پانیوں پر لکھے ہوئے نام والا جان کیٹس


ایک اور خط دیکھیے۔ محبت اور چاہت میں بھیگا ہوا۔ دنیا میں کیا کوئی چیز اتنی خوبصورت، چمک دار اور من موہنے والی ہے جتنی تم ہو۔

Bright Star یادداشتوں سے نکل کر لبوں پر آ گئی ہے۔
روشن ستارے
روشن ستارے کاش میں آرٹ کی طرح امر ہوجاتا
میں بھی فطرت کے کسی رسیا کی طرح
جاگتے رہنے والے کسی رشی منی کی طرح
رات کے خوبصورت جلووں میں کبھی اکیلا تو نہ ہوتا
اس ابدی حسن کو آنکھیں کھول کھول کر دیکھتا
دھرتی کے انسانی ساحلوں کے گرد
رواں پانیوں سے وضو تو کسی پادری کا ہی کام ہے

کیسی خوبصورت شاہکار نظم۔ ابدی چمکنے والے ستارے جیسا بننے کی تمنا۔ لافانی ہونے کی خواہش۔ اپنی محبت اور چاہت کا دل آویز اظہار۔

موت سے ایک سال قبل مئی 1820 کا خط ذرا دیکھئیے۔

تم کتنی خودغرض ہو، کتنی ظالم ہو۔ مجھے خوش رہنے نہیں دیتی ہو۔ میرے لیے تمہاری محبت کی استقامت کے سوا کسی چیز کی اہمیت نہیں۔ تمہیں فلرٹ کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔ مسٹر براؤن سے بھی یہی سلسلہ ہے۔ کیا کبھی تمہارے دل نے میرے بارے میں ذرا سا بھی سوچا ہے۔ مسٹر براؤن اچھا آدمی ہے مگر وہ مجھے انچ انچ موت کی طرف لے جا رہا ہے۔

اس کے مہکتے خواب بکھر گئے۔ دہکتا جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن رہا تھا۔ اس کے سانسوں کی ڈوری کتنی جلدی ٹوٹ گئی۔

بیماری تو وراثت میں ملی تھی کہ ماں اور بھائی ٹوم دونوں اسی سے مرے تھے۔

مجھے 1816 میں لکھی جانے والی اس کی پہلی First looking into chapman ’s Homerاور دیگر ”ode to a nightingale“ اور ”ode on a grecian“ دونوں یاد آئی تھیں۔

اس نے سارے سفر بڑی سرعت سے طے کیے تھے۔ صرف چھ سال کا مختصر سا وقت۔ جس میں حیران کن حد تک ہر دل عزیزی سمیٹی۔ شاعری، محبت، منگنی، بیماری اور موت۔ پہلے مجموعے Chapman ’s Hamer نے لوگوں کی توجہ کھینچی۔ مگر ساتھ ہی نک چڑھے نقاد اسے تباہ کرنے پر بھی تل گئے تھے۔ 1818 میں اس کی ambitious زیادہ بہتر رہی۔ یہاں اسے ہنٹ، ولیم اور بینجمن ہائیڈن نے بہت سراہا۔

1819 اس کی تخلیقی صلاحیتوں کا بہترین زمانہ تھا۔ وہ فینی کی محبت میں گرفتار ہوا۔ Bright Star اور The Eve of St Angles جیسی شاہکار نظمیں تخلیق ہوئیں۔

میری نظریں بے اختیار اس بیڈ پر جم گئی ہیں۔ نہیں جانتی ہوں کہ اس کی ترتیب اس وقت بھی یہی تھی جو اب ہے کہ آخری دنوں میں وہ زیادہ تر اپنے بیڈ پر ہی رہنے لگا تھا۔ یہی کھڑکی جو اس وقت میرے سامنے ہے اس کی دلچسپی اور دنیا سے ربط کا واحد ذریعہ رہ گئی تھی۔ اسی سے وہ سسپنش سٹیپ اور برنینز Bernins کشتی کو دیکھتا۔ آسمان، موسم، لوگ، درخت اور زندگی کے کچھ رنگ اسی سے اسے نظر آتے تھے۔

منظر کسی فلم کے سین کی طرح بدل گیا تھا۔ سکوائر میں فروری کے آخری دنوں کی صبح کتنی دھند اور سردی میں لپٹی ہوئی تھی۔ درختوں کی چوٹیوں پر دھرنا مارے بیٹھی برف دنوں پہلے ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گر رہی تھی۔ سارے ماحول پر اداسی اور تھکن کے سائے لرزاں تھے۔

کمرے میں کھڑے جوزف Severn نے اپنی تھکن کی لالی سے لبریز آنکھوں کو باہر سے اٹھا کر اندر پھینکا ہے۔ چار راتوں سے جاگتا اس کا جسم اس وقت پھوڑے کی طرح درد کر رہا ہے۔ کمرے کی فضا میں کسی نحوست کے سائے سے بکھرے نظر آتے ہیں۔ دوسرے بیڈ پر گٹھڑی سی بنی ہڈیوں کی مٹھ میں سے ایک دل خراش سی آواز گندی مندی سی منحوس دیواروں سے ٹکراتی کمرے میں بکھرتی ہے۔

”سیورن“ (Severn)
سیورن فوراً سے پیشتر اس گٹھڑی کو کلاوے میں بھر لیتا ہے۔
”سیورن میں مر رہا ہوں۔ میرا سر اوپر کر دو۔ ڈر کیوں رہے ہو؟ سیورن ذرا سا اور اوپر کرو نا۔“

چھبیس سالہ جوزف سیورن Severn یادداشتوں میں ابھر آیا ہے۔ یہ سنہری گھنگھریالے بالوں، خوبصورت خد و خال والا دلکش نوجوان آرٹسٹ بہت دن گزرے شاعر کی محبت میں گرفتار ہوا تھا۔ ان محفلوں میں اس کا جانا اور شاعر کے لیے محبت کے جذبات رکھنے کی پذیرائی نہ شاعر کی طرف سے ہوئی اور نہ اس کے دوستوں نے اسے قابل توجہ گردانا۔ مگر وہ اس کے ایک خاموش پرستار کی صورت ان محفلوں میں جاتا رہا جہاں شاعر اپنا کلام سناتا تھا۔

سیورن اپنے فن کے مزید نکھار کے لئے روم جانے اور آرٹ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا بڑا خواہش مند تھا۔ موقع ملا تو اس کی تکمیل کے لیے روم چلا آیا۔ محبت اور عقیدت رکھنے والے نے تو کبھی شاعر کی نجی زندگی میں جھانکا ہی نہ تھا کہ اسے دکھ کون کون سے ہیں؟

وہ حیران رہ گیا تھا جب اسے خط ملا۔ کیٹس بیمار تھا۔ اسے تپ دق تھی۔ ڈاکٹروں نے اسے روم جانے اور وہاں رہنے کا مشورہ دیا تھا کہ یہاں کی آب و ہوا اس کے لیے صحت کی پیامبر بن سکتی ہے۔ وگرنہ لندن کی سردی اسے مار دے گی۔ اسے شاعر کے لیے روم میں گھر لینے اور اسے اٹینڈ کرنے کی درخواست تھی۔

اور یہ سیورن تھا اور یہی وہ گھر تھا جہاں وہ اسے لے کر آیا اور اس کی نرس بنا۔ اسے لانے اور اس کی خدمت گیری کرنے میں اس کی فیملی کے بہت سے لوگوں کی مخالفت تھی۔ سب سے بڑا مخالف تو باپ تھا جس نے بھناتے ہوئے اسے کہا تھا۔

”تم پیشہ ور آدمی ہو۔ سیکھنے کے لئے روم گئے ہو۔ کیسے اسے وقت دو گے؟ اپنا نقصان کر کے اور سب سے بڑی بات وہ بیماری ہے۔ چھوت کی یہ بیماری تمہیں لگ گئی تو کیا بنے گا؟ باز آؤ اس سے۔ مگر اس نے نہ کچھ سنا اور نہ کچھ سوچا۔

چار ماہ کا یہ وقت اگر کیٹس کے لئے تجربات اور دوستوں رشتوں کی پہچان کا تھا کہ کون سے ایسے کڑے وقت اس کے ساتھ کھڑے تھے اور کون سے کان منہ لپیٹ کر روپوش ہو گئے تھے۔ تو یہ بھی قابل ذکر بات تھی کہ سیورن اپنی شخصیت کی بھرپور خوبیوں کے ساتھ ابھر کر اس کے سامنے آیا تھا۔ یہی سیورن جسے کیٹس نے کبھی اہمیت ہی نہ دی تھی۔

پہلی بار وہ اس کے قریب ہوا۔ دل کے قریب اور جانا کہ فینی براؤن Browne سے علیحدگی کے غم نے کیسے کیٹس کو غموں کے پاتال میں پھینک دیا تھا۔

وہ کبھی کبھی اس سے کہتا تو جب میں ٹھیک تھا، تندرست تھا وہ مجھ سے محبت کرتی تھی۔ اور جب میں بیمار ہوا اس کی محبت کہاں گئی؟

کچھ باتیں پھر یادوں میں ابھری ہیں۔ اپنے کسی خط میں سیورن Severn جوزف نے لکھا تھا۔ ابھی ابھی وہ سویا ہے۔ میرے لیے ہر دن اسے نمک کی طرح گھلتے دیکھنا کتنا تکلیف دہ ہے؟ شاید اگلے ماہ بہت بری خبر کے ساتھ طلوع ہو۔ جب میں اسے لے کر چلا تھا تو مجھے اس کی صحت یابی کا یقین تھا۔ مگر اب؟

ہاں پیسے بھی ختم ہو گئے ہیں۔ آخری چند کراؤن ہی رہ گئے ہیں۔ بل واپس آ گیا ہے۔ بیکر نے چیزیں دینے سے انکار کر دیا ہے۔ میرے لیے باہر نکلنا اور دو گھنٹے کے لیے پینٹنگ سے کچھ کمانا ناممکن ہو گیا ہے کہ اسے میری چند لمحوں کی دوری بھی برداشت نہیں۔ کس امید کا پلہ اسے پکڑاؤں۔ یہ بہت اذیت میں ہے۔ اس کا خدا پر یقین اور ایمان تو پہلے ہی نہیں تھا۔ چلو عقیدے کی مضبوطی اور توانائی بھی کہیں تکلیف کی شدت میں کمی کا باعث بن جاتی ہے۔ اگر کچھ کہتا ہوں تو لعن طعن سنتا ہوں۔ اب مجھے تو سمجھ نہیں آتی ہے کہ میں کیسے اس کے زخموں پر پھاہا رکھوں۔ اور ہاں دیکھو نا زندگی کا کوئی فلسفہ، مذہب کی کوئی تھیوری کسی نہ کسی حوالے سے مطمئن کرنا اور مطمئن ہونا بھی کتنا ضروری ہے؟

آنکھیں پھر کہیں وقت کی ٹنل میں گھس کر ایک اور منظر سامنے لے آئی ہیں۔ نڈھال سا ایک جسم۔ ایک کمزور شکستہ سی آواز کمرے کے سناٹے میں ذرا سا شور کرتی ہے۔

”میرا دل اس وقت کیفے Greco میں کافی پینے کو چاہ رہا ہے۔ چلو وایا ڈی کون ڈوٹی Via dei condotti چلتے ہیں۔“

سیورن نے جنوری کی اس یخ بستہ شام میں اسے دھیرے دھیرے سیڑھیاں اترنے میں مدد دی۔ یہ بھی محسوس کیا کہ اس کی صحت بہتر ہونے کی بجائے زیادہ خراب ہو رہی ہے۔ کافی کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ پیتے ہوئے اس نے کھڑکیوں سے باہر دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3