نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہے۔

اچھا نفسیاتی معالج تو ایک چمکدار آئینہ ہوتا ہے اور جیسے آئینہ دیکھ کر آپ اپنے چہرے کا تاثر درست کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح معالج کی رہنمائی میں آپ اپنے خیالات کو سنوارتے ہیں اور اپنے ہیجانات پر قابو پاتے ہیں۔ علم نفسیات میں لاکھ نقائص ہیں مگر کیونکہ وہ ایک ڈھونگ نہیں اس لیے نفسیاتی علاج کو کسی بلند آہنگ نام کی ضرورت نہیں پڑی۔ اسی لیے فرائیڈؔ نے کبھی جادوگر کی ٹوپی نہیں پہنی۔ اسی لیے علم نفسیات کو کسی رنگین یا سنگین پیکٹ کی ضرورت نہیں پڑی۔

خود کو سائنس ثابت کرنے کے لئے خلانورد کا لباس نہیں پہننا پڑا، کسی لفافے میں ملفوف نہیں ہونا پڑا۔ ہاں اگر عامیانہ باتوں کو پیکٹ میں بند کر کے ہر الجھن کا حل بنا کر پلایا جائے گا تو یقین جانیے کہ یہ زہر ہلا ہل ثابت ہو گا، آخر چھوٹی موٹی خراش پر تو آپ کسی گنوار کی نقل میں مٹی لگا سکتے ہیں مگر پورا ہاتھ کٹ جانے کی صورت میں بھی کیا آپ ہاتھ پر مٹی ہی ملیں گے؟ چاہے وہ کتنے ہی حسین پیکٹ میں آپ کے سامنے پیش کی جائے، صرف پیکٹ کی خوبصورتی دیکھ کر کون پیکٹ میں موت خریدے گا؟ ایسا سودا کون کرے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •