چارلس نیپئر، ملکہ وکٹوریہ کی تصویر اور سندھی سردار
آغا خان دوم کی شادی اور قیام ڈیفنس کراچی میں اس ٹھیکری پر رہا جہاں ایک انگریزوں کی تعمیر کردہ ایک عمارت موجود ہے جس کو ہنی مون لاج کہا جاتا ہے۔ اسی اہم علاقے کو سرگوشیوں میں کراچی کی ڈیفنس ہائوسنگ سوسائیٹی کا فیز تھری مانا جاتاہے۔ اسے کسی نقشے میں احتیاطاً اور مصلحتاً اس دھڑلے سے ظاہر نہیں کیا جاتا۔ جیسے فیز ایک سے آٹھ تک کا کونہ کونہ چپہ چپہ ان رہنما نقشوں میں مذکورہے
ہز ہائی نیس سلطان محمد آغا خان سوئم سن 1877 میں اسی عمارت میں پیدا ہوئے۔ امام عالی مقام کاتحریک پاکستان میں بڑا حصہ ہے۔ وہ مسلم لیگ کے پہلے صدر تھے اور بڑی باکمال علم دوست شخصیت کے مالک تھے۔
کراچی کی ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی کا ایک بڑا سمندر کے زیر آب تھا۔ گمان غالب ہے کہ جھرک سے ابراہیم حیدری اور پھر اس مقام تک یہ سب علاقہ سمندر برد تھا۔ اسمعیلیہ جماعت کے پیروکار یہاں حاضرامام کے درشن کے لیے کشتیوں کے ذریعے آتے ہوں گے۔ کوئی مستند تاریخ اس طرح سے دستیاب نہیں جو بزرگوں سے سنی اس بات کی تصدیق یا تردید کرے۔ نیویارک کی میٹروپولیٹن لائبریری میں ہم نے قطار در قطار ان تمام نقشوں کے بائونڈ والیمز دیکھے جو نیویارک کی میٹروپولیٹن گورنمنٹ نے شہر کے آباد ہونے سے آج تک پاس کئے۔
حتی کہ کور کمانڈر صاحب کے پرانے گھر کو تو سمندر باقاعدہ احتراماً سلام پیش کرکے قدم بوسی کیا کرتا تھا۔ کراچی کے غریب غربا یہاں پانی کی لہروںمیں اپنے پاپ دھونے آجاتے تھے۔ بات یہ بھی تھی کہ کراچی کے مشہور علاقے کلفٹن کا ایک حصہ اسی لیے باتھ آئی لینڈ کہلاتا تھا. ذرا دور چل کر انیتا غلام علی صاحبہ، ہمارے سسرال والوں کا کیو ہائوس اور ارد شیر کائوس جی کا 4 میری روڈ والا آستانہ پروقار تھا جہاں جناح صاحب اکثر شام کو آجاتے تھے۔ بات سرکشی آب کی تھی۔
کور کمانڈر صاحب کے پرانے سرکاری گھر کے ساتھ ہی آئی جی ہائوس ہے۔ ضرورت نہیں مگر چاہیں تو عسکری مکیں بھی جلوے ادھر کے دیکھ سکتے ہیں۔ کہنے کو پڑوسی کا مقام بھلے ماں جائے جیسا ہو مگر ان بے مہر لوگوں نے پڑوسی ہونے کا بھی بھرم نہ رکھا اور انہیں یہیں سےاغوا کر کے لے گئے تھے۔ شنید ہے کہ آئی جی صاحب نے کہا بھی تھا کہ یارو مجھے معاف کرو۔ یہ صفدر بھٹی کو گرفتار کرنے کا بھلا کون سا وقت ہے۔ سندھی محاورے میں وہ تو گھر کا ککڑ ہے۔ جب دل چاہے ذبح کرلیں گے مگر فرشتے کسی کو لینے آجائیں تو کب کسی کی سنتے ہیں۔ جان لیں کہ یہ سارا علاقہ باتھ آئی لینڈ کہلاتا ہے۔ مشرف دور میں جب سید کمال شاہ آئی جی تھے تو ایک انتہا پسند گروپ والے انہیں ٹپکانا چاہتے تھے۔ تین ہفتے مسلسل ان کی رفاقت میں جمعے کی نماز پڑھی تو یقین آگیا کہ ارے یہ تو اپنے ہی فرقے کے ہیں انہیں کیا مارنا۔ مسجد طیبہ سے آگے بڑھیں۔ ڈھلان طے کریں تو پنجاب ہائوس کے پیچھے پی آئی ڈی سی اور مرکزی حکومت کے وہ فلیٹ ہیں جن میں ایوب خان کے دور میں دار الحکومت منتقل ہونے سے قبل ان میں سے ایک سرکاری رہائش گاہ میں بطور پرنسپل سیکرٹری قدرت اللہ شہاب کا بسیرا تھا۔
جناح صاحب کے اجداد پہلے اسمعیلی تھے۔ 1844 میں جب آغا خان ثانی ہزہائی نس آغا علی شاہ ممبئی منتقل ہوئے تو جماعت میں بارہ افراد کے ایک گروپ نے دسوند (tithe جو جماعت کا ہر ممبر لازمی جماعت کے فنڈ میں اپنی آمدنی سے دان کرتا ہے) کی تقسیم پر جھگڑا کر لیا۔ ان بارہ افراد کو” بارہ- بھائی- کی- کھیتی ” کہا جاتا ہے۔ اس گروپ کے سرغنہ حبیب ابراہیم تھے۔ گجراتی میمنوں میں پارٹنر شپ یا کاروباری شراکت داری کو ناپسند کرتے ہیں۔ اسے رد کرتے وقت یہی اصطلاح اختلاف ” بارہ- بھائی- کی- کھیتی ” استعمال کی جاتی ہے۔ ان بارہ افراد کو جماعت سے نکال دیا گیا اور یہ اپنے پرانے مذہب اثنا عشری کی جانب لوٹ گئے۔ بعد میں انہیں معافی مل گئی تھی مگر کچھ برس کے اندر ہی انہیں ممبئی میں آغا خان مخالف گروہوں کو شہ دینے کے شبے میں مستقلاً جماعت سے خارج کردیا گیا۔ اس کی سند نہیں کیوں کہ ان معاملات کی دستایزات انگریز کے پاس یا تویقینا ہوں گی یا ساجن مہرعلی کیس میں جج سر اریسکن پیری کی عدالت کی کارروائی میں موجود ہوں گی ان کاروائیوں نے طول پکڑا تو چند افراد کو جماعت سے خارج کردیا گیا۔ جناح صاحب اور حبیب فیملی بھی ان میں شامل تھی۔
ایک عرصے تک کھارادر کی گلیوں میں اس بات پر چہ مگوئیاں ہوتی رہیں کہ حبیب بینک چونکہ اسمعیلی جماعت سے علیحدگی کے بعد ملنے والی رقم سے بنا تھا لہذا اسی لیے پرویز مشرف کی مدد سے اسے واپس لے لیا گیا۔ اس میں دو اور بھی دل چسپ پہلو ہیں مگر اتنے سچ مفت میں کون بتاتا ہے۔ نیک تاجر اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں کہ دھندے میں جھوٹ بولنا بہت بری بات ہے مگر سچ بولنے میں نقصان بہت ہوتا ہے۔
ہم انگریزوں کے سندھ پر حملے اور کراچی پر قبضے کی بات کررہے تھے۔ یاد ہے نا رنجیت سنگھ کی بیماری کی خبریں کئی دنوں سے گردش کررہی تھیں۔ طرح طرح کی بیماریوں میں بمتلا، کثرت مئے نوشی سے جگر تو پہلے ہی ریزہ ریزہ ہوچلا تھا۔ ہم سے صحیح وقت پر کورنا کے ماسک دستانوں اور بروقت گیس اور پٹرول کی خریداری کا بندوبست نہیں ہوتا۔ اس دور کے قابل اور دور بین انگریز نے بھانپ لیا کہ برگ انجیر Fig-Leaf جیسا جو ایک خوف سندھ کے ٹالپر حکمرانوں پر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی جانب سے طاری ہے وہ اس کی موت سے جاتا رہے گا۔
سندھی اصطلاح کے حساب سے یہ چِھتـے (بے مہار و بے قابو) ہوجائیں گے۔ یوں بھی ا فغانستان کے حالات نرم گرم چل رہے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ کوئی نیا محمود غزنوی سندھ کے راستے ٹالپروں حکمرانوںکی مدد سے ہندوستان میں ان کی حکومت کے لیے خطرہ پیدا کردے۔ عین اس وقت جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی چار ہندو بیگمات اور سات عدد داشتائیں بیوٹی پارلر میں اس کی و فات حسرت آیات کے موقع پر جل مرنے کے لیے ستی کی تیاریاں کررہی تھیں (ان کی مسلمان بیگمات اور داشتائیں بھی تھیں)انگریزوں نے اپنے جنگی بحری جہاز HMS Wellesley کو منوڑہ کے جزیرے پر بھیج کر بغیر کسی کشت و خون کے کراچی پر اس کی موت سے چار ماہ پہلے یکم فروری سن 1839 میں قبضہ کرلیا۔
اس جہاز کے کمانڈر Frederick Maitland تھے جو بعد میں ایڈمرل بنے۔ یہی وہ افسر تھے جنہوں نے نپولین کو حالت حراست میں سینٹ ہلینا پہنچایا تھا۔ قلعے دار منوڑہ کا ایک کچھی واصل بچو تھا۔ اس نے نہ اس طرح کا کوئی جہاز دیکھا تھا نہ وہ انگریز کی طاقت کا شعور رکھتا تھا۔ ڈٹ گیا۔ انگریزوں نے جب جہاز پر سے توپ داغی تو اس کے اوسان خطا ہوگئے۔ قلعے کا ایک حصہ ریزہ ریزہ ہوچکا تھا۔ بھاگ کر گیا بیگم کا سفید دوپٹہ لہرایا۔ امن قائم ہوا تو معلوم ہوا کہ قلعے میں وہ اس کی نسبتاً جواں سال بیوی اور ایک بیٹا، پرانی توپ دو پرانی بندوقیں کئی برسوں سے ناکارہ پڑی ہیں۔ کوئی گولہ بارود بھی نہیں۔ واصل بچو کو دیگر ہم وطنوں کی طرح توپ چلانا بھی نہیں آتی تھی۔
سندھ کے ٹالپر حکمرانوں نے تین سالہ جنگ میں افغانوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دیا مگر انگریز ریزیڈینٹ میجر آوٹ ریم نے اپنی حکومت کو رپورٹ دی کہ در پردہ یہ امیر افغانیوں کے حامی تھے۔ جنگ میں شکست اور ہزیمت اٹھانے کے نتیجے میں جب لارڈ آک لینڈ کو لارڈ ایلن برو کی جگہ کمپنی نے گورنر جنرل مقرر کیا تو اس نے اسی حوالے سے سندھ میں چارلس نیپئر کو تعینات کردیا گیا جو سندھ کیا پورے پاکستان کا آخری قابل، خود مختار اور طاقتور حکمران تھا۔ اس کے پاس سول اور ملٹری ہر طرح کے اختیارات تھے جو پاکستان میں آج بھی ہر وزیر اعظم اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا خواب آخر ہوتاہے۔
مشہور بنگالی تاریخ دان رمیش چندرا مجم دار کا خیال ہے کہ انگریزوں کی سندھ میں باقاعدہ فوج کشی کے تحت ایک بھرپور عملداری کا قیام ایک منصوبہ بندی اور امیج بلڈنگ کے طور پر ہوئی۔ اس کا مقصد اٖفغان جنگ میں شکست کا داغ دھونا مقصود تھا سندھ ان کے لیے ایک نرم ہدف (Soft Target) تھا۔
بعض مصنفین کا اصرار ہے کہ صوبہ سندھ صلح جو لوگوں قلندروں کی بارگاہ میں مست و مست مدام، عشق دا جام پی کر دھمال ڈالنے والے دلبروں کی سرزمین ہے۔ ان معصومین نے باہر سے آن والے آخری جنگجو محمد بن قاسم کے بعد گیارہ سو ایک سال سے کبھی میدان جنگ کا منھ بھی نہ دیکھا تھا۔ کلہوڑوں اور ٹالپر خاندان کی جنگ تو خاندان کی بہو بیٹیوں کی نوک جھونک تھی۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سندھ پر1740 میں نادر شاہ درانی جن کے قبیلے سے طالبان کے بانی سربراہ ملا عمر کا بھی تعلق تھا اس نے بھی حملہ کیا تھا اور کلہوڑہ خاندان کے دور کا سندھ اصل میں کابل کی ایک کالونی تھا۔ سندھ میں درانی اسی دور سے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سب سے نام چین سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی ہیں جن کے والد آغا صدر الدین درانی بھی بھٹو صاحب کے دور میں اسی اسمبلی کے اسپیکر تھے۔
کابل کا یہ حاکمانہ تسلط انگریزوں کے ریڈار پر تھا۔ اہل ہند افغانستان کو ہمیشہ سے ہندوستان کا حصہ مانتے تھے۔ قندھار ان کی سیاسی لغت میں اصل میں گندھار تھا۔ وہ قبل از طالبان اسے تہذیب کا ایک جانفزا مرکز مانتے تھے۔ قطع نظر اس کے کہ کون انہیں کیا جانتا مانتا ہے طالبان کے کریڈیٹ پر یہ بات جاتی ہے انہوں نے اس تاریخی غلط فہمی کا بھرپور ازالہ کر دیا۔ مودی بھکت اور سنگھ پریوار جس طرح بھارت کوایک قومی ریاست منوانے کے در پے ہیں وہ انگریز کی آمد اور 1857 کی جنگ آزادی سے قبل کسی طور Nation State نہ تھا
آئیں سندھ کا رخ کریں ورنہ مباحثہ کہیں اور گامزن ہوجائے گا۔
رنجیت سنگھ کی وجہ سے جس نے شاہ شجاع کی تخت کابل پر واپسی میں اعانت اس شرط پر کی تھی کہ وہ اس کا ماتحت مانا جائے گا۔ انگریز اس سے نالاں تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ایک مرتبہ رنجیت سنگھ کا خوف افغانوں کے دل سے جاتا رہا تھا ان کا ہندوستان میں پھیلائو وہی رنگ اختیار کرے گا جو غوری حکمرانوں کے دور سے شہنشاہ بابر تک جاری رہ چکا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ شاہ شجاع کی تخت پر واپسی کی اعانت کے جو پچیس لاکھ روپے ادا کیے گئے وہ سندھ کے امیروں سے زبردستی ہتھیائے گئے تھےجنہیں اس سہ فریقی معاہدے میں ان کی رضا کے خلاف شامل ہونا پڑا تھا۔
سندھ میں چارلس نیپئر نے تعیناتی کے فوراً بعد حیدرآباد کے انگریز ریزیڈنٹ James Outram میجر جیمز آوٹ ر یم کے لگائے ہوئے الزامات کی نہ صرف تصدیق کی بلکہ اس نے ان ٹالپر امیروں پر الزام لگایا کہ وہ غدار ہیں۔ اس نے ان امیروں کو فوری طور پر حکم دیا کہ وہ تین شرائط پر فوری طور پر عمل کریں۔ سکہ اب ان کے نام کی بجائے کمپنی سرکار کے نام سے جاری ہوا کرے گا۔ دریائے سندھ کے راستے جو اسٹیمر سامان لے کر آئیں گے جائیں گے انہیں مفت کوئلہ فراہم کرنا ان امیروں کی ذمہ دار ہوگی۔ کراچی، ٹھٹھہ، سکھر، بھکر، روہڑی اور ان سے ملحقہ علاقے اب کمپنی بہادر کی عملداری میں ہوں گے۔ اس سے سندھ کے امیروں کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔
امیروں نے دل پر پتھر رکھ کر یہ سب احکامات مان لیے مگر مسئلہ اس وقت گھمبیر ہوگیا جب اس نےخیر پور کے امیر رستم خان کے نامزد ولی عہد میر محمد خان کی جگہ ان کے بھائی رستم خان کو میر آف خیرپور بنانے کا حکم دیا۔ اس پر تمام میرصاحبان کو حیدرآباد جو دار الحکومت تھا پہنچ کر نیا معاہدہ سائن کرنے کو کہا گیا۔ میر آٖف خیرپور نے عذر خواہی کی اور حیدرآباد میں موجود ہوتے ہوئے بھی اپنا نمائندہ دستخظ کے لیے بھیجا مگر میجر آئوٹ ریم نے اس حرکت کو حکم عدولی مانا۔ جب چارلس نئپیرکو اس کی اطلاع ملی تو اسے شدید اشتعال آیا کہ ایک تو میری آمد کے باوجود وہ حیدرآباد کیوں گئے دوسرے میرے حکم پر دستخط کرنے سے کیوں گریز کیا۔
آئوٹ ریم کی مرضی نہ تھی کہ چارلس نئپئر خیرپور سے حیدرآباد فوج لے کر آتا۔ وہ ٹالپروں کی فوج میں بلوچ سپاہیوں کے باغیانہ موڈ کو بھانپ گیا تھا۔ جب حیدرآباد یہ اطلاع پہنچی کہ انگریز فوج کشی کے نیت سے نکل پڑے ہیں تو سپاہیوں نے قلعے میں واقع ریزیڈنٹ آئوٹ ریم کے دفتر پر حملہ کردیا۔ وہ بمشکل جان بچا کر بھاگا۔ یہ واقعہ وہ آخری تنکا تھا جس سے اونٹ کی کمر ٹوٹ گئی۔

1843 17فروری کے دن سندھ کے ایک بہت اعلی مرتبت شاعر مخدوم طالب المولی کے علاقے ہالا کے پاس میانی کے جنگل میں جنگ کا میدان سجا۔ سندھی فوج کا سربراہ ایک حبشی (جنہیں سندھ میں مکرانی کہا جاتا ہے اور جو سب سے زیادہ لیاری میں آباد ہیں) سپہ سالار ہوش محمد شیدی نے سندھ کی محبت میں جان نچھاور کی۔ آپ قوم پرستوں کی تقاریر میں جو ایک مشہور نعرہ "مرویسوں پر سندھ نہ ڈیسوں "سنتے ہیں یہ ان کی ہی War-Cry تھی۔
سندھ پر قبضے کے فوراً بعد نپئیر نے حیدرآباد پکا قلعے میں منعقد اپنے دربار میں کئی وفود کو شرف باریابی و اطاعت بخشا۔ وہ ٹالپر خاندان کی شرافت اور امیر شیر محمد ٹالپر کی جرات مندی کا دل سے معترف تھا۔ جب وہ بغرض حلف وفاداری اٹھانے آتے تو انہیں ان کی ذاتی تلوار اس اعتراف اور حلف کے ساتھ لوٹا دی جاتی کہ ان کی جرات کا سرکار انگلیشیہ کھلے دل سے نہ صرف اعتراف کرتی ہے بلکہ وہ ان کی اطاعت کا بھرم رکھنے کے لیے اور ان کے وقار کو ددوبارہ بحال کرنے کے لیے ان کے ذاتی ہتھیار لوٹا بھی رہی ہے۔ ایسا ہی ایک وفد جس میں مقامی طور پر کئی سردار شامل تھے، حیدرآباد میں فتح کے بعد اطاعت و سلام کی غرض سے حآضر ہوا۔
ان سب کے لیے حیرت کا باعث دیوار پر آویزاں ملکہ وکٹوریہ کی تصویرتھی۔ وفد میں شامل چند ارکان کا مکالمہ کچھ یوں ہوا کہ یہ نیک دل بی بی کون ہے؟ جواب ملا کہ یہ ہماری ملکہ ہر مجیسٹی رانی وکٹوریہ ہے۔ ایک بلوچ امیر کے لیے یہ بات ہضم کرنا مشکل تھا کہ کوئی عورت بھی ٹھیک سے راج پاٹ سنبھال سکتی ہے۔ وہ تو نئپیر کی طاقت اور حکمت عملی سے ہی مرعوب تھے۔ فرمانے لگے کہ جنگ میں تو آپ ہی ہم پر بھاری پڑ گئے۔ ہمارے لیے تو آپ بادشاہ ہو۔ دوسرے سادہ لوح امیر کا سوال تھا کہ ملکہ عالیہ کا راج سنگھاسن پکا قلعہ حیدرآباد سے کتنا دور ہے کہ آپ اس کا اس قدر احترام کرتے ہو؟ جواب ملا وہ تو مہینوں کی مسافت پر ہے۔
سوال ہوا کیا آپ اس کے براہ راست نائب ہو؟ جواب ملا کلکتہ میں ہمارے گورنر جنرل ان کے ہند وستان میں نائب مانے جاتے ہیں۔ اس پر ایک حیرت زدہ امیر نے کہا کیا آپ میرا سر قلم کر سکتے ہو؟ نئپیر نے جس کا قد درمیانہ، بدن اکہرا اور بلا کا پھرتیلا اور عمر 61 برس تھی۔ قابلیت، قوت فیصلہ، چٹانوں جیسے عزم اور جرات کا کیا بیان ہو۔ ایسے مسکراتے ہوئے بلند حؤصلہ جنرل اب کہاں۔ اس سوال کو سن کر مسکرایا۔ فرمایا اس کا جواب آپ کو اس وقت ملے گا جب آپ کمپنی بہادر کی حکم عدولی کریں گے۔ یہ سننا تھا کہ سوال کرنے والےمردم شناس سردار نے کہا "سائیں پھر تو ہم آپ کے غلام بے دام ہیں”۔
دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ سندھ پر قبضے کے بعد ایک چھوٹے بلوچ سردار کے دو تابعدار کارندوں نے ایک پارسی سیٹھ کو ہائی وے سے اغوا کرکے قتل کردیا اور اس کا مال بھی لوٹ کر لے گئے۔ یہ حیدرآباد میں انگریزوں کی انتظامیہ کے ابتدائی ایام تھے۔ نئپیر کے حکم پر ان کا کھوج لگا کر گرفتار کیا تو علم ہوا کہ یہ حرکت انہوں نے اپنے سردار کی شہ پر کی ہے اور لوٹا ہوئے مال کا بڑا حصہ سردار کو دیا۔ پیغام بھجوایا گیا کہ مال سمیت حاضر ہو اور سچائی بیان کرے۔ سردار چونکہ سر چارلس نئپیر کی شہرت سے واقف تھا۔ اس نے اعتراف جرم کیا تو اس کو دیگر دونوں ملزمان سمیت قلعے کے باہر چوک میں نشان عبرت کے طور پر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔














