یہ خون کے دھبے اس نئی ریاست مدینہ کے منہ پر طمانچہ ہیں
اس بار سوچا تھا کہ پچھلا سال اس قدر تکلیف دہ رہا تو اس سال کا آغاز کسی اچھے کالم کسی اچھے بلاگ کے ساتھ ایک نئی امید کے ساتھ کروں گی۔ لیکن شاید کچھ ارادے وہ خواب ہوتے ہیں جو ادھورے ہی رہتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہی ہے کہ اس ملک کا ایک عام آدمی پولیس تھانے کا نام سن کر ہی خوف سے کانپ جاتا ہے۔
پولیس کا کام عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے لیکن جہاں تھانیدار بھی بڑوں کی مرضی کے ہوں اور ان کی ڈیوٹی صرف مخالفین کو مزہ چکھانے کے لیے مخصوص ہو وہاں پر کسی قسم کے انصاف کی توجہ رکھنا تو شاید ایسا ہی ہے جیسا کسی پہاڑ کو کھود کر پانی کی نہر نکالنا۔ سوچ کر ہی ڈر لگتا ہے کہ گھر سے باہر اگر رات گئے اکیلی باہر نکلی تو انجام کیا ہوگا اگر عزت بچ جائے تو شاید جان نہ بچ پائے۔
یاد ہے مجھے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد موجودہ وزیراعظم پاکستان نے کس قدر چلا چلا کر اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے استعفی مانگے تھے کس قدر قوم کو سنہرے لفظوں کے جال میں پھنسایا تھا۔ یہ خان صاحب ہی تھے جنہوں نے پولیس ریفارمز کے نعرے لگائے تھے اور قوم نے تو ان نعروں کو مکمل ہوتے ساہیوال میں چھلنی ہوئے معصوموں کے خون میں دیکھا۔
اس وقت کی پہلی خبر بھی یہ تھی کہ دہشت گرد پولیس مقابلے میں مارے گئے اور زندہ بچ جانے والے ایک دہشت گرد کے ہاتھ میں دودھ کا فیڈر تھا جس پر کچھ خون کے دھبے تھے جو اس نئی ریاست مدینہ کے منہ پر طمانچہ تھے۔ میڈیا پر طوفان کے باعث اس کیس پر کچھ ہل چل ہو گئی لیکن ہر بار کی طرح کہانی وہی کردار الگ کوئی عدم ثبوت پر رہا۔
پنجاب پولیس کے کارناموں سے تو خیر تاریخ بھری پڑی ہے لیکن پاکستان میں تبدیلی سرکار کے آنے کے بعد شاید کچھ سرپھروں کو امید ہو چلی کہ اب حالت میں بہتری آ جائے۔ شاید جو نعرے لگائے گئے تھے وہ حقیقت کا روپ دھار لیں لیکن حقیقت تو عامر مسیح کی تشدد زدہ لاش کی صورت میں سامنے آئی تو کہیں صلاح الدین کی تشدد زدہ لاش کی صورت میں منہ چڑاتی رہی اور اگر کچھ کمی رہ گئی تھی تو موٹر وے پر ایک نہتی عورت کی عزت تار تار ہوتی رہی اور فرمان جاری ہوا کہ اکیلی باہر کیوں گئی تھیں۔
جبکہ حیات بلوچ کی ماں کی تڑپتی تصویر بھی اسی ریاست مدینہ کے منہ پر طمانچہ ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم درندوں کے معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں درندگی کی ایسی ایسی مثالیں قائم کی گئی ہیں کہ جانور بھی شرما جائیں پرانا ہو یا نیا پاکستان نہ سوچ بدلی نہ ہی کہانی اور نہ ہی کردار
ایک بار پھر ایک ماں کے لخت جگر کی ہنستی مسکراتی زندگی سے بھرپور تصویر میرے سامنے ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک اور تصویر ہے جس میں وہ گولیوں سے چھلنی پڑا ہے۔
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق اس جوان لاشے پر گیارہ اندھی گولیوں کے نشانات ہیں۔ مان لیا جائے کہ کار کے ڈرائیور نے پولیس کے روکنے پر گاڑی نہیں روکی تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اندھا دھند گولیاں برسا دیں جائیں
شاید طاقت اور وردی کا نشہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ بھول جاتا ہے ملزم کا پیچھا کرتے وقت پولیس کو دیے گئے قواعد کے مطابق اگر پولیس کو شک ہے کہ کار سوار دہشتگرد ہے اور مزاحمت کی پہل سامنے سے آئی ہے تو اس وقت ان کو روکنے کے لیے فائر کیے جا سکتے ہیں تاہم اگر پولیس پر فائر نہیں ہو رہا ہے گاڑی کو روکنا ہے تو اصول کے مطابق گاڑی کے ٹائروں پر فائر کر کے اسے روکنے کی کوشش کرنا چاہیے
تاہم ایک بار پھر گولیاں برس چکیں ایک بار پھر ایک ہنستا کھیلتا معصوم نوجوان اپنی ماں کو زندہ درگور کر گیا ہے سوشل میڈیا پر اس وقت اسامہ کا نام ٹرینڈ کر رہا ہے لیکن کب تک جب تک ایک اور نہتے معصوم پر یہ اندھی گولیاں نہیں چلیں گی صرف تب تک
مگر تب تک ایک بار پھر اسامہ ستی کے خون کے یہ دھبے خان صاحب کی ریاست مدینہ کے منہ پر طمانچہ ہیں

