بچوں سے جنسی زیادتی اور تشدد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں تو بد قسمتی سے، یقیناً کسی نہ کسی طرح کم و پیش، ہم سبھی تھوڑی بہت جنسی زیادتی کا شکار ہو چکے ہیں اور بہت سے خواتین اور مرد ایسے بھی ہیں، جو اپنی نو جوانی اور بڑھاپے میں بھی اس ٹرامے کا اثر رکھتے ہیں۔

اکثر افراد جنسی زیادتی سے جڑی شرم اور تذلیل کو لا شعوری طور سے اپنا قصور مان کر اپنی یاد داشت سے ان واقعات کو نا صرف مٹا چکے ہیں، بلکہ اس سلسلے میں ”می ٹو موومنٹ“ کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

کچھ دن پہلے، ”ہم سب میگزین“ پر عنبرین سیٹھی صاحبہ کی اس موضوع پر ایک بہت اچھی تحریر پڑھی، جو کہ بچوں سے جنسی زیادتی اور والدین کی اس سلسلے میں لا علمی سے متعلق تھی۔

یہ افسانہ، حقیقت پر مبنی ایک ایسی کہانی تھی، جس میں ایک تیسری جماعت کی بچی کو اس کے مولوی صاحب نے مسجد میں قرآن پڑھانے کے دوران میں، بار بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، اور ایک روز جنسی زیادتی کرنے کے بعد ، موت کے گھاٹ اتار دیا۔

حسب توقع عنبرین سیٹھی صاحبہ کی تحریر پر ہونے والے تبصرے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ پاکستانیوں کی اکثریت نا صرف بچوں پر ہونے والے مجرمانہ جنسی حملے، تشدد، زنا اور قتل جیسی گھناؤنے جرائم کی حقیقت کو قبول کرنے سے صاف انکار کرتی ہے، بلکہ ان ساڑھے تین ہزار کیسوں کو جو صرف 2018 اور 19 کے درمیان بچوں پر جنسی تشدد کے حوالے سے رجسٹرڈ ہوئے، سراسر نظر انداز کرتی ہے۔ وہ نا صرف اس موضوع پر بات کرنے کو معیوب سمجھتے ہیں، بلکہ لکھنے اور بات کرنے والے پر بھی خدا کی لعنت بھیجنے میں رتی بھر دیر نہیں لگاتے۔

اس تحریر پر تبصرہ کرنے والوں میں، کچھ افراد ایسے تھے، جو اس حقیقت کو قبول تو کر رہے تھے کہ جنسی تشدد کا شکار بچے ہوتے ہیں۔ مگر وہ بھی جنسی تشدد کو صرف والدین، خاص کر ماؤں کی کوتاہی گردانتے رہے تھے۔ المیہ صرف بچوں پر تشدد کے واقعات میں متواتر اضافہ نہیں، بلکہ المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد، بچوں پر جنسی زیادتی کے واقعات کی حقیقت کو، یا تو تسلیم نہیں کرتے یا پھر اس کا ذمہ دار جنسی آگاہی کی قلت اور جنسی زیادتی کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے خلاف کھڑی معاشرتی اقدار کو ٹھہرانے کے بجائے، بچوں کے بے چارے والدین کو ٹھہراتے ہیں۔

اس تحریر پر کیے گئے تبصروں میں، لوگ بچوں پر ہونے والی جنسی زیادتیوں کی سفاک حقیقت سے نا صرف انکار کر رہے تھے بلکہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ یہ کہانی ایک من گھڑت کہانی ہے، جس میں مصنفہ کو ایک عورت ہونے کے ناتے سے کھلے عام جنسی فعل کے بارے میں بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔

پاکستان میں بچوں کے جنسی زیادتی کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق ایک دن میں تقریباً 11 بچے ہر روز کسی نہ کسی قسم کے جسمانی تشدد کا شکار ہوتے ہیں، اور یہ جنسی زیادتیاں کرنے والے کوئی اجنبی نہیں، ان کے خاندان کے افراد، رشتے دار، محلے دار، اساتذہ اور قرآن پڑھانے والے معلم ہوتے ہیں۔

دوسری طرف سڑکوں پر کام کرتے اور بھیک مانگتے بچے جو جنسی زیادتی کا شکار سب سے زیادہ ہوتے ہیں، اس اعداد و شمار میں شامل ہی نہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف ان بچوں کے کیس پر مبنی ہیں، جن کے کیس کہیں نہ کہیں رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔

میں خود ایک ماں اور استاد ہونے کے ناتے سے اس درد کو بہت اچھی طرح محسوس کر سکتی ہوں کہ اگر آپ اپنے بچے یا شاگردوں کی حفاظت نہ کر پائیں تو کیسا محسوس کرتے ہیں۔ لہذا والدین کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں والدین کے پاس اچھے والدین بنے کی با قاعدہ تربیت کے کتنے مواقع میسر ہوتے ہیں۔ کیا کبھی انہیں ٹی وی پر دکھایا گیا ہے، یا کسی کتاب میں پڑھایا گیا ہے کہ بچوں کے رویے اصل میں ان کا ذریعۂ ابلاغ ہوتے ہیں۔ جو احساسات بچے الفاظ میں بتانا نہیں جانتے، وہ ان کے رویوں میں خود بخود کیسے ظاہر ہو جاتے ہیں۔ والدین کیوں اپنے بچوں کے ان رویوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں، جو ان کے بچوں کے جنسی تشدد کا شکار ہونے کے عمل کے بعد ، یا بار بار اس عذاب سے گزرنے کے دوران میں ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں۔ کیوں کہ والدین کو آگاہی ہی نہیں ہے کہ جنسی تشدد کے زمرے میں کیا کیا چیزیں شامل ہیں اور اس کے شکار بچے کے رویے میں کیا کچھ چھپا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بچے کا بستر میں ایک خاص عمر کے بعد پیشاب نکل جانا، یا مسلسل نیند میں ڈر کر جاگ جانا، کس بات کی علامت ہے۔

پاکستانی معاشرہ بچوں پر جنسی تشدد کی تعریف، اس کی وجوہ، اثرات اور سدباب سے مکمل طور سے بالکل نا بلد ہے۔ جنس اور جنسی عمل کو ہمارے یہاں گندا کام کہا جاتا ہے۔ جنس ہمارے یہاں ایک ایسی شجر ممنوع ہے، جس کے پھل کو کھانا تو فطری ہے، مگراس کو کھاتے ہوئے ایک احساس گناہ، ہمیں ہمیشہ اپنے گھیرے میں لیے رہتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں، اپنے ہم عمر افراد کے ساتھ باہمی رضا مندی سے صحت مند جسمانی تعلق بنانے کو برا، شریک حیات کے ساتھ زبر دستی ریپ کرنے کو خاوند کا حق، اور بچوں پر جنسی زیادتی کے سنگین مسئلے کو نظر انداز کرنے کو حیا سمجھا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بچوں پر جنسی تشدد کے خلاف آج تک ہمارے پاس کوئی ٹھوس قوانین موجود نہیں ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ایک زیادہ پورن ویب سائٹس سرچ کرنے والی قوم ہے۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے، کینیڈا میں بسنے والے ہزاروں پاکستانی والدین نے (جو ایک طویل عرصے سے کینیڈا میں مقیم ہیں ) پہلے اسکول میں دی جانی والی جنسی تعلیم کے خلاف مظاہرے کیے اور آواز اٹھائی کہ کینیڈین اسکول سسٹم، نا صرف ہم جنس افراد کو، اللہ کی مخلوق اور ان کے رشتوں کو فطری کہہ رہا ہے، بلکہ بچوں کو ان کی جنس اور جنسی تعلقات کے بارے میں تعلیم دے کر بچوں سے وقت سے پہلے ان کی معصومیت چھین رہا ہے۔ اس وقت جب یہ معاملہ گرم تھا تو اکثر پاکستانی والدین نجی محفلوں میں بحیثیت استاد، میری رائے ضرور جاننا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں میرا جواب ہمیشہ مصلحت سے پاک، کچھ یوں ہوتا تھا کہ جنس اور جنسی عمل تو ایک فطری عمل ہے۔

اب فیصلہ پاکستانی والدین کو کرنا ہے کہ وہ چاہے ملک میں ہوں یا ملک سے باہر، انہیں اسکولوں میں جنسی تعلیم کے حصول کو ممکن بنا کر بچوں کو جنسی ضروریات اور درست طریقے، مثال کے طور پر اچھے لمس (گڈ ٹچ) اور برے لمس (بیڈ ٹچ) کے مابین فرق سمجھانا ہے یا پھر اس بات کی ذمہ داری مولوی صاحب، رشتے داروں اور محلے داروں پر عائد کرنی ہے کہ وہ آپ کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کر کے، انہیں ہمیشہ کے لیے ایک احساس جرم اور تذلیل میں مبتلا کر دیں۔ بچوں پر جنسی زیادتی زیادہ تر وہی لوگ کرتے ہیں، جو کبھی خود بھی جنسی زیادتی کا شکار رہے ہوں۔ فیصلہ ہم پر ہے۔ ہمیں ”می ٹو“ کہہ کر اس گھناونے عمل کو روکنا ہے، یا اس گھن چکر کو اسی طرح چلتے رہنے دینا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •