سنہ 2020 موت کا سال تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 2020 موت کا سال تھا، لیکن اللہ ہی نے ہمیں یہ باور کرایا کہ موت بے شک کتنی ہی ظالم کیوں نہ سہی لیکن انسانیت کو کرونا شکست نہیں دے سکتا۔ آج جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو دنیا کے کئی ملکوں میں 2021 کا نیا سورج طلوع ہو چکا ہوگا۔ آج برطانیہ بھی یورپی یونین سے تاریخی علیحدگی کے بعد اپنا نیا سفر شروع کر رہا ہے۔ ہم اب یورپی یونین کا حصہ نہیں رہے۔ بریکسٹ نے ہمیں کیا دیا یا نہیں وہ اگلے کالمز میں، لیکن یہ برطانیہ ہی ہے جہاں کرونا کو شکست دینے کے لئے دنیا کی سب سے پہلی ویکسین لگائی گئی اور ابھی دنیا بھر کے جتنے ممالک میں امریکی منتخب صدر جو بائیڈن سے لے کے محمد بن سلمان تک جس جس کو ویکسین لگی ہے، وہ ہمارے پاکستانی جغادریوں کے فتووں کے برعکس بندر یا سور میں تبدیل نہیں ہوا۔ پاکستان نرالا ملک ہے اور پاکستان کے سیاسی شور و غل کا بہرحال کرونا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکا لیکن یہ کالم بہرحال سیاسی نہیں ہے۔

پاکستان میں کرونا کو جیسے بھی لیا گیا، لیکن میں ایک ایسے ملک (برطانیہ) اور معاشرے کا حصہ ہوں جہاں انسانیت کو کرونا شکست نہیں دے سکا، بلکہ کرونا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے فیملی سسٹم مزید مضبوط ہوا۔ کرونا ہی کی وجہ سے یہاں ایک ایک اسٹریٹ کے لوگ پہلی بار ایک دوسرے کی خبر رکھنے لگے۔ پورے برطانیہ کے لوگ اپنی اپنی گلی میں کرونا کی پہلی لہر کے دوران ہر جمعرات کو آٹھ بجے انسانیت کے لئے تالیاں بجاتے تھے۔ ہم جب clap for NHS کے لئے اپنے اپنے گھروں کے دروازے سے تالیاں بجاتے تو سب کو ایک دوسرے کی خیریت کا پتہ چل جاتا۔

خصوصاً مجھے اور بچوں کو ٹھیک دیکھ کے سب اور زور سے تالیاں بجاتے کیونکہ ہم کرونا کو شکست دینے والوں میں سے تھے۔ میں اور میرے بچے مارچ میں کرونا کا شکار تب ہوئے جب پاکستان میں تو کرونا کو مذاق سمجھا جا رہا تھا لیکن یہاں برطانیہ میں اسپتالوں کے کاریڈورز میں مریضوں کو فرش پر لٹانے کی بھی جگہ نہیں تھی۔ میں نے موت کو اپنے بہت پاس دیکھا۔ ہم مرتے مرتے بچے اور پورے کرائڈن میں جس ایک ڈاکٹر کی کرونا سے ان دنوں موت واقع ہوئی، وہ ڈاکٹر (کرشن اروڑا) ہمارا ایک انتہائی قریبی دوست اور میرے شوہر کا جی پی تھا۔

2020 جب شروع ہوا تو نہ جانے کیوں پوری زندگی نیو ائر نائٹ پر ہیپی نیو ائر کا شور و غوغا مچانے کے بجائے میں قرآن کی تلاوت کرتی رہی۔ میں نے اپنی پوری زندگی نیا سال شروع ہوتے وقت قرآن کی تلاوت نہیں کی لیکن پچھلے سال میں نے ایسا کیا۔ مجھے کوئی نادیدہ طاقت کسی آفت سے خبردار کر رہی تھی اور میں نیا سال شروع ہوتے وقت آیتیں پڑھ پڑھ کے اپنے بچوں اور جمشید پر پھونکتی رہی جس کی ویڈیوز اب خود بچوں کو بھی حیران کرتی ہیں کہ کیا ماما کو پہلے ہی پتہ تھا کہ آگے کیا ہونے جا رہا ہے۔

دو جنوری کو کرشن بھائی کا فون آ گیا کہ بریانی کب بنا رہی ہوں اور میں نے انہیں بتایا کہ بریانی کا کوئی موڈ نہیں لیکن اگر چائینیز کھانا ہے تو ہم ایک گھنٹے بعد تائی تنگ جا رہے ہیں، وہاں آجائیں۔ وہ ہنسنا شروع ہو گئے کہ یار چائینیز وائرس نے چائنا میں تباہی مچائی ہوئی ہے اور جمشید تمہیں ادھر ہی لے کے جا رہا ہے تو میں بھی ہنسنا شروع ہو گئی۔ ریسٹورنٹ میں جب ہم اکٹھے کھانا کھا رہے تو میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔

میری کشن بھائی سے آخری بار بات کرونا کے دوران ہوئی، وہ کلینک میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ ہی دنوں کے بعد ان کی تصویر اسکائی نیوز پر دیکھی کہ وہ کرونا سے فوت ہو گئے۔ اور پھر موت ہمارے آس پاس پھرتی رہی۔ 2020 نے بہت سارے دوست اور رشتہ دار چھین لئے۔ دنیا بہت ساری ایسی شخصیات سے محروم ہو گئی جو ابھی کئی سال اور جی سکتے تھے۔ لیکن 2020 ہی نے ہمیں اپنے ان تمام دوستوں اور جاننے والوں کی خیریت دریافت کرنے پر مجبور کیا جن سے سالوں سے رابطہ نہیں ہوا تھا۔ 2020 نے برطانوی یوتھ کو مجبور کیا کہ ہم کئیر ہومز سے اپنے ان بڑے بوڑھوں کو نہ صرف گھروں میں لے آئیں بلکہ ان کی زندگی کے لئے خود کو آئسولیٹ بھی کریں۔ 2020 نے ہی ہمیں سکھایا کہ کسی غریب کے گھر راشن پہنچانے کی کیا خوشی ہے۔

2020 نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم جن سے محبت کرتے ہیں، انہیں بتائیں کہ وہ ہمارے لئے کتنے اہم ہیں۔ لاک ڈاؤن نے ہمیں مزید قریب کر دیا۔ مجھ سے کرونا کے دنوں میں بہت سارے ایسے دوستوں نے رابطہ کیا جو سالوں سے دور تھے۔ جب میں نے سوشل میڈیا اور کچھ ٹی وی پروگرامز پر پر اپنی یادداشت کے متاثر ہونے کا بتایا تو وہ مجھے کالز کر کر کے تنگ کرتے تھے کہ **** تو ہمیں نہیں بھول سکتی۔ میں بہت سارے ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جو کیرئیر، کام، اور سیاست کی وجہ سے کبھی اپنے بچوں کے ساتھ نہیں کھیل سکے اور اب لاک ڈاؤن میں وہ مجھے حیرانی سے بتاتے ہیں کہ وہ اب محسوس کرتے ہیں کہ اپنے ہی گھروں میں کتنے اجنبی ہیں۔

اور اس وقت مجھے فخر ہوتا ہے کہ میں نے زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت اپنے گھر اور بچوں کو دی۔ میری شادی کے بعد لوگوں نے کئی سال تک جینا حرام کیے رکھا کہ جمشید نے میرے ٹی وی یا میڈیا پر کام کرنے کی پابندی لگا رکھی ہے اور میں جواباً حیرت سے یہ پوچھتی تھی کہ آپ کو میرے یہ چھوٹے چھوٹے chipmunks کیوں نظر نہیں آتے جو مجھے اپنی مرضی سے سونے تک نہیں دیتے تو کام کیسے کرنے دیں گے۔ میں انہیں کہتی تھی کہ جب چاند چڑھے گا تو سب دیکھیں گے لیکن میں آپ لوگوں کے طعنوں کے ڈر سے اپنی زندگی کا کوالٹی ٹائم برباد نہیں کروں گی۔

اور میں نے یہی کیا۔ میں نے اپنی زندگی میں ان سب لوگوں سے زیادہ کامیابیاں اور شہرت حاصل کی جنہوں نے کامیابی اور شہرت کے لیے خود کو اپنے بچوں اور گھروں سے دور کیا۔ یہاں یورپی یونین کی صدر سات بچوں کی ماں ہے اور میں برطانیہ میں اپنے ارد گرد جن کامیاب عورتوں اور مردوں کو دیکھتی ہوں، ان کے لئے سب سے اہم چیز ان کا فیملی ٹائم ہے جو کہ پاکستان کے ایک خاص طبقے کے لئے ناپید چیز ہے۔ مجھے سب سے زیادہ نفرت اس بات سے ہے کہ پاکستان میں یہ فیشن کیوں ہے کہ آپ اپنے بچے پیدا کر کے ملازموں کے حوالے کر دیں۔

ہم اب جو سوشل میڈیا پر اچھے اچھے گھرانوں کے بچوں کی گالیوں اور غلاظت سے بھرپور زبان دیکھتے ہیں وہ انہیں ان پڑھ ملازموں اور آیاؤں کے حوالے کرنے ہی کا نتیجہ ہیں۔ ان ایلیٹس کو پتہ ہی نہیں چل رہا ہوتا کہ بچے کس قسم کی مینٹل ہیلتھ کا شکار ہو کے ہیں، کیونکہ ان کے پاس وقت نہیں ہوتا کہ بچوں کی ایکٹیویٹیز کو چیک کریں۔ میں نے بہت سارے لوگوں کو راتوں کو دو دو بجے تک بھی سوشلائز کرتے دیکھا ہے۔ جو مجھ سے پوچھتے تھے کہ آپ نو بجے کے بعد نظر نہیں آتیں۔ میرے تینوں بچے اب بیس سال سے اوپر ہیں لیکن میں ابھی تک شام سات بجے کے بعد ورک کال نہیں لیتی کیونکہ وہ وقت بچوں کے لئے ہوتا ہے۔ لہٰذا جب آپ نے خود اپنی فیملیز کو وقت نہیں دیا تو آپ پھر اب کیوں حیران ہوتے ہیں کہ آپ اپنے ہی بچوں کے لئے اجنبی بن گئے۔

بات اجنبی بننے پر چل نکلی تو کرونا اور لاک ڈاؤن ہی نے کئیر بھی بڑھا دی۔ میں دوستوں کے معاملے میں انتہائی خوش نصیب واقع ہوئی ہوں جو کہ نماز نہ پڑھنے پر گالیاں دینے سے لے کے میری پی ایچ ڈی کا تھیسس لکھنے تک بھی صبح شام باقاعدگی سے چیک کرتی تھیں۔ میں انہی کی وجہ سے کرونا میں شدید بخار کے باوجود اپنی پی ایچ ڈی کے تھیسس کو مکمل کرنے میں لگی رہی اور جولائی میں تھیسس جمع کرا دیا جس کا وائوا ابھی تک کرونا ہی کی وجہ سے نہیں ہوسکا۔

یہ سب میری قریب ترین دوستوں (ریحام، مہ جبیں اور فلم اسٹار ریشم) کی گالیوں ہی کی وجہ سے ہوا جو نہ صرف مجھے روزانہ فون اور ویڈیو کالز پر کہتی تھیں کہ مرنے سے پہلے تھیسس پورا کر بلکہ میرے بچوں کو بھی کہتی تھیں کہ وہ میرا جینا حرام کردیں کہ تھیسس پورا کرو۔ مجھے بتانے دیں کہ یہ ریحام اور ریشم ہی ہیں جنہوں نے مجھ جیسی سست ترین عورت کو باقاعدگی سے نماز پر لگایا۔ کیونکہ وہ باقاعدگی سے نماز ادا کرتی ہیں۔ اور جب میں نماز نہیں پڑھتی تھی تو مجھے ایسی ناقابل اشاعت گالیاں پڑتی تھیں جو کہ اخبار نہیں چھاپ سکتا۔ خربوزے کو دیکھ کے خربوزہ رنگ پکڑتا ہی ہے لہٰذا میں بھی آہستہ آہستہ نماز کی ایسی عادی ہوئی کہ کم از کم دو بار نماز پڑھ ہی لیتی ہوں۔ (پانچ وقت کی نماز میں ابھی تک باقاعدگی سے نہیں پڑھتی) ۔

2020 ہی کے آخر میں مجھے کینسر کی تشخیص ہوئی۔ مجھے ابھی تک یقین نہیں آتا کہ میں اسٹیج تھری کینسر کی مریضہ ہوں، میرے دوستوں اور گھر والوں کو بھی نہیں آتا کیونکہ مجھے بظاہر کوئی تکلیف یا علامت نہیں ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں اور یہ بات ہی سب سے زیادہ خطرناک ہے کہ کینسر آپ کو پتہ ہی نہیں لگنے دیتا کہ وہ آپ کے جسم کو کہاں سے کھاتا جا رہا ہے۔ میرے ہر چھ مہینے بعد مکمل بلڈ ٹیسٹ ہوتے تھے، میرے سب بلڈ ٹیسٹ اور ایکسرے سب ابھی تک نارمل ہیں۔

مجھے کینسر کا تیسرے اسٹیج پر بھی شاید پتہ نہ چلتا اگر میرے بچے اور میری سہیلیاں میری سیلفیز اور ویڈیو کالز پر میری ڈبل چن کا مذاق نہ اڑاتے۔ میں پہلے تو یہ سمجھتی رہی کہ موٹاپے کی وجہ سے میری تصویریں عجیب آ رہی ہیں لیکن پھر میں نے محسوس کیا کہ میری ٹھوڑی اور گردن ایک سائیڈ سے کچھ زیادہ موٹی ہے۔ اور یوں میں ڈاکٹرز کے پاس گئی اور پھر پتہ چلا کہ کینسر تھائی رائڈ گلینڈ سے نکل کر گردن تک پھیل چکا ہے جس کی اب جنوری کے آخر میں سرجری ہے۔

لہٰذا اس کالم کے ذریعے ایک نہایت ہی اہم پیغام کہ اگر آپ صاحب استطاعت ہیں تو اپنے جسم کا مکمل الٹرا ساؤنڈ کروا لیں۔ کافی کینسر ایسے ہوتے ہیں جو نارمل اور روٹین کے مکمل بلڈ ٹیسٹس کے بعد بھی تشخیص نہیں ہوتے۔ میرے تو ایکس رے تک بھی نارمل آئے۔ لیکن الٹراساؤنڈ میں شک ہوا کہ یہ کینسر ہو سکتا ہے۔ جو کہ بعد میں صحیح ثابت ہوا۔

اب آخری بات کہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مجھے پورے پاکستان سے ناقابل بیان حد تک محبت اور دعائیں ملیں گی۔ مجھ سے کینسر سروائیورز نے رابطہ کر کے ہمت دی کہ آپ نے کینسر کو شکست دینی ہے۔ مجھے ان لوگوں سے بھی محبت اور حوصلہ ملا جو مجھے نہیں جانتے تھے اور جنہیں میں نہیں جانتی تھی، لیکن ان کی دعائیں اور پیغامات قریب ترین جاننے والوں سے زیادہ ہیں۔ میں اگر نام لکھنے بیٹھوں تو پورا کالم بھی کم پڑ جائے لیکن یہ دعا اور محبت ہی ہے کہ اللہ نے مجھے رتی برابر تکلیف بھی نہیں دی۔

میں مذہب کو ایک بے حد ذاتی معاملہ سمجھتی ہوں اور سوشل میڈیا انسانی حقوق پر بولنے کے نتیجے پر خونی لبرل جیسے طعنے سننے کے باوجود میں اپنی روزانہ کی تلاوت، نمازوں یا عبادت کا نہیں بتاتی لیکن ایک بات جو کہ شاید کینسر کے دوسرے مریضوں کے لئے بھی مدد کا باعث ہو، وہ قرآن کی تلاوت اور ذکر الٰہی کا ہے۔ باقاعدگی سے نماز نہ پڑھنے کے باوجود بچپن سے ہی شاید ہی کوئی دن ہو جب تلاوت اور اللہ کا ذکر نہ کیا ہو۔ مجھے ستمبر ہی سے ڈاکٹرز نے اشارہ دے دیا تھا کہ مجھے شاید کینسر ہے جس کا نومبر کے آخر میں تین تین بائیوپسیز کے بعد جا کے کنفرم ہوا۔

میں خبر سننے کے بعد کچھ منٹ تک روتی بھی رہی لیکن یہ قرآن کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کا اثر ہے کہ مجھ میں ایک عجیب سا سکون آ گیا۔ میں نے خود سب کو انتہائی اطمینان سے بتایا کہ ہاں مجھے کینسر ہے لیکن اللہ انتہائی مہربان ہے اور اگر اس کی رضا ہوئی تو میں اسے شکست دوں گی، اور اگر یہی میرے جانے کا سبب ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں روک سکتی کیونکہ آپ کی جتنی لکھی ہے، وہ لکھی ہے۔ انسان کے بس میں بہترین علاج اور قوت ارادی ہے اور لندن میں ہونے کی وجہ سے میرا دنیا کے بہترین ترین کینسر اسپتال میں علاج ہو رہا ہے جس پر ایک روپیہ تک نہیں لگا۔ یہ بھی اللہ ہی کا کرم ہے جس نے ہمیں پاکستان میں ڈاکٹرز کی فیسوں سے بچایا، ورنہ وہاں آپ کنگال بھی ہوتے ہیں اور بندہ بھی نہیں بچتا، لہٰذا جس خدا نے مجھے کینسر کی حالت میں بھی کرونا جیسی موذی بیماری کو شکست دینے اور اس موت کے سال سے نکلنے کی ہمت دی، اس کے 2020 سے آگے بھی میرے لئے کچھ پلانز ہوں گے ۔

نوٹ: آپ سب کو نیا سال مبارک ہو!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمع جونیجو

شمع جونیجو علم سیاسیات میں دلچسپی رکھنے والی ماہر قانون ہیں۔ یونیورسٹی آف لندن سے ایل ایل بی (آنرز) کے علاوہ بین الاقوامی تعلقات میں میں ایم اے کیا۔ ایس او اے ایس سے انٹر نیشنل سیکورٹی اسٹڈیز اور ڈپلومیسی میں ایم اے کیا۔ آج کل پاکستان مین سول ملٹری تعلاقات کے موضوع پر برطانیہ میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ تعلیم کے لئے بیرون ملک جانے سے پہلے شمع جونیجو ٹیلی ویژن اور صحافت میں اپنی پہچان پیدا کر چکی تھیں۔

shama-junejo has 11 posts and counting.See all posts by shama-junejo